Wednesday, December 2, 2009

قربانی کے احکام و مسائل

از فضیلۃ الشیخ محمد عمران المدنی
قربانی خلیل الرحمن ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے ، ہمارے نبی مکرم بھی اس سنت کا بہت اہتمام فرماتے تھے اور امت کو بھی اس کا اہتمام کرنے کی تاکید فرماتے تھے ، جس کا پتہ ہمیں اس حدیث سے چلتا ہے ۔ جسے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیا کہ رسول اللہ نے فرمایا : ’’مَن کَانَ لہ سعۃ فلم یضح ، فلا یقربن مصلانا‘‘ -رواہ ابن ماجۃ ، رقم الحدیث :۳۱۲۳، وحسنہ الشیخ الألبانی رحمہ اللہ-
’’جو آسودہ حال ہونے کے باوجود قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ کے قریب بھی نہ آئے ۔‘‘
ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ نبی مکرم نے فرمایا:’’اے لوگوں ہر گھر والوں پر ہر سال ایک قربانی کرنا لازم ہے ۔‘‘ -رواہ ابن ماجہ ۲/۲۰۰- اس حدیث کو شیخ البانی نے حسن قرار دیا ہے ۔
بلکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خود بھی قربانی کرنے کا بہت زیادہ اہتمام کیا کرتے تھے ۔ جیسا کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے ابو امامہ بن سہل رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا: ’’کُنَّا نُسمِّن الأضحیۃ بالمدینۃ وکان المسلمون یسمِّنون‘‘-رواہ البخاری ، رقم الحدیث :۵۵۵۳-
’’ہم مدینہ طیبہ میں اپنی قربانی کے جانوروں کی پرورش کر کے فربہ کرتے تھے اور دیگر مسلمان بھی اسی طرح انہیں پال کر موٹا کرتے تھے ۔‘‘شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے تو یہاں تک کہا ہے کہ اگر کسی شخص کو قربانی کیلئے قرض بھی لینا پڑ ے تو لے لے ۔ واللہ أعلم
1۔قربانی کرنے والا ہلال ذوالحجہ کے بعد بالوں اور ناخنوں کو نہ چھیڑ ے ۔
جس شخص نے قربانی کا ارادہ کیا ہو وہ ذوالحجہ کے چاند کے بعد اپنے بالوں اور ناخنوں کو کا۔ٹنے سے باز رہے ۔ کیونکہ نبی ا کرم کا ارشاد گرامی ہے :’’اذا رأیتم ہلال ذی الحجۃ وأراد أحدکم أن یضحِّی فلیمسک عن شعر ہ وأظفارہ۔‘‘ -رواہ مسلم ، رقم الحدیث :۴۱-
’’جب تم ذوالحجہ کا چاند دیکھ لو اور تمہارا قربانی کرنے کا ارادہ ہو تو اپنے بالوں اور ناخنوں -کو کاٹنے اور تراشنے - سے بچو۔‘‘
اور ایک روایت میں ہے کہ :’’فَلاَ یَأخُذَنَّ مِن شَعرِہِ وَلاَ مِن أَظفَارِہِ شَیئاً حَتَّی یُضَحِّی۔‘‘ -ابوداؤد رقم الحدیث:۲۷۸۸، صححہ الشیخ الالبانی -
’’ہرگز اپنے بالوں اور ناخنوں کو نا کاٹے یہاں تک کہ قربانی ذبح نہ کر لے ۔
[وضاحت] ناخنوں سے بچنے سے مراد یہ ہے کہ وہ نہ ناخنوں کو قلم کرے اور نہ ہی توڑ ے اور بالوں سے بچنے کا معنی یہ ہے کہ وہ بال مونڈھے ، نہ ہلکے کرے ، اور نہ ہی نوچے اور نہ ہی جلا کر انہیں ختم کرے ، اور وہ بال جسم کے کسی بھی حصے ، سر مونچھوں ، بغلوں ، زیر ناف یا کسی اور عضو کے ہوانہیں چھیڑ نا نہیں ہے ۔ -دیکھئے شرح صحیح مسلم [۱۳/ص:۱۳۸-
وضاحت : ناخنوں اور بالوں سے قربانی کرنے تک بچنا ہے اسی طرح صحابہ کرام کاعمل تھا ، جیساکہ ابن حزم رحمہ اللہ نے اپنی کتاب المحلی میں ذکر کیا ہے ۔
-رقم المسألۃ :۹۸۶-
مسألہ :اگر قربانی کرنے والا شخص ان دس دنوں میں اپنے بالوں یا ناخنوں کو کاٹ لے تو اس پر فدیہ یاکفارہ نہیں ہے ۔ ہاں اگر یہ عمل عمداً سرزد ہوا ہے تو اس نے نبی معظم کی نافرمانی کر کے گناہ کا ارتکاب کیا ہے ۔ تو اسے چاہیے کہ وہ استغفار اور توبہ کرے ۔
-دیکھئے : المغنی لابن قدامۃ-
2 ۔سنت مطہرہ سے حج کرنے والے اور مسافر کا قربانی کرنا ثابت ہے ۔
سیدناثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا :’’ذبح رسول اللہ ضحیَّتہ ثم قال : یا ثوبان !اصلح لحم ہذہ فلم أزل أطعمہ منہا حتی قدم المدینۃ ۔‘‘-رواہ مسلم ، رقم الحدیث :۱۹۷۵-
’’رسول اللہ نے اپنی قربانی کا جانور ذبح کیا ، پھر فرمایا: اے ثوبان ! اس کاگوشت بنادو۔ میں آپ کے مدینہ تشریف لانے تک اس -گوشت- سے آپ کو کھلاتا رہا۔‘‘
اور دوسری روایت میں ہے کہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ :’’ کنّا مع رسولِ اللہ فی سفرٍ فحضر الأضحی ، فاشرکنا فی البقر سبعۃ وفی البعیرِ عشرۃ ۔‘‘-ترمذی، رقم الحدیث : ۱۵۳۷، اور شیخ الالبانی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے -
’’ہم رسول اللہ کے ساتھ سفر میں تھے تو عید الأضحی آ گئی ، تو ہم سات آدمی گائے کی قربانی میں اور دس آدمی اونٹ کی قربانی میں شریک ہوئے ۔‘‘
امام بخاری رحمہ اللہ اپنی صحیح میں اس طرح باب قائم کرتے ہیں :[باب الأضحیۃ للمسافر والنسائ]’’مسافر اور عورت کیلئے قربانی کے متعلق باب ۔
پھر اس باب کے تحت ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث لے کر آتے ہیں کہ جس میں نبی رحمت نے اپنی بیویوں کی طرف سے منی میں قربانی کرنے کا ثبوت ملتا ہے ۔امام ابن حجر رحمہ اللہ اس کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے یہ بات واضح ہورہی ہے کہ آنحضرت کا گائے کو ذبح کرنا عید الأضحی کی قربانی کیلئے تھا۔ -دیکھئے : فتح الباری ، ۱۰/۵-
3۔ قربانی کے جانور کی عمر:
مستحب یہ ہے کہ جانو ردو دانت کا ہونا چاہیے لیکن اگر بھیڑ ، دونبہ مینڈھا کھیرا ہو اور اس کی عمر کم از کم ایک سال کی ہوتوبھی جائز ہے ۔ نبی مکرم نے فرمایا:’’صرف دودانت جانور کی ہی قربانی دو ۔ہاں ! اگر دشواری پیش آجائے تودودانت سے کم عمر کا دنبہ بھی ذبح کر لو۔‘‘ -رواہ مسلم ، رقم الحدیث :۱۹۶۳-
کھیرا دنبہ بھیڑ یا مینڈھا کی قربانی عام حالات میں بھی جائز ہے یعنی اگرچہ دشواری نہ بھی ہو تب بھی کھیرا دنبہ کی قربانی جائز ہے ۔ ام بلال رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : بھیڑ کے دودانت سے کم عمر والے بچے کی قربانی کرو کیونکہ وہ -یعنی اس کی قربانی- جائز ہے ۔ -رواہ الامام أحمد [۶/۳۶۸] ، رقم الحدیث : ۲۷۰۷۲-
امام مناوی رحمہ اللہ نے جامع الصغیر کی شرح میں اس حدیث کی سندکو صحیح قرار دیا ہے ۔
دوسری حدیث میں ہے کہ نبی ا کرم نے فرمایا:’’جہاں دودانت والا جانور کافی ہے وہاں دودانت سے کم عمر والا بھیڑ کا بچہ بھی کافی ہے ۔‘‘ -رواہ ابوداؤد، رقم الحدیث :۲۷۹۶ ، شیخ الالبانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح قراردیا ہے ۔
وضاحت: قاضی عیاض رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ -یہ معاملہ تو دنبے اور چھترے کا ہے ورنہ- اس بات پر تو پوری امت اسلامیہ کا اجماع ہے کہ بکری کا کھیرابچہ قربانی کرنا جائز نہیں بلکہ اس کیلئے ضروری ہے کہ وہ دو دانت ہو۔ -دیکھئے سوئے حرم محمد منیر قمر کی ، ص/۴۲۱-
۴۔سب اہل خانہ کی طرف سے ایک بکری کاکافی ہونا۔
جلیل القدر عطاء بن یسار رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ میں نے میزبان رسول اللہ ا ابوایوب رضی اللہ عنہ سے پوچھا نبی ا کے عہد مسعود میں تم قربانیاں کیسے کیا کرتے تھے ؟ تو انہوں نے جواب دیا۔ نبی مکرم ا کے زمانے میں ایک آدمی اپنی اور اپنے سارے گھر والوں کی طرف سے ایک بکری قربانی دیا کرتا تھا۔ ‘‘ -رواہ الترمذی ، رقم الحدیث :۱۵۰۵، شیخ الالبانی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے -
ایک دوسری حدیث میں آتا ہے :’’علی کل اہل بیت فی کل عام اضحیۃ۔‘‘
’’ہر گھر والوں پر ہر سال ایک جانور کی قربانی ہے ۔‘‘ -ابوداؤد ، رقم الحدیث :۲۷۸۸، ترمذی ، رقم الحدیث:۱۵۱۸، شیخ الالبانی نے اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے ۔ اور ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کی سند کو قوی کہا ہے - [دیکھئے : فتح الباری :۱۰/۴-
۵۔ گائے اور اونٹ میں شراکت داری :
اگر کسی میں قربانی کیلئے مستقل ایک جانور خریدنے کی طاقت نہ ہو توایک گائے کو سات آدمی مل کر خرید لیں ، وہ ان سات آدمیوں اور ان کے تمام گھر والوں کی طرف سے بھی کفایت کرجائے گی۔ ہاں اونٹ کی قربانی میں دس آدمی بھی شریک ہو سکتے ہیں ۔ جس کی دلیل سنن الترمذی ، رقم الحدیث:۹۰۵، ابن ماجۃ ، رقم الحدیث :۳۱۳۱، ابن خزیمۃ :۲۹۰۸ میں سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں : ’’ہم رسول اللہ کے ساتھ سفر میں تھے تو عید الأضحی آ گئی ، تو ہم سات آدمی گائے کی قربانی میں اور دس آدمی اونٹ کی قربانی میں شریک ہوئے ۔‘‘
۶۔ بہتر ومستحب یہ ہے کہ آدمی قربانی کا جانور اپنے ہاتھ سے خود ذبح کرے :
کیونکہ نبی رحمتا اپنا جانور اپنے ہاتھوں سے ذبح کرتے تھے ۔ صحیح مسلم میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی ا کرم ا نے مینڈھے کو پکڑ کر لٹایا پھر ذبح کیا۔
۷۔ عورت کا اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا:
یہ حکم صرف مردوں کیلئے ہی نہیں بلکہ عورتیں بھی اس میں شامل ہیں ۔جیسا کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے تعلیقاً اور امام حاکم رحمہ اللہ نے موصولاً ذکرکیا ہے کہ ابو موسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹیوں کو حکم فرمایا کہ وہ اپنے ہاتھوں سے قربانی کا جانور ذبح کریں ۔ بلکہ حدیث میں آتا ہے کہ ایک عورت نے پتھر کے ساتھ بکر ی ذبح کی ، یہ واقعہ نبی ا کے سامنے ذکرکیا گیا ، آپ ا نے اس میں کوئی حرج نہیں سمجھا۔ اس حدیث کو ابن ماجہ نے رقم الحدیث -۳۱۸۲- میں روایت کیا ہے اور یہی حدیث بخاری میں کچھ الفاظ کی زیادتی کے ساتھ موجود ہے ۔
-رقم الحدیث ، ۵۵۰۱-
۸۔ قربانی کے جانور میں سے بطور اجرت قصاب -قصائی - کو کچھ نہ دیا جائے :
نبی کریم ا نے قربانی کے جانور میں سے کوئی چیز بطور اجرت قصائی کو دینے سے منع فرمایا ہے ۔ہاں اگر پوری اجرت دینے کے بعد اس کی غربت کے پیش نظردیگر مسکینوں کی طرح کچھ دے دیا جائے تو کچھ حرج نہیں ۔ لیکن اس بات کا خیال رکھا جائے کہ اس بنا پر قصائی اپنی اجرت میں کمی نہ کرے ، اگر ایسا خدشہ ہو تو سلامتی اسی بات میں ہے کہ اس کو قربانی میں سے کچھ بھی نہ دیں ۔ جیسا کہ نبی ا کرم انے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تھا کہ وہ آپ کی قربانی کے اونٹوں کے ذبح کرنے اور ان کے گوشت کی تقسیم کی نگرانی کریں ، اور ان کاگوشت ، کھالیں اور جھولوں -پالان- سب کچھ تقسیم کر دیں اور ذبح کرنے کے عوض اس میں سے کچھ نہ دیں ۔اس حدیث کو روایت کرنے کے بعدسیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم اسے اجرت اپنے پاس سے دیا کرتے تھے ۔ -رواہ البخاری ۔ ۱۶۱۶-
۹۔ قربانی کے گوشت اور کھال کو بیچ کر ا سکی اجرت کھانا جائز نہیں :
ہاں البتہ خود استعمال کرسکتے ہیں ، مسند امام احمد میں ہے کہ نبی کریم ا نے فرمایا : حج کے موقع پر منیٰ میں دی جانے والی اور عام قربانی کا گوشت مت بیچوبلکہ خود کھاؤ یا صدقہ کرو ، اور قربانی کے جانوروں کی کھالیں بھی مت بیچو۔ -بلکہ وہ بھی صدقہ کر دیا کرو یا پھر - اس سے خود فائدہ اٹھاؤ۔ -مسند احمد ۔۴/ ۱۵-
بلکہ ایک حدیث میں آتا ہے کہ ’’من باع جلد أضحیتہ فلا أضحیتہ لہ ۔‘‘ -رواہ الحاکم وحسنہ الشیخ الألبانی فی الترغیب والترہیب ، رقم الحدیث :۱۶۶۵-
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ چمڑ ے یا کھال کو بیچ کر اس کی قیمت اپنے استعمال میں لانا تو منع ہے البتہ اس چمڑ ے کو دباغت دیکر -رنگ کر- پکا لے اور اپنے بیٹھنے یا کسی دوسرے استعمال میں لائے تو اس کی اجازت ہے ۔
۱۰۔ نماز عید کے بعد قربانی کرنا
نماز عید سے پہلے جانور کو ذبح نہیں کرنا چاہئے اور اگر کسی نے جانور نماز عید سے پہلے ذبح کر دیا تو وہ کھانے کا گوشت تو بن جائے گا لیکن قربانی کے طور پر قبول نہیں ہو گا۔کیونکہ نبی محترم ا نے فرمایا: جس نے نماز عید پڑ ھنے ۔ یا ہمارے عید پڑ ھنے سے پہلے ہی قربانی کا جانور ذبح کر دیا اسے چاہئے کہ اس کی جگہ دوسرا جانور ذبح کرے ۔ -بخاری، ۹۸۵-
۱۱۔ ذبح کرنے کا مسنون طریقہ
جانور کو ذبح کرنے کے لئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے جانور کی نظروں سے دور جہاں وہ دیکھ نہ سکے اپنی چھری کو اچھی طرح تیز کر لے ، اس لئے کہ وہ چھری کو تیز ہوتا دیکھ کرتکلیف محسوس نہ کرے ، اور چھری کو تیز اس لئے کر ے تاکہ جلد ذبح ہو جانے کی صورت میں جانو ر کو دیر تک چھری کے کاٹنے کی تکلیف نہ ہوتی رہے ۔ اس سلسلہ میں امام طبرانی نے اپنی کتاب معجم الکبیر -۱۱/۳۳۳- میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک روایت ذکرکی ہے کہ نبی ا کرم ا کا گزر ایک ایسے شخص کے پاس سے ہوا جو بکری کو لٹا کر ، اس کی گردن پر پاؤں رکھے اپنی چھری تیز کر رہا تھا اور بکری یہ سب دیکھ رہی تھی ، اس پر نبی رحمت ا نے فرمایا:’’ افلا قبل ھذا؟ اترید ان تمیتھا مرّتین‘‘
’’ کیا یہ کا م اس سے پہلے نہیں ہو سکتا تھاَ ؟ کیا تو اس بیچاری کی دو مرتبہ جان لینا چاہتا ہے ۔‘‘- اس حدیث کی سند صحیح ہے -
اور مستدرک حاکم میں ہے -۴/۲۳۱- کیا تو اسے کئی موتیں مار کر اس کی جان لینا چاہتا ہے ؟ تم نے اسے لٹانے سے پہلے ہی چھری تیز کیوں نہ کر لی؟ -امام حاکم نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے اورعلامہ ذہبی رحمہ اللہ نے انکی موافقت کی ہے اور یہ حدیث صحیح ہے - بلکہ نبی آخرزمان ا کا طریقہ بھی یہی تھا ۔ -دیکھئے ابو داؤد ۲۷۹۲-
۱۲۔ اونٹ کو نحر کرنیکا طریقہ
اونٹ کو نحر کرنے کا سنت طریقہ یہ ہے کہ اسے قبلہ رخ کھڑ ا کر کے اس کی اگلی بائیں ٹانگ ٹیڑ ھی کر کے باندھ دی جائے او ر اسے تین ٹانگوں پر کھڑ ا ہونے کی حالت میں تکبیر پڑ ھ کر اس کے سینے اور گردن کی جڑ کے درمیان والی گڑ ھا نما جگہ میں نیزہ یا کوئی تیز دھار آلہ مار ا جائے جس سے اس کی رگ کٹ جائے ، ا سکی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے : ﴿فَاذْکُرُوا اسْمَ اللَّہِ عَلَیْہَا صَوَافَّ ﴾ -الحج :۳۶-’’ تم ان پر کھڑ ے ہونے کی حالت میں ہی اللہ کا نام لو۔ ‘‘
-صواف - کی تفسیر ترجمان القرآن عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کھڑ ا کرنے سے کی ہے ۔اور اسے امام بخاری رحمہ اللہ نے تعلیقاً ذکر کیا ہے ۔
اور ابو داؤد کی حدیث میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بیشک نبی اور آپ کے صحابہ کرام اونٹ کو اس حالت میں ذبح کرتے تھے کہ اس کا بایاں پاؤں بندھا ہوتا اور وہ باقی ماندہ تین پاؤں پر کھڑ ا ہوتا۔ -دیکھئے : سنن أبی داؤد ، رقم الحدیث :۱۷۶۴، اس حدیث کو امام نو وی اور شیخ البانی نے صحیح قرار دیا ہے ۔-
اونٹ بٹھا کر نحر کرنا سنت نبوی کے خلاف ہے چنانچہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو دیکھا کہ اس نے اونٹ کو ذبح کرنے کیلئے بٹھا دیا تھا تو آپ صنے اس کو ایسے کرنے سے منع فرمایا اور سنت کے مطابق ذبح کرنے کا حکم دیا۔ اور فرمایا ’’ ابعثہا قیاماً مقیّدۃ سنۃ محمد ا ۔‘‘ -اے کھڑ ا کر کے باندھ لو یہی نبی کی سنت ہے -۔ -رواہ البخاری ، رقم الحدیث :۱۷۱۳، حافظ بن حجر فرماتے ہیں :اس حدیث میں مذکورہ بالا طریقے کے مطابق ذبح کرنے کے مستحب ہونے کی دلیل ہے ۔ -دیکھئے فتح الباری ۳/۶۹۸-
جانور کو ذبح کرنے سے پہلے بسم اللہ پڑ ھنے کی اہمیت
علماء کرام میں اس بات میں اختلاف ہے کہ ذبح کرنے سے پہلے بسم اللہ پڑ ھنا سنت واجب یا شرط ہے چونکہ اگر بسم اللہ پڑ ھنا سنت یا واجب مان لیا جائے تو اگر کوئی ذبح کرتے وقت بسم اللہ پڑ ھنا بھول جائے تو وہ جانور کھایا جا سکتا ہے اور اگر بسم اللہ پڑ ھنا شرط مان لیا جائے تو اس جانور کا کھانا ناجائز ہوجائے گا۔ اور دلائل کے لحاظ سے زیادہ صحیح بات یہی لگتی ہے جیسا کہ شیخ الاسلام بن تیمیہ نے مجموع الفتاوی میں ذکر کیا ہے اورالشیخ محمد بن صالح العثیمین نے شرح الممتع میں تفصیل سے ذکر کیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَلَا تَأْکُلُوا مِمَّا لَمْ یُذْکَرِ اسْمُ اللَّہِ عَلَیْہِ وَإِنَّہُ لَفِسْقٌ ﴾-الأنعام:۱۲۱-
’’اورنہ کھاؤ جس چیز پر اللہ تعالیٰ کا نام نہ لیا گیا ہو۔‘‘
اور نبی کریم کا یہ فرمانا:’’جو چیز خون بہادے اور اس پر اللہ تعالیٰ کانام لے لیا گیا ہوتو وہ کھالو۔‘‘
-متفق علیہ .بخاری، رقم الحدیث:۲۴۸۸، مسلم، رقم الحدیث:۱۹۶۸ - یہ آیت اور حدیث بسم اللہ کے شرط ہونے کی دلیل ہے ۔ واللہ تعالیٰ أعلمبالصواب
۱۳۔ جانور ذبح کرنے کی کیفیت
جانور کو ذبح کرتے وقت قبلہ رخ کرنا مسنون ہے ۔ سیدناعبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جانور کو قبلہ رخ کھڑ ا کر کے ذبح یا نحر کرنے کو مستحب سمجھتے تھے بلکہ اگر کسی جانور کو غیر قبلہ کی طرف منہ کر کے ذبح کیا گیا ہوتا تو وہ اس کا گوشت کھانا پسند نہیں کرتے تھے ۔-اسے امام عبد الرزاق نے اپنی مصنف میں بسند صحیح ذکر کیا ہے -
جانور کو قبلہ رخ لٹا کر اس کے اوپر والے دائیں پہلو پر اپنا دایاں پاؤں رکھ لیں ، اور بسم اللہ اور دعا پڑ ھ کر ذبح کریں ۔ حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں کہ تمام اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جانور کو بائیں پہلو پر لٹایا جائے اور اس کے اوپر والے دائیں پہلو پر پاؤں رکھا جائے تاکہ ذبح کرنے والے کیلئے دائیں ہاتھ میں چھری اور بائیں ہاتھ میں جانور کا سر پکڑ نے میں آسانی رہے ۔
-فتح الباری، ۱۰ ص ۱۸ -
۱۴۔ قربانی کے جانوروں میں مطلوبہ اوصاف
نبی ا کرم نے ایسا مینڈھا خرید کر لانیکا حکم فرمایا جو سینگوں والا ہو جس کی ٹانگیں ، پیٹ اور آنکھیں سیا ہ ہوں ۔- صحیح مسلم ، ۱۳/۱۲۱-
دوسری حدیث میں ہے کہ نبی ا کرم ا ایسا مینڈھا قربانی کیا کرتے تھے جو فربہ اور موٹا تازہ ہوتا تھا۔ جس کی آنکھوں ، منہ اور -پاؤں کے قریب سے - ٹانگیں سیاہ اون والی ہوتی تھیں ۔ -ابو داؤد ، ۲۷۹۶ ۔ اس حدیث کو ترمذی ، حاکم ، بغوی اورامام ذہبی نے صحیح کہا ہے -
۱۵۔ قربانی والے جانوروں کے عیوب ونقائص:
وہ عیوب و نقائص جو قربانی والے جانوروں میں نہیں ہونے چاہئیں ان میں سے کانوں اور آنکھوں میں پائے جانے والے عیوب کو بطور خاص دیکھ لینے کا حکم ہے ، چنانچہ سیدناحذیفہ رضی اللہ عنہ اور علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ا کرم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم -قربانی کا جانور خریدتے وقت- اس کی آنکھوں اور کانوں کی اچھی طرح جانچ پڑ تال کر لیا کریں - کہ ان میں کوئی عیب نہ ہو- اسی حدیث کو ترمذی ، نسائی ، ابوداؤد ، ابن ماجہ ، مسند احمد اور دارمی نے روایت کیا ہے ، اور یہ حدیث صحیح ہے ۔
۱۶۔جانور کا اندھا ، کانا ، بیمار یا لاغر ہونا:
نبی ا کرم سے پوچھا گیا کہ قربانی والے جانوروں میں کن عیوب سے بچنا ضرور ی ہے ؟ تو آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایاچار عیوب سے
۱ ۔ لنگڑ اپن ظاہر ہو،
۲۔ کانا کہ جس کا کانا پن ظاہر ہو،
۳۔ بیمار کہ جسکی بیماری نمایاں ہو،
۴۔ اور لاغر کمزور کہ جس کے جسم میں چربی اور ہڈی میں گودا نہ رہا ہو۔ -اس حدیث کو اہل سنن الاربعۃ نے روایت کیا اور شیخ الالبانی نے ارواء الغلیل میں صحیح قرار دیا ہے - دیکھئے ارواء الغلیل ، ۱۱۴۸۔
۱۷۔ کٹے ہوئے کان ، ٹوٹے ہوئے سینگ اور اندھے جانور :
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺنے ہمیں حکم فرمایا کہ ہم آنکھو ں اور کانوں کو اچھی طرح دیکھ لیا کریں اور کوئی ایسا جانور قربانی کیلئے نہ لیں جس کا کان سامنے یا پیچھے کی جانب سے کٹا ہو ا ہو، -اور اسے لٹکتا ہی چھوڑ دیا گیا ہو- اور نہ ایسا جانور جس کے کان لمبائی میں چیرے ہوئے ہوں ، یا جس کے کان میں گول سوراخ ہوں ۔ اور دوسری روایت میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ا نے ہمیں ایسے جانور کی قربانی دینے سے منع فرمایا جس کا آدھا یا آدھے سے زیاد ہ سینگ ٹوٹا ہو ا ہو، اور کا ن کٹا ہوا ہو۔ -ان دونوں حدیثوں کو سنن اربعہ نے روایت کیا ہے اور حدیث صحیح ہے -
۱۸۔ خصی او ر غیر خصی جانور کی قربانی:
خصی اور غیر خصی دونوں قسم کے جانوروں کی قربانی سنت سے ثابت ہے ۔ چنانچہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی مکرم کے پا س دو سینگوں والے ، چت کبرے ، بڑ ے بڑ ے خصی مینڈھے لائے گئے ، آپ نے ان دونوں میں ایک کو پچھاڑ ا ا ور فرمایا: بِسمِ اللّٰہِ وَ اللّٰہُ اَکبَرُ ، محمد اور ان کی امت کی طرف سے ، جنہوں نے تیری توحید کی اورتیرے پیغام -الٰہی- کو پہنچانے کی شہادت دی ۔
-رواہ ابو یعلی ، امام ہیثمی نے اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے ، اسی طرح شیخ الالبانی نے بھی حسن قراردیا ہے - دیکھئے ارواء الغلیل -۴/۲۵۱-، مجمع الزوائد -۴/۲۷- ۔
دوسری حدیث میں سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی جب قربانی کرنا چاہتے تو دو ایسے مینڈھے خریدتے جو بڑ ے قد آور ، موٹے تازے ، سینگوں والے ، سیاہ و سفید رنگ کے اورخصی ہوتے تھے ۔ -اس حدیث کو امام احمد نے ۶/۳۹۱، بیہقی نے ۹/۳۱۸ اپنی سنن میں اور امام طحاوی نے شرح معانی الآثار میں روایت کیا اور اس کی سند حسن درجہ کی ہے ، حافظ ہیثمی نے مجمع الزوائد ۴/۲۴ میں اور علامہ شوکانی نے الدراری المضیہ ۲/۱۲۴ میں اس کو حسن کہا ہے -
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جانور کا خصی ہونا کوئی عیب کی بات نہیں ہے ۔
غیر خصی جانور قربانی کرنے کی دلیل : ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺسینگوں والے غیر خصی جانور کی قربانی کیا کرتے تھے اور اس کی آنکھیں ، منہ اور ہاتھ پاؤں سیاہ ہوتے تھے ۔ -ابو داؤد ، ۲۷۹۳، شیخ البانی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے -
۱۹۔حاملہ جانورکا ذبح اور ا سکے بچے کا کھانا:
سیدنا ابو سعید الخدر ی کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ا! ہم اونٹنی ، گائے اور بکری کو ذبح کرتے ہیں تو اس کے پیٹ میں بچہ پاتے ہیں کیا ہم اس کو پھینک دیں یا کھا لیں ؟ آپ نے فرمایا : اگر پسند کرو تو اس کو کھا لو کیونکہ اس کا ذبح اس کی ماں کا ذبح کرنا ہے ۔ -ابو داؤد ۔ ۲۸۴۲، اس حدیث کو شیخ الالبانی نے صحیح قرار دیا ہے -
وضاحت: اس حدیث میں ماں کے ذبح کرنے کے بعد اس کے پیٹ سے نکلنے والے بچے کو ذبح کئے بغیرکھانے کے جواز کا بیان ہے ۔ ۲۔ مذکورہ بالا حدیث سے ایک بات یہ بھی معلوم ہوتی ہے کہ ذبح شدہ ماں کے پیٹ سے نکلنے والے مردہ بچے کاکھانا ضروری نہیں ہے کیونکہ نبی کریم نے فرمایا: -کلوہ ان شئتم- اگر تم چا ہو تو اس کو کھا لو ۔
۳۔ اگر ذبح شدہ ماں کے پیٹ سے نکلنے والا بچہ زندہ ہو تو اس کا ذبح کرنا ضروری ہے کیونکہ وہ ایک مستقل جان ہے ، یہی اما م احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا فتویٰ ہے ۔
-المغنی ، ۱۳/۳۱۰-
۲۰۔ قربانی کے گوشت کی تقسیم
قرآن و سنت سے قربانی کا گوشت کھانا، کھلانا ، غریبوں کو دینا اور ذخیرہ کرنا سب ثابت ہے ۔
علماء کرام کے اقوال میں سے صحیح ترین قول کے مطابق گوشت کی تقسیم میں کوئی پابندی نہیں چاہے تو تین حصوں میں تقسیم کرے یا دو حصوں میں تقسیم کرے اور اگر پورا گوشت ذخیرہ کرنا چاہتا ہے تو پورا گوشت بھی ذخیرہ کرسکتا ہے -اگرچہ یہ اچھا عمل نہیں ہے -۔
اس کی دلیل نبی کا یہ قول ہے : -نہیتکم عن لحوم الاضاحی فوق ثلاث ، فأمسکو ما بدا لکم - -صحیح مسلم رقم الحدیث ۔ ۱۹۷۷-
میں نے تمہیں تین دن سے زیادہ قربانیوں کے گوشت جمع کرنے سے روکا تھا ، پس اب تم جتنا چا ہو -اس میں سے اپنے -کھانے کیلئے روک -یعنی ذخیرہ کر- لو۔
میت کی طرف سے قربانی کرنا
اس مسئلہ میں اہل علم کی دو رائے ہیں ۔ ایک فریق کا کہنا ہے کہ فوت شدگان کی طرف سے قربانی کی جا سکتی ہے ۔ان کا استدلال اس حدیث سے ہے جس میں یہ ہے کہ نبی نے دو مینڈھے قربانی کیلئے ذبح کیے ایک اپنے گھر والوں کی طرف سے اور دوسرا اپنی امت کے لوگوں کی طرف سے ۔ -دیکھئے ارواء الغلیل ۴/۳۴۹-
تو اس حدیث میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جوکہ فوت ہو چکے ہیں لیکن حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں لکھا ہے کہ یہ نبی کے خصائص میں سے ہے لہذا آپ کا اپنی امت کی طرف سے قربانی دینا فوت شدگان کی طرف سے قربانی کے جواز کی دلیل نہیں بن سکتا۔ -دیکھئے ارواء الغلیل ۴/۳۵۴-
دوسری دلیل :سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی روایت جس میں یہ ہے کہ وہ دو مینڈھے ذبح کیا کرتے تھے ایک نبی کی طرف سے اور ایک اپنی طرف سے اور کہتے تھے کہ رسول اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ آپ کی طرف سے قربانی کیا کروں تو میں ہمیشہ آپ کی طرف سے قربانی کرتا رہوں گا۔ -اس روایت کو امام ابوداؤد ، رقم الحدیث ۲۷۸۷، امام ترمذی ، رقم الحدیث :۱۴۹۵-نے روایت کیا ہے لیکن یہ روایت ضعیف ہے جیسا کہ شیخ البانی نے سنن ابی داؤد کی تحقیق میں ذکر کیا ہے ۔ واللہ أعلم
اس مسئلہ میں صحیح رائے یہ ہے کہ میت کی طرف سے مستقل قربانی نہیں ہوتی ہاں اگر میت نے وصیت کی ہو یا زندوں کی قربانی میں میت کی طرف سے بھی نیت کر لی جائے تو صحیح ہے کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سب سے زیادہ خیر کے کاموں میں بڑ ھ چڑ ھ کر حصہ لینے والوں میں سے تھے ان سے یہ چیز ثابت نہیں کہ وہ اپنی میتوں کی طرف سے مستقل قربانی کرتے ہوں اسی رائے کو الشیخ صالح العثیمین رحمہ اللہ نے راجح قرار دیا ہے ۔ -دیکھئے : فتاوی الدین الخالص، شیخ امین اللہ البشاوری ۶/۴۲۷-
مکمل مضمون کا مطالعہ کریں>>

یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لئے

از سابق مدیر تعلیم جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی، فضیلۃ الشیخ عمرفاروق السعیدی
معاصر مؤقر مجلہ ہفت روزہ الاعتصام لا ہور کی ایک قریبی اشاعت-۹۔۱۵ اکتور ۲۰۰۹؁ء شمارہ نمبر ۶۱/۴۰- میں ایک مضمون شائع ہوا ہے جس میں جامعات اسلامیہ کے اساتذہ وطلباء کے معیارزندگی کو بہتر بنانے کیلئے چند تجاویز پیش کی گئی ہیں جو یقینا ان لوگوں کیلئے قابل توجہ ہیں ۔جو حضرات علماء کو مساجد ومدارس میں عام قسم کے ملازم یا مزدور سمجھتے ہیں ۔ مگر سوئِ اتفاق سے اس مضمون کے پہلے حصے میں حضرات علماء کرام اور ان کے مدارس کے متعلق کچھ ناروا ، خلافِ حقیقت تلخ جملے درآئے ہیں ۔ جو راقم الحروف کی نظر میں انتہائی محلِ نظر ہیں ۔ ان سے بہت سے بزرگوں اور خدّام مساجد ومدارس کی عزت افزائی نہیں ہوئی۔
اور اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ معاشرے کے تمام ہی طبقات میں اچھے لوگوں کے ساتھ ساتھ کچھ ’’کالی بھیڑ یں ‘‘ بھی ہوتی ہیں ۔ ان کی وجہ سے دیگر مخلصین کو طعن وتشنیع کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے ۔ ہمارے علماء ومدرسین اور خطباء و واعظین کے طبقہ میں بحمد اللہ ایک کثیر تعداد اخلاص وللّہٰیت کی علامت اور اس میدان میں اپنی توانائیاں صرف کرنے میں مثالی حیثیت رکھتے ہیں تو کمزور اکائیوں کی وجہ سے اس طبقہ کو بغیر کسی استثناء کے طعن کا نشانہ بنانا کسی طرح قرینِ انصاف نہیں ہے ۔ درج ذیل تحریر اس مضمون کی روشنی میں پڑ ھی جانی چاہیے ۔
٭ مجھے یہ باور کرنے میں انتہائی تأمل ہے کہ اس ترقی یافتہ ۔، روشن اور روشن خیالی کے دور میں بعض احباب کو اپنے تعلیمی ، تربیتی اور اب عملی میدان میں ’’خودساختہ خشونت‘‘ ۔بے محل سادہ لوحی۔ مصنوع زہد وتقشف-زدہ- ۔ اسلامی ذوق جمال -سے عاری- اور عصر حاضر کے جدید تقاضوں سے غافل یا عدمِ ادراک‘‘کے کو تاہ نظر اساتذہ ، منتظمین اور ساتھیوں سے سابقہ پڑ تا رہا یا اب بھی ہے ۔ إنا للہ وإنا إلیہ راجعون
اللہ کا شکر ہے کہ ہمارے مجلہ کے قارئین و مستفیدین میں بڑ ے بڑ ے وسیع المطالعہ اور بابصیرت شخصیات موجود ہیں ۔ میں راقم تو ٹھہرا ایک مُلاّئے مکتبی!۔ میرے نظر میں ہمارے دینی ادارے ، دینی شخصیات ، طلبہ علوم شرعیہ اور ان کے خدام ومنتظمین کے ’زمینی حقائق‘‘ یہ تقاضا کرتے ہیں کہ ان کی پیش از پیش حوصلہ افزائی کی جائے انہیں اخلاص ، ثبات، استقامت اور زہد وقناعت، رغبت الی اللہ اور خودداری کا سبق بار بار یاد کراتے رہنا چاہیے کہ وہ مزید محنت واخلاص کے ساتھ اپنے ذمّے لیا کام کرتے جائیں ۔ اور لوگوں کی جیبوں کی طرف نہ جھانکیں ۔
اللہ کریم یقینا اس دنیائے دوں کی ضروریات میں ان کی کفالت اور کفایت کے اسباب پیدا فرماتا رہا ہے اور آئندہ بھی کرے گا ۔ ’’من کان للہ کان اللہ لہ ‘‘ -جو اللہ کا ہوا ، اللہ اس کا ہوا-
انہیں یہ آیات باربار اپنے مطالعہ اور نگاہ میں رکھنی چاہییں ﴿وَلَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْکَ إِلَی مَا مَتَّعْنَا بِہِ أَزْوَاجًا مِنْہُمْ زَہْرَۃَ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا لِنَفْتِنَہُمْ فِیہِ وَرِزْقُ رَبِّکَ خَیْرٌ وَأَبْقَی ﴾-طہ:۱۳۱-
’’ اپنی نگاہیں ہرگزان چیزوں کی طرف نہ دوڑ انا جو ہم نے ان میں سے مختلف لوگوں کو آرائش دنیا کی دے رکھی ہیں تاکہ انہیں اس میں آزمالیں ۔ تیرے رب کا دیا ہوا رزق ہی -بہت- بہتر اور بہت باقی رہنے والا ہے ۔‘‘
﴿لَا یَغُرَّنَّکَ تَقَلُّبُ الَّذِینَ کَفَرُوا فِی الْبِلَادِ ٭مَتَاعٌ قَلِیلٌ ﴾-آل عمران : ۱۹۶۔۱۹۷-
’’تجھے کافروں کا شہروں میں چلنا پھرنا-اور آنا جانا- کسی دھوکے میں نہ ڈال دے یہ بہت ہی تھوڑ ا فائدہ ہے ۔‘‘
اور وہ لوگ جن کی پہلی اور آخری نظر مساجد ومدارس کی عمارات ، دفاتر، فرنیچروہاں کی فنی ترتیبات اور ان میں مشغول لوگوں کے رنگ وروپ اور لباس وروغن پر رہتی ہے انہیں قرآن کریم ، احادیث نبویہ اور تاریخ اسلام کی روشنی میں اپنے ذوق کا خود جائزہ لینا چاہیے ۔ ۔ ۔ اور اپنی پسند کی جگہ کہیں اور ہی ڈھونڈنی چاہیے ، یقینا کسی آکسفورڈ، پرسٹن اور ہاورڈ یونیورسٹی میں انہیں ’’اسلامی شعبہ‘‘ بھی مل ہی جائے گا۔
یہاں تو نمو ہی ’’ضعفاء اور غُربائ‘‘ سے اٹھتی اور ’’طوبیٰ للغُربٰی‘‘ پر انتہا ہوتی ہے ۔
فی الواقع یہ لوگ ’’مترَفِین‘‘ -کھاتے پیتے خوشحال لوگوں - کی نظروں میں کسی طور جچتے نہیں ہیں نہ جچ سکتے ہیں اور نہ ہی ان سے آئندہ کوئی ایسی امید ہے یہ لوگ شروع ہی سے کہتے رہے ہیں ۔
﴿وَمَا نَرَاکَ اتَّبَعَکَ إِلَّا الَّذِینَ ہُمْ أَرَاذِلُنَا بَادِیَ الرَّأْیِ وَمَا نَرَی لَکُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍ ﴾
-ہود:۲۷-
’’تیرے پیروکار لوگوں کو ہم دیکھتے ہیں کہ یہ واضح طور پر سوائے نیچ لوگوں کے اور کوئی نہیں جوسطحی سوچ والے ہیں ، اور تمہاری ہم پر کوئی فضیلت بھی نظر نہیں آتی۔‘‘
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان اساتذہ کا معیار زندگی ’’ان اصحاب ذوق‘‘ کے لیے ہمیشہ سے ’’ناقابل اپیل‘‘ ہی رہا ہے نہ طلبہ کا ’’طرزِ بود وباش‘‘ اور نہ ان کے کلاس رومز پُرکشش رہے ہیں ۔
یہاں تو کسی بھی ابوبکر رضی اللہ عنہ کو’’صدیق‘‘ بننے کیلئے اپنا مال ومنال اور جاہ منصب قربان کرنا پڑ ے گا۔ کسی بھی کھاتے پیتے ’’مُصعب رضی اللہ عنہ‘‘ کو اپنی زیب وزینت اپنے پچھلے ہی گھر میں اپنی اماں کے ہاں چھوڑ کے آنا پڑ ے گی۔ عمر وعثمان رضی اللہ عنہما جیسے اغنیاء اور اصحاب ثروت کو اپنا ’’ذوقِ لطیف‘‘ دارِ ارقم اور صُفہ کی چٹائیوں کیلئے تج دینا ہو گا ان حضرات کو اپنا اسٹیٹس Status بلال ، صہیب ، عمار اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی سطح تک نیچے لانا ہو گا۔
یہاں تو مادی سوچ رکھنے والے بعض انصار کو بھی اپنا مزاج تبدیل کرنا پڑ ا تھا ۔ زاد المعاد -ج/۳، ص:۴۱۵۔۴۱۶- میں رسول اللہ کا وہ خطبہ پڑ ھنے کے لائق ہے اور بڑ ا دلگداز ہے جو غزوئہ حنین کے موقعہ پر تقسیم غنائم کے بعد دیا گیا تھا ۔ آپ نے فرمایا : ’’یَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ مَا قَالَۃٌ بَلَغَتْنِی عَنْکُمْ وَجِدَۃٌ وَجَدْتُمُوہَا فِی أَنْفُسِکُمْ أَلَمْ آتِکُمْ ضُلّالًا فَہَدَاکُمْ اللّہُ بِی ، وَعَالَۃً فَأَغْنَاکُمْ اللّہُ بِی ، وَأَعْدَاء ً فَأَلّفَ اللّہُ بَیْنَ قُلُوبِکُمْ ؟ قَالُوا اللّہُ وَرَسُولُہُ أَمَنّ وَأَفْضَلُ ثُمّ قَالَ أَلَا تُجِیبُونِی یَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ؟ قَالُوا بِمَاذَا نُجِیبُک یَا رَسُولَ اللّہِ لِلّہِ وَلِرَسُولِہِ الْمَنّ وَالْفَضْلُ قَالَ أَمَا وَاَللّہِ لَوْ شِئْتُمْ لَقُلْتُمْ فَلَصَدَقْتُمْ وَلَصُدّقْتُمْ أَتَیْتَنَا مُکَذّبًا فَصَدّقْنَاکَ وَمَخْذُولًا فَنَصَرْنَاکَ وَطَرِیدًا فَآوَیْنَاکَ وَعَائِلًا فَآسَیْنَاکَ أَوَجَدْتُمْ عَلَیّ یَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ فِی أَنْفُسِکُمْ فِی لُعَاعَۃٍ مِنْ الدّنْیَا تَأَلّفْتُ بِہَا قَوْمًا لِیُسْلِمُوا ، وَوَکَلْتُکُمْ إلَی إسْلَامِکُمْ أَلَا تَرْضَوْنَ یَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَنْ یَذْہَبَ النّاسُ بِالشّاءِ وَالْبَعِیرِ وَتَرْجِعُونَ بِرَسُولِ اللّہِ إلَی رِحَالِکُمْ فَوَاَلّذِی نَفْسُ مُحَمّدٍ بِیَدِہِ لَمَا تَنْقَلِبُونَ بِہِ خَیْرٌ مِمّا یَنْقَلِبُونَ بِہِ وَلَوْلَا الْہِجْرَۃُ لَکُنْتُ امْرَء ًا مِنْ الْأَنْصَارِ ، وَلَوْ سَلَکَ النّاسُ شِعْبًا وَوَادِیًا ، وَسَلَکَتْ الْأَنْصَارُ شِعْبًا وَوَادِیًا لَسَلَکْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ وَوَادِیَہَا ، الْأَنْصَارُ شِعَارٌ وَالنّاسُ دِثَارٌ اللّہُمّ ارْحَمْ الْأَنْصَارَ وَأَبْنَاءَ الْأَنْصَارِ ، وَأَبْنَاءَ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ ، قَالَ فَبَکَی الْقَوْمُ حَتّی أَخْضَلُوا لِحَاہُمْ وَقَالُوا:رَضِینَا بِرَسُولِ اللّہِ صَلّی اللّہُ عَلَیْہِ وَسَلّمَ قَسْمًا وَحَظّا‘‘
’’ اے جماعتِ انصار! یہ کیا باتیں ہیں جو مجھے تمہاری طرف سے پہنچ رہی ہیں کہ تم اپنے دلوں میں کچھ گھٹن سی محسوس کرنے لگے ہو کیا تم لوگ گمراہ نہ تھے کہ اللہ نے تمہیں میرے ذریعے ہدایت دی کیا تم فقروفاقہ میں نہ تھے کہ اس نے میرے ذریعے تمہیں غنی بنادیا کیا تم لوگ آپس میں ایک دوسرے کے دشمن نہ تھے کہ اس نے میرے ذریعے تمہاے دل شیروشکر کر دئیے ؟ ان سب نے جواب دیا: یقینا یہ اللہ اور اس کے رسول کا ہم پر بہت بڑ ا احسان اور فضل ہے ۔ پھر آپ نے فرمایا : اے جماعتِ انصار! کیا تم جواب نہیں دو گے ؟ انہوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ہم کیا جواب دے سکتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کا ہم پر بہت بڑ ا احسان اور فضل ہے ۔ آپ نے فرمایا : اللہ کی قسم! تم چا ہو تو کہہ سکتے ہو اور سچ ہی کہو گے اور تمہاری تصدیق بھی کی جائے گی۔ تم کہہ سکتے ہو کہ آپ اس حال میں آئے کہ آپ کو جھٹلایا گیا تھا ، ہم نے آپ کی تصدیق کی ، آپ کو بے سہارا کر دیا گیا تو ہم آپ کیلئے سہارا بنے آپ دھتکارے گئے تھے ہم نے آپ کو جگہ دی ، آپ فقیر ومحتاج تھے ، ہم نے آپ کی مدد کی ۔ تو کیا اے انصار کے لوگو! تم دنیا کے ان چند نرم ونازک کاسنی کے سبز پتوں کی وجہ سے ناراض ہورہے ہو ، اس -مال- کے ذریعے سے تو میں نے ان لوگوں کی تالیف قلبی کی ہے تاکہ یہ اسلام پر ثابت قدم ہوجائیں اور تم کو میں نے تمہارے اسلام کے سپرد کر دیا ہے کیا تم اس پر راضی نہیں کہ لوگ تو اپنے گھروں کو بھیڑ بکریاں اور اونٹنیاں لے کر جائیں ، اور تم اپنے گھر میں اپنے ساتھ اللہ کے رسول کو لے کر جاؤ ۔ اللہ کی قسم! جو چیز تم لیکر جاؤ گے وہ ان چیزوں کے مقابلے جو وہ لے کر جائیں گے بہت ہی بہترین ہے ۔
اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں بھی انصار ہی کا ایک فرد ہوتا اگر لوگ اس گھاٹی اور وادی اختیار کریں اور انصار کوئی دوسری گھاٹی اور وادی اختیار کریں تو میں وہی گھاٹی اور وادی اختیار کروں گا جو انصار کی ہو گی۔ انصار تو میرے جسم کے ساتھ چمٹے لباس کی مانند اور دوسرے لوگ اوپر کی ظاہری چادر ہیں ۔ اے اللہ انصار پر ان کی اولاد پر رحم فرما۔
چنانچہ انصار رونے لگے حتی کہ ان کی داڑ ھیاں تر ہوگئیں اور کہنے لگے کہ ہم اللہ اور اس کے رسول کی تقسیم اور آپ کے اپنے حصے میں آجانے پر بہت ہی راضی اور خوش ہیں ۔‘‘
٭ الغرض اگر یہ مُترَفین مساجد ومدارس میں محض ظاہری زیب وزینت کی چیزیں نہ ہونے کی وجہ سے حصول علم کے ’’نیک ارادوں سے باز رہتے ہیں ‘‘ تو اسے ان کی اپنی حرماں نصیبی کے علاوہ اور کیا نام دیا جا سکتا ہے جن لوگوں کی سوچ صرف ’’جیب اور معدہ‘‘ ہی کے گرد گھومتی ہو ، انہیں یہ کام چھوڑ کر کچھ اور ہی کرنا چاہیے ۔ع
وہ یہیں سے لوٹ جائیں جنہیں زندگی ہو پیاری
٭ دینی اداروں کا اگر دیانتداری سے جائزہ لیا جائے تو بڑ ی خوشی ہوتی ہے کہ بہت سے اچھے بھلے کھاتے پیتے اور خوشحال گھرانوں کے ذہین وفطین، خوبصورت اور محنتی بچے حفظ القرآن ، تجوید اور علوم اسلامیہ کے شعبوں میں ایک ولولہ کے ساتھ داخلہ لیتے ہیں اور یہ ادارے اور ان کے انتظامات اپنے طلبہ کیلئے اپنی تنگ دامانی کے شاکی ہوتے ہیں ۔
ان نیک نفس نونہالوں اور ان کے والدین کو یقین ہوتا ہے کہ یہ میدان کسی طور بھی آمدنی اور کمائی کا میدان نہیں ہے یہ ادارے ملکی آبادی کی نسبت سے انتہائی کم ، ان کی سہولیات بڑ ی محدود اور داخلہ لینے والوں کی تعداد دنیاوی اداروں کے مقابلے میں اقل قلیل ہوتی ہے مگر حکومتوں کے لادینی عناصر اور جن کے یہ لوگ زلّہ خوار ہیں انہیں اپنے دین اسلام سے محبت کرنے والی یہ قلیل ترین تعداد بھی کسی طرح گوارا اور ہضم نہیں ہورہی ۔ واللہ ولی الأمر
٭ رسول اللہ نے اپنے ایک صحابی کو جو سوالی بن کر آیا تھا اور آپ سے تعاون طلب کیا تھا تو آپ نے اسے لکڑ یاں کاٹ کر اور بیچ کر اپنی معیشت درست کرنے کی تعلیم دی اور اسے کم ازکم دو ہفتوں کے لیے اپنی صحبت وغیرہ کی حاضری سے روک دیا مگر پاس ہی ایک ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بھی تھے جو اس سے زیادہ فقیر اور محتاج تھے ، آپ نے انہیں تعلیم وتلقین نہیں فرمائی کہ میاں ! تم اپنا معیار زندگی بہتر بنانے کاتوسوچو؟
٭ اور نہ یہی آپ نے کسی عثمان، ابن عوف یا ابن معاذ رضی اللہ عنہم وغیرہ سے اپیل کی کہ اس فقیر طالب علم کا معیار زندگی بہتر کر دو ۔ البتہ آپ علیہ السلام اہل یُسر اور اہل خیر کو عمومی انداز میں ضرور دعوت دیتے رہے کہ کون ہے جو فقراء ومساکین پر خرچ کر کے اپنی دنیا وآخرت باسعادت بنالے ؟
٭ ’’العلماء ورثۃ الأنبیائ‘‘ -علماء انبیاء کے وارث ہیں - اور نبی کی وراثت بالعموم فقر وفاقہ اور اِعراض عَن زِیناتِ الدنیا کا میدان ہے ۔
ازواج نبی علیہ الصلاۃ والسلام کیلئے وارد تعلیمات میں طلبہ واساتذہ مدارس اور ائمہ ودعاۃ کیلئے بہت بڑ ا درس ہے ۔
﴿إِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیَاۃَ الدُّنْیَا وَزِینَتَہَا فَتَعَالَیْنَ أُمَتِّعْکُنَّ وَأُسَرِّحْکُنَّ سَرَاحًا جَمِیلًا ﴾-الاحزاب : ۲۸-
’’ اگر تمہاری خواہش دنیا کی زندگی اور یہاں کی زیب وزینت ہی ہے تو آؤ میں تمہیں کچھ دے دلا کر بھلے انداز میں چھوڑ دوں ۔‘‘
اور کہا جا سکتا ہے کہ جامع ترمذی کی یہ روایت اسی معنیٰ ومفہوم کی مؤید ہے ۔
’’إِنْ کُنْتَ تُحِبُّنِی فَأَعِدَّ لِلْفَقْرِ تِجْفَافًا فَإِنَّ الْفَقْرَ أَسْرَعُ إِلَی مَنْ یُحِبُّنِی مِنْ السَّیْلِ إِلَی مُنْتَہَاہُ‘‘ -جامع ترمذی ، حدیث :۲۳۵ وروایۃ ضعیفۃ-
اگر تجھے مجھ سے محبت ہے تو پھر فقیری کیلئے سامان تیار رکھ جو شخص مجھ سے محبت رکھتا ہو اس کی طرف فقیری سیلاب کی سی تیزی سے آتی ہے ۔‘‘
محوّلہ بالا مضمون کا یہ تجزیہ ’’زمینی حقائق‘‘ کے یقینا خلاف ہے کہ ان مدارس کا ماحول ’غیر معیاری‘‘ ہوتا ہے بلکہ بحمد اللہ ترقی یافتہ شہروں کے جامعات ترقی یافتہ ، قصبوں اور دیہاتوں کے مدارس وہاں کے ماحول کے عین مطابق بلکہ عمدہ ہی ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ جاہل لوگوں کی ایک تعداد دنیا کے مشاغل سے فارغ البال علماء اور مساجد ومدارس کے پُرسکون ماحول اور آرام دہ مشغلہ کی وجہ سے ان سے حسد کرتی ہے ۔ ان کے بس میں نہیں ہوتا کہ ان کی یہ راحتیں ان سے چھین لیں اور نہ ہی وہ اپنی محرومئی قسمت سے ان صفوں میں بیٹھنا پسند کرتے ہیں ۔
٭ اور ایک حد تک غلط ہے یہ دعویٰ کہ مدارس کی پسماندگی اور مسکنت کے باعث بعض مشائخ عظام اور علماء کرام اپنے نونہالوں کو مدارس کا رخ نہیں کرنے دیتے بلکہ یہ ان نوخیزوں کی اپنی محرومی ہوتی ہے جو اپنی ذاتی پسندناپسند کی وجہ سے یہ میدان اختیار نہیں کرتے یا ماں کی وجہ سے یا ان کے چچے تائے ہوتے ہیں جنہیں اپنے بھائی بند علماء کا ماحول مرغوب نہیں ہوتا تو وہ ان کے نونہالوں کو ان سے جھپٹ لے جاتے ہیں ۔ یاکہیں یہ بعض علماء کرام کا اپنا اجتہاد ہوتا ہے کہ ان کے فرزند گریجویٹ ہونے کے بعد ان اداروں اور محراب ومنبر پر زیادہ سجیں گے مگر فی الواقع اس فریب سے محفوظ -یا اس میں کام یاب- ہونے والوں کی تعداد اگر آٹے میں نمک کے برابر بھی ثابت ہوجائے تو بڑ ی بات ہو گی۔
دراصل دنیا کے نقدِ حاضر کی لذت اور چکا چوند آخرت کے ادھار کو بالعموم مات دے جاتی ہے اور اس میں علماء اور غیر علماء کی تخصیص نہیں کی جا سکتی اس سے معصوم ومحفوظ وہی ہے جسے اللہ محفوظ رکھے ۔ میرے جیسے رجعت پسند سمجھتے ہیں کہ یہ میدان اللہ کی حکمت کے تحت غرباء وفقراء ہی نے سنبھالا ہے ۔ اغنیاء اور مترفین کو یہاں کم ہی لذت آتی ہے ۔
٭ اس مضمون میں ایک عجیب پُر لطف تضاد ہے کہ ابتداء میں ان لوگوں کیلئے خشونت ، بے محل سادہ لوحی مصنوعی زہد وتقشف وغیرہ کی ایک قاموس کا ذکر ہے تو دوسرے حصے میں ان کی آسودہ حالی ، یکسوئی اور فکر معاش سے آزادی کیلئے معقول سفارشات ہیں ۔
٭ اللہ کرے اس مضمون کا یہ دوسرا حصہ متعلقہ حضرات دلجمعی سے مطالعہ فرمالیں ۔
ویسے اللہ کا شکر ہے کہ امت کے صالح اغنیاء نے کہیں بھی علماء کی تحقیر کی حماقت نہیں کی ، اور نہ وہ کرتے ہیں بلکہ جہاں تک ممکن ہو تعاون کرتے ہیں او ر کر رہے ہیں ۔ مساجد ومدارس کی ظاہری وباطنی رونقوں میں ان کا وافر حصہ ہے ۔ -اللہ انہیں مزید توفیق دے اور قبول فرمائے -
اور جو لوگ علماء کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں وہ صرف علماء ہی کو نہیں بلکہ اپنی طبعی خسِّت کی وجہ سے اپنی برادری اور اپنے میل جول والے سبھی لوگوں میں اس طرز عمل پر مجبور ہوتے ہیں ۔ عام معاشرے میں تو مقابلے کی چوٹ ہوتی ہے اور وہاں انہیں اس کا جواب بھی مل جاتا ہے لیکن علماء کرام چونکہ اپنا ایک عظیم ترین مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں کہ کہیں کوئی کلمہِ حق کہنے کا موقعہ مل جائے تو وہ ایسے نامعقول لوگوں کے ساتھ جیسے تیسے کر کے برداشت کرتے رہتے ہیں اور اپنے حال اور مآل کو اللہ پر چھوڑ ے رہتے ہیں ۔ دیکھنا یہ ہے کہ ان لوگوں پر پیش کردہ تجویزات کوئی اثر بھی کرتی ہیں یا نہیں ؟
٭ اور یہ کوئی قاعدہ کلیہ نہیں کہ استاذ کی عزت اس کے مال اور لباس وغیرہ سے ہوتی ہے یا مغربی ممالک میں استاذ کو بڑ ی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے بلکہ مسلمہ اور بین الاقوامی اور دائمی حقیقت یہ ہے کہ استاذ ہمیشہ ہر معاشرے میں معزز اور محترم ہی ہوتا ہے ۔بشرطیکہ وہ استاذ ہونے کے اوصاف محمودہ سے موصوف ہو ۔ حرص وطمع اور دیگر خصائل مذمومہ کا مریض نہ ہو کسی شریف باوقار انسان نے کبھی بھی استاذ کو حقیر نہیں جانا اور جو انہیں کمی کمین سمجھتے ہیں وہ اپنے علاوہ سب ہی کو یہی سمجھتے ہیں ۔
اور ہمیں اپنے ملک میں اور عوام سے بھی قطعاً کوئی بدگمانی نہیں ہے یہ لوگ بھی اپنے ربانی ، حقانی ، مخلص اور محنتی اساتذہ کی انتہائی قدر ومنزلت جانتے پہچانتے اور کرتے ہیں ۔ وللہ الحمد ۔ونعوذ باللہ من الفتن
٭ اس تحریر نے ہمارے ملک کے ان نام نہاد دانشوروں کو ایک مواد اور دلیل دے دی جو ایک طویل مدت سے ان کی نجی محافل کا موضوع ہوتی تھی اب علَنَّا اخباری کالموں سے بڑ ھ کر یہود ومجوس کی سازشوں سے علماء ومدارس کے خلاف مسلح کاروائیاں کرنے لگے ہیں ۔ ولا حول ولا قوۃ إلا باللہ
مگر اہل اللہ اور اہل خیر کی آزمائش اور ان کا امتحان تو اللہ تعالیٰ کی سنت قدیمہ ہے ۔
﴿أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ یُتْرَکُوا أَنْ یَقُولُوا آَمَنَّا وَہُمْ لَا یُفْتَنُونَ ﴾-العنکبوت : ۲-
’’ کیا لوگوں کا یہ خیال ہے کہ انہیں محض اس بات پر چھوڑ دیا جائے گا کہ انہوں نے اس قدر کہہ دیا کہ ہم ایمان لائے ہیں اور ان کی آزمائش نہ ہو گی۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے علماء ، اساتذہ ، طلبہ اور ائمہ ودعاۃ کا حامی وناصر ہو ۔ یہی ان شاء اللہ طائفہ منصورہ ہے انہیں مزید در مزید توفیق دے کہ وہ اعلاء کلمۃ اللہ کیلئے اپنی کارکر دگی کو اور زیادہ توانا بنا سکیں ۔
اللہم اہدہم فیمن ہدیت۔ وعافہم فیمن عافیت و والہم فیمن تولیت ، وبارک لہم فیما أعطیت ، وقہم شرّ ما قضیت
وصلی اللہ علی النبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم وعلی آلہ وصحبہ أجمعین
مکمل مضمون کا مطالعہ کریں>>

میری قربانی

از محمد طیب معاذ
قال اللہ تعالی: ﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِیَعْبُدُونِ ﴾-الذریات:۵۶-
’’میں نے جن وانس کو صرف اپنی عبادت کیلئے پیدا کیا ہے ۔‘‘
اللہ رب العالمین نے انسان کی تخلیق کا مقصد وحید اپنی عبادت قراردیا ہے تعلیمات قرآنیہ اور ہدایات محمدیہ سے ہمیں یہ راہنمائی ملتی ہے کہ کوئی عبادت اس وقت تک قبولیت کے درجے تک نہیں پہنچتی جب تک اس میں تین بنیادی شرائط نہ پائی جائیں ۔
۱۔ ایمان صادق
۲۔ خلوص نیت
۳۔ موافقت سنت صحیحہ
درج ذیل سطور میں ہم صرف اخلاص اور قربانی کے بارے میں کچھ گزارشات سپرد قلم کرتے ہیں اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ’’اخلاص ‘‘کی نعمت سے نوازے ۔ آمین
اخلاص کیا ہے ؟
اخلاص کا مفہوم یہ ہے کہ ہر قسم کی عبادت -مالی، بدنی۔، قولی ، فعلی- صرف اور صرف رضائے الٰہی کے حصول کیلئے ادا کی جائے اخلاص کی نعمت سے ہی عمل کا اجر ملتا ہے اخلاص کا فقدان اور عدم موجودگی عمل صالح کو بے کار اور ختم کر دیتی ہے جیسا کہ ارشاد حقانی ہے ۔﴿وُجُوہٌ یَوْمَئِذٍ خَاشِعَۃٌ ٭ عَامِلَۃٌ نَاصِبَۃٌ ٭ تَصلَی نَاراً حَامِیَۃً﴾-الغاشیۃ:۲۔۳-
’’اس دن -مراد روز قیامت- کئی چہرے ذلیل ہوں گے ، سخت محنت کرنے والے تھکے ماندے ہونگے دہکتی آگ میں داخل ہوں گے ۔‘‘
رسول معظم کا ارشاد گرامی ہے ’’إِنَّمَا الأَعمَالُ بِالنِّیَّاتِ‘‘-صحیح بخاری--اعمال کی قبولیت کا دارومدار نیتوں پر ہے -
قربانی اور اخلاص
چونکہ قربانی بھی ایک عظیم مالی عبادت ہے اس لئے اس کی قبولیت کا دارومدار بھی نیک نیت پر ہے قربانی میں ریاکاری ، نمودونمائش اور دنیاوی اغراض ومقاصد سے مکمل طور پر اجتناب کرنا چاہیے ۔
قرآن کریم اور حدیث حبیب میں ان لوگوں کی قربانی کو عند اللہ غیر مقبول قرار دیا گیا ہے جوقربانی جیسی عظیم عبادت صرف دنیاوی جاہ وجلال اور ریاکاری کیلئے کرتے ہیں ۔
ارشاد رب العالمین ہے ﴿مَنْ کَانَ یُرِیدُ الْحَیَاۃَ الدُّنْیَا وَزِینَتَہَا نُوَفِّ إِلَیْہِمْ أَعْمَالَہُمْ فِیہَا وَہُمْ فِیہَا لَا یُبْخَسُونَ ٭أُولَئِکَ الَّذِینَ لَیْسَ لَہُمْ فِی الْآَخِرَۃِ إِلَّا النَّارُ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوا فِیہَا وَبَاطِلٌ مَا کَانُوا یَعْمَلُونَ ﴾-ہود:۱۵۔۱۶-
’’جو شخص دنیاوی زندگی اور اس کی زینت چاہتا ہے تو ہم انہیں ان کے اعمال کا پورا بدلہ اسی -دنیا- میں دے دیتے ہیں اور اس میں انکی حق تلفی نہیں کی جاتی یہی لوگ ہیں جن کیلئے آخرت میں آگ کے سوا کچھ نہیں اور برباد ہو گیا جو کچھ انہوں نے اس -دنیا- میں کیا اور جو عمل وہ کرتے رہے ضائع ہوگئے ۔‘‘
اس آیت عظیمہ میں اللہ رب العزت نے دنیاوی جاہ وجلال کیلئے نیک اعمال کرنے والے لوگوں کے اعمال باطل قراردئیے ہیں ۔ مذکورہ بالا آیت کی تفسیر میں امام ابن کثیر رحمہ اللہ رقمطراز ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ریاکاروں کو ان کی نیکیوں کا بدلہ دنیا میں ہی دے دیا جائے گا اس لئے کہ ان پر ذرہ برابر ظلم نہیں کیا جائے گا ۔ امام مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت خصوصی طور پر ریاکاروں کیلئے نازل ہوئی ہے ۔ مفسر شہیر امام قتادۃ رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جس شخص کا ارادہ ونیت طلبِ دنیا ہی ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی نیکیوں کا اسے دنیا میں ہی بدلہ عطا فرمادیتا ہے اور آخرت میں ایسے شخص کے پاس کوئی نیکی نہیں بچے گی جس کا اسے بدلہ دیا جائے جبکہ مومن -خالص- کو اس کی نیکیوں کا صلہ دنیا میں بھی ملتا ہے اور وہ آخرت میں بھی ضرور اجر وثواب سے نوازا جائے گا جس طرح کہ سورۃ شوریٰ میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے ۔ ارشاد ایزدی ہے ﴿مَنْ کَانَ یُرِیدُ حَرْثَ الْآَخِرَۃِ نَزِدْ لَہُ فِی حَرْثِہِ وَمَنْ کَانَ یُرِیدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِہِ مِنْہَا وَمَا لَہُ فِی الْآَخِرَۃِ مِنْ نَصِیبٍ﴾-الشوریٰ :۲۰-
’’جوشخص آخرت کی کھیتی چاہتا ہے ہم اس کیلئے اس کی کھیتی میں اضافہ کرتے ہیں اور جوشخص دنیا کی کھیتی چاہتا ہے ہم اسے اس میں سے کچھ دے دیتے ہیں اور اس کیلئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ۔‘‘
قربانی میں اخلاص کیلئے اللہ رب العزت نے تاکیداً حکم فرمایا اور کہا ﴿قُلْ إِنَّ صَلَاتِی وَنُسُکِی وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِی لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ﴾
-الأنعام : ۱۶۲-
’’ کہہ دیجئے کہ میری نماز ، قربانی ، میرا جینا اور مرنا -سب کچھ-اللہ رب العزت کیلئے ہے ۔ ‘‘
امام ابن کثیر رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ آپ ان مشرکوں کو یہ بتادیں جو غیر اللہ کی عبادت کرتے اور غیر اللہ کے نام پر اپنے جانوروں کو ذبح کرتے ہیں کہ آپ ان کاموں میں ان کے مخالف ہیں آپ کی نماز محض اللہ ہی کیلئے ہے اور آپ کی قربانی -دیگر عبادات- صرف اور صرف اللہ وحدہ لا شریک کیلئے ہے جیسا کہ فرمایا ﴿فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ ﴾-الکوثر:۲-
’’اپنے پروردگار ہی کیلئے نماز پڑ ھیں اور قربانی کریں ۔ ‘‘
یادرکھیے ! اگر قربانی میں غیر اللہ کی نیت اور ارادہ شامل ہو گیا تو یہ قربانی آپ کیلئے وبال جان بن سکتی ہے ۔
یعنی اپنی نماز اور قربانی کو اسی کی ذات گرامی کیلئے خالص کریں مشرکین بتوں کی عبادت کرتے اور انہی کیلئے جانور ذبح کرتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ ان مشرکوں کی مخالفت کرتے ہوئے ان کے طریقے سے انحراف کریں اور اللہ ہی کیلئے اخلاص کی نیت اور قصد وارادہ کر لیں ۔ امام مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ’’إِنَّ صَلَاتِی وَنُسُکِی‘‘ میں نسک سے مراد حج وعمرہ میں جانوروں کا ذبح کرنا ہے ۔-ملخصاً از المصباح المنیر فی تہذیب ابن کثیر-
قرآن اور اخلاص
uسورۃ زمر میں اللہ رب العزت نے رسول معظم اکو حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ ﴿قُلِ اللَّہَ أَعْبُدُ مُخْلِصًا لَہُ دِینِی ﴾-زمر :۱۴-
’’کہہ دیجئے میں اللہ کیلئے اپنی بندگی کو خالص کرتے ہوئے اسی کی عبادت کرتا ہوں ۔‘‘
v﴿وَلَا عَلَی الَّذِینَ إِذَا مَا أَتَوْکَ لِتَحْمِلَہُمْ قُلْتَ لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُکُمْ عَلَیْہِ تَوَلَّوْا وَأَعْیُنُہُمْ تَفِیضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا أَلَّا یَجِدُوا مَا یُنْفِقُونَ ﴾
-التوبۃ:۹۲-
’’اور نہ ان لوگوں پر -کوئی گناہ ہے - جو آپ کے پاس آئے کہ آپ انہیں -سفر جہاد کیلئے -سواری دیں -اور- آپ نے کہا کہ میرے پاس کوئی سواری نہیں تو وہ اس حال میں لوٹ گئے کہ ان کی آنکھیں آنسوؤں سے بہہ رہی تھیں کہ ان کے پاس کچھ نہیں جسے وہ -اللہ کی راہ میں - خرچ کریں ۔ نیت صالحہ کی وجہ سے ہی اللہ نے ان کے نام مجاہدین کی فہرست میں رقم فرما دئیے ۔
w﴿لَنْ یَنَالَ اللَّہَ لُحُومُہَا وَلَا دِمَاؤُہَا وَلَکِنْ یَنَالُہُ التَّقْوَی مِنْکُمْ ﴾-الحج:۳۷-
’’ اللہ تک ان -قربانی کے جانوروں - کا گوشت ہرگز نہیں پہنچتا اورنہ ہی ان کا خون لیکن اس تک تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے یعنی قربانی سے مقصود اخلاص وتقوی ہے ۔
الشیخ ابن سعدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خلوص سے خالی عبادت بے روح جسم کی مانند ہے ۔
اور اللہ رب العزت نے حج اور اس کے متعلقات قربانی وغیرہ میں خلوص نیت کی طرف خصوصی توجہ مبذول کروائی ہے ۔
x﴿أَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاہُ ﴾
-الأحقاف:۱۵-
’’اے میرے رب! مجھے توفیق دے کہ میں نیک عمل کروں جس سے تو راضی ہوجائے ۔‘‘
یعنی صالحین اپنے نیک اعمال میں نیت صالحہ اور رضائے الٰہی کو مد نظر رکھتے ہیں ۔
y﴿وَأَنَّ إِلَی رَبِّکَ الْمُنْتَہَی ﴾ -النجم:۴۲-
’’اور بیشک -کا- آپ کے رب کے پاس ٹھکانا ہے ۔‘‘
امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب ہرچیز کا ٹھکانا اس کی طرف ہے تو انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی عبادات میں اس کے علاوہ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے ۔
z﴿الَّذِی خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیَاۃَ لِیَبْلُوَکُمْ أَیُّکُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا وَہُوَ الْعَزِیزُ الْغَفُورُ ﴾
-الملک:۲-
’’وہ -اللہ- جس نے موت وحیات کو پیدا کیا تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل میں زیادہ اچھا ہے اور وہ بڑ ا زبردست ہے خوب بخشنے والا۔‘‘
اللہ رب العزت نے کثرت عمل کو نہیں بلکہ احسن عمل کو ذکر فرمایا ہے کیونکہ کثیر عمل اخلاص سے خالی ہوتو بے فائدہ ہے جبکہ قلیل عمل پر اخلاص کے ساتھ مداومت ایک محبوب اور پسندیدہ فعل ہے ۔
{﴿وَالَّذِینَ اتَّخَذُوا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَکُفْرًا ﴾ -التوبۃ:۱۰۷-
’’اور وہ لوگ جنہو ں نے ایک مسجد بنائی تاکہ -مسلمانوں کو- ضر ر پہنچائیں اور کفر پھیلائیں ۔‘‘
مسجد بنانا ایک نیک عمل ہے مگر خرابی نیت اور فساد کی وجہ سے یہ نیک عمل بھی ان منافقوں کیلئے وبال جان اور آخرت میں باعث عذاب ہو گا۔
﴿کَذَلِکَ لِنَصْرِفَ عَنْہُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاءَ إِنَّہُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِینَ ﴾
-یوسف:۲۴-
’’اسی طرح -ہوا- تاکہ ہم اس سے برائی اور بے حیائی کو پھیر دیں بیشک وہ -یوسف علیہ السلام- ہمارے خالص کئے ہوئے بندوں میں سے تھا۔‘‘
یعنی کہ سیدنا یوسف علیہ السلام کو برائی اور بے حیائی سے ان کے خلوص کی وجہ سے محفوظ ومامون قرار دیا گیا ہے ۔
}﴿لَا نُرِیدُ مِنْکُمْ جَزَاء ً وَلَا شُکُورًا ﴾
-الدہر:۹-
’’ہم تم سے جزا اور شکر گزاری نہیں چاہتے ۔‘‘
امام مجاہد اور سیدناسعید بن جبیر رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم انہوں نے ریاکاری کے ڈر سے یہ بات بھی اپنی زبانوں سے نہیں کہی بلکہ حق تعالیٰ شأنہ نے یہ بات ان کے دلوں سے معلوم کرتے ہوئے ان کی تعریف کی تاکہ دوسرے لوگوں کو بھی اخلاص کیساتھ اچھے اعمال کرنے میں رغبت ہو۔ -ملخصاً از لیدّبروا آیاتہ-
اخلاص اور فرامین نبویہ ا
رسول ا کرم کی صحیح حدیث ہے آپ نے ارشاد فرمایا :
’’مَنْ صَلَّی یُرَائِی فَقَدْ أَشْرَکَ وَمَنْ صَامَ یُرَائِی فَقَدْ أَشْرَکَ وَمَنْ تَصَدَّقَ یُرَائِی فَقَدْ أَشْرَکَ‘‘
-مسند أحمد /سندہ حسن-
’’جس نے نماز پڑ ھی ریاکاری کیلئے روزہ اور صدقہ ریاکاری اور دکھلاوے کیلئے کیا اس نے شرک کیا۔‘‘
اور حدیث قدسی میں اللہ احکم الحاکمین نے ارشاد فرمایا :’’أَنَا أَغْنَی الشُّرَکَاءِ عَنْ الشِّرْکِ مَنْ عَمِلَ عَمَلًا أَشْرَکَ فِیہِ مَعِی غَیْرِی تَرَکْتُہُ وَشِرْکَہُ۔‘‘-صحیح مسلم، رقم الحدیث :۲۹۸۵-
’’سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :میں اپنے تمام شریکوں سے زیادہ غنی وبے پر واہ ہوں جو شخص کوئی ایسا کام کرے جس میں میرے ساتھ کسی غیر کو شریک گردانتا ہے تو میں اس شخص کو اور اس کے شرک کو چھوڑ دیتا ہوں ۔‘‘
یعنی جو شخص اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر مخلوق میں سے کسی کی رضا اور خوشنودی کیلئے نیک عمل کرتا ہے تو اللہ اس شخص سے اور اس کے عمل بد سے بیزار ہیں ۔
دوسری حدیث میں رسول ا کرم نے ’’ غیر اللہ کیلئے جانور ذبح کرنے والے پر لعنت کی اور فرمایا :’’لَعَنَ اللّٰہُ مَن ذَبَحَ لِغَیرِ اللّٰہِ ‘‘ -صحیح مسلم-۱۹۷۸- ’’جوشخص غیر اللہ کیلئے ذبح کرتا ہے اس پر اللہ کی لعنت ہے ۔‘‘
اور جس پر اللہ کی لعنت واجب ہوجائے وہ دنیا جہاں کی خیرات سے محروم ہوجاتا ہے ۔ -اعاذنا اللہ منہا-
’’قَالَ أَبُو ذَرٍّإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ أَخْلَصَ قَلْبَہُ لِلْإِیمَانِ ۔‘‘
’’سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کہ بیشک اپنے دل کو ایمان کیلئے خالص کرنے والا شخص ہی کامیاب ہے ۔‘‘
اسی طرح قربانی چاہیے حقیر سے حقیر سی چیز کی بھی کیوں نہ اس میں شرک کا شائبہ تک نہیں ہونا چاہیے جس طرح کہ سیدنا طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : ’’ دخل رجل الجنۃ فی ذباب ودخل آخر النار فی ذباب ، قالوا : وکیف ذاک؟ قال: مر رجلان ممن کان قبلکم علی ناس معہم صنمٌ لا یمر بہم أحد إلا قرّب لصنمہم ، فقالوا لأحدہما : قرِّب شیئاً قال: ما عندی شیئ قالوا: قرب ولو ذباباً فقرب ذبابا ومضی فدخل النار، وقالوا للآخر : قرب ، قال : ما کنتُ لأُقرِّب لأحدٍ شیئاً دون اللہ عزوجل فضربوا عنقہ فدخل الجنۃ ‘‘ -روی الإمام أحمد فی ’’ الزہد‘‘ ، وأبو نعیم فی ’’ الحلیۃ‘‘ وغیرہما عن سلمان الفارسی رضی اللہ عنہ موقوفاً علیہ بإسناد صحیح أنہ قال الزہد: ص:۳۲، ۳۳- و ’’ الحلیۃ‘‘ ۱/۲۰۳-
ایک شخص صرف ایک مکھی کی وجہ سے جنت میں جاپہنچا اور ایک جہنم میں چلا گیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے تعجب کیساتھ عرض کی کہ یا رسول اللہ یہ کیسے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ دو شخص دوران سفر ایک قبیلہ کے پاس سے گزرے اس قبیلہ کا بہت بڑ ا بت تھا وہاں سے کوئی آدمی چڑ ھاوا چڑ ھائے بغیر گزر نہیں سکتا تھا چنا۔نچہ ان میں سے ایک کو کہا گیا کہ یہاں ہمارے بت پر چڑ ھاوا چڑ ھاؤ -ذبح وغیرہ کرو- اس نے معذرت کی کہ میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے بستی والوں نے کہا کہ تمہیں یہ عمل ضرور کرنا ہو گا اگرچہ ایک مکھی پکڑ کر ہی قربان کر دو اس مسافر نے مکھی کو پکڑ ا اور اس بت کے نام پر قربان کر دیا اور انہوں نے اس آدمی کو آگے جانے کی اجازت دے دی رسول اللہ فرماتے ہیں کہ یہ شخص حقیر سی مکھی کی وجہ سے جہنم کا مستحق ٹھہرا پھر بستی والوں نے دوسرے آدمی سے بھی بت کیلئے قربانی کا مطالبہ کیا تو اس موحد نے جواب دیا کہ میں غیر اللہ کے نام پر کوئی چیز قربان نہیں کرسکتا ۔ یہ جواب سنتے ہی اس بستی کے باشندوں نے مرد موحد کو شہید کر دیا اور یہ مرد موحد سیدھا جنت پہنچ گیا۔ -کتاب التوحید وہو صحیح موقوفاً -
آخری بات
محترم قارئین درج بالا سطور کا خلاصہ یہی ہے کہ ہم اس حیات میں اخلاص کیساتھ نیک اعمال بجا لائیں ۔ یادرکھیں قیامت کے دن دلوں کی نیتوں کو بھی ظاہر کر دیا جائے گا اگر ہماری نیت درست ہوئی تو ہم اس دن کی شرمندگی سے بچ سکتے ہیں آئیے عہد کریں کہ ہم ہر نیک کام اخلاص کیساتھ کریں ۔
اور ’’اذ جاء ربک بقلب سلیم‘‘ کی صفات اپنے اندر پیدا کریں ۔
مکمل مضمون کا مطالعہ کریں>>

خلیل اللہ علیہ السلام

از مولانا عزیز زبیدی
یہ شہادت گہ الفت میں قدم رکھنا ہے
لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلما ں ہونا
دین حق کے جتنے احکام ، مظاہر ، اصول اور قوانین ہیں ، وہ جہاں اپنی ایک انفرادی حیثیت رکھتے ہیں وہاں ان کی ایک اجتماعی حیثیت بھی ہے ۔ انفرادی حیثیت تو ان کی بالکل ظاہر ہے کہ وہ سب بجائے خود سچائی ہیں ۔ اس لئے تنہا بھی وہ حسین اور سرتاپا خیر ہیں اس لئے وہ مفید بھی ہیں اور واجب العمل بھی۔ سچ بولنا ، غریبوں کو کھانا کھلانا، نماز پڑ ھنا، ملک وملت کی خدمت کرنا ، سب اپنی اپنی جگہ نیکیاں ہیں اور ساری دنیا ان کو اچھا کہتی ہے اور ان کی اجتماعی حیثیت کے یہ معنی ہیں حق تعالیٰ جس بندئہ حنیف -موحد بندہ- اور انسان مطلوب -حاملِ قرآن خلیفۃ اللہ- کو پیدا کرنا چاہتا ہے ان کیلئے یہ منفرد نیکیاں تنہا کافی نہیں ہیں بلکہ اس عظیم الشان مقصد کیلئے انسان کی مجموعی زندگی میں وہ اپنی جگہ پرساری نیکیاں یکساں فِٹ اور متحرک رہیں اور ان احکام اور دستور العمل کی یکسانیت کی وجہ سے زندگی کے کسی گوشے میں کوئی تضاد ، خلا اور کوئی کمزوری باقی نہ رہنے پائے اور ان کی مثال بالکل مشینری کے ان پُرزوں جیسی ہے جو اپنی اپنی جگہ تو سب اہم اور قیمتی ہیں لیکن مشینری کارتھ کھینچنے اور اس کو کارآمد بنانے کیلئے تنہا بالکل غیر فانی ہیں ، یہی وجہ ہے کہ ہماری یہ منفرد نیکیاں اور سچائیاں -عبادات، اخلاق اور معاملات - زیادہ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہورہی ہیں ، کیونکہ ان سچائیوں کی انفرادی حیثیت ہماری پوری زندگی سے ہم آہنگ نہیں ہے بلکہ ہماری مجموعی زندگی کے ماحول میں یہ منفرد -اکادکا- اعمال صالح ، نیکیاں اور سچائیاں بالکل اجنبی اور اوپری اوپری سی لگتی ہیں اس کے علاوہ سچ کے ساتھ جھوٹ اور نیکی کے ساتھ بدی کا سلسلہ ’’کسر وانکسار‘‘ کا ایک ایسا طویل سلسلہ ہے جس کی کش مکش میں یہ ساری غیر مربوط اور منفرد سچائیاں عموماً ضائع ہوجاتی ہیں ۔ تعمیر کیلئے ضروری ہے کہ انسان تخریبی حرکات سے مجتنب رہے ورنہ جتنی دیوار کھڑ ی کی جائے گی۔ دوسرے وقت میں اتنی اس کی تخریبی حرکات کے نتیجہ میں وہ اُکھڑ بھی جائے گی اور میں پورے وثوق کے ساتھ کہتا ہوں کہ حج اور قربانی۔ انسان کے اسی فریب نفس کی اصلاح کیلئے آیا ہے کہ وہ اسلام میں پورا پورا دخل ہونے کی بجائے اس کی کچھ سچائیوں کی تعمیل پر قناعت کر لیتا ہے اور پھر اسی فریب میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ بس فرض ادا ہو گیا کہ یہ بھی کوئی فرض کفایہ ہے کہ اب باقی اعمالِ حیات کی ذمہ داری اس کے سر سے ساقط ہوگئی یا اس سلسلہ میں اس کی دوسری کوتاہیاں بے اثر ہوجائیں گی۔
آئیے !اس فرصت میں ہم سیدنا خلیل اللہ علیہ الصلاۃ والسلام کی مبارک زندگی کا مطالعہ کریں تاکہ ہمیں اندازہ ہوجائے کہ وہ تعلق باللہ کے سلسلہ میں کس قدر یکسوتھے ۔ اور ان کی پوری زندگی اور منفرد اعمال میں کس قدر ہم آہنگی اور یکسانیت تھی۔ یا حج اور قربانی آپ کی مجموعی زندگی کا ایک پہلو تھا یا اس سے جدا اور اجنبی کوئی اور شئ تھی۔یہ فریضہ ایک بول اور کلمہ ہے یا کردار اور عمل کانام ہے ۔ میرے نزدیک اس زندگی کے سفر میں آپ کا ہر قدم اللہ کی رضا اور عشق کی سرشاری میں اٹھا اور اسی رواروی میں یہ -حج اور قربانی - بھی حسبِ معمول ایک قدم اٹھا اور اسی عالم میں جو قدم اٹھا وہ رکنِ حج اور دینِ حنیف بن گیا۔ قرآن نے آپ کی زندگی کی جو تصویر پیش کی ہے وہ اسی کی صفاتِ حسنہ کے آئینے میں یہ ہے ۔ اس کا ایک مثبت پہلو ہے اور دوسرا منفی۔ اور ان دونوں کے امتزاج سے جو مبارک ہستی ظہور میں آئی ، وہ حنیف اور خلیل کہلائی۔ اس وقت ہمیں آپ علیہ السلام کا صرف مثبت پہلو پیش کرنا ہے ۔
موقن
﴿وَکَذَلِکَ نُرِی إِبْرَاہِیمَ مَلَکُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلِیَکُونَ مِنَ الْمُوقِنِینَ﴾-الأنعام:۷۵-
’’ یعنی آپ صاحب یقین تھے ، اس میں آپ کو پوری طمانیت حاصل تھی۔‘‘
مہاجر إلی اللہ
﴿فَآَمَنَ لَہُ لُوطٌ وَقَالَ إِنِّی مُہَاجِرٌ إِلَی رَبِّی إِنَّہُ ہُوَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ ٭وَوَہَبْنَا لَہُ إِسْحَاقَ وَیَعْقُوبَ وَجَعَلْنَا فِی ذُرِّیَّتِہِ النُّبُوَّۃَ وَالْکِتَابَ وَآَتَیْنَاہُ أَجْرَہُ فِی الدُّنْیَا وَإِنَّہُ فِی الْآَخِرَۃِ لَمِنَ الصَّالِحِینَ ﴾ -العنکبوت:۲۶۔۲۷-
پوری زندگی کے اس سفر میں آپ کا سارا سفر حق تعالیٰ کیلئے رہا ہے اور کبھی کوئی قدم آپ کا اس کی مخالف سمت میں نہیں اٹھا اور جس چیز سے آپ نے گریز کیا ہے وہ صرف ہجرت الی اللہ کی نوعیت اور جذبہ کے تحت کیا اسی کو دوسری جگہ ’’ذَاہِبٌاِلَی رَبِّی‘‘ سے تعبیر کیا ہے ۔‘‘
قاَنِتٌ
﴿وَقُومُوا لِلَّہِ قَانِتِینَ ﴾-البقرۃ:۲۳۸-
’’ انتہائی تذلل کے ساتھ عبودیت اور فرمانبرداری بجالانے والا ۔‘‘
حلیم
﴿إِنَّ إِبْرَاہِیمَ لَأَوَّاہٌ حَلِیمٌ ﴾-التوبۃ:۱۱۴-
’’ نہایت خندہ پیشانی کے ساتھ حق کی راہ میں تلخیوں اور شدائد کا سامنا کرنے والا ۔‘‘
مُنیب
﴿إِنَّ إِبْرَاہِیمَ لَحَلِیمٌ أَوَّاہٌ مُنِیبٌ ﴾-ہود:۷۵-
’’ ہر حال میں اپنے مولی کی طرف رجوع ہوکر رہنے والا ۔‘‘
صاحبِ رُشد
﴿وَلَقَدْ آَتَیْنَا إِبْرَاہِیمَ رُشْدَہُ مِنْ قَبْلُ وَکُنَّا بِہِ عَالِمِینَ﴾-الأنبیاء:۵۱-
’’ راستی اور راہِ راست پر مضبوطی سے قائم رہنے والا۔ صاحبِ فہم وفراست۔‘‘
مسلم
’’ سرتسلیم خم ہے جو مزاجِ یار میں آئے ‘‘ کا سچا نمونہ ۔‘‘
حنیف
﴿إِنَّ إِبْرَاہِیمَ کَانَ أُمَّۃً قَانِتًا لِلَّہِ حَنِیفًا وَلَمْ یَکُ مِنَ الْمُشْرِکِینَ ﴾-النحل:۱۲۰-
’’ وہ موحد اور پاکباز ہستی جو ہر طرف سے ہٹ کر صرف اللہ کی ہورہی ۔ اس کے بارے میں اس کی توجہ بالکل غیر منقسم رہی اور پوری توجہ کے ساتھ اس کی طرف یکسوئی رہی۔‘‘
قلبٍِ سلیم
﴿إِذْ جَاءَ رَبَّہُ بِقَلْبٍ سَلِیمٍ ﴾-الصافات:۸۴-
’’ وہ بندئہ حنیف جو غیراللہ کے اس جذب وکشش کے داغ دھبوں سے پاک رہا ہو جو تعلق باللہ پر اثر انداز ہو سکیں یا ان کی موجودگی اس کی غیرت یکتائی کے منافی ہو اس کومخلص بھی کہا گیا ہے ۔‘‘
معمارِ حرم
﴿وَإِذْ یَرْفَعُ إِبْرَاہِیمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَإِسْمَاعِیلُ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّکَ أَنْتَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ ﴾-البقرۃ:۱۲۷-
’’اس بیت اللہ اور حرم کے معمارِ جو وحدتِ ملی کا سرچشمہ ، توحید الٰہی کا مظہر اور سنگِ میل اور شعائر اللہ کا مرکز ہے ۔‘‘
محسن
﴿قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْیَا إِنَّا کَذَلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِینَ ﴾-الصافات:۱۰۵-
’’ احسان، قلبی مشاہدہ جذبِ دروں اور پوری طمانیت کے ساتھ حق تعالیٰ کی عبادت بجالانے کانام ہے ۔‘‘
مؤذن
کعبہ کی تعمیر کے بعد سب سے پہلی اذان دینے والے جو حاضر اور آنے والی تمام سعادت مند نسلوں کے دلوں میں اُتر گئی اور ہمیشہ کیلئے ایک عالمگیر تحریک اور اجتماع کی داغ بیل ڈالی گئی۔
صدیق
ایسا سچا اور سچ بولنے والا جو اپنی بات کو اپنے کردار سے سچ کر دکھائے ۔ اس میں سچائی قبول کرنے کی کامل استعداد ہو اور جب حق تعالیٰ کی طرف سے کوئی حکم پہنچے تو اس کو بلا توقف مان لے ۔
اَوَّاہُ
وہ ہستی جس کے سینہ میں ایسا درد منددل ہو جو اس کو سدا آہ وفغاں سے ہمکنار رکھے اور اپنے محبوب کے احکام کی تعمیل صرف آئینی اور قانونی احساس کا نتیجہ نہ ہو بلکہ جذبِ دروں اور دل کی ہوک اور سچی پیاس پر مبنی ہو۔
امت
وہ شخص جس کی حیاتِ طیبہ میں پوری استعداد ، صالح اعمال اور صدق مقال کے تمام محاسن یکجا جمع ہوں جیسے چھوٹے سے بیج میں ایک تناور درخت۔
توصیہ
انسان اپنی اولاد کی تربیت سے بھی پہچانا جاتا ہے کیونکہ وہاں وہ بالکل اصلی روپ میں ہوتا ہے ۔ تکلف اور تصنع نہیں ہوتا چنانچہ آپ نے اپنی اولاد کو جو توصیہ حق فرمایا تھا وہ اس امر پر شاہد ہے کہ آپ کی جلوت اور خلوت میں بالکل یکسانیت تھی۔
ان صفات والے بزرگ کو ’’حنیف‘‘ کہتے ہیں اور جو شخصیت پہلے انہی صفات کی حامل تھی یہ حج اور قربانی اسی کا اسوئہ حسنہ ہے اور محض انہی صفات اور محاسن کی تجدید کیلئے ہے تاکہ ہر زمانہ میں ’’حنفاء للہ ‘‘ -اللہ کے حنیف بندے - پیدا ہوں ۔
مکمل مضمون کا مطالعہ کریں>>

سیرتِ امام المؤحدین علیہ السلام

از حمزہ طارق برکی
الحمدللہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی رسولہ الکریم أما بعد
قولہ تعالیٰ : ﴿لَنْ یَنَالَ اللَّہَ لُحُومُہَا وَلَا دِمَاؤُہَا وَلَکِنْ یَنَالُہُ التَّقْوَی مِنْکُمْ ﴾-الحج :۳۷-
وقولہ تعالیٰ :﴿وَإِذْ قَالَ إِبْرَاہِیمُ لِأَبِیہِ آَزَرَ أَتَتَّخِذُ أَصْنَامًا آَلِہَۃً إِنِّی أَرَاکَ وَقَوْمَکَ فِی ضَلَالٍ مُبِینٍ ﴾-الأنعام :۷۳-
وہ اللہ کا بندہ جس نے تاریخ بنی نوع انسانی میں ہجرت الی اللہ کے بانی ہونے کا اعزاز حاصل کیا ، وہ جس نے ہر آزمائش ہر امتحان ، ہر ابتلاء ، ہر اختبار پر خوشی خوشی ’’لبیک’’ کہا ، جس کی زندگی جب سے ان پر حق منکشف ہوا اس وقت سے لیکر مرتے دم تک ان کی پوری زندگی ہر دم قربانی ہی قربانی رہی۔ دنیا میں جس چیزبھی انسان محبت کرتا ہے کوئی ایسی ۔۔۔چیز نہ تھی جس کو انہوں نے اللہ کی راہ میں قربان نہ کیا ہو جن خطرات کو انسان محسوس کرنا بھی گوارا نہیں کرتا، اسے انہوں نے ہردم جھیلا، جس نے بیت اللہ الکعبۃ المشرفۃ کی بنیاد رکھی اور عرب کی سرزمین پر ایک شہر مکہ مکرمہ آبادکیا ، اس عظیم شخصیت کانام ابو الأنبیاء ابراہم خلیل اللہ علیہ السلام ہے ۔ جن کی پوری زندگی سوائے قربانی اور آزمائش کے اور کچھ نہ رہی، جنہوں نے اپنے آباء واجداد، اپنے وطن ، تمام تر آسائشیں اللہ کی راہ میں قربان کر دیں ۔ ابراہیم علیہ السلام کی زندگی سے ہم پر یہ ظاہر اور واضح ہوتا ہے کہ یہ جوہماری زندگی ہے یہ حیات کی مانند ہے ۔ بڑ ی عارضی ، بڑ ی فانی اس حیات دنیوی کی پائیداری پر کوئی اعتمادنہیں ہو سکتا یہ کب تک رہے گی لیکن جتنی بھی دیر یہ حیات قائم ہے اس کی بھی ایک غرض وغایت اور مقصد ہے وہ بھی عبث اور بیکار نہیں ۔پس یہ زندگی ایک آزمائش اور امتحان سے زیادہ کچھ بھی نہیں ۔
یہ گھڑ ی محشر کی ہے تو عرصہ محشر میں ہے
پیش کر غافل عمل کوئی اگر دفتر میں ہے
قارئین کرام! ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام کی حیات سعیدہ کن کن مراحلوں سے گزری اب تفصیلاً بیان کر رہا ہوں ۔
ابراہیم علیہ السلام کی فکرونظر کا امتحان
ابراہیم علیہ السلام کاپہلا امتحان تو ان کی فکر ونظر اور عقل وشعور کا تھا اس امتحان میں انہوں نے عظیم الشان کامیابی حاصل کی اس کاذکر سورۃالأنعام میں ہے ۔
انہوں نے ایک ایسے ماحول میں آنکھ کھولی جس میں ہر نوع کے شرک چھائے ہوئے تھے توحید کی کوئی روشنی موجودنہ تھی ۔شرک کی تمام تر اقسام وہاں موجود تھی۔غیر اللہ کی حاکمیت کاشرک وہاں موجود تھا۔وہاں کابادشاہ نمرود خدائی کا دعویٰ کرتا تھا۔ نعوذ باللہ
اور اسی دعوے کے ساتھ وہ تخت پر متمکن تھامذہبی شرک وہاں ستارہ پرستی رائج تھی مختلف ستاروں کو وہ لوگ پوجا کرتے تھے ۔
ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام جہاں پیدا ہوئے وہ گھر بھی ایک بت فروش آزرنامی آدمی کا تھا جو مشرکوں کے درمیان صاحب منصب بھی تھا شرک کے ان گھٹاٹوپ اندھیروں میں ابراہیم علیہ السلام اپنی فطرت وعقل سلیم کی رہنمائی میں نظری ، فکری اور عقلی سفر کرتے ہوئے اس نتیجے پر پہنچے کہ ان کی دل کی گہرائیوں سے یہ نعرہ بلند ہوتا ہے کہ ﴿إِنِّی وَجَّہْتُ وَجْہِیَ لِلَّذِی فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِیفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِکِینَ ﴾-الأنعام:۷۹-
’’اور یک سو ہوکر اپنا رخ اس ذات کی طرف کرتا ہوں جس نے زمین اور آسمان کو پیدا کیا اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں ۔‘‘
یہ نعرہ ان مشرکوں کے درمیان بغاوت تھی۔ پھر ابراہیم علیہ السلام نے بڑ ے ہی مؤثر انداز میں اپنے والد اور اپنی قوم کو سمجھایا جیسا کہ سورۃ الأنعام میں مذکور ہے ۔ ﴿وَإِذْ قَالَ إِبْرَاہِیمُ لِأَبِیہِ آَزَرَ أَتَتَّخِذُ أَصْنَامًا آَلِہَۃً إِنِّی أَرَاکَ وَقَوْمَکَ فِی ضَلَالٍ مُبِینٍ﴾
-الأنعام :۷۴-
’’سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ یاد کرو جب کہ اس نے اپنے باپ آزر سے کہا تھا کیا تو بتوں کو الہ بناتا ہے میں تو تجھے کھلی گمراہی میں پاتا ہوں ۔‘‘
سورۃ الأنبیاء میں ارشادہے ﴿إِذْ قَالَ لِأَبِیہِ وَقَوْمِہِ مَا ہَذِہِ التَّمَاثِیلُ الَّتِی أَنْتُمْ لَہَا عَاکِفُونَ﴾
-الأنبیاء :۵۲-
’’یادکرو وہ موقع جبکہ اس -ابراہیم علیہ السلام - نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا تھا کہ یہ مورتیں کیسی ہیں جن کے تم لوگ گرویدہ ہورہے ہو۔‘‘
الغرض مختلف مواقع پر ، مختلف اسالیب مختلف انداز میں باربار اپنے والد اور قوم کو توحید کی طرف بلاتے رہے ۔
﴿قَالَ اَتَعبُدُونَ مَا تَنحِتُونَ﴾-الصافات:۹۵-
’’ ابراہیم علیہ السلام نے کہا کیا تم اپنی ہی تراشی ہوئی مورتیاں پوجتے ہو؟۔‘‘
پھر آخری چوٹ لگاتے ہوئے پوچھتے ہیں کہ ﴿أُفٍّ لَکُمْ وَلِمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّہِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ ﴾-الأنبیاء :۶۷-
’’ اف ہے تم پر اور تمہارے معبودوں پرجن کی تم اللہ کو چھوڑ کر پوجا کرتے ہو کیا تم عقل نہیں رکھتے ۔‘‘
یہ ابراہیم علیہ السلام کی عقل سلیم اور بیداری کی مثالیں تھی جو اس شرک کے اندھیروں میں روشنی اور ہدایت بنی۔ اس امتحان میں انہوں نے شاندار کامیابی حاصل کی۔
قوت ارادی کی آزمائش
اب دوسرا امتحان ’’عمل‘‘ کا شروع ہوا۔قوت ارادی کی آزمائش کی ابتداء ہوئی سیرت وعمل کے کردار کی پختگی کا امتحان شروع ہوا۔ سب سے پہلی کشمکش تو اپنے والد آزر سے ہوئی ، بڑ ی ہی لجاجت اور خوش اخلاقی اور بڑ ے ہی نرم انداز میں اپنی دعوت پیش کی کہ اباجان! آپ کیا کر رہے ہیں ؟ ﴿یَا أَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّیْطَانَ إِنَّ الشَّیْطَانَ کَانَ لِلرَّحْمَنِ عَصِیًّا﴾-مریم :۴۴-
’’اے میرے ابا جان! شیطان کی بندگی نہ کیجئے بلاشبہ شیطان تو رحمن کا نافرمان ہے ۔‘‘
﴿یَا أَبَتِ إِنِّی أَخَافُ أَنْ یَمَسَّکَ عَذَابٌ مِنَ الرَّحْمَنِ فَتَکُونَ لِلشَّیْطَانِ وَلِیًّا﴾-مریم:۴۵-
’’ اے میرے اباجان! مجھے اندیشہ ہے کہ رحمن کی طرف سے عذاب آے گا اور آپ شیطان کے ساتھیوں میں سے ہوجائیں ۔‘‘
ان تمام لجاجتوں اور ادب واحترام کے نتیجے میں مخالفت اور طعنہ زنی کے علاوہ اور کچھ نہ پایا آزر ابراہیم علیہ السلام کو مخالفت کے انداز میں کہتا ہے ﴿قَالَ أَرَاغِبٌ أَنْتَ عَنْ آَلِہَتِی یَا إِبْرَاہِیمُ لَئِنْ لَمْ تَنْتَہِ لَأَرْجُمَنَّکَ وَاہْجُرْنِی مَلِیًّا ﴾-مریم:۴۶-
’’اس نے کہا اے ابراہیم علیہ السلام ! تم میرے معبودوں سے روگردانی کر رہے ہو ، اگر تم باز نہ آئے تو میں تمہیں سنگسار کر دوں گا ، اس وقت میری نظر سے دور ہوجاؤ۔‘‘
اس بداخلاقی اور سخت کلامی کے باوجود ابراہیم علیہ السلام نرمی اختیار کرتے ہوئے کہتے ہیں ۔ ﴿قَالَ سَلَامٌ عَلَیْکَ سَأَسْتَغْفِرُ لَکَ رَبِّی إِنَّہُ کَانَ بِی حَفِیًّا ﴾-مریم:۴۷-
’’کہا آپ پر سلامتی ہو میں اپنے رب سے دعا کروں گا کہ وہ آپ کو معاف کر دے یقینا میرا رب مجھ پر بڑ ا مہربان ہے ۔
یہاں ابراہیم علیہ السلام ارادے کی پختگی اور عزم اور سیرت کے امتحان میں کامیابی حاصل کرتے ہیں ، جہاں انہیں سنگسار کی دھمکی دی جاتی ہے گھر سے نکل جانے کا حکم دیا جاتا ہے جہاں ان کے ساتھ بداخلاقی سے پیش آیا جاتا ہے وہاں یہ اللہ کا بندہ کہتا ہے ۔ ﴿سَلاَمٌ عَلَیکَ﴾ اپنے کردار میں اور اعلیٰ سیرت کی اس آزمائش میں ابراہیم علیہ السلام پورے اترتے ہیں ۔
قلزم ہستی سے تو ابھرا ہے مانند احباب
اس زیاں خانے میں تیرا امتحان ہے زندگی
ابراہیم علیہ السلام کی عملی دعوت اور بُت شکنی
اب آیا معاملہ عوام کا جو ستارہ پرست تھے ، یا بت فروش یا حاکمیت کہ ہر مدعی ہونے والے کو اپنا سب کچھ مانتے تھے ۔بہرحال اب آپ ابراہیم علیہ السلام کے جذبات واحساسات اور ان عقائد وعمل کا اندازہ لگائیے ۔ اور جرأت کے اس پیکر کو دیکھئے کہ کس قدر عظیم کام انہوں نے سرانجام دیا ان کے سب سے بڑ ے صنم خانے میں داخل ہوئے اور ان کے تمام تر بت توڑ دیے سب سے بڑ ے بت کو چھوڑ کرپھر جب قوم والے واپس آئے تو اپنے بتوں کا یہ حال دیکھ کر حیران رہ گئے ، حیرانی کے اس عالم میں کہتے ہیں کس نے ہمارے معبودوں کا یہ حال کیا ہے پھر ابراہیم علیہ السلام کو طلب کیا گیاکہتے ہیں ﴿قَالُوا أَأَنْتَ فَعَلْتَ ہَذَا بِآَلِہَتِنَا یَا إِبْرَاہِیمُ﴾-الأنبیاء:۶۲-
’’ وہ کہتے ہیں اے ابراہیم ! ہمارے آلہۃ کا یہ حال تم نے کیا ہے ۔‘‘
ابراہیم علیہ السلام نے بطور حجت ان سے کہا ﴿قَالَ بَلْ فَعَلَہُ کَبِیرُہُمْ ہَذَا فَاسْأَلُوہُمْ إِنْ کَانُوا یَنْطِقُونَ ﴾-الأنبیاء:۶۳-
’’ اس بڑ ے بت نے یہ کام کیا ہو گا اسی سے پوچھو اگر یہ -بت- بولتے ہیں ۔‘‘
گویا عام واقعاتی شہادتیں تو اس بڑ ے بت کے خلاف ہیں ۔ اس حجت سے انہوں نے اپنے دلوں میں یہ محسوس کر لیا کہ غلط تو ہم ہی ہیں یہ ہمارے بت بول کب سکتے ہیں ۔
نمرود سے مباحثہ
عوام کے ساتھ اس مقابلے میں کامیاب ہونے کے بعد اب حکومت واقتدار وقت سے مقابلہ کی نوبت آتی ہے ۔ یہ بادشاہ وقت جو نمرود نامی سرکش اور اپنے وقت کا فرعون تھا۔ اس کی سرکشی کا معلوم ہونے کے بعد اس کے اقتدار اور منصب کے باوجود ابراہیم علیہ السلام توحید کا پرچم لیئے دربار میں پوری دلیری اور پامردی سے کھڑ ے ہیں اور اس سرکش انسان سے مباحثہ اور مناظرے میں مصروف ہیں اس مباحثہ کے عالم میں ابراہیم علیہ السلام دلیل پیش کرتے ہیں کہ ﴿قَالَ إِبْرَاہِیمُ رَبِّیَ الَّذِی یُحْیِی وَیُمِیتُ ﴾-البقرۃ:۲۵۸- ’’ابراہیم علیہ السلام نے کہا میرا رب تو وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور موت دیتا ہے ۔‘‘اس بیوقوف بادشاہ نے بحث میں الجھنے کی خاطر کہا کہ ﴿قَالَ أَنَا أُحْیِی وَأُمِیتُ ﴾-البقرۃ:۲۵۸- میں بھی زندہ کرتا ہوں اور مارتا ہوں ۔‘‘
بعض روایتوں میں آتا ہے کہ یہ کہنے کے بعد اس نے دو آدمیوں کو بلایا اور ایک کو قتل کر دیا اور ایک کو چھوڑ دیا اور کہنے لگا بطور حجت کے دیکھو میں زندہ کرتا ہوں اور مارتا ہوں ۔
اس کی اس کج بحثی کا رویہ دیکھ کر ابراہیم علیہ السلام نے آخری دلیل پیش کی ﴿قَالَ إِبْرَاہِیمُ فَإِنَّ اللَّہَ یَأْتِی بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَأْتِ بِہَا مِنَ الْمَغْرِبِ ﴾-البقرۃ:۲۵۸-’’ابراہیم علیہ السلام نے کہا میرارب تو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے اگر تجھ میں طاقت ہے تو تو اسے مغرب سے نکال کر دکھا اس حجت قطعی کا نتیجہ یہ نکلا کہ ﴿فَبُہِتَ الَّذِی کَفَرَ﴾’’ یہ سن کر وہ منکر حق ششدر ہوکر رہ گیا۔‘‘
اس امتحان میں بھی ابراہیم علیہ السلام کامیاب ہوگئے ۔
ابراہیم علیہ السلام آتش کی لپیٹ میں
اب ایک اور بڑ ا امتحان آیا، نمرود جب اس مباحثہ میں آ گیا اور کہنے لگا اب آخری فیصلہ کر لو۔ زندگی عزیز ہے تو اپنی یہ دعوت دینا چھوڑ دو ، اور اگر اسی پر ڈٹے رہے تو موت ہی تمہارا مقدر ہے ۔ ابراہیم علیہ السلام کا موقف وہی رہا جس پر وہ ڈٹے رہے بادشاہ نے اپنی شکست کی شرمساری سے بچنے کیلئے اور اپنے عمائدین اور عوام کے مطالبے پر حکم دیا کہ ابراہیم علیہ السلام کو آگ کے الاؤمیں جلا ڈالو اور اس طور پر اپنے معبودوں کی مدد کرو چنانچہ انہوں نے آگ کا بہت بڑ ا الاؤ دھکایا اور ابراہیم علیہ السلام کو اس میں کود پڑ نے کو کہا اور وہ کود گئے ، اس عمل کو شاعر نے اپنے انداز میں کیا خوب کہا ہے کہ
بے خطر کود پڑ ا آتش نمرود میں عشق
عقل ہے تماشائے لب بام ابھی
ابراہیم علیہ السلام اپنی آزمائش میں پورے اترے اور آگ میں کود پڑ ے لیکن اللہ عزوجل نے آگ کو حکم دیا ﴿قُلْنَا یَا نَارُ کُونِی بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَی إِبْرَاہِیمَ ﴾-الأنبیاء : ۶۹-
’’ہم نے کہا اے آگ ٹھنڈی ہوجا اور ابراہیم علیہ السلام کیلئے سلامتی والی بن جا۔‘‘
آگ ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کیلئے گل وگلزار بن گئی اللہ تعالیٰ کا یہ بندہ اپنے امتحان میں کامیاب ہوکر معجزانہ طریقے سے بچا لیا گیا۔
ابراہیم علیہ السلام کی ہجرت الی اللہ
آگ کی لپیٹ سے بچنے کے بعد ابراہیم علیہ السلام نے ہجرت کا فیصلہ کیا۔﴿وَقَالَ إِنِّی ذَاہِبٌ إِلَی رَبِّی سَیَہْدِینِ ﴾-الصافات:۹۹-
’’اپنے رب کی طرف جاتا ہوں وہی میری رہنمائی کرے گا۔‘‘
یعنی میں اپنے رب کی خاطر اپنا وطن اپنا گھر سب کچھ چھوڑ رہا ہوں اور رہا یہ معاملہ کہ میرا ٹھکانہ کہاں ہو گا تو یہ میں اللہ عزوجل کے حوالے کرتا ہوں وہ میری رہنمائی کرے گا یہ ہوا ایک اور امتحان وطن کو خیر آباد کہنا اور صرف اللہ کے بھروسے پروہاں نکل جانا۔کوئی منزل پیش نظر نہیں کوئی رائے مشورہ نہیں ۔ سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلاۃ والسلام کی یہ ہجرت الی اللہ کی کامل ترین مثال ہے اس ہجرت میں ان کے ساتھ ان کی اہلیہ ’’سارہ ‘‘ اور ان کے بھتیجے ’’لوط‘‘ علیہ السلام تھے یہ دونوں آپ پر ایمان لا چکے تھے ۔
اسماعیل اور اسحاق علیہما السلام کی ولادت
ہجرت کے بعد کی زندگی میں ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلاۃوالسلام کو یہ احساس ہوا کہ کچھ اعوان انصاد ہوں کوئی دست وبازو ہو، تو زبان پر دعا آ گئی ﴿رَبِّ ہَبْ لِی مِنَ الصَّالِحِینَ﴾-الصافات:۱۰۰-
’’ اے میرے رب! مجھے صالح اولاد عطا فرما۔‘‘
اللہ عزوجل نے دعا قبول فرمائی اور ابراہیم علیہ السلام کو ستاسی -۸۷- سال کی عمر میں اسماعیل ں جیسا فرمانبرداربیٹاعطا فرمایا۔ جن کی والدہ ’’ہاجرہ‘ تھی۔ آپ کی پہلی اہلیہ’’ سارہ‘‘ جو آپ ہی کے خاندان سے تھی اور انہوں نے ہجرت میں آپ کا ساتھ دیا وہ بانجھ تھی طویل عمر تک اولاد کی نعمت سے محروم تھی ۔ اسماعیل علیہ السلام کی پیدائش کے بعد فرشتوں کے ذریعے اسحاق علیہ السلام کی پیدائش کی بشارت دی تو انہوں نے اپنا سر پکڑ لیا۔
﴿قَالَتْ یَا وَیْلَتَی أَأَلِدُ وَأَنَا عَجُوزٌ وَہَذَا بَعْلِی شَیْخًا إِنَّ ہَذَا لَشَیْء ٌ عَجِیبٌ ﴾-ہود:۷۲-
’’وہ کہنے لگی: ہائے میرے بدبختی میں بوڑ ھی عورت اور بانجھ کیا اس عمر میں میرے یہاں اولاد ہو گی؟ جبکہ میرے شوہر بھی بوڑ ھے ہو چکے ہیں یہ تو بڑ ی انوکھی بات ہے ۔‘‘
ابراہیم علیہ السلام کی دعا کا جواب ملا ﴿فَبَشَّرْنَاہُ بِغُلَامٍ حَلِیمٍ﴾-الصافات:۱۰۱-
’’پس ہم نے اسے ایک بردبار بیٹا عطا فرمایا۔‘‘
جسے چاہتادیتا ہے جو چاہتا ہے دیتا ہے یہاں اسماعیل کی بشارت ملتی ہے اور بعد میں اسحاق علیہ السلام کی پیدائش کی خبر ملی تو اللہ کا یہ بندہ اس فضل وکرم کا شکر کن الفاظ میں عطا فرماتا ہے ۔
﴿اَلْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی وَہَبَ لِی عَلَی الْکِبَرِ إِسْمَاعِیلَ وَإِسْحَاقَ﴾-إبراہیم :۳۹-
’’ابراہیم علیہ السلام نے کہا اس اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے بڑ ھاپے کے باوجود اسماعیل اور اسحاق علیہما السلام جیسے وارث عطا فرمائے ۔‘‘
ذبح عظیم
اب ابراہیم علیہ السلام کی ایک عظیم قربانی جو آنے والی تمام نسلوں کیلئے ایک نشانی وعلامت ہے کا تذکرہ کیا جاتا ہے ۔ اوپر میں ذکر کر چکا ہوں کہ ابراہیم علیہ السلام کو -۸۷- سال کی عمر میں بیٹے کی نعمت عطا ہوئی اب ایک اور امتحان شروع ہوا اب ادھر بوڑ ھا باپ اپنے بیٹے کو بڑ ا ہوتا ہوا دیکھ رہا ہے ۔ ادھر محبت ، وجذبات اور امیدوں اور تمناؤں کا امتحان تھا۔ جب اسماعیل علیہ اسلام بوڑ ھے باپ کے تیسرا ہاتھ اور لاٹھی کے مترادف ہو گیا اور محنت ، مشقت میں ہاتھ بٹانے والا بن گیا اب ان کی عمر تیرا سال ہوگئی تو ابراہیم علیہ السلام ان سے کہتے ہیں ﴿یَا بُنَیَّ إِنِّی أَرَی فِی الْمَنَامِ أَنِّی أَذْبَحُکَ فَانْظُرْ مَاذَا تَرَی ﴾-الصافات:۱۰۲-
’’ اے میرے بچے ! میں خواب میں دیکھ رہا ہوں کہ تجھے ذبح کر رہا ہوں ۔‘‘
روایت میں آتا ہے ’’یہ خواب مسلسل تین دن تک آتا رہا۔‘‘ اب غور کریں اور بتائیں کہ تمہاری کیا رائے ہے ۔‘‘؟
قارئین کرام! یاد رکھیے کے نبی کا خواب وحی ہوتا ہے ۔
اب بیٹے کی اطاعت گزاری کا اظہار ہورہا ہے ﴿قَالَ یَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِی إِنْ شَاءَ اللَّہُ مِنَ الصَّابِرِینَ ﴾-الصافات:۱۰۲-
’’ اس بیٹے نے کہا ابا جان! کر گزرئیے جو حکم آپ کو مل رہا ہے آپ انشاء اللہ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے ۔‘‘
﴿فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّہُ لِلْجَبِینِ ﴾-الصافات-
’’پھر جب دونوں -باپ بیٹا- نے اسلام -فرمانبرداری-کا مظاہرہ کیا اور اس کو -اسماعیل علیہ السلام- پیشانی کے بل لیٹادیا۔‘‘
جب دونوں نے اللہ کے حکم کو بسروچشم قبول کر لیا اور ابراہیم علیہ السلام نے اسماعیل علیہ السلام کو پیشانی کے بل گرا دیا تاکہ چہرہ سامنے نہ آئے اور جذبات فطری عین وقت ذبح جوش نہ ماریں ، بوڑ ھے ہاتھوں میں کہیں لرزش نہ آجائے ۔ اب جب ۱۳ سال کے بیٹے کے گلے پر چھری پھیرنے کی تیاری کر رہا تھا۔
﴿وَنَادَیْنَاہُ أَنْ یَا إِبْرَاہِیمُ﴾-الصافات-
’’اور ہم نے اس کو پکارا اے ابراہیم علیہ السلام بس کر۔‘‘
﴿قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْیَا إِنَّا کَذَلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِینَ ﴾-الصافات-
’’بلاشبہ تو نے خواب سچ کر دکھایا۔‘‘اس سے زائد ہمیں درکار نہیں ۔
قارئین کرام! ابراہیم علیہ السلام کی وسیع ہمت اور ایمان دیکھئے کہ ممتحن روک رہا ہے لیکن امتحان دینے والا ابھی بھی تیار ہے ۔ امتحان پورا ہو گیا ، اپنی محبوب ترین شے اللہ کی راہ میں قربان کرنے پر آمادہ ہوگئے چنانچہ فرمایا:﴿وَتَرَکْنَا عَلَیْہِ فِی الْآَخِرِینَ ٭ سَلَامٌ عَلَی إِبْرَاہِیمَ ٭کَذَلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِینَ ﴾-الصافات:۱۰۸تا۱۱۰-
’’اور ہم نے بعد کی نسلوں کیلئے اس-قربانی- کو-بطور یادگار- چھوڑ دیا سلامتی ہو ابراہیم پر ، اور اسی طرح ہم محسنوں کی قدر دانی کرتے ہیں ۔‘‘
قارئین کرام! ابراہیم علیہ السلام کی یہ سنت قیامت تک آنے والی تمام دنیا کے لوگوں کیلئے یادگار ہو گی۔
ابراہیم علیہ السلام کی یہ عظیم قربانیاں اور آزمائشیں ایسی ہی نہیں تھی اس کا انعام قیامت تک آنے والی تمام نسلوں کو بتادیا کہ ﴿وَاتَّخَذَ اللّٰہُ إِبرَاہِیمَ خَلِیلاً﴾-النساء:۱۲۵-
’’کہ ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اپنا دوست اختیار کیا۔‘‘
سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلاۃ والسلام کی تمام زندگی ابتلاء ، آزمائش اور امتحان پر ہی مبنی رہی ان کی زندگی کو شاعر اپنے اندازمیں یوں کہتے ہیں ۔
چوں می گو تم مسلمانم بلرزم
کہ دانم مشکلات لا الہ دا
عید الاضحی اور قربانی
ایک بات ذہن نشین کر لیجئے کہ ہر چیز کا ایک ظاہر ہوتا اور ایک باطن ’’نماز‘‘ کا ایک ظاہر ہے یعنی قیام ، رکوع، سجودوغیرہ ۔یہ ایک خول ہے اس کا ایک باطن ہے یعنی توجہ اور رجوع الی اللہ ’’خشوع وخضوع‘‘
اسی طرح جانور ذبح کرنا ، اور قربانی دینا یہ ایک ظاہری عمل ہے لیکن اس کا باطن ’’تقوی‘‘ ہے ۔
﴿لَنْ یَنَالَ اللَّہَ لُحُومُہَا وَلَا دِمَاؤُہَا وَلَکِنْ یَنَالُہُ التَّقْوَی مِنْکُمْ ﴾-الحج :۳۷-
’’اللہ تک تمہاری قربانی کا گوشت اور ان کا خون نہیں پہنچتا ہاں اس تک رسائی ہے تمہارے تقوی کی۔‘‘
اگر تقوی اور روحِ تقوی موجود نہیں اگر یہ عزم وارادہ موجود نہیں کہ ہم اللہ کیلئے جانی ومالی قربانی دینے کیلئے تیار ہیں ۔ تو اللہ کے ہاں اس کا کوئی بدلہ یا جزاء نہیں ۔
قارئین کرام!ہمارئے لیئے لمحہ فکریہ ہے کہ ہم سوچیں غور کریں کہ واقعتاً ہم اللہ کی راہ میں اپنے جذبات واحساسات کی قربانی دے رہے ہیں ؟ کیا واقعی ہم اپنی محبوب ترین ’’اشیائ‘‘ اللہ کی راہ میں قربان کر کے کیا ہم اپنے تمام رشتے اور اپنی محبتیں اللہ کے دین کیلئے قربان کرسکتے ہیں ؟
اگر ہم یہ تمام چیزیں کرسکتے ہیں تو عید الاضحی کے موقع پر ہماری یہ قربانی ’’نور علی نور‘‘ ہے ۔ اور اگر نہیں تو یہ قربانی صرف ایک رسم اور اپنا نام مسلمانوں میں شمار کرنے کیلئے ادا کی جا رہی ہے ۔
رگوں میں وہ لہو باقی ہے وہ دل وہ آرزو باقی نہیں ہے
نماز وہ روزہ وقربانی وحج یہ سب باقی ہے توباقی نہیں ہے
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں تقوی ، پرہیزگاری اور ہر مصائب وابتلاء میں ثابت قدم رکھے ۔ آمین
تقبل اللہ منا ومنکم صالح الأعمال ۔
وصلی اللہ علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ أجمعین ۔
مکمل مضمون کا مطالعہ کریں>>

معمولات النبی صلی اللہ علیہ وسلم

از محمد طیب معاذ
نمازِ عصر
رسول مکرم قیلولہ سے بیدار ہوکر نماز عصر کی تیاری میں مشغول ہوجاتے ۔ آپ نے نمازِ عصر سے پہلے چار رکعتیں نفل ادا کرنے والے شخص کو دعا دیتے ہوئے فرمایا :’’رَحِمَ اللّٰہُ اِمرَأً صَلَّی قَبلَ العَصرِ أَربَعاً ‘‘ -سنن الترمذی ، مسند احمد صححہ ابن خزیمۃ-
’’ اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جس نے نماز عصر سے پہلے چار رکعت پڑ ھیں ۔‘‘
’’عَنْ عَلِیٍّ رضی اللہ عنہ قَالَ:کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُصَلِّی قَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ یَفْصِلُ بَیْنَہُنَّ بِالتَّسْلِیمِ عَلَی الْمَلَائِکَۃِ الْمُقَرَّبِینَ وَمَنْ تَبِعَہُمْ مِنْ الْمُسْلِمِینَ وَالْمُؤْمِنِینَ۔‘‘ -الترمذی ابواب الصلاۃ ، باب ما جاء فی الاربع قبل العصر-
خلیفہ چہارم سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ نبی ا کرم عصر کے فرضوں سے پہلے چار رکعات پڑ ھا کرتے تھے ان کے درمیان ملائکہ مقربین اور انکی تابیداری کرنے والے مسلمانوں اور مومنوں پر سلام پھیرنے کیساتھ مفصل-جدائی- کرتے ۔‘‘
فائدہ :سلام کیساتھ فصل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ دو دو رکعت کر کے چار سنتیں ادا فرماتے ۔ ایک سلام کیساتھ چار سنتیں بھی پڑ ھی جا سکتی ہیں تاہم بعض علماء کے نزدیک پہلا طریقہ افضل ہے ۔ واللہ أعلم بالصواب -شرح ریاض الصالحین از حافظ صلاح الدین یوسف ج/۲، ص/۸۰ دار السلام-
معروف سیرت نگار الشیخ صفی الرحمن مبارک پوری رحمہ اللہ اتحاف الکرام شرح بلوغ المرام میں رقمطراز ہیں ۔ نمازِ عصر سے پہلے یہ چار رکعتیں سنن رواتب -مؤکدہ سنن- نہیں ہیں بلکہ نفل ہیں ۔ اس کی فضیلت رحم اللہ امرأ کی دعائیہ کلمات دلالت کرتے ہیں کہ جو یہ چار رکعتیں پڑ ھتا ہے اس پر اللہ کی رحمتیں سایہ فگن رہتی ہیں ۔
نمازِ عصر کی فضیلت
قرآن وحدیث میں اقامت صلاۃ کی بالعموم اور اقامت صلاۃ عصر کی بالخصوص تاکید وارد ہوئی ہے ۔ ذیل کی سطور میں ہم اختصار کیساتھ نماز عصر کی فضیلت رقمطراز کر رہے ہیں ۔
۱۔ خصوصی حکم
نماز عصر کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ رب تعالیٰ نے نمازِ عصر کی حفاظت کرنے کا خصوصی حکم دیا اور فرمایا :
﴿حَافِظُوا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاۃِ الْوُسْطَی وَقُومُوا لِلَّہِ قَانِتِینَ ﴾-البقرۃ:۲۳۸-
’’اور تم سب نمازوں اور خاص طور پر درمیان والی نماز-مراد نمازِ عصر- کی حفاظت کرو اور اللہ کے سامنے عاجزی کرنے والے بن کر کھڑ ے ہو۔‘‘
صلاۃ وسطیٰ سے مراد
جمہور علماء صحابہ اور دیگر اہل علم کے نزدیک صلاۃ وسطیٰ سے مراد نماز عصر ہے قاضی ماروردی فرماتے ہیں کہ جمہور تابعین کا بھی یہی قول ہے ۔
دلیل ۱:مسند احمد میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے احزاب کے دن فرمایا تھا :’’شَغَلُونَا عَنِ الصَّلاَۃِ الوُسطَی صَلاَۃِ العَصرِ ملَأَ اللّٰہُ قُلُوبَہُم وَبُیُوتَہُم ناَراً ‘‘ -صحیح ابن خزیمۃ حدیث ۱۳۳۶ جلد ۲/ص/۲۸۹-
انہوں نے ہمیں صلاۃ وسطی یعنی نماز عصر سے مشغول کر دیا اللہ تعالیٰ ان کے دلوں اور گھروں کو آگ سے بھر دے ۔
اسی طرح مسند احمد میں ہی سیدنا سمرہ صسے روایت ہے کہ رسول اللہ ا نے فرمایا : ’’صلاۃ الوسطی صلاۃ العصر‘‘ نمازِ وسطیٰ نماز عصر ہے ۔
اس موقف کی تائید میں کئی اصحاب مسانید وسنن وصحاح رحمہم اللہ نے روایتیں جمع کی ہیں ۔
۲۔ سیدنا بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا :بکروا بالصلاۃ فی یوم الغیم ۔‘‘ -مسند احمد صحیح موقوفاً- فإنہ من ترک صلاۃ العصر فقد حبط عملہ ۔ -صحیح ابن حبان ج/۴، ص/۳۳۲-
’’ابر آلود موسم میں عصر کی نماز جلد ادا کر لیا کرو کیونکہ جس شخص کی نمازِ عصر چھوٹ جائے اس کے اعمال رائیگاں ہوگئے ۔ ‘‘
فائدہ:عمداً کسی ایک نماز کا ترک بھی اگرچہ سخت گناہ بلکہ بقول بعض علماء کرام کفر ہے لیکن بالخصوص نماز عصر کا ترک کرنا تو بہت ہی اشد گناہ ہے ۔ -شرح ریاض الصالحین-
۳۔ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی مُوسَی عَنْ أَبِیہِ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ صَلَّی الْبَرْدَیْنِ دَخَلَ الْجَنَّۃَ ۔‘‘-متفق علیہ-
’’سیدنا ابو موسی صسے مروی ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا جو شخص دو ٹھنڈی نمازیں ادا کرتا ہے وہ جنت میں جائے گا یعنی فجر اور عصر ۔‘‘
فائدہ : دو ٹھنڈی نمازوں سے مراد نماز فجر وعصر ہے ان دونوں نمازوں کی ادائیگی بہ نسبت بقیہ نمازوں کے تھوڑ ی مشکل ہے کیونکہ فجر کے وقت نیند کا غلبہ ہوتا ہے جبکہ نماز عصر کے وقت کاروباری مصروفیات کا ہجوم ہوتا ہے اس لئے ان نمازوں میں باقاعدگی سے حاضری طبیعت انسانی پہ انتہائی گراں گزرتی ہے ۔ -ملخصاً از ذخیرۃ العقبی فی شرح المجتبیٰ ج:۶، ص:۱۴۴-
۴۔ عَن أَبِی زُبَیرٍعُمَارَۃَ بْنِ رُؤَیْبَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ لَنْ یَلِجَ النَّارَ أَحَدٌ صَلَّی قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِہَا یَعْنِی الْفَجْرَ وَالْعَصْرَ ۔‘‘-رواہ مسلم ، کتاب المساجد-
’’ ابو زبیر عمارہ بن رویبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص سورج نکلنے سے قبل اور اس کے غروب ہونے سے پہلے یعنی فجر اور عصر کی نماز پڑ ھتا ہے وہ ہر گز جہنم کی آگ میں داخل نہیں ہو گا۔‘‘
تنبیہ:صرف ان دو نمازوں کی پابندی کرنے والا جہنم سے محفوظ نہیں رہے گا بلکہ وہ مسلمان جہنم میں جانے سے بچے گا جو پانچوں نمازیں پابندی کیساتھ ادا کرے گا ۔ حدیث میں صرف دو نمازوں کا -فجر وعصر- ذکر ان کی خصوصی اہمیت کی وجہ سے ہے گویا ان دونمازوں کی حفاظت کرنے والا یقینا بقیہ نمازوں کی ادائیگی میں بھی کوتاہی نہیں کرتا اور اسی طرح دیگر فرائض وسنن کا بھی اہتمام کرتا ہے ۔
۶۔عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَأَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ یَتَعَاقَبُونَ فِیکُمْ مَلَائِکَۃٌ بِاللَّیْلِ وَمَلَائِکَۃٌ بِالنَّہَارِ وَیَجْتَمِعُونَ فِی صَلَاۃِ الْفَجْرِ وَصَلَاۃِ الْعَصْرِ ثُمَّ یَعْرُجُ الَّذِینَ بَاتُوا فِیکُمْ فَیَسْأَلُہُمْ وَہُوَ أَعْلَمُ بِہِمْ کَیْفَ تَرَکْتُمْ عِبَادِی فَیَقُولُونَ تَرَکْنَاہُمْ وَہُمْ یُصَلُّونَ وَأَتَیْنَاہُمْ وَہُمْ یُصَلُّونَ۔‘‘ -رواہ البخاری کتاب الموقیت ، باب فضل صلاۃ العصر :۵۵۵-
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بیشک رسول اللہ نے فرمایا : ’’ تمہارے پاس رات اور دن کو باری باری فرشتے آتے جاتے ہیں اور صبح اور عصر کی نماز میں وہ اکٹھے ہوجاتے ہیں ، پھر وہ فرشتے جو تمہارے پاس رات گزارتے ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتا ہے ، حالانکہ وہ خوب جانتا ہے تم نے میرے بندوں کو کسی حال میں چھوڑ ا؟ تو وہ کہتے ہیں : ہم انہیں نماز پڑ ھتے ہوئے چھوڑ کر آئے ہیں اور جب وہ ان کے پاس گئے تھے تب بھی وہ نماز میں مصروف تھے ۔‘‘
صحیح ابن خزیمہ میں یہ اضافہ بھی ہے : ’’فاغفر لہم یوم الدین ‘‘ -صحیح ابن خزیمۃ ، کتاب الصلاۃ ، باب ذکر اجتماع ملائکۃ اللیل و ملائکۃ النہار فی صلاۃ العصر ۔ ۔ ۔ الخ:۳۲۲-
فرشتے کہتے ہیں :’’ الٰہی انہیں قیامت کے دن معاف فرما دینا۔‘‘یعنی نماز عصر وفجر کی پابندی کرنے والوں کیلئے فرشتے رب تعالیٰ سے مغفرت کا سؤال کرتے ہیں ۔
۷۔عَنْ أَبِی بَصْرَۃَ الْغِفَارِیِّ قَالَ:صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ بِالْمُخَمَّصِ قَالَ إِنَّ ہَذِہِ الصَّلَاۃَ عُرِضَتْ عَلَی مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ فَضَیَّعُوہَا وَمَنْ حَافَظَ عَلَیْہَا کَانَ لَہُ أَجْرُہُ مَرَّتَیْنِ ۔‘‘ -النسائی ، تأخیر المغرب -
’’سیدنا ابو بصرہ الغفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے ہمیں مخمص نامی جگہ پر نماز عصر پڑ ھائی نماز کے بعد آپ نے ارشاد فرمایا یہ نماز -مراد عصر کی نماز- تم سے پہلے لوگوں پر فرض کی گئی تھی لیکن انہوں نے اس کی حفاظت نہ کی پس جو آدمی اس نماز-مراد نماز عصر- پر پابندی کرے گا اس کو دوہرے اجر سے نوازا جائے گا۔
شارح سنن النسائی فرماتے ہیں کہ دو اجر سے مراد
۱۔ سابقہ امم کے برعکس اس کی حفاظت کا اجر
۲۔ اقامت نماز عصر بنفسہا کا اجر ہے ۔-ذخیرۃ العقبی فی شرح المجتسبی ج/۷، ص/۱۳- -جاری ہے -
مکمل مضمون کا مطالعہ کریں>>

حقوقِ نسواں اسلام کی روشنی میں

از محترمہ طاہرہ کوکب
خاندان ، برادری ، محلے ، شہر ، ملک اور بحیثیت مجموعی پوری نوع انسانی تک پھیلے ہوئے تعلقات کے یہ چھوٹے بڑ ے دائرے اس کے حقوق وفرائض کا تعین کرتے ہیں ۔ ماں ، باپ ، بیٹے ، بیٹی ، شاگرد، استاد ، مالک ، ملازم ، تاجر ، خریدار ، شہری اور حکمران کی بے شمار مختلف حیثیتوں میں اس پر کچھ فرائض عائد ہوتے ہیں اور ان فرائض کے مقابلہ میں وہ کچھ متعین حقوق کا مستحق قرار پاتا ہے ۔ان حقوق میں بعض کی حیثیت محض اخلاقی ہوتی ہے ، مثلاً بڑ وں کا حق ادب، چھوٹوں کا حق شفقت، ضرورت مند کا حق امداد، مہمان کا حق تواضع وغیرہ۔ اور بعض کو قانونی تحفظ حاصل ہوتا ہے مثلاً حق ملکیت ، حق اجرت، حق مہر اور حق معاوضہ وغیرہ۔ یہ ایسے حقوق ہیں جن کا تعلق کسی مفاد سے ہوتا ہے اور ملک کا قانون اس مفاد کو تسلیم کر کے اسے عدلیہ کے ذریعہ قابل حصول بنا دیتا ہے ۔ قانونی حقوق -Legal Rights-یامثبت حقوق -Positive Rights- کہلاتے ہیں ۔
فرد کے حقوق کا ایک اور دائرہ ریاست سے تعلقات کا ہے اس دائرہ میں ایک وسیع الاختیار اور کثیر الوسائل ریاست کے مقابلہ میں فرد کو جو حقوق دئیے جاتے ہیں انہیں ہم بنیادی حقوق -Fundamental Rights- کہتے ہیں ۔ ان حقوق کیلئے بنیادی انسانی حقوق -Basic Human Rights- اور انسان کے پیدائشی حقوق -Birth Rights of Man- کی اصطلاح بھی استعمال کی جاتی ہے ۔ اسلام نے انسان کو بالخصوص خواتین کوجو حقوق عطا فرمائے ہیں وہ دنیا کے کسی بھی قدیم یا جدید مذہب وتہذیب نے نہیں دئیے ہیں ۔ لیکن یہ انتہائی افسوس ناک صورت حال ہے کہ خواتین کے حقوق کے حوالہ سے اسلام ہی کو سب سے زیادہ بدنام کیا گیا ہے اور یہ پروپیگنڈا اتنی شدت وتکرار کے ساتھ کیا گیا ہے کہ غیروں کے ساتھ اپنے بھی متاثر ہو چکے ہیں ۔ بالخصوص ہمارے ملک کی کچھ اباحیت پسند خواتین بھی مغربی انداز میں سوچنے اور اسلام کو ترقی کی راہ میں دیوار سمجھنے لگی ہیں ۔ اگر یہ خواتین کے حقوق کا مطالعہ برصغیر میں رائج ہندوانہ کلچر کے بجائے اسلامی تعلیمات اور سیرت طیبہ کی روشنی میں کرتیں تو نہ تو احساس کمتری کا شکار ہوتیں اور نہ انحرافی راستوں پر گامزن ہوتیں ۔ اقبال نے کہا ہے ۔
اپنی ملت کو قیاس اقوام مغرب پر نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسولِ ہاشمی
خود مغرب نے خواتین کو کیا حقوق دئیے ہیں اس کی ایک جھلک ریسرچ آرٹیکل کے اس پیراگراف میں ملاحظہ فرمائے ۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک رپورٹ کے مطابق ایشیاء ، لاطینی امریکا اور مشرقی یورپ سے ہر سال جنسی مقاصد کے استعمال اور ارزاں لیبر کی فراہمی کی غرض سے پچاس ہزار کے لگ بھگ خواتین ، لڑ کیاں اور بچے امریکہ اسمگل کئے جاتے ہیں ۔ اسمگل شدہ انسانوں کی باقاعدہ منڈی لگتی ہے اور ان کی خرید وفروخت ہوتی ہے یہ تجارت اربوں ڈالر سالانہ کی ہے ۔-روز نامہ جنگ کراچی یکم اکتوبر ۲۰۰۰؁ئ-اب خود امریکی بھی اس حقیقت کا اعتراف کرنے لگے ہیں کہ جسم فروشی غیر رسمی معیشت کا ایک سیکٹربن چکی ہے ۔
جسٹس مفتی محمد تقی عثمانی صاحب نے بہت عمدہ بات لکھی ہے فرماتے ہیں :’’ آج جا کر دیکھیں مغربی ممالک میں دنیا کی سب سے نیچ اور ذلیل قوم عورت کی ذات ہے ، بازاروں اور ہوٹلوں میں جتنے کام ہیں عورت کرے گی جتنے گھٹیا سے گھٹیا کام ہیں وہ سب عورت کرتی ہے ۔ میں کہا کرتا ہوں کہ یہ عجیب تماشا ہے کہ ایک عورت اپنے گھر میں بیٹھ کر اپنے خاوند کا اور اپنے بچوں کا انتظام کرتی ہے ، ان کیلئے کھانا پکاتی رہائش کا بہتر بندوبست کرتی ہے تو وہ دقیانوسی ایئر ہوسٹس بن کر چارسومردوں کو کھانا سپلائی کرے اور ان کے سامنے ٹرے سجا کر لے جائے اور ان کی ہوسناک نگا ہوں کا نشانہ بنے تو یہ عزت اور اعزاز ہے ۔ -اصلاحی مواعظ از تقی عثمانی-
جنوں کا نام خرد رکھ دیا خرد کا نام جنون
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
مغربی تہذیب سے مرعوبانہ ذہنیت کی حامل اپنی بہنوں سے عرض کروں گی خداراسلامی تعلیمات کا مطالعہ کیجئے ، دشمن کی آلہ کارنہ بنئے ، اقبال نے ایسے ہی آلہ کاروں کے بارے میں کہا ہے ۔
یا رب تری حریف ہے سیاست افرنگ
بنایا ایک ہی ابلیس آگ سے تو نے
حقوق کا مفہوم
بحث کو آگے بڑ ھانے سے پہلے ضروری ہے حقوق کا تعیین کیا جائے کہ حق کا مفہوم یہ ہے ۔ حق کی جمع حقوق ہے اس کے معنی ہیں وہ بات جو ثابت ہو اور اس سے انکار ممکن نہ ہو حق کیلئے انگلش میں Truth, Justice , Right کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں حق حقیقت اور صدق کے معنی میں بھی کچھ فرق کے ساتھ مستعمل ہے ۔ اردو میں مطابقت اور موافقت کے معنی میں مستعمل ہے عبرانی میں لکڑ ی یا پتھر میں نقش کرنے کو کہتے ہیں ۔ قرآن میں حق کا لفظ دوسوستائیس مرتبہ آیا ہے اور تین معانی میں مستعمل ہوا ہے ثابت کرے ، حصہ اور سچ کے معنی میں اسی طرح حق کا لفظ اللہ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے ۔ مزید ملاحظہ کریں ۔ گائس ایزیجیوفاربنیادی حقوق کی تعریف ان الفاظ میں کرتا ہے ۔انسانی یا بنیادی حقوق جدید نام ہے ان حقوق کا جنہیں روایتی طور پر فطری حقوق کہا جاتا ہے اور ان کی تعریف یوں ہو سکتی ہے کہ وہ اخلاقی حقوق جو ہر انسان کو ہر جگہ اور ہمہ وقت اس بنیاد پر حاصل رہتے ہیں کہ وہ دوسری تمام مخلوقات کے مقابلہ میں اس اعتبار سے ممتاز ہے کہ وہ ذی شعور ذی اخلاق ہے ۔ انصاف کو بری طرح پامال کئے بغیر کسی بھی شخص کو ان حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ نے حق کی تعریف کرتے ہوئے کہا : ’’الحق ما یستحقہ الرجل ‘‘
-رد المختار علی در المختارج/۴، ص/۱۸۸-
’’حق وہ ہے انسان جس کا مستحق ہو۔
شیخ شبلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’ فالحق فی الشریعۃ لا یکون حقاً الا اذا أقرہ الشرع وحکم بوجودہ واعترف لہ بالحمایۃ ولہذا فان مصادر الحقوق فی الشریعۃ ہو الشریعۃ نفسہا ولا یوجد حق شرعی الا ولہ۔‘‘
-المدخل ص/۱۶۵-
شریعت کی نگاہ میں حق وہی امر کہلائے گا جس کا شریعت اقرار واعتراف کرتی ہو اس لئے شرعی مأخذ کے ذریعہ ہی کسی شرعی حق کو پہچانا جا سکتا ہے ۔اصول قانون کے مطابق جب ہم حق کا لفظ اصطلاحی زبان میں استعمال کرتے ہیں تو اس کا متبادل فرض ہوتا ہے لیکن کسی فرد، سوسائٹی یا طبقہ کے مفاد کو تسلیم کرتے وقت ہم عموماً آزادی اختیار اور مراعات کے الفاظ استعمال کرتے ہیں ، ایسے موقع پر ہم فقط کسی کے فرض کی طرف توجہ نہیں دلاتے بلکہ قانون نے جوحق دے رکھا ہے ہم اس کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں ۔
حقوق کی اقسام
حقوق کی بنیادی طور سے کتنی قسمیں ہیں اس میں مختلف آراء ہیں پہلی رائے یہ ہے کہ تمام حقوق فی الحقیقت حقوق اللہ ہی ہیں ۔ دوسری رائے یہ ہے کہ حقوق کی بنیادی طور سے دو قسمیں ہیں ، حقوق اللہ اور حقوق العباد۔
حضرت مولانا اشرف علی تھانوی لکھتے ہیں : حقوق اللہ کی بھی دو قسمیں ہیں منہیات اور مأمورات اور پہلی رائے کی تائید کرتے ہوئے لکھتے ہیں حقوق العباد درحقیقت حقوق اللہ ہی ہیں ۔ پھر حقوق العباد کی تین قسمیں بیان کی ہیں :
۱۔ بدنیہ ۲۔ مالیہ ۳۔ عرضیہ۔
فقہ اسلامی کی رو سے حقوق کی چار اقسام ہیں ۔
۱۔ حقوق اللہ
۲۔ حقوق العباد
۳۔ الجمع بین الحقین مع غلبۃ الاول
۴۔ الجمع بین الحقین مع غلبۃ الثانی
یہی چار قسمیں دکتور عبدالناصر موسی نے بیان کی ہیں ۔ جدیدفقہی مباحث کے مقالہ نگارنے ۴۹ قسمیں بیان کی ہیں ۔ لیکن زیادہ صحیح یہ ہے کہ حقوق کی بنیادی طور سے تین قسمیں ہیں جیسا کہ ڈاکٹر وھبۃ زحیلی نے لکھا ہے ، حقوق اللہ ، حقوق العباداور حقوق مشترکہ۔
اسلام میں خواتین کا مقام اور ان کے حقوق
انسان کے بنیادی حقوق کا مسئلہ درحقیقت اس کائنات میں انسان کی حیثیت ، اس کے مقصد وجود ، معاشرے اور ریاست کے ساتھ اس کے تعلقات کی نوعیت اور خود اس کائنات کی تخلیق اور اس کے آغازوانجام کی حقیقت کو ٹھیک ٹھیک سمجھ لینے کا مسئلہ ہے ۔ انسان کے حقوق کیا ہیں ؟ اس سوال کا جواب ممکن ہی نہیں ہے ۔ جب تک یہ طے نہ کر لیا جائے کہ آخر اس دنیا میں انسان کا منصب ومقام کیا ہے ؟ گویا حق کا سوال حیثیت کے سوال سے مربوط ہے ۔ انسان کی حیثیت کو جانے بغیر یا اس کے بارے میں کوئی رائے قائم کئے بغیر ہم اس کے حقوق کا تعین نہیں کرسکتے ۔ انسانی زندگی سے متعلق ان بنیادی سوالات کا حل کرنے کیلئے ہمیں صرف الہامی مذاہب ہی سے رہنمائی حاصل ہو سکتی تھی ، کیونکہ ہمارے پاس کوئی دوسرا قابل اعتماد ذریعہ علم موجود نہیں تھا ، لیکن انسان نے جب وحی کے ذریعہ علم کو نظر انداز کر کے محض عقل کے بل پر ان سوالات کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی تو یہیں سے ظن وگمان کی بھول بھلیوں اور جہل کی وادیوں میں ٹھوکروں پر ٹھوکریں کھانے کا آغاز ہوا ، یہ حقائق حواس پر مبنی تجربہ اور مشاہدہ کی گرفت سے ماوراء تھے ، بدون تاریخ جو اس کائنات میں انسانی زندگی کے آغاز سے لاکھوں سال بعد وجود میں آئی۔ ان حقائق تک رسائی کیلئے اپنے ریکارڈ میں کوئی مواد پیش کرنے سے قاصر تھی۔
تاریخی اعتبار سے دیکھاجائے تو اسلام میں بنیادی حقوق کا تصور اتنا ہی قدیم ہے جتنا انسان کا وجود۔ خالق کائنات نے جس طرح طبعی زندگی کے اسباب ہوا، پانی ’’خوراک ‘‘پیدائش سے پہلے عطا کر دئیے تھے ۔ اسی طرح ضابطہِ حیات سے بھی آدم علیہ السلام اور نسل آدم کو بذریعہ وحی آگاہ کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا تھا جو آدم علیہ الصلاۃ والسلام سے شروع ہوکر رسول معظم محمد پر ختم ہوا۔
قرآن کی روشنی میں
قرآن میں واضح حکم دیا گیا ہے :﴿فَآَتِ ذَا الْقُرْبَی حَقَّہُ وَالْمِسْکِینَ وَابْنَ السَّبِیلِ ذَلِکَ خَیْرٌ لِلَّذِینَ یُرِیدُونَ وَجْہَ اللَّہِ وَأُولَئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾-الروم :۳۸-
’’ اے مسلمانو! رشتہ داروں کے حقوق ادا کرو ، مسکین اور مسافرکے حقوق ادا کرو یہ ان لوگوں کیلئے بہتر ہے جو اللہ کی رضا کے طالب ہیں اور ایسے ہی لوگ دنیا وآخرت میں کامیاب ہیں ۔ یعنی جو حقوق ادا نہیں کرتے وہ دونوں جگہ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوں گے ۔‘‘
سورئہ بقرہ میں بھی واضح کر دیا گیا ہے کہ قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑ ھ لینے سے انسان اپنے فرائض سے سبکدوش نہیں ہوجاتا ہے بلکہ رشتہ داروں ، یتیموں ، مسکینوں اور جن جن کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے ان کی ادائیگی کے بعد ہی اس کا شمار سچے اور متقی مسلمانوں میں ہو گا۔ سورئہ النحل میں فرمایا : ﴿إِنَّ اللَّہَ یَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِیتَاءِ ذِی الْقُرْبَی وَیَنْہَی عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْکَرِ وَالْبَغْیِ یَعِظُکُمْ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُونَ﴾-آیت نمبر :۹۰-
’’ اللہ حکم دیتا ہے عدل واحسان اور رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنے کا ۔ سورئہ بنی اسرائیل میں بھی حقوق کی ادائیگی کا حکم دیا گیا ہے ۔
سیرت طیبہ ا کی روشنی میں
حقوق کی ادائیگی اور اس کی تاکید سیرت طیبہ کا مطالعہ کرنے والے پرواضح ہے صحیح بخاری کی حدیث ہے ۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا جس کسی پر کسی مسلمان بھائی کے مال یا آبرو کی حق تلفی کا ذمہ ہوا سے چاہئے معاف کرالے اس وقت کے آنے سے پہلے جب اس کے پاس درہم ودینار میں سے کچھ نہیں ہو گا کہ بطور تاوان ادا کرسکے بلکہ اس وقت اگر کچھ عمل صالح ہو گا تو بقدر حق کے صاحب حق کو دلوادیا جائے گا ، اگر نیکیاں نہ ہوئیں تو حقوق کی ادائیگی میں صاحب حق کے گناہ اس کے کھاتے میں ڈال دیے جائیں گے ۔
صحیح مسلم کی روایت ہے جس کا مفہوم ہے ۔ آپ ا نے فرمایا مفلس وہ شخص ہے جس کی نماز، روزہ قیامت کے دن ان لوگوں کو دے دی جائے گی جن کے ساتھ اس نے زیادتی وحق تلفی کا معاملہ کیا ہو گاپھر اس شخص کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
صحیح مسلم کی روایت ہے فرمایا :’’ لتؤدن الحقو ق الی أہلہا یوم القیامۃ۔‘‘
قیامت کے دن اہل حقوق کے حقوق دلوائے جائیں گے ۔‘‘
حقوق کی ادائیگی کی اہمیت کا اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آپ کے سامنے ایک عورت کا ذکر آیا کہ وہ قرآن پڑ ھتی ہے نماز روزے کی پابند ہے لیکن پڑ وسی کو تکلیف پہنچاکر اس کے حقوق ضائع کرتی ہے ۔ آپ نے فرمایا :’’ ہی فی النار‘‘ وہ دوزخی ہے ۔‘‘دوسری عورت جو اپنے پڑ وسی کے حقوق ادا کرتی تھی اس کے بار ے میں فرمایا وہ جنتی ہے ۔-جاری ہے -
٭۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ٭٭۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ٭
مکمل مضمون کا مطالعہ کریں>>

وجوب الاخلاص للہ فی الذبح

المرسل : ابو عبداللہ
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ :إن من أیام العظیمۃ یوم النحر، الیومُ العاشر من ذی الحجۃ یومُ عید الأضحی المبارک ، وقد سمی ہذا الیوم بیوم النحر لأن المسلمین یتقرّبون فیہ إلی اللہ بنحر بہیمۃ الأنعام، فالحجاج فی ہذا الیوم ینحرون ہدایاہم، والمسلمون فی شتی بقاع الأرض ینحرون ضحایاہم ، أولئک یتقربون إلی اللہ بنحر الہدایا وہؤلاء یتقربون إلی اللہ بنحر الضحایا ، قال اللہ تعالیٰ : ﴿وَلِکُلِّ أُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنْسَکًا لِیَذْکُرُوا اسْمَ اللَّہِ عَلَی مَا رَزَقَہُمْ مِنْ بَہِیمَۃِ الْأَنْعَامِ فَإِلَہُکُمْ إِلَہٌ وَاحِدٌ فَلَہُ أَسْلِمُوا وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِینَ ٭ الَّذِینَ إِذَا ذُکِرَ اللَّہُ وَجِلَتْ قُلُوبُہُمْ وَالصَّابِرِینَ عَلَی مَا أَصَابَہُمْ وَالْمُقِیمِی الصَّلَاۃِ وَمِمَّا رَزَقْنَاہُمْ یُنْفِقُونَ ٭وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاہَا لَکُمْ مِنْ شَعَائِرِ اللَّہِ لَکُمْ فِیہَا خَیْرٌ فَاذْکُرُوا اسْمَ اللَّہِ عَلَیْہَا صَوَافَّ فَإِذَا وَجَبَتْ جُنُوبُہَا فَکُلُوا مِنْہَا وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ کَذَلِکَ سَخَّرْنَاہَا لَکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ ٭لَنْ یَنَالَ اللَّہَ لُحُومُہَا وَلَا دِمَاؤُہَا وَلَکِنْ یَنَالُہُ التَّقْوَی مِنْکُمْ کَذَلِکَ سَخَّرَہَا لَکُمْ لِتُکَبِّرُوا اللَّہَ عَلَی مَا ہَدَاکُمْ وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِینَ ﴾
-الحج :۳۴۔۳۷-
أی: لیس المقصود ذبحَہا فقط بل إنما شرع لکم نَحرَ ہذہ الہدایا والضحایا لتذکروہ عند ذبحہا ، فإنہ الخالق الرازق لا أنہ ینالہ شیئ من لحومہا ولا دمائہا فإنہ تعالی ہو الغنی عمّا سواہ ﴿وَلٰکِن یَنَالُہُ التَّقویٰ مِنکُم﴾ أی : الإخلاص فیہا والاحتساب والنیۃ الصالحۃ وابتغاء وجہ اللہ بالعمل ، وفی ہذا أعظم حثَّ وترغیب علی الإخلاص فی النحر وأن یکون القصد فیہ وجہ اللہ وحدہ ، إذ إنّ اللہ تعالیٰ لا یقبل من الأعمال إلا الإخلاص الذی لا یُبتغی فیہ إلا وجہہ سبحانہ ، کما قال تعالیٰ : ﴿قُلْ إِنَّ صَلَاتِی وَنُسُکِی وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِی لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ ٭ لَا شَرِیکَ لَہُ وَبِذَلِکَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِینَ ﴾ -الأنعام :۱۶۲، ۱۶۳-
قال ابن کثیر رحمہ اللہ فی تفسیر ہذہ الآیۃ : ’’ یأمرہ تعالی أن یخبر المشرکین الذین یعبدون غیر اللہ ویذبحون لغیر اسمہ أنہ مخالف لہم فی ذلک ، فإن صلاتہ للہ ونُسکہ علی اسمہ وحدہ لا شریک لہ ، وہذا کقولہ تعالیٰ : ﴿فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانحَر﴾ أی : أخلص لہ صلاتک وذبیحتک ، فإن المشرکین کانوا یعبدون الأصنام ویذبحون لہا ، فأمرہ اللہ تعالیٰ بمخالفتہم والإنحراف عمّا ہم فیہ والإقبال بالقصد والنیۃ والعزم علی الإخلاص للہ تعالیٰ ، قال مجاہد فی قولہ ﴿إِنَّ صَلَاتِی وَنُسُکِی﴾ قال : ’’النسک:الذبح فی الحج والعمرۃ‘‘
وقال الثوری عن السدّی عن سعید بن جبیر ﴿ وَنُسُکِی ﴾ قال : ’’ ذبحی‘‘ وکذا قال السیدی والضحَّاک ‘‘-تفسیر ابن کثیر ۳/۳۷۷-
والذبح عبادۃ عظیمۃ من أنواع العبادات التی یتقرب بہا المسلمون إلی ربِّہم عزوجل نسکاً للہ تعالی من ہدی أو أُضحیۃٍ أو عقیقۃ أو نذر أو غیر ذلک ، فلا یجوز صرفُ ہذہ العبادۃ لغیر اللہ کما لا یجوز صرفُ أی عبادۃٍ لغیرہ سبحانہ ، وقد ثبت فی الصحیح من حدیث أمیر المؤمنین علی بن أبی طالب رضی اللہ عنہ قال : حدّثنی رسول اللہ بأربع کلمات : ’’ لعن اللہ مَن ذبح لغیر اللہ ، ولعن اللہ مَن لعن والدیہ ، ولعن اللہ من آوی مُحدِثاً ، ولعن اللہ من غَیَّرَ مَنَارَ الأَرضِ ‘‘
-صحیح مسلم ، رقم الحدیث : ۱۹۷۸ -
واللعنُ ہو الطردُ والإبعاد من رحمۃ اللہ ، وأخطرُ ہذہ الأمور الأربعۃ التی یستحق فاعلہا ہذہ العقوبۃ ہو الذبح لغیر اللہ ، ولہذا بدأ بہ رسول اللہ مما یدل علی الخطورۃ البالغۃ لہذا الأمر ، إذ إنَّ الذبح لغیر اللہ شرکٌ ، والأمورُ المذکورۃ معہ فی الحدیث إنما ہی من کبائر الإثم ولا تصل إلں رتبۃ الشرک ، وکل ذبح لغیر اللہ شرکٌ ولو کان المذبوحُ المتقرب بہ تافہاً حقیراً کالذباب ونحوہ فکیف بمن یقرِّب نفائس الأنعام وأطایبہا .
روی الإمام أحمد فی ’’ الزہد‘‘ ، وأبو نعیم فی ’’ الحلیۃ‘‘ وغیرہما عن سلمان الفارسی رضی اللہ عنہ موقوفاً علیہ بإسناد صحیح أنہ قال : ’’ دخل رجل الجنۃ فی ذباب ودخل آخر النار فی ذباب ، قالوا : وکیف ذاک؟ قال : مر رجلان ممن کان قبلکم علی ناس معہم صنمٌ لا یمر بہم أحد إلا قرّب لصنمہم ، فقالوا لأحدہما : قرِّب شیئاً قال: ما عندی شیئ قالوا: قرب ولو ذباباً فقرب ذبابا ومضی فدخل النار، وقالوا للآخر : قرب ، قال : ما کنتُ لأُقرِّب لأحدٍ شیئاً دون اللہ عزوجل فضربوا عنقہ فدخل الجنۃ ‘‘ - الزہد: ص:۳۲، ۳۳- و ’’ الحلیۃ‘‘ ۱/۲۰۳-
وہذا مما یبین عظم الشرک وشدۃ خطرہ ولو فی الشیئ القلیل وأنہ یوجب النار ، فہذا الرجل الأول لما قرب لہذا الصنم أرذل الحیوان وأخسہ وہو الذباب کان جزاؤہ النار، لإشراکہ فی عبادۃ الہ ، فإذا کان ہذا فیمن قرب ذباباً ، فکیف بمن یستسمن الإبل وغیرہا لیتقرب بنحرہا لمن کان یعبدہ من دون اللہ من قبر أو مشہد أو حجر أو شجر أو غیر ذلک .
قال الإمام الشوکانی رحمہ اللہ فی کتابہ ’’شرح الصدور‘‘ : ومن المفاسد البالغۃ إلی حد یرمی بصاحبہ إلی وراء حائط الإسلام ، ویلقیہ علی أمِّ رأسہ من أعلی مکان الدین أن کثیراً منہم یأتی بأحسن ما یملکہ من الأنعام وأجود ما یحوزہ من المواشی فینحرہ عند ذلک القبر متقرباً بہ إلیہ راجیاً ما یضمر حصولہ منہ ، فیہلّ بہ لغیر اللہ ، ویتعبد بہ لوثنٍ من الأوثان ، إذ إنہ لا فرق بین النحائر لأحجار منصوبۃ یسمونہا وثناً ، ولا یؤثر تحلیلاً ولا تحریماً ، فإن من أطلق علی الخمر غیر اسمہا وشربہا کان حکمہ حکم من شربہا وہو یسمیہا باسمہا ، بلا خلاف بین المسلمین أجمعین .
ولا شکّ أن النحر نوعٌ من أنواع العبادۃ التی تعبّد اللہ العباد بہا، کالہدایا والفدیۃ والضحایا ، فالمتقرب بہا إلی القبر والناحر لہا عندہ لم یکن لہ غرض بذلک إلا تعظیمہ وکرامتہ واستجلاب الخیر منہ واستدفاع الشرّ بہ ، وہذہ عبادۃ لا شک فیہا ، وکفاک من شرّ سماعہ ولا حول ولا قوۃ إلا باللہ العلی العظیم ، وإنا للہ وإنا إلیہ راجعون ، والنبی یقول : ’’لا عقر فی الإسلام ‘‘ ، قال عبد الرزاق [الصنعانی] : ’’ کانوا یعقرون عند القبر، یعنی : بقراً وشیاہاً ‘‘ رواہ أبو داؤد بإسناد صحیح عن أنس بن مالک رضی اللہ عنہ ‘‘ . کلام الإمام الشوکانی رحمہ اللہ.
-شرح الصدور ۔ للشوکانی ۔ ضمن ’’ الجامع الفرید ‘‘ ص/۵۲۹۔۵۳۰-
وقد أبلغ فیہ رحمہ اللہ بالنصیحۃ وأحسن فی التحذیر من ہذا الأمر الخطیر ، فنسأل اللہ الکریم أن یقینا جمیعاً من الوقوع فی شیئ من ذلک ، وأن یجعلَ أعمالنا کلہا خالصۃ لوجہہ الکریم ، مطابقۃ لسنۃ نبیہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم إنہ جواد کریم .
مکمل مضمون کا مطالعہ کریں>>

TEHREEK-E-KHATM-E-NUBUVAT PAKISTAN

By Dr. Abdul Hai Madni
WHAT IS AHMADIYYA MOVEMENT IN ISLAM? OR QADIANI
The "Ahmadiyya Movement in Islam" called by Muslims everywhere as "Qadianism" was established, in 1889, by Mirza Ghulam Qadiani (1835 - 1908) in a small Punjabi village of India. Mirza Ghulam Qadiani's family was in the service of the British colonial powers and, to his dying days, Mirza Ghulam openly declared his allegiance to the British imperialism. In fact, the culmination of his service to foreign power was his declaration that resistance to oppressors (Jihad) as ordained in the Holy Quran by God had become unIslamic!
Mirza Ghulam Qadiani's life was laden with contradictory and anti-Islamic claims. In 1880, he declared himself to be only a muslim writer; in 1885, he announced he was a revivalist (Mujaddid); in 1891, he claimed to be the Promised Mehdi and the Promised Messiah; and in 1901, he pronounced himself a prophet of God! Facing an open and strong opposition by Muslim Scholars and religious leaders for this blasphemous declaration and other teachings which belittled Jesus Christ and contradicted the Quranic revelations, he also announced that he was the second and improved coming of the Prophet Muhammad with authority to reinterpret the Holy Quran at his pleasure! Not happy with mere prophethood, in 1904, he declared himself the Krishna (the Hindu Lord). Obviously, like an unethical modern-day politician, he was trying to appeal to all uneducated segments of the public in India!
The Christians and Muslims also, each according to the understanding of Messiahship within their own religious tradition, are awaiting Jesus' miraculous reappearance from the Heaven. Therefore the terrain is fertile for the emergence of all kinds of false prophets and spiritual teachers.
Mirza Ghulam A.Qadiani (Mirza) is one of this century's self-proclaimed Messiahs. During his life he converted thousands of people to his religion known as Ahmadiyyat / Qadianiat. His followers are likewise known as Ahmadis, Qadianis, Mirzais and Lahoris. Mirza proclaimed himself as the Promised Messiah and prophet of God. He has confused people about the nature of Prophethood and he has confused people about Jesus. After Mirza declared himself to be the Promised Messiah, grave difficulties confronted him in validating a claim rendered spurious by his not fitting Jesus' foretold description. He therefore resorted to first denying the miraculous reappearance of Jesus by suggesting a hitherto unknown history, according to which Jesus fled to Kashmir after escaping the scene of his alleged crucifixion, where after hiding for many years he died and now lies buried in Kashmir. By fabricating this story Mirza tried to remove Jesus from the scene, but the problem still remained that the Promised Messiah was to be no other than Jesus, son of Mary. This wrinkle was ironed out by Mirza as follows:"God named me Mary in the third volume of Barahin-i-Ahmadiyyah. I was nurtured for a period of two years in a Mary-like conditioned was bought up in a womanly seclusion. Then the spirit of Jesus was breathed into me just as (it was breathed) into Mary. Thus I was considered to be pregnant in a metaphorical manner. After a period of several months, not more than ten, I was made Jesus out of Mary by the revelation embodied in the last parts of the forth volume of Barahin-I-Ahmadiyyah; and thus I became Jesus, son of Mary. But God did not inform me about this secret during the time of Barahin-i-Ahmadiyyah". ashti-I-Nuh: Ruhani Khaza'in, Vol. 19, p.50
Mirza's future claims of being the recipient of Devine revelations became an easy matter after this marvellous act of jugglery. He could now assert:
I swear by God in whose hands my soul is that it is He Who has sent me and has named me a Prophet; it is He Who has called me the Promised Messiah and has shown big signs to testify me; these signs reach three hundred thousand. Haqiqat al-Wahi: Ruhani Khaza'in, Vol. 22, p.503
Fortunately, the Almighty Allah time and time again, exposed Mirza Ghulam Qadiani's falsehood through his own statements and so-called prophecies. Even many of his own family members were aware of his treachery and openly opposed his anti-Islamic teachings. Mirza Ghulam Qadiani finally died by intervention of the Almighty Allah and as the result of religious prayer challenges (Mubahala), in 1908.
Since the death of Mirza Ghulam Qadiani, his heirs the leaders of the Qadiani organization have been extremely busy trying to clean up his image. Backed by seemingly unlimited support they receive from their anti-Muslim allies, they have been promoting falsehood and deception through the media. They have even resorted to removing some of most controversial writings of Qadiani leadership which had become a source of embarrassment to them from circulation. Their partial English translation of their original text has been heavily edited to exclude all controversial and anti-Islamic sayings of their cult leaders. Obviously, they themselves realize the true nature of their "Ahmadiyya Mission".
The goal of the "Ahmadiyya Mission" is, and has always been, to confuse uninformed Muslims, divide the Ummah, prevent resistance to oppressors (Jihad), and provide an alternative to non-Muslims who find the message of Islam appealing. Quite cunningly, they do so by using Islamic terminology and teachings, and hiding the controversial writings of their founders.
HOW DOES QADIANISM (AHMADIYYAT) DIFFER FROM ISLAM
According to the tenet of their faith, the Qadianis (Ahmadis) are required to study, accept, and follow the works, "revelations" (wahi), and writings of Mirza Ghulam Qadiani. In his books, Mirza Ghulam Qadiani makes the claim that he is in direct communication with God and ordains it upon his followers to believe in "Islam" according to his revelations. Here some of the differences between Qadianis (Ahmadis) and Muslims. It should be obvious that most of the beliefs instructed by Mirza Ghulam Qadiani contradict verses of the Holy Quran not to mention hundreds of authentic Hadith and Islamic doctrine. It is unfortunate that many of the people who have been tricked into accepting Qadianism (Ahmadiyyat) are unaware of this aspect of the Qadiani (Ahmadi) doctrine. Since the rituals of Qadianism resembles that of Islam and much of their terminology is stolen from Islam, many Qadianis are under the impression that they are following an Islamic school of thought. They continue to blindly send their donations to the Qadiani (Ahmadi) leadership thinking they are supporting Islam, when in reality they are helping a non Islamic cult. For the most part, the followers of Qadianism neither have a good grasp of Islam nor have access to the complete writings of Mirza Ghulam Qadiani which are mostly written in Urdu and are not aware of his various claims. ( To be continued InshaALLAH )
مکمل مضمون کا مطالعہ کریں>>
 

آپ کے اشتہارات

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترم قاری!
اب آپ اسوۂ حسنہ کی سائیٹ کے ذریعے اپنے کاروبار کو وسعت دے سکتے ہیں۔
تو ابھی رابطہ کیجئے
usvaehasanah@gmail.com

اسوۂ حسنہ کا ساتھ دیں

ماہ صفر

آپ کو اسوۂ حسنہ کی نئی سائیٹ کیسی لگی؟