Tuesday, September 1, 2009

زکوٰۃ کے احکام و مسائل

از الشیخ فضل الرحمٰن

رمضان المبارک وہ بابرکت ماہ ہے جس میں مسلمانوں کی کثیر تعداد اپنے رب کی رحمتوں ، برکتوں اور مغفرتوں کو سمیٹنے میں مصروف ہوجاتی ہے اور رب تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے اپنی کمر کس لیتے ہیں اور تمام احکامات کی بجا آوری کرنے کی ہرممکن کوشش کرتے ہیں انہی احکامات میں سے اللہ کا ایک حکم زکوۃ ادا کرنا ہے ۔ ادائیگی زکوۃ ایک دینی وملی فریضہ ہے جس کے معنی پاکی، صفائی اور نمو کے ہیں اور شریعت اسلامی میں زکوۃ اس مال کو کہتے ہیں جسے انسان اللہ کے دئیے ہوئے مال میں سے حقداروں کیلئے نکالتا ہے اسے زکوۃ اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس کی ادائیگی سے انسان کا مال پاک صاف ہوجاتا ہے اور اس شخص کے مال واجر میں اضافہ بھی ہوتا ہے زکوۃ بھی اسی طرح فرض ہے جس طرح نماز پڑ ھنا فرض ہے ۔

زکوۃ کی فرضیت وحکمت
زکوۃ ادا کرنا ہر اس مسلمان پر فرض ہے جو کسی مال کے نصاب کا مالک ہو ارشاد باری تعالیٰ ہے : ﴿خُذْ مِنْ أَمْوَالِہِمْ صَدَقَۃً تُطَہِّرُہُمْ وَتُزَکِّیہِمْ بِہَا ﴾(التو بۃ:۱۰۳)
یعنی اے محمد ﷺ آپ ان کے مالوں میں سے صدقہ وصول کر کے انہیں پاک کیجئے اور ان کا تزکیہ کیجئے ۔
اللہ تعالیٰ نے زکوۃ کی فرضیت کو مزید اجاگر کرتے ہوئے فرمایا ۔﴿الَّذِینَ إِنْ مَکَّنَّاہُمْ فِی الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاۃَ وَآَتَوُا الزَّکَاۃَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَہَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ وَلِلَّہِ عَاقِبَۃُ الْأُمُورِ ﴾(الحج:۴۱)
ترجمہ: یہ وہ لوگ ہیں جن کو اگر زمین میں اقتدار وحکومت نصیب کریں تو یہ نماز قائم کرتے ہیں اور زکوۃ دیتے ہیں نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں اور تمام کاموں کا انجام اللہ ہی کیلئے ہے ۔
ایک اور جگہ فرمایا اَقِیمُوا الصَّلاَۃَ وَأَتَوُا الزَّکَاۃَ (نماز پڑ ھواور زکوۃ ادا کرو)
قرآن مجید میں تقریباً بیاسی مقامات ایسے ہیں جہاں اللہ تعالیٰ نے زکوۃ ادا کرنے کا تاکیدی حکم فرمایا ہے اور اکثر مقامات پر اس کا ذکر نماز کے ساتھ کیا ہے جس کا اندازہ درج بالا آیات سے بھی ہوتا ہے ۔ زکوۃ اسلام کے پانچ ستونوں میں سے ایک اہم ستون ہے ۔ جیسا کہ نبی مکرم ﷺ کا ارشاد ہے اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے ، اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ، نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا ۔(بخاری ومسلم)
غرض یہ کہ زکوۃ کی فرضیت پر اور بھی کئی احادیث موجود ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ زکوۃ بھی بعینہ اسی طرح فرض ہے جس طرح نماز فرض ہے اور پھر اس کی مشروعیت میں بے انتہا حکمتیں پنہاں ہیں ۔
مثلاً : زکوۃ کی ادائیگی سے انسان بخیلی اور کنجوسی جیسے رذیل اوصاف سے مبراء ہوجاتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ فقراء ومساکین ، تنگ دستوں اور ناداروں کیلئے ہمدردی پیدا ہوتی ہے اور سب سے بڑ ھ کر یہ کہ زکوۃ ادا کرنے سے مال میں کمی واقع نہیں ہوتی جیسا کہ آپ ﷺ کا فرمان ہے مَانَقَصَ مَالُ عَبدٍ مِن صَدَقَۃٍ (سنن الترمذی، کتاب الزہد)
صدقہ سے کسی بندے کے مال میں کمی واقع نہیں ہوتی ۔
زکوۃ کی فضیلت
زکوۃ ادا کرنے کی بے انتہا فضیلتیں ہیں جس میں باقی مال کی پاکی، مال میں برکت وزیادتی وغیرہ شامل ہیں اس کے علاوہ زکوۃ ادا کرنے والے شخص کیلئے آپ ﷺ کی طرف سے جنت کی بشارت بھی ہے جیسا کہ صحیح بخاری میں مروی ہے کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک بدو نبی ا کرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا مجھے ایسا عمل بتائیے جس کے کرنے سے میں جنت میں داخل ہوجاؤں آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی عبادت کر اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کر، فرض نماز قائم کر، فرض زکوۃ ادا کر اور رمضان المبارک کے روزے رکھ ۔ اس شخص نے کہا : اللہ کی قسم میں اس سے زیادہ کچھ نہ کرونگا جب وہ آدمی چلا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : جسے جنتی آدمی دیکھنے کا شوق ہو وہ اسے دیکھ لے ۔ (البخاری ، کتاب الزکوۃ)
زکوۃ کا نصاب
دین اسلام میں زکوۃ کا ایک نصاب مقرر ہے ۔ سونا ہو یا چاندی (نقدی) مال تجارت ہو یا زرعی پیداوار مویشی اور دبے ہوئے (مدفون) خزانے ان تمام اموال میں زکوۃ کا نصاب مقرر کر دیا گیا ہے ۔ جیسے سونے کا نصاب ساڑ ھے سات تولہ مقرر کیا گیا ہے (یا اس کے برابر نقدی ہو) اسی طرح چاندی کا نصاب ساڑ ھے باون تولہ مقرر کیا گیا ہے (یا اس کے برابر نقدی ہو)اور ایسے ہی ان تمام اموال کے نصاب مقرر ہیں جن پر زکوۃ فرض ہے اور اگر مال نصاب سے کم ہو تو اس پر زکوۃ فرض نہیں ہوتی جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے
لَیسَ فِیمَا دُونَ خَمسِ أَوَاقٍ مِنَ الوَرِقِ صَدَقَۃٌ (البخاری ، کتاب الزکوۃ)
چاندی کے پانچ اوقیہ(یعنی دوسو درہم یا ساڑ ھے باون تولہ) سے کم میں زکوۃ نہیں ہے ۔
لہذا جس کسی کا مال اس کے نصاب تک پہنچ جائے اور اس پر ایک سال گزر جائے تو اس پر زکوۃ فرض ہوجاتی ہے ۔جوچالیسواں حصہ یعنی اڑ ھائی فیصد ہوئی ہو تو سو روپے میں اڑ ھائی روپے اور ہزار روپے میں 25روپے ۔
زیورات پر زکاۃ
سونے اور چاندی کے زیورات جو زیر استعمال ہیں یا استعمال کیلئے عاریتاً دینے کیلئے بنوائے گئے ہیں ان میں زکوٰۃ کے واجب ہونے کے بارے میں علماء کے درمیان اختلاف معروف ومشہور ہے لیکن راحج قول یہی ہے کہ ان زیورات میں بھی زکوٰۃ واجب ہے ، کیونکہ سونے اور چاندی میں زکوٰۃ واجب ہونے کے جو دلائل ہیں وہ عام ہیں ۔ نیز عبد اللہ بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک خاتون نبی ا کے پاس آئی اور ان کی بیٹی کے ہاتھ میں سونے کے دو موٹے کنگن تھے ۔ اسے دیکھ کر آپ ا نے فرمایا: کیا تم اس کی زکوٰۃ دیتی ہو؟ اس نے جواب دیا: نہیں آپ نے فرمایا: کیا تم کو یہ اچھا لگے گا کہ اللہ تعالیٰ اس کے بدلے تمہیں آگ کے دو کنگ۔ پہنائے ؟ چنانچہ اس نے وہیں دونوں کنگن اتاردیے اور کہا: یہ دونوں اللہ اور اس کے رسول کیلئے ہیں ۔ (ابوداؤد، کتاب الزکاۃ، باب الکنز ما ہو؟ (۱۵۶۳)
اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے حدیث ہے کہ وہ سونے کے زیورات پہنتی تھی تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا: کیا یہ کنز ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جو مال زکاۃکے نصاب کو پہنچ جائے اور پھر اس کی زکوٰۃ دے دی جائے تو کنز نہیں ۔ (ابوداؤد، کتاب الزکاۃ، باب الکنز ما ہو ؟ (۱۵۲۴))
آپ نے ان سے یہ نہیں فرمایا کہ زیورات میں زکوۃ نہیں ہے ۔
یہ ساری حدیثیں ان زیورات پر محمول کی جائیں گی جو نصاب زکوٰۃ کو پہنچ گئے ہوں تاکہ ان احادیث کے درمیان اور زکوٰۃ کے تعلق سے وارد دیگر مسائل کے درمیان تطبیق ہوجائے کیونکہ جس طرح قرآنی آیات ایک دوسری کی تفسیر کرتی ہیں اور احادیث نبوی ﷺ بھی آیات کی تفسیر کرتی ہیں ۔ نیز آیات کے عام کو خاص اور مطلق کو مقید کرتی ہیں ، اسی طرح احادیث بھی بعض بعض کی تصدیق وتفسیر کرتی ہیں ۔ زیورات میں زکوٰۃ واجب ہونے کیلئے جس طرح ان کا مقدار نصاب تک پہنچنا ضروری ہے اسی طرح دیگر امور زکوٰۃ مثلاً روپے پیسے ، سامان تجارت اور چوپایوں کی طرح زیورات پر ایک سال کی مدت کا گزرنا بھی ضروری ہے ۔ واللہ ولی التوفیق! (ماخوذ از احکام ومسائل الشیخ مبشر احمد ربانی)
مصارف زکوۃ
زکوۃ کے آٹھ مصارف ہیں یعنی جن لوگوں کو زکوۃ دینے کا حکم دیا گیا ہے وہ آٹھ قسم کے لوگ ہیں ۔ جو رب تعالیٰ نے اپنی مقدس کتاب میں ذکر کیے ہیں ۔
فرمان ایزدی ہے ﴿إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاکِینِ وَالْعَامِلِینَ عَلَیْہَا وَالْمُؤَلَّفَۃِ قُلُوبُہُمْ وَفِی الرِّقَابِ وَالْغَارِمِینَ وَفِی سَبِیلِ اللَّہِ وَاِبْنِ السَّبِیلِ فَرِیضَۃً مِنَ اللَّہِ وَاللَّہُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ ﴾(التوبۃ:۶۰)
صدقات فقراء ، مساکین، اس پر (زکوۃ) کام کرنے والے ، جن کے دلوں کی تالیف مطلوب ہو، غلام آزاد کروانے ، مقروض لوگوں کیلئے ، اللہ کے راستے میں ، اور مسافروں کیلئے ہیں یہ اللہ کی طرف سے فریضہ ہے اور وہ جاننے والا اور حکمت والا ہے ۔
مذکورہ بالا آیت کی رو سے زکوۃ کے مستحق درج ذیل عناصر ہیں ۔
۱۔ فقراء سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے پاس اتنا مال نہیں ہوتا کہ وہ اپنے اہل وعیال کی ضروریات پوری کرسکتے ہوں ۔
۲۔ مساکین کی تعریف نبی کریم ﷺ نے ایک حدیث میں یوں فرمائی ہے مسکین وہ نہیں جو ایک دولقموں ، یا ایک دو کھجوروں کی خاطر لوگوں کے پاس چکر لگاتا پھرے بلکہ مسکین وہ ہے جسکی ضروریات پوری نہیں ہورہی ہوں ۔ گمنامی میں رہتا ہوکہ اس کو خیرات نہیں دی جاری اور نہ ہی وہ کھڑ ا ہوکر لوگوں سے سوال کرتا ہے ۔
۳۔زکوۃ پر کام کرنے والے سے مراد زکوۃ وصول کرنے والے ہیں ۔ زکوۃ کے نگران ومنتظم بھی اس میں شامل ہیں اگرچہ وہ مالدار ہی کیوں نہ ہوں وہ زکوۃ لینے کے حقدار ہیں یعنی ان کو زکوۃ کی مد سے تنخواہ دی جا سکتی ہے ۔ جیسا کہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے : مالدار کیلئے زکوۃ لینا حلال نہیں ہے مگر پانچ لوگوں کیلئے حلال ہے ، زکوۃ میں کام کرنے والا، مقروض انسان، اللہ کے راستے میں لڑ نے والا، اور اگر کسی مسکین کو زکوۃ کا مال دیا گیا ہو اور وہ اس میں سے ہدیہ اپنے مالدار پڑ وسی کودے دے تو بھی کوئی حرج نہیں ۔(سنن أبی داؤد، کتاب الزکاۃ، حدیث نمبر :۱۳۹۳)
۴۔ دلوں کی تالیف کیلئے : اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو اسلام کی طرف مائل ہوں یا انہیں مائل کرنا ہو یا پھر وہ مسلمان تو ہو گئے ہوں مگر ان کی اسلامی حالت کمزور ہو ایسے لوگ بھی مصارف زکوۃ میں شامل ہیں تاکہ یہ لوگ مکمل اسلام میں داخل ہو جائیں اور اسلام پرجم کر پکے مسلمان ہوجائیں ۔
۵۔زکوۃ کا پانچواں مصرف غلام آزاد کروانا یا کسی قیدی کو قید خانے سے چھڑ وانا ہے یعنی اللہ کے راستے میں کسی غلام کو زکوۃ کے پیسے سے خرید کر یا کسی قیدی کو جیل سے رہائی دلوائی جا سکتی ہے ۔
۶۔ مقروض لوگ : اس سے مراد ایسا صاحب قرض ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی میں مقروض نہ ہوا ہو اور اس قرض کی ادائیگی بہت مشکل ہو تو ایسے شخص کو اس قدر زکوۃ دی جا سکتی ہے جس سے اس کے قرض کی ادائیگی ہوجائے ۔
۷۔اللہ کے راستے میں : اس سے مراد جہاد فی سبیل اللہ اور وہ کام ہیں جو اللہ کی رضا اور خوشنودی کے موجب ہوں جیسے مدارس، رفاہی وفلاحی ادارے ، خیراتی ہسپتال، یتیم خانے وغیرہ ہیں ۔
۸۔ابن السبیل سے مراد مسافر ہے جوکہ سفر کی حالت میں ہو اور تنگدست ہو گیا ہو اگر ایسا شخص اپنے علاقے میں مالدا ر ہی کیوں نہ ہو لیکن اگر سفر میں اس کا مال ختم ہوجائے اور وہ ضرورت مند ہوجائے تو ایسے شخص کو زکوۃ دی جا سکتی ہے ۔
یہ آٹھوں قسم کے لوگ زکوۃ کے مستحق ہیں جن کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے غرض یہ کہ زکوۃ مالداروں سے لیکر غریبوں کو دینی چاہیے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے : مسلمان مالداروں سے زکوۃ لی جائے اور مسلمانوں کے محتاجوں پر تقسیم کیا جائے ۔ (البخاری، کتاب الزکوۃ)
زکوۃ نہ دینے پر وعید
ارشاد باری تعالیٰ ہے ﴿وَالَّذِینَ یَکْنِزُونَ الذَّہَبَ وَالْفِضَّۃَ وَلَا یُنْفِقُونَہَا فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَبَشِّرْہُمْ بِعَذَابٍ أَلِیمٍ ٭یَوْمَ یُحْمَی عَلَیْہَا فِی نَارِ جَہَنَّمَ فَتُکْوَی بِہَا جِبَاہُہُمْ وَجُنُوبُہُمْ وَظُہُورُہُمْ ہَذَا مَا کَنَزْتُمْ لِأَنْفُسِکُمْ فَذُوقُوا مَا کُنْتُمْ تَکْنِزُونَ ﴾(التوبۃ۳۴۔۳۵)
اور جو لوگ سونا چاندی جمع کرتے ہیں اور اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری دے دیجئے جس دن اس کو جہنم کی آگ میں گرم کر کے ان کی پیشانیوں ، پہلوؤں اور پیٹھوں کو داغ دیا جائے گا اور ان سے یہ کہا جائے گا کہ یہ وہی خزانہ ہے جس کو تم لوگوں نے اپنے لیے جمع کیا تھا اب تم اس خزانے کے عذاب کو چکھو۔
نبی ا کرم ﷺ کا ارشاد ہے جو شخص سونے چاندی کی زکوۃ نہ دے گا قیامت کے روز جس کی مقدار پچاس ہزار برس کے برابر ہو گی اس کے مال کی تختیاں بنائی جائیں گی اور دوزخ کی آگ میں گرم کر کے اس کی پیشانی ، کروٹ اور پیٹھ پر داغی جائیں گی ۔ پچاس ہزار برس کے دن یہی عذاب ہوتا رہے گا یہاں تک کہ تمام بندوں کے درمیان فیصلہ ہوجائے گا فیصلہ کے بعد یہ شخص یا تو جنت میں جائے گا یا جہنم میں ۔ (مسلم، کتاب الزکوۃ)
اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر کوئی شخص اپنے جانوروں کی زکوۃ نہیں دے گا تو قیامت کے روز وہ جانو ر بہت موٹے تازے ہوکر اپنے مالکوں کو اپنے تیز سینگوں سے ماریں گے اور اسے روندتے اورکچلتے رہیں گے پچاس ہزار سال کے برابر اسے یہی عذاب ہوتا رہے گا۔(مسلم، کتاب الزکوۃ)
ایک اور حدیث میں نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ جس کو اللہ نے مال دیا اور اس نے اس کی زکوۃ ادا نہ کی تو قیامت کے دن اس کا مال ایسے گنجے سانپ کی شکل بن کے ، جس کی آنکھوں کے اوپر دوسیاہ دھبے ہوں گے ۔ اس کے گلے کا طوق بن جائے گا۔ پھر اس کی دونوں باچھیں پکڑ کر کہے گا اَنَا مَالُکَ ، أَنَا کَنزُکَ ( میں تیرا مال ہوں میں تیرا خزانہ ہوں ) پھر رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی ۔﴿وَلَا یَحْسَبَنَّ الَّذِینَ یَبْخَلُونَ بِمَا آَتَاہُمُ اللَّہُ مِنْ فَضْلِہِ ہُوَ خَیْرًا لَہُمْ بَلْ ہُوَ شَرٌّ لَہُمْ سَیُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ﴾ (آل عمران:۱۸۰)
جن لوگوں کو اللہ نے اپنے فضل سے مال دیا ہے اور وہ بخیلی کرتے ہیں تو وہ یہ بخل اپنے لیے بہتر نہ سمجھیں بلکہ ان کے حق میں برا ہے عنقریب قیامت کے دن یہ بخیلی ان کے گلے کا طوق بننے والی ہے ۔
درج بالا آیات واحادیث سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ مانع الزکوۃ کو اللہ کی طرف سے دردناک عذاب ہو گا جیسا کہ ایک حدیث میں مذکور ہے کہ معراج کی رات جب آپ ﷺ کا گزر ایسے لوگوں کے پاس سے ہوا جن کے آگے اور پیچھے سے دھچیاں لٹک رہی تھیں اور وہ اونٹ کی طرح کانٹے دار جہنمی درخت کو چبا رہے تھے اور جہنم کے پتھر اور انگارے کھا رہے تھے آپﷺنے جبرائیل امین علیہ السلام سے دریافت فرمایا یہ کون لوگ ہیں انہوں نے جواب دیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے مال کی زکوۃ نہ دیتے تھے ۔(ابن کثیر)
اسی طرح آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ مجھے (اللہ کی طرف سے ) یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ جاری رکھوں جب تک وہ یہ گواہی نہ دے دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں ۔ (بخاری ومسلم)
جس طرح سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے منکرین زکاۃ سے جنگ کی اور فرمایا: اللہ کی قسم میں ان لوگوں سے ضرور جنگ کرونگا جنہوں نے نماز اور زکاۃ کے درمیان تفریق کی اور اگر ان لوگوں نے مجھ سے اونٹ کی ایک رسی بھی جسے وہ نبی ﷺ کو دیا کرتے تھے روکی تو میں ان سے لڑ وں گا۔ (بخاری ومسلم)
لہذا زکوۃ نہ دینے سے اللہ کے بے شمار عذاب آتے ہیں جن میں قحط سالی، مال کی تباہی وبربادی اور زکوۃ ادا نہ کرنے والا شخص دوزخی ہے اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی لعنت کا مستحق بھی ہے ۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ تمام مسلمانوں کو جومال دار ہیں اپنے مالوں میں سے صحیح اور مکمل طور پر زکوۃ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
مکمل مضمون کا مطالعہ کریں>>

نزولِ قرآن،صحابۂ کرام اورہم

از الشیخ امجدسہیل، اسلام آباد

ارشاد باری تعالیٰ ہے : ﴿ یَا أَیُّہَا النَّاسُ قَدْ جَاءَتْکُمْ مَوْعِظَۃٌ مِنْ رَبِّکُمْ وَشِفَاء ٌ لِّمَا فِی الصُّدُورِ وَہُدًی وَّرَحْمَۃٌ لِلْمُؤْمِنِینَ ﴾( یونس :۵۷)
اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے نصیحت آ چکی یہ (دلوں کے امراض کیلئے ) شفا اور مؤمنین کیلئے ہدایت اور رحمت ہے ۔
قرآ ن عظیم کی اس آیت میں کلام اللہ کی چار صفات بیان ہوئی ہیں یہ کلام یعنی قرآن مجید موعظہ یعنی نصیحت ہے ایسی نصیحت جو انسانوں کو خبردار کرتی ہے کہیں عبرتناک واقعات کے ذریعے غافل دلوں کو بیدار کرتی ہے اور کہیں جنت کی بیش بہا نعمتوں کے ذکر سے ان کی توجہ دنیا سے ہٹا کر آخرت کی تیاری کی طرف مبذول کرتی ہے اور جب انسان قرآن کے نصائح کو قبول کرتا ہے تو قرآن تمام قلبی بیماریوں شرک، حسد، نفرت، بغض ، کینہ، بخل ، بزدلی کو دور کر کے دل اور روحوں کو شفا دیتا ہے اور جب دل صحت یاب ہوتے ہیں تب یہ قرآن انفرادی اور اجتماعی ہدایت کا سبب بنتا ہے اور جب ہدایت مل جاتی ہے تو دنیا اور آخرت میں اللہ کی رحمتوں کا نزول ہوتا ہے اور جب رحمتیں اترتیں ہیں تو ہر طرف سرخروئیاں اور فتوحات مقدر بن جایا کرتی ہیں ۔

جیسا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : إِنَّ اللّٰہَ یَرفَعُ بِہٰذَا الکِتَابِ أَقوَاماً وَیَضَعُ بِہِ آخَرِینَ۔ (صحیح مسلم، کتاب صلاۃ المسافرین ، حدیث نمبر :۱۳۵۳)
اللہ تعالی اس قرآن کے ذریعے بہت سے لوگوں کو سربلندی عطا کرے گا اور بہت سے لوگوں کو ذلیل کرے گا۔
مندرجہ بالا آیت کی مختصر وضاحت کو اپنے ذہن میں رکھتے ہوئے ہم ساتھ ساتھ ان حالات اور اُس ماحول کو تھوڑ ا اپنے ذہنوں میں تازہ کریں گے جب یہ عظیم الشان کتاب نازل ہوئی ۔ اس کے اولین مخاطب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین تھے ۔ قرآن عظیم پہ عمل کے سلسلے میں اُن کے طرز عمل کو دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس سلسلے میں عظیم ہستیوں نے اپنے ذاتی فیصلوں ، طبعی وفطری خواہشات، نفس کا دباؤ ، قلبی رجحانات ، اعزیٰ واقرباء کی محبت غرض ہر چیز کو پس پشت ڈال کر قرآن کی عملی تفسیر کا نمونہ بنے ۔ اس لیے تو اقبال نے ان نفوس قدسیہ کے بارے میں یہ تعریفی کلمات کہے -
صفحۂ ہستی سے باطل کو مٹایا کس نے ؟
نوعِ انسانی کو غلامی سے چھڑ ایا کس نے ؟
میرے کعبے کو جبینوں سے بسایا کس نے ؟
میرے قرآن کو سینوں سے لگایا کس نے ؟
تھے تو آبا وہ تمہارے ہی ، مگر تم کیا ہو؟
ہاتھ پہ ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہو!
٭اللہ تعالیٰ نے جب یہ آیت نازل فرمائی : ﴿وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَہُنَّ فَلَا تَعْضُلُوہُنَّ أَنْ یَنْکِحْنَ أَزْوَاجَہُنَّ إِذَا تَرَاضَوْا بَیْنَہُمْ بِالْمَعْرُوفِ﴾(البقرۃ:۲۳۲)
جب تم عورتوں کو طلاق دو پس وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو ان کو اپنے خاوندوں سے نکاح کرنے سے نہ روکو جب کہ وہ دونوں آپس میں رضا مند ہوں ۔
اس سے پہلے سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی بہن کو اُن کے خاوند نے طلاق رجعی دیدی تھی اور جب عدت گزر گئی تو رجوع کرنا چاہا لیکن معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے غصے میں آ کر قسم کھائی کہ اب تو ہرگز اپنی بہن کا نکاح ان سے نہیں کریں گے ۔لیکن اللہ رب العزت نے یہ آیت نازل فرمادی جیسے ہی قرآنی حکم کا علم ہوا تو فوراً ہی اپنی بہن کا نکاح اپنے بہنوئی سے کرادیا اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دیا۔
جب اللہ تعالیٰ نے پیغام بھیجا ﴿لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ﴾(آل عمران:۹۲)
تم اس وقت تک اصل نیکی نہ حاصل کرسکو گے جب تک وہ کچھ اللہ کی راہ میں خرچ نہ کروجو تمہیں محبوب ہو۔
تو فوراً سیدنا ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور فرمایا میرے مال میں سے بیئر روحا کا باغ جو مجھے سب سے زیادہ عزیز اور پسند ہے لیکن میں اُس کو اللہ کی راہ میں صدقہ کرتا ہوں اور اس سے ثواب اور(آخرت کیلئے )ذخیرہ کی امید رکھتا ہوں ۔ (مختصر من الصیحح البخاری)
اسی طرح سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ یہ آیت سن کر رسول اللہ ﷺ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ مجھے اپنے تمام مال میں سے سب سے زیادہ محبوب مال خیبر کی زمین ہے میں اسے اللہ کی راہ میں دینا چاہتا ہوں اور پھر نبی کریم ﷺ کی موجودگی میں انہوں نے وہ زمین اللہ کی راہ میں وقف کر دی۔ (بخاری وتفسیر ابن کثیر)
٭ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے اس آیت کی تلاوت کر کے سوچا تو مجھے کوئی چیز ایک کنیز سے زیادہ پیاری نہ تھی تو میں نے اس لونڈی کو اللہ کی راہ
میں آزاد کر دیا۔ (مسند احمد)
٭ جب قرآن کریم میں شراب کی حرمت کا حکم آیا اور اللہ رب العزت نے یہ آیت نازل فرمادی ۔﴿یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آَمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّیْطَانِ فَاجْتَنِبُوہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ ﴾ (المائدۃ:۹۰)
اے ایمان والو! بیشک یہ شراب ، یہ جوا، یہ آستانے اور پانسے سب گندے شیطانی کام ہیں ان سے باز آجاؤ تاکہ تم فلاح پاجاؤ۔
اس سے پہلے شراب قطعی طور پہ حرام نہ تھی اس لیے جب یہ آیت نازل ہوئی تو سیدنا انس ص فرماتے ہیں کہ میں ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے گھر اپنے چچاؤں کو شراب پلا رہا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے منادی کرنے والے کو حکم دیا کہ شراب حرام ہونے کا اعلان کر دے جب ہم نے یہ منادی سنی کہ آج سے شراب کو حرام قرار دے دیا گیا ہے تو ابو طلحہ ص نے کہا شراب کے تمام مٹکوں کو توڑ دو میں نے اسی وقت ساری شراب بہادی اس دن مدینہ کی گلی کوچوں میں شراب بہہ رہی تھی۔ اس منادی کرنے والے کی آواز سن کر نہ کوئی تصدیق کرنے گیا اور نہ کسی شخص نے شراب پی۔
٭ سورۂ الأنعام کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے یتیموں کا مال نہ کھانے بلکہ اس کے قریب بھی نہ جانے کا حکم دیا۔ ﴿وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْیَتِیمِ إِلَّا بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ ﴾(الأنعام:۱۵۲)
اور یہ کہ یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر ایسے طریقے سے جو بہترین ہو۔
اور اس کی وعید بھی بتلا دی کہ جو لوگ ناحق یتیم کا مال کھاتے ہیں وہ جہنم کی آگ پیٹ میں بھرتے ہیں ۔ یہ حکم سن کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین ڈرے اور یوں محتاط ہوگئے کہ جن کے زیر پرورش بچے تھے انہوں نے یتیموں کا مال مکمل طور پر علیحدہ کر دیا۔ جس سے انہیں شدید دِقّت اور پریشانی اٹھانی پڑ ی مگر اللہ کے حکم سے ذرا بھر بھی سرتابی کا خیال پیدا نہ ہوا۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر ان کی مشکل کو آسان فرمایا:﴿وَإِنْ تُخَالِطُوہُمْ فَإِخْوَانُکُمْ ﴾(البقرۃ:۲۲۰)
اگر تم اپنا اور ان کا خرچ اور رہنا سہنا مشترک رکھو تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔
٭ مشہور واقعہ افک میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پہ بہتان لگانے والوں میں ایک شخص مسطح بن اثاثہ رضی اللہ عنہ بھی تھے ۔ یہ ایک سادہ لوح مسلمان اور سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے قریبی رشتہ دار اور محتاج تھے ۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ انہیں ماہانہ کچھ وظیفہ بھی دیا کرتے تھے جب یہ بھی تہمت لگانے والوں میں شامل ہوگئے تو دکھ اور رنج کی وجہ سے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے قسم کھائی کہ اب ان کا وظیفہ بند کر دیں گے تو اللہ رب العزت نے یہ آیت نازل فرمائی:
﴿وَلَا یَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْکُمْ وَالسَّعَۃِ أَنْ یُؤْتُوا أُولِی الْقُرْبَی وَالْمَسَاکِینَ وَالْمُہَاجِرِینَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ وَلْیَعْفُوا وَلْیَصْفَحُوا أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ یَغْفِرَ اللَّہُ لَکُمْ وَاللَّہُ غَفُورٌ رَحِیمٌ ﴾(النور:۲۲)
تم میں سے جولوگ صاحب فضل اور صاحب قدرت ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھا بیٹھیں کہ اپنے رشتہ دار مسکین اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والے لوگوں کی مدد نہ کریں گے ۔ انہیں معاف کر دینا چاہیے اور درگزر کرنا چاہیے ۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں معاف کرے ؟ اور اللہ غفور اور رحیم ہے ۔
چنانچہ سیدنا ابو بکر صدیق ص نے فوراً اللہ کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا اور فرمایا کہ پروردگار ہم ضرور چاہتے ہیں کہ تو ہمیں معاف کر دے ۔ چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ نے فوراً دوبارہ وظیفہ جاری کر دیا اور اس کو ہمیشہ جاری رکھنے کا عہد کیا۔
٭ نبی کریم ﷺ نے اپنے آزاد کردہ غلام کے لیے اپنی پھوپھی کی بیٹی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا رشتہ طلب کیا خاندانی حسب ونسب اور تفاوت کی بنا پر انہیں یہ ناگوار گزرا۔ اللہ تعالیٰ نے فوراً یہ آیت نازل فرمائی :﴿وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَۃٍ إِذَا قَضَی اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَمْرًا أَنْ یَکُونَ لَہُمُ الْخِیَرَۃُ مِنْ أَمْرِہِمْ ﴾(النور:۳۶)
کسی مومن مرد اور عورت کیلئے یہ لائق نہیں کہ جب اللہ اور اُس کے رسول ا کسی کام کا فیصلہ کر دیں تو ان کیلئے اپنے معاملے میں کوئی اختیارباقی رہ جائے ۔
جب نبی کریم ﷺ نے یہ آیت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے سامنے تلاوت فرمائی تو انہوں نے فوراً اللہ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا اور یہ رشتہ قبول کر لیا۔
٭ اللہ رب العزت نے مومنوں کو نبی کریم ﷺ کے آداب واحترام کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا ﴿یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آَمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ ﴾(الحجرات:۲)
اے ایمان والو! اپنی آوازوں کو نبی کریم ﷺ کی آواز سے بلند نہ کرو۔
اس آیت کا اثر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم پہ اس انداز سے ہوا کہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ جن کی آواز قدرتی طور پہ بلند تھی وہ گھر میں قید ہوگئے جب نبی کریم ﷺ نے ان کا پتہ کروایا تو کہنے لگے برا ہو میرا، میری آواز تو نبی کریم ﷺ کی آواز سے بلند ہوتی تھی۔ میرے اعمال اکارت گئے میں اہل دوزخ سے ہوں ! لیکن رسول اللہ ﷺ نے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے ذریعے اُن کو خوشخبری بھیجی کہ وہ اہلِ جنت میں سے ہیں کیونکہ ان کی فطری طور پر آواز بلند تھی ، بے ادبی یا گستاخی کی وجہ سے ایسا نہ تھا۔ (بخاری کتاب التفسیر)
اسی آیت پر عمل کی مثال میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا طرز عمل بھی قابل غور ہے ۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو عمر رضی اللہ عنہ اتنی آہستہ آہستہ آواز میں بات کرتے کہ نبی کریم ﷺ کو ان سے پوچھنے کی دوبارہ ضرورت پیش آتی۔
٭ جب اللہ نے مومنوں کو حکم دیا کہ ﴿وَمَا آَتَاکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوہُ وَمَا نَہَاکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوا ﴾(الحشر:۷)
جو کچھ رسول اللہ ﷺ تمہیں دیں وہ لے لیا کرو اور جس کام سے منع کر دیں تو اس سے رک جایا کرو۔
تو اس کی عملی تفسیر کے سلسلے میں ان کی زندگیاں بھری پڑ ی ہیں ۔ انہیں میں ایک وہ دور بھی ہے جب اللہ کے حکم سے نبی کریم ﷺ نے تمام مسلمانوں کو کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اور ان کے دو ساتھیوں سے بات چیت کرنے سے روک دیا اس حکم پر تمام مسلمان یوں عمل پیرا ہوئے کہ اپنے بھائی کے ساتھ حقیقی خون کا رشتہ تک فراموش کر دیا اور جیسے ہی نبی کریم ﷺ نے دوبارہ ان کی معافی اور ان کے ساتھ میل جول کا اعلان کیا تو یوں شیروشکر ہوئے کہ کبھی کچھ ہوا ہی نہ تھا۔
جب اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں نبی کریم ﷺ کی اطاعت اور پیروی کو جنت میں داخلے اور اخروی کامیابی کیلئے لازمی قرار دیاتو جس والہانہ انداز میں اس جماعت نے نبی کریم ﷺ کی پیروی کی اس مختصر مضمون میں تو اس کا تذکرہ ممکن نہیں ۔
٭ اسی طرح عورتیں یعنی صحابیات مبشرات بھی کسی میدان میں پر خلوص عمل سے پیچھے نہ رہیں ۔ صرف ایک مثال پہ اکتفا کیا جاتا ہے کہ جب اللہ رب العزت نے قرآن میں مومنوں کی ماؤں ، بہنوں ، بیٹیوں کو پردہ کرنے کا حکم دیا تو انہوں نے فوری عمل کیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی۔
﴿یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لِأَزْوَاجِکَ وَبَنَاتِکَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِینَ یُدْنِینَ عَلَیْہِنَّ مِنْ جَلَابِیبِہِنَّ ﴾ (الأحزاب :۵۹)
اے نبی ﷺ اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور اہل ایمان کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر چادروں کے پلو لٹکا لیا کریں ۔
تو مدینہ کی عورتوں نے اسی دن موٹا کپڑ ا پھاڑ کر اوڑ ھنیاں بنالیں ۔ (بخاری کتاب التفسیر)
٭ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے قرآن سن کر عمل پہ ہی بس نہیں کیا بلکہ ان کا قر آن کے ساتھ ایسا تعلق اور معاملہ تھا کہ اگر کوئی آیت ان کو سمجھ نہ آتی تو فوری طور پر متردد ہوتے ، تحقیق کیلئے دوڑ تے ہوئے بارگاہ رسالت میں جاتے اور جب تک سمجھ نہ لیتے چین سے نہ بیٹھتے جیسا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ﴿الَّذِینَ آَمَنُوا وَلَمْ یَلْبِسُوا إِیمَانَہُمْ بِظُلْمٍ أُولَئِکَ لَہُمُ الْأَمْنُ وَہُمْ مُہْتَدُونَ ﴾ (الأنعام :۸۲)
وہ لوگ جو ایمان لائے اور اپنے ایمانوں کے ساتھ ظلم شامل نہ کیا تو وہی امن والے اور وہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں ۔
آیت سن کر صحابہ کرام پریشان ہوگئے کہ ہر شخض سے کچھ نہ کچھ ظلم سرزدہوتا ہے تب نبی کریم ﷺ نے ان کی تسلی فرمائی کہ یہاں ظلم سے مراد شرک ہے ۔
اورجب سورۂ بقرہ میں آیا ﴿وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِی أَنْفُسِکُمْ أَوْ تُخْفُوہُ یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اللَّہُ ﴾ (البقرۃ:۲۸۴)
تم اپنے دل کی باتوں کو خواہ ظاہر کرو ، خواہ چھپاؤ، اللہ بہر حال ان کا حساب تم سے لے گا۔
تو صحابہ کرام پریشان ہوگئے کہ دل میں پیدا ہونے والے خیالات اور وسوسوں پہ تو ہمارا اختیار نہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم (سَمِعنَا وَاَطَعنَا) یعنی ہم نے سنا اور اطاعت کی ہی کہو۔ چنانچہ صحابہ کرام ثکے قرآن پہ عمل اور اطاعت کے جذبے کو دیکھتے ہوئے اللہ نے مسلمانوں پر خاص کرم کیا کہ دل میں آنے والے وساوس اور خیالات کو معاف فرمانے کا حکم دیے دیا۔
یہ چند مثالیں تو آیات سن کر عمل بجالانے کی ہیں جبکہ بیشتر مقامات پر اُن کے عمل کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کی آیات بنا کر نازل فرمایا۔
ہماری طرح گوشت پوست کے بنے ہوئے ، ہماری طرح کا دل رکھنے والے ، والدین واعزہ کی محبت رکھنے والے اور اولاد کیلئے تڑ پنے والے انسان تھے ۔ لیکن قرآن پر عمل کے سلسلے میں کوئی مجبوری اور کسی قسم کی رکاوٹ کو انہوں نے اپنے آڑ ے نہ آنے دیا جب قرآن کے نصائح کو اس جماعت نے قبول کیا اور آخرت کی طرف مائل ہوگئے اور نصیحت دلوں میں اتری تو یہی قرآن اُن کی روحانی وقلبی بیماریوں سے شفا کا سبب بنا اور جب دل کی بیماریاں دور ہوئیں تو سب نکھر ا نکھرا اور اجالا ہو گیا۔ چہار عالم میں نور پھیل گیا پھر وہ دنیا میں بھی رحمتوں کے حقدار بنے اور آخرت میں اچھے مقامات ان کے منتظر ہیں ۔
لیکن اے امتِ مسلمہ ! آج ہم کس مقام پر ہیں ؟ لمحہ فکریہ ہے کہ ہم بھی مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اللہ اور اس کے نبی ﷺ سے سچی محبت کے بلند بانگ نعرے بھی لگاتے ہیں ۔
قرآن مجید اور فرقان حمید کی آیات ہماری نظروں سے گزرتی ہیں مگر پھر یہ قرآن ہماری روحوں کیلئے شفا کا سبب کیوں نہیں بن رہا؟
ہم انفرادی اور اجتماعی ہدایت سے محروم کیوں ہیں ؟ یہ قرآن تو اس دور میں بھی انقلاب لایا جب چہار سو اندھیرے اور گمراہیاں تھیں آج اس کے حاملین غیروں کے انقلابات کی زد میں ہیں اس کی تو یہ شان بیان ہوئی ہے کہ اگرسخت ترین پہاڑ وں پہ نازل ہوتا تو پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجاتے ۔ آج اس کی تلاوت کرنے والے اس قدر سخت دل ہیں ۔
اس پر عمل کرنے والے تو کافروں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ڈٹ گئے آج ہم آپس میں شکست وریخت کا شکار ہیں اس کے پڑ ھنے والوں کا نام سن کر کفر کانپ کر رہ جاتا تھا آج اس کے پڑ ھنے والے کفار کے زیرنگیں ہیں ۔
کیا سبب ہے کہ اللہ نے تو ہماری رہنمائی کرنے والی کتاب (گویا کہGuiding line ) عطا کی اور ہم اندھیروں میں سرٹکرا رہے ہیں ۔
اس سارے زوال اور بحران کا سبب کوئی بیرونی نہیں ہے بلکہ ہمارے اندر کی کمزوریاں ہیں آج ہم میں پہاڑ وں جیسے ایمان اور فوری عمل جیسے گرانقدر جذبے کا فقدان ہے
کبھی خالی خواہش، کبھی نفس کی بے راہ روی ، کہیں مال وجاہ کی ہوس، کبھی دنیا میں کامیابیوں کا حصول ، کہیں برادری اور اس جیسی سینکڑ وں خودساختہ مجبوریاں ہمارے اور ہمارے قرآن کے درمیان ایک آڑ کی طرح سینہ تانے کھڑ ی ہیں جبکہ صحابہ کرام ہر خواہش ، غرض اور محبت کو آن واحد میں عبور کر کے عمل میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی جدوجہد میں رہتے تھے ۔
اس قرآن حمید کو سمجھنے ، تحقیق کرنے ، اس کے رموز واوقاف کو سمجھنے اور اس کا علم حاصل کرنے کا جو جذبہ ہمارے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں تھا آج ہم میں کہیں اس کا شائبہ تک نہیں ہے ایک بڑ ی تعداد قرآن کے علوم سے واقف نہیں صرف تلاوت کی حد تک یا پھر بعض اس سے بھی دور ہیں ۔ قرآن کریم کی آیات کی تفسیر ، مفاہیم، معانی ومطالب کا کچھ علم نہیں اور جب علم ہی نہیں تو عمل کے جذبے کی آبیاری کیسے ہو سکتی ہے ؟ آج ہم نے اللہ کے پیغام کو پس پشت ڈال دیا ہے ایک شخص اپنی 60,50 سالہ دنیاوی زندگی میں سے اللہ کی کتاب کو سمجھنے کیلئے چند لمحات بھی وقف کرنے کو تیار نہیں ہے ۔
قارئین کرام! یہ رمضان المبارک کے استقبال کی تیاریوں میں ہم خوشی خوشی مصروف ہیں اس کی تمام فضیلت اسی سبب سے ہے کہ اس ماہ قرآن جیسا عظیم تحفہ اللہ نے ہمارے لیے بھیجا تو باقی تیاریوں کے ساتھ ساتھ ایک اہم قدم قرآن کو سمجھنے ، اس کا ترجمہ وتفسیر سیکھنے کیلئے بھی اٹھائیں اور اس کام میں دیر کی گنجائش نہیں ہے ۔ قرآن کے علم اور پھر اس پر عمل کو اپنی زندگی کا مقصد واحد سمجھ لیں ۔ علم ہونے پہ ہم بھی اپنی محبتوں اور خواہشوں کو قربان کر دیں اور سمجھ نہ آنے پہ ہم بھی متردد ہوں ، تحقیق کریں ، دوڑ یں اور پھر جب تک الفاظ یا حکم کی روح تک نہ پہنچیں چین سے نہ بیٹھیں ۔ تب ہی ہم قرآن پاک اور رمضان المبارک کا صحیح حق ادا کرسکتے ہیں اور تب ہی یہ قرآن ہمارے دلوں کیلئے شفا بن کر ہماری ہدایت اور پھر اللہ کی رحمتوں کے نزول کا سبب بن سکتا ہے ۔
مکمل مضمون کا مطالعہ کریں>>

اعتکاف کیسے کیا جائے؟

از محمد طیب معاذ

پہلی بات
اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی خاص حکمت کے تحت دنیا میں موجود چیزوں میں سے بعض کو بعض پر فوقیت دی ہے ۔ انسانوں میں ہمیں سب سے اعلیٰ وارفع انبیاء ورسل کا طبقہ دکھائی دیتا ہے اگر دنیا میں موجود کتب کے متعلق غور کریں تو کتب سماوی کو بلند مقام حاصل ہے پھر کتب سماوی میں سے قرآن حکیم ایک منفرد اور اعلی مقام ومرتبہ رکھتا ہے اگر ہم دنوں پر غور کریں تو فرمان نبوی کی رو سے جمعہ کو ایک خاص منزلت اور رفعت حاصل ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : خَیرُ یَومٍ طَلَعَت فِیہِ الشَّمسُ یَومُ الجُمُعَۃِ ۔ (سنن الترمذی ، کتاب الجمعۃ، حدیث نمبر :۴۵۰) بہترین دن جس دن سورج نکلتا ہے وہ جمعہ کا دن ہے ۔

اسی طرح مکہ اور مدینہ کی شان باقی تمام بلدان اور شہروں سے افضل ہے حتی کہ مکہ کی قسم خود ربّ کائنات نے قرآن میں اٹھائی اور فرمایا
﴿وَہَذَا الْبَلَدِ الْأَمِینِ ﴾(التین :۳) اور مجھے اس بلد امین (مکہ) کی قسم ہے ۔
اسی نقطہ سے جب ہم سال کے بارہ مہینوں کیطرف نگاہ دوڑ اتے ہیں تو جو مقام ومنزلت ماہ رمضان کو حاصل ہے وہ کسی دوسرے مہینے کو حاصل نہیں پھر رمضان کے عشرہ اخیرہ کی شان اس کے پہلے دو عشروں سے زیادہ ہے رمضان کی جان ا سکا آخری عشرہ ہے اس لیے اس عشرہ میں آپ ﷺ کے معمولات میں ایک نمایاں تبدیلی نظر آتی ہے ۔
رمضان کے آخری عشرہ میں آپ ﷺ کی عبادت میں زیادتی کو ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یوں بیان فرمایا ۔
کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ یَجتَہِدُ فِی العَشرِ الأَوَاخِرِ مَا لاَیَجتَہِدُ فِی غَیرِہِ (رواہ مسلم، کتاب الإعتکاف ، حدیث نمبر :۲۰۰۹)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رمضان کی آخری عشرہ میں جو محنت اور جدوجہد فرماتے وہ بقیہ دنوں میں نہیں فرماتے تھے ۔
رمضان کے آخری عشرہ میں رسول اللہ ﷺ کے کچھ ایسے معمولات ہمیں ملتے ہیں جو کہ رمضان کے پہلے عشرے میں کم ہی نظر آتے ہیں ۔
۱۔ رات بھر جاگنا
مسند احمد میں عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے :
نبی کریم ﷺ رمضان کے شروع کے دنوں کی راتیں کچھ نماز پڑ ھ کر اور کچھ سوکر گزارتے لیکن جب عشرہ اخیر شروع ہوجاتا تو(مکمل شب بیداری) کیلئے کمر کس لیتے اور مستعد ہوجاتے ۔
۲۔ اپنے اہل کو جگانا
طبرانی میں ایک روایت ہے کہ آپ ﷺ اپنے اہل کے ساتھ ساتھ ہر چھوٹے بڑ ے کو جو نماز ادا کرنے کی طاقت رکھتا ہو اٹھایا کرتے تھے ۔
۳۔ وصال صوم
بعض روایات کے مطابق آپ ﷺ عشرہ اخیر ہ میں وصال صوم بھی کرتے تھے ۔
۴۔ لیلۃ القدر
یہ بھی عشر ہ اخیر کے اہم خصائص میں سے ہے جس کے بارے میں فرمان رب العالمین ہے کہ ﴿لَیْلَۃُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِنْ أَلْفِ شَہْرٍ ﴾(القدر :۳)
لیلۃ القدر کی ایک رات کی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے افضل ہے ۔
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : مَن قَامَ لَیلَۃَ القَدرِ اِیمَاناً وَاحتِسَاباً غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنبِہِ (صحیح بخاری ، کتاب الصوم ، حدیث نمبر :۱۷۶۸)
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے ایمان اور احتساب(ثواب کی نیت سے ) کے ساتھ لیلۃ القدر کا قیام کیا اس کے تمام گذشتہ گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں ۔
۵۔ اعتکاف
اعتکاف بھی عشرہ اواخرہ کے اہم خصائص میں سے ہے ۔
اعتکاف کی تعریف
لغت میں اعتکاف کا لفظ عکف سے بنا ہے جس کا معنی ہے روک لینا بند کرنا ، مقید کرنا وغیرہ
شرعی اصطلاح میں اعتکاف کسی مسلمان کا عبادت الٰہی کی نیت سے مسجد میں خاص وقت تک اپنے آپ کو مقید کرنا مراد ہے ۔
اعتکاف کی اقسام
شرعی اعتکاف کی دو قسمیں ہیں ۔
۱۔ سنت مؤکدہ
وہ اعتکاف جو کہ رمضان کے آخری دس دنوں پر محیط ہو وہ اعتکاف سنت مؤکدہ ہے ۔
۲۔ واجب
وہ اعتکاف جو کہ انسان اپنے اوپر نذر کی صورت میں واجب کر لے مثلاً اگر کوئی آدمی نذر مانتا ہے کہ اگر اللہ نے مجھے حج کرنے کی توفیق بخشی تو پھر میں اتنے دنوں کا اعتکاف کروں گا اب اس شخص پر اعتکاف کرنا واجب ہے ۔ امام قرطبی رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں مسلمانوں کا اس پر اجماع نقل کیا ہے ۔
اعتکاف کی شرائط
۱۔ مسلمان ہونا
۲۔ عاقل ہونا یعنی پاگل دیوانہ مجنون نہ ہو۔
۳۔ غسل واجب سے پاک ہونا
۴۔ حیض اور نفاس کے خون سے پاک ہونا
۵۔ اعتکاف کی نیت کرنا
۶۔ مسجد کا ہونا
اعتکاف کی فضیلت
اعتکاف کی فضیلت میں رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان جوکہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے ۔ (من اعتکف یوماً ابتغاء وجہ اللہ جعل اللہ بینہ بین النار ثلاث خنادق کل خندق ابعد فیما بین الخافقین ) (رواہ الطبرانی والحاکم وصححہ)
جوشخص اللہ کی رضا حاصل کرنے کیلئے ایک دن کا اعتکاف کرے گا اللہ تبارک وتعالیٰ اس کے اور جہنم کے درمیان ۳ تین خندقیں تیار کروائے گا ہر خندق کی چوڑ ائی مشرق ومغرب کے فاصلے سے بھی زیادہ ہو گی۔
اتنی فضیلت صرف ایک دن اعتکاف کرنے والے کی ہے اور آدمی دس دن اعتکاف کرتا ہے اور وہ بھی ماہ صیام میں اس کی فضیلت کا اندازہ لگائیں ۔ ۔ ۔ ؟
اور ابن ماجہ کی ایک روایت میں مشفق اور امین پیغمبر ﷺ نے ارشاد فرمایا : إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ فِی المُعتَکِفِ ہُوَ یَعکِفُ الذُّنُوبَ وَیُجرَی لَہُ مِنَ الحَسَنَاتِ کَعَامِلِ الحَسَنَاتِ کُلَّہَا)
اعتکاف والا آدمی گنا ہوں سے رکا رہتا ہے اس کو ان تمام نیک اعمال کا جوکہ وہ اعتکاف کی وجہ سے نہیں کر پاتا ایسا ہی بدلہ دیا جائے گا جیسا کہ نیک اعمال کرنے والے کو دیا جاتا ہے ۔
جائے اعتکاف
اعتکاف صرف اور صرف مساجد میں ہی ہوتا ہے ۔ رب العالمین کا ارشاد ہے ﴿وَاَنتُم عَاکِفُونَ فِی المَسَاجِدِ﴾ (البقرۃ:۱۸۷)
اور تم مساجد میں اعتکاف کرنے والے ہو۔
مذکورہ آیت میں اعتکاف کی جگہ صرف مساجد ہی ذکر کی گئی۔
اورسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : أَنَّہَا کَانَت تُرَجِّلُ النَّبِیَّ ﷺ وَہِیَ حَائِضٌ وَہُوَ مُعتَکِفٌ فِی المَسجِدِ (صحیح بخاری، کتاب الاعتکاف ، رقم الحدیث :۱۹۰۵)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ایام ما ہواری میں آپ ﷺ کی مانگ نکالا کرتی تھیں اور آپ ﷺ مسجد میں اعتکاف بیٹھے ہوئے ہوتے تھے ۔
عورتوں کا اعتکاف
عورت بھی مرد کی طرح اعتکاف کی برکات سے مستفید ہو سکتی ہے بشرطیکہ اس کا شوہر اس بات کی اجازت دے عورت کا اعتکاف بھی صرف مسجد میں ہی درست ہو گا کیونکہ قرآن کا حکم ﴿وَاَنتُم عَاکِفُونَ فِی المَسَاجِدِ﴾ (البقرۃ:۱۸۷)عام ہے اور شریعت میں عورتوں کیلئے کوئی الگ حکم نہیں ہے کہ وہ اعتکاف گھر میں کریں بلکہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد آپ ﷺ کی زوجات مسجد نبوی میں ہی اعتکاف کرتی تھیں کسی صحیح حدیث سے گھر میں اعتکاف کرنا ثابت نہیں ہے ۔(واللہ اعلم بالصواب)
اعتکاف کا وقت
اعتکاف کرنے والا شخص ۲۰ رمضان کی شام کومسجد میں داخل ہو گا اور اگلے روز نمازِ فجر کے بعد اعتکاف کی جگہ میں داخل ہو۔
دلیل : عَن عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنہَا قَالَت کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ إِذَا أَرَادَ أَن یَعتَکِفَ صَلَّی الفَجرَ ثُمَّ دَخَلَ مُعتَکَفَہُ (صحیح مسلم ، کتاب الاعتکاف ، حدیث نمبر ۲۰۰۷)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں جب آپ ﷺ اعتکاف کا ارادہ فرماتے تو نماز فجر ادا فرما کر اپنی اعتکاف کی جگہ میں داخل ہوتے تھے ۔
دوران اعتکاف جائز امور
۱۔ طبعی ضروریات مثلاً پیشاب وغیرہ ، غسل جنابت کیلئے مسجد سے نکل سکتا ہے بشرطیکہ مسجد میں اس چیز کا انتظام نہ ہو۔
۲۔ مسجد میں کھانا، سونا، چار پائی لگانا، خیمہ لگانا اور بقدر ضرورت گفتگو میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
۳۔ سرمیں تیل لگانا، کنگھی کرنا جائز ہے ۔
دلیل : أَنَّہَا کَانَت تُرَجِّلُ النَّبِیَّ ﷺ وَہِیَ حَائِضٌ وَہُوَ مُعتَکِفٌ فِی المَسجِدِ (صحیح بخاری، کتاب الاعتکاف ، رقم الحدیث :۱۹۰۵)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ایام ما ہواری میں آپ ﷺ کی مانگ نکالا کرتی تھیں اور آپ ﷺ مسجد میں اعتکاف بیٹھے ہوئے ہوتے تھے ۔
۴۔ معتکف آدمی سے اس کی بیوی ملاقات کے لئے آ سکتی ہے اور وہ اس کو مسجد کے دروازے تک چھوڑ نے کیلئے بھی جا سکتا ہے ۔
دلیل : حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کی زیارت کیلئے مسجد میں تشریف لاتی تھیں ۔
دوران اعتکاف ممنوع اعمال
۱۔ بیوی کیساتھ مباشرت ، ہم بستری کرنا
﴿وَلاَ تُبَاشِرُوہُنَّ وَاَنتُم عَاکِفُونَ فِی المَسَاجِدِ﴾ (البقرۃ:۱۸۷)
اور تم مسجدوں میں اعتکاف کی حالت میں بیوی سے مباشرت نہ کرو۔
۲۔ جنازہ میں شرکت کرنا
۳۔ مریض کی عیادت کرنا (چلتے چلتے اگر کسی کا حال پوچھ لیا تو اس میں کوئی حرج نہیں )
دلیل : قَالَت عَائِشَۃُ رضی اللہ عنہا : اَلسُّنَّۃُ عَلَی المُعتَکِفِ أَن لاَ یَعُودَ مَرِیضاً وَلاَ یَشہَدَ جَنَازَۃً وَلاَ یَمَسَّ امرَأَۃً وَلاَ یُبَاشِرَہَا (سنن ابی داؤد، کتاب الصوم ، حدیث نمبر :۲۱۱۵)
صدیقہ کائنات عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں اعتکاف کرنے والے کیلئے سنت ہے کہ وہ کسی مریض کی عیادت نہ کرے نہ جنازہ میں شریک ہو اور نہ ہی عورت کو (شہوت کیساتھ) چھوئے اور نہ ہی اس کے ساتھ مباشرت کرے ۔
۴۔ بغیر ضرورت کے مسجد سے نکلنا
کَانَ لاَ یَدخُلُ البَیتَ إِلاَّ لِحَاجَۃٍ إِذَا کَانَ مُعتَکِفاً (صحیح بخاری ، کتاب الإعتکاف ، حدیث نمبر :۱۸۸۹)
آپ ﷺ اشد ضرورت کے بغیر کبھی گھر میں داخل نہیں ہوتے جس وقت آپ ا اعتکاف میں ہوتے ۔
سید سابق رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر معتکف بغیر کسی ضرورت کے مسجد سے نکلتا ہے خواہ تھوڑ ی دیر کیلئے ہی کیوں نہ نکلے اس کا اعتکاف باطل ہوجائے گا کیونکہ مسجد میں ٹھہرنا اعتکاف کا ایک رکن ہے ۔ (فقہ السنہ باب الاعتکاف)
۵۔ کبائر کا ارتکاب
اگر معتکف کبائر کا ارتکاب کرے گا تو اس کا اعتکاف بھی باطل ہوجائے گا کیونکہ کبیرہ گناہ عبادت کی ضد ہے ۔
ایک غلط فہمی
عوام الناس میں یہ تأثر عام طور پر پایا جاتا ہے کہ بغیر روزہ کے اعتکاف نہیں ہوتا یہ بات صحیح نہیں ہے اگر معتکف آدمی کسی شرعی عذر کی بنا پر روزہ چھوڑ تا ہے تو اس کے اعتکاف میں کوئی خلل نہیں ہے جمہور اور محقق علماء کا موقف ہے کہ روزہ اعتکاف کیلئے شرط نہیں ہے ۔ (فتوی علامہ ابن باز رحمہ اللہ )
اعتکاف کے فوائد
۱۔ معتکف کیلئے لیلۃ القدر کو تلاش کرنا آسان ہوتا ہے ۔
۲۔ معتکف کے قلب وذہن پر صرف ذکر الٰہی جاری ہوتا ہے جس کی بناپر وہ فرشتوں کی مشابہت اختیار کرتا ہے ۔
۳۔ معتکف آدمی ساری خواہشات اور گنا ہوں سے بچا رہتا ہے ۔
۴۔ معتکف آدمی کو مسجد کیساتھ ایک خاص انس اور پیار ہوجاتا ہے ۔
۵۔ معتکف کو تنہائی میسر ہوتی ہے جس میں اپنی گذشتہ خطاؤں پر ندامت کے آنسو بہا سکتا ہے اورتوبہ کر کےنئےسرےسے اپنی زندگی کو احکام الٰہی کےمطابق بسرکرسکتا ہے ۔
۶۔ اعتکاف سے آدمی کو آخرت کی فکر لاحق ہوتی ہے ۔
۷۔ حالت اعتکاف میں معتکف کو فضول گوئی اور فضول کلام کی بری عادت سے نجات ملتی ہے اور وہ کم گوئی کی عادت حسنہ کا عادی ہوجاتا ہے ۔
آخری بات
محترم قارئین ! اعتکاف کے متعلق آخری اور اہم بات اس کی حفاظت ہے اگر معتکف اعتکاف کے بعد بھی تلاوت قرآن ، ذکر الٰہی میں مشغول رہتا ہے اور فضول گفتگو ، گالی گلوچ ، عبث کلام سے دور رہتا ہے تو اس نے اعتکاف کی حفاظت بھی کی ہے اور اعتکاف سے اس کو فائدہ بھی ہوا ہے ۔
اعتکاف کے بعد ہر قسم کے گناہ سے احتراز اور بچناہی ہماری اصل ضرورت ہے ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں بعد از اعتکاف بھی گنا ہوں سے بچائے ۔ آمین
مکمل مضمون کا مطالعہ کریں>>

کتابِ مقدس اور ماہِ مقدس

از الشیخ آصف ہارون مصلح، اوکاڑہ

جس طرح مچھلی کا تعلق پانی سے اور کنگن کا تعلق کلائی سے ہوتا ہے بالکل اسی طرح قرآن کا تعلق رمضان کے ساتھ ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
﴿شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِی أُنْزِلَ فِیہِ الْقُرْآَنُ ہُدًی لِلنَّاسِ وَبَیِّنَاتٍ مِنَ الْہُدَی وَالْفُرْقَانِ ﴾ (البقرۃ:۱۸۵)
رمضان وہ (ماہ مقدس) ہے جس میں قرآن (کتاب مقدس) کو اتارا گیا جو لوگوں کو ہدایت کرنے والا ہے اور جس میں ہدایت کی اور حق وباطل کی تمیز کی نشانیاں ہیں ۔ اور پھر رمضان کے بھی آخری عشرے میں لیلۃ القدر میں اتارا گیا ارشاد ہوا یقینا ہم نے اسے شب قدر میں نازل فرمایا ، تم کیا جانو کہ شب قدر کیا ہے ؟ شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے (یعنی اس ایک رات کی عبادت وریاضت تراسی سال چار ماہ کی عبادت سے کہیں بہتر ہے (فرشتے اور روح امین اس میں رب کی اجازت سے ہرحکم لیکر آتے ہیں ، یہ رات طلوع فجر تک سراسر سلامتی والی ہے ۔ (سورۃ القدر)

اسی طرح مفسر قرآن عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ کاَنَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ أَجوَدَ النَّاسِ وَکَانَ أَجوَدُ مَا یَکُونُ فِی رَمَضَانَ حِینَ یَلقَاہُ جِبرِیلُ وَکَانَ یَلقَاہُ فِی کُلِّ لَیلَۃٍ مِن رَمَضَانَ فَیُدَارِسُہُ القُرآنَ فَلَرَسُولُ اللّٰہِ ﷺ أَجوَدُ بِالخَیرِ مِنَ الرِّیحِ المُرسَلَۃِ ۔ (صحیح بخاری ، کتاب بدء الوحی ، حدیث نمبر :۵)
رسول اللہ ﷺ سب لوگوں سے زیادہ سخی تھے اور مضان میں بھی جب جبرائیل آپ سے ملا کرتے تو بہت زیادہ سخی ہوتے اور جبرائیل رمضان کی ہر رات میں آپ سے ملا کرتے تھے اور آپ کے ساتھ قرآن کا دورکرتے ۔ الغرض رسول اللہ ﷺ (لوگوں ) کو بھلائی پہنچانے میں تیز ہوا سے بھی زیادہ سخی تھے ۔
قارئین کرام! مذکورہ آیات قرآنیہ اور حدیث رسول ﷺ سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ قرآن کا رمضان کے ساتھ کس قدر گہرا رشتہ ہے ، نازل ہوا تو رمضان میں اور اس کا دور کیا جاتا تو تب بھی رمضان میں ۔گویا کہ رمضان کواگر عظمت ورفعت ملی تو قرآن سے اور شب قدر کو اگر عزت ومنقبت ملی تو تب بھی قرآن سے ملی ، بلکہ میں تو یہ بھی کہوں گا کہ جس ذات نے کتاب مقدس کو نازل کیا وہ ذات تمام ذوات سے مقدس، جو فرشتہ یہ کتاب مقدس لیکر آیا وہ فرشتوں سے مقدس، جس رسول پہ نازل ہوا وہ تمام رسولوں سے مقدس ، جس رات نازل ہوا وہ تمام راتوں سے مقدس جن نفوس قدسیہ کے درمیان نازل ہوتا رہا وہ لوگ تمام لوگوں سے مقدس۔ الغرض جس چیز کی بھی نسبت اس مقدس ومحترم کتاب سے ہوئی وہ خود بھی مقدس ، محترم، معظم اور مکرم ہوگئی کجا یہ کہ انسان اشرف المخلوقات اور اس کی نسبت قرآن سے ہو اور اس کو عزت وعظمت کی بلندیاں نہ ملیں یہ کیسے ممکن ہے ؟
رات کا قیام تو ویسے ہی بہت اہمیت وافادیت رکھتا ہے کس قدر خوش بختی اور خوش نصیبی ہے کہ قیام رمضان ہو، زبان پر قرآن ہو، رات کی ساعتیں ہوں ، پھر اس عاصی انسان کیلئے مغفرتیں ہوں ۔ ارشاد اقدس ہوا مَن قَامَ رَمَضَانَ اِیمَانًا وَّاحتِسَابًا غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنبِہِ ۔ (صحیح بخاری ، کتاب الإیمان ، حدیث نمبر:۳۶)
جس نے ماہ مقدس (رمضان )کا قیام کیا ، ایمان کی حالت میں ، ثواب کی نیت سے اس کے ماقبل تمام گناہ(صغائر) معاف کر دیے جاتے ہیں ۔ پھر یہی اجر وثواب اس کے لیے جس نے شب قدر کا قیام کیا۔ارشاد ہوتا ہے : مَن قَامَ لَیلَۃَ القَدرِ اِیمَانًا وَّاحتِسَابًا غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنبِہِ ۔ (صحیح بخاری، کتاب الصوم، حدیث نمبر :۱۷۶۸)
یہاں ایک بات قابل غور ہے کہ قیام خواہ رمضان کا ہو یا غیر رمضان کا بغیر رمضان کے اس کا تصور ہی ناممکن ہے جیسا کہ اس ارشاد اقدس سے واضح ہے : لَا حَسَدَ إِلاَّ عَلَی اثنَتَینِ رَجُلٌ آتَاہُ اللّٰہُ الکِتَابَ وَقَامَ بِہِ آنَائَ اللَّیلِ وَرَجُلٌ أَعطَاہُ اللّٰہُ مَالاً فَہُوَ یَتَصَدَّقُ بِہِ آنَائَ اللَّیلِ وَالنَّہَارِ ۔ (صحیح البخاری، کتاب فضائل القرآن ، حدیث نمبر : ۴۶۳۷)
قابل رشک ہیں وہ دو شخص(یعنی ان پر حسد نہیں ) ایک وہ جس کو قرآن مقدس ملا اور وہ رات کی ساعتوں میں اس قرآن کے ساتھ قیام کرتا ہے اور دوسرا وہ جس کو مال ملا اور وہ دن رات صدقہ وخیرات کرتا ہے ۔
وقام بہ سے واضح ہے کہ قیام صرف قرآن سے ہو سکتا اور رمضان کا قیام اجر وثواب کے لحاظ سے کہیں بہتر ہے تو معلوم ہوا کہ قرآن کا رمضان سے تعلق بالکل ایسے ہی ہے جیسے مچھلی کا پانی کے ساتھ۔
قرآن کی تلاوت وقرأت، تعلیم وتعلّم اور عمل وتعمیل یہ تو عام دنوں میں بھی ضر وری ولازمی بلکہ مقصد حیات ہے لیکن رمضان جیسے ماہ مقدس میں ان امور کو سرانجام دینا سونے پہ سہاگے والی بات کے مترادف ہے ۔ نیکیوں کے اس موسم بہار میں تو صحابہ کرام ، تابعین عظام، ائمہ محدثین، سلف صالحین بھی دوسری کتب کو خیر آباد کہہ کر قرآن کو اپنے سینوں سے لگا لیتے اور اس کے حقوق کو پورا کرتے کیونکہ انہیں اس بات کا شدت سے احساس تھا کہ قرآن کا رمضان کے ساتھ کیسا رشتہ ہے جب کہ ہم اس بات کو بھولے ہوئے ہیں نہ کبھی سوچا، سمجھا اور نہ ہی کبھی سوچنے سمجھنے کا احساس پیدا ہوا۔ رَبِّ ارحَم
نصوص قرآن وسنت میں اس عظیم المرتبت کتاب کی جو بھی فضیلت بیان ہوئی اس کا دارومدار تلاوت وقرأت ، تعلیم وتعلّم پر ہے اگر ان تینوں کا لحاظ رکھا جائے گا تو اجر
وثواب کے حقدار ہوں گے اگر ان میں ایک چیز بھی متروک ومفقود ہو گی تو ثواب تو دور کی بات ، عذاب وعقاب سے سامنا کرنا پڑ ے گا۔ جیسا کہ ارشادباری تعالیٰ ہے ﴿وَقَالَ الرَّسُولُ یَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوا ہَذَا الْقُرْآَنَ مَہْجُورًا ﴾ (الفرقان:۳۰) اور پیغمبر فرمائے گا کہ اے میرے رب!یقینا میری قوم کے لوگوں نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا۔
۱۔ تلاوت وقرأت
ارشاد اقدس ہے إِقرَئُوا القُرآنَ فَإِنَّہُ یَأتِی یَومَ القِیَامَۃِ شَفِیعًا لِأَصحَابِہِ ۔ (صحیح مسلم، کتاب صلاۃ المسافرین، حدیث نمبر:۱۳۳۷)
کہ قرآن کو پڑ ھا کرو کیونکہ وہ قیامت والے دن اپنے پڑ ھنے والوں کی شفاعت کرے گا۔
پھر ارشاد فرمایا : مَن قَرَأَ حَرفاً مِن کِتَابِ اللّٰہِ فَلَہُ بِہِ حَسَنَۃٌ وَالحَسَنَۃُ بِعَشرِ أَمثَالِہَا لاَ أَقُولُ الم حَرفٌ وَلٰکِن أَلِفٌ حَرفٌ وَلاَمٌ حَرفٌ وَمِیمٌ حَرفٌ ۔ (سنن الترمذی، کتاب فضائل القرآن ، حدیث نمبر :۲۸۳۵)
جس نے کتاب اللہ (قرآن )سے ایک حرف پڑ ھا اس کیلئے ایک نیکی ہے اور (خلوص نیت کی بدولت) نیکی دس گنا تک بڑ ھا دی جاتی ہے ۔ میں نہیں کہتا کہ الم یہ ایک حرف ہے بلکہ الف الگ حرف، لام الگ اور میم الگ حرف ہے ۔ گویا ان تین حروف کی ادائیگی سے تیس نیکیاں مل سکتی ہیں اور ماہِ اقدس (رمضان) میں تو نیک عمل کے ثواب کو مزید بڑ ھا دیا جاتا ہے جیسا کہ ارشاد اقدس ہے ۔
اَلمَاہِرُ بِالقُرآنَ مَعَ السَّفَرَۃِ الکِرَامِ البَرَرَۃِ وَالَّذِی یَقرَأُ القُرآنَ وَیَتَتَعتَعُ فِیہِ وَہُوَ عَلَیہِ شَاقٌّ لَہُ أَجرَانِ۔ (صحیح مسلم، کتاب المسافرین ، حدیث نمبر :۱۳۲۹)
جو شخص قرآن میں ماہر ہو وہ ان فرشتوں کے ساتھ رہتا ہے جو معزز اور بزرگ ہیں اور (نامہ اعمال یا لوح محفوظ کو ) لکھتے ہیں اور جس شخص کو قرآن پڑ ھنے میں دشواری ہوتی ہے اور اٹک اٹک کر پڑ ھتا ہے اس کو دو اجر ملتے ہیں ۔ یہ سب قرآن کی برکات ہیں کہ اگر کوئی اس کو پڑ ھنے میں اٹکتا ہے تو اس کو دوگنا اجر ملے گا یہ صرف قرآن کا اعجاز ہے دنیا کی کسی دوسری کتاب کایا کسی دوسری آسمانی کتاب کا نہیں ۔
پھر ارشاد ہوا۔یُقاَلُ لِصاَحِبِ القُرآنِ اِقرَأ وَارتَقِ وَرَتِّل کَمَا کُنتَ تُرَتِّلُ فِی الدُّناَ فَإِنَّ مَنزِلَکَ عِندَ آخِرِ آیَۃٍ تَقرَؤُہَا ۔ (سنن ابی داؤد، کتاب الصلاۃ، رقم الحدیث :۱۲۵۲)
روز محشر صاحب قرآن کیلئے کہا جائے گا کہ قرآن پڑ ھو اور جنت کے زینے چڑ ھو اور قرآن کو ترتیل کے ساتھ اس طرح پڑ ھو جس طرح دنیا میں پڑ ھتے تھے پس بیشک تمہاری منزل وہاں ہے جہاں تم قرآن کی آخری آیت پڑ ھ کر ختم کر لو گے ۔
اس حدیث مبارکہ میں جہاں اصحاب قرآن کیلئے بشارت ہے وہاں ان حفاظ وقراء کیلئے سخت وعید بھی ہے جو قرآن کو ترتیل (ٹھہرٹھہر) کے ساتھ نہیں پڑ ھتے ۔ بلکہ نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ کسی کا نام شالیمار ایکسپریس اورکسی کا نام قراقرم ۔ العیاذ باللہ
۲۔ تعلیم وتعلم
اتنی دیر تک قرآن کی تلاوت وقرأت میں کوئی مزہ وچاشنی نہیں جتنی دیر ہمیں یہ معلوم نہیں ہو گا کہ قرآن ہمیں کیا کہہ رہا ہے اس کے معانی ومفاہیم کیا ہے اس کا ترجمہ وتفسیر کیا ہے تب کہیں جا کر قرآن کی تلاوت وقرأت کا اثر ہمارے قلوب واذہان پر ہو گا قرآن میں تفکر وتدبر نہ کرنے والوں کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ﴿أَفَلَا یَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآَنَ أَمْ عَلَی قُلُوبٍ أَقْفَالُہَا ﴾(محمد:۲۴) کیا ان لوگوں نے قرآن پر غوروفکر نہیں کیا یا ان کے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں ۔
اور حقیقت بھی اسی بات میں پنہاں ہے کہ اس وقت تک قرآن میں غوروفکر نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کا ترجمہ، تفسیراور معانی ومفاہیم کا علم نہیں ہوتا اور پھر قرآن کو سیکھنا اور سکھلانا کوئی عام عمل نہیں بلکہ بہت عظیم عمل ہے جیسا کہ ارشاد اقدس ہے ۔
خَیرُکُم مَن تَعَلَّمَ القُرآنَ وَعَلَّمَہُ (صحیح البخاری، کتاب فضائل القرآن ، رقم الحدیث :۴۶۳۹)
تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو قرآن کو سیکھتا اور سکھلاتا ہے ۔
ایک طرف ہم کہتے ہیں کہ بہتر وہ ہے کہ جس کے پاس مال ودولت کی فراوانی ہو ، قوت وطاقت والی جوانی ہو، آسائشوں اور سہولتوں والی زندگانی ہو، کوٹھی، بنگلہ، کار، بیلنس ، جاگیر، جائیداد ، جھوٹی عزت، عہدہ، منصب، طبیعت میں طغیانی ہو اور حکومت کی غلامی ہو یہ ہم کہتے ہیں جبکہ دوسری طرف صاحب قرآن کہتے ہیں کہ سیکھنے اور سکھلانے والا بچپن اور جوانی ہو بلکہ پوری زندگانی ہوکتنا خوش نصیب اور خوش بخت ہے وہ شخص جس پر میرے رب کی خاص مہربانی ہو ، قرآن وفرقان جیسی نشانی ہو ، فرشتوں کی نگہبانی ہو ، ر وزمحشر کامیابی وکامرانی ہو ، جنت کی مہمانی ہو اور میرے رب کی میزبانی ہو، یہ بلند رتبہ ملا جسے ملا۔ ذلک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء
۳۔ عمل
قرأت وتلاوت اور تعلیم وتعلّم کے بعد اس قرآن پہ عمل پیرا ہونا یہ اس کا حق ہے ایک آدمی سریلی آواز میں تلاوت تو کرتا ہے ۔ تعلیم وتعلّم میں ساری زندگی لگادی لیکن قرآن پر عمل نہیں کرتا تو یہ قرآن اس کیلئے باعثِ ثواب نہیں بلکہ باعثِ عذاب وعقاب ہو گا اور روزِ قیامت اس کے حق میں حجت کی بجائے اس کے خلاف حجت قائم کرے گا جیسا کہ ارشاد اقدس ہے ۔
وَالقُرآنُ حُجَّۃٌ لَکَ أَو عَلَیکَ (صحیح مسلم، کتاب الصلاۃ ، رقم الحدیث :۳۲۸) قرآن یا تو تیرے حق میں حجت ہو گا یا تیرے خلاف۔
بات واضح ہے جو قرآن کی بات مانے گا قرآن اس کی سفارش کرے گا اور اپنے رب سے لڑ ائی جھگڑ ا کرے گا۔
سیدنا نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے ارشاد اقدس مروی ہے یُؤتَی بِالقُرآنِ یَومَ القِیَامَۃِ وَأَہلِہِ الَّذِینَ کَانُوا یَعمَلُونَ بِہِ تَقدُمُہُ سُورَۃُ البَقَرَۃِ وَآلُ عِمرَانَ وَضَرَبَ لَہُمَا رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ ثَلاَثَۃَ أَمثَالٍ مَا نَسِیتُہُنَّ بَعدُ قَالَ کَأَنَّہُمَا غَماَمَتَانِ أَو ظُلَّتَانِ سَودَاوَانِ بَینَہُمَا شَرقٌ أَو کَاَنَّہُمَا حِزقَانِ مِن طَیرٍ صَواَفٍّ تُحاَجَّانِ عَن صَاحِبِہِمَا ۔ (صحیح مسلم، کتاب المسافرین ، رقم الحدیث:۱۳۳۸)
قیامت کے دن قرآن اور اس پر عمل کرنے والوں کو لایا جائے گا اس کے آگے سورۃ بقرہ اور آل عمران ہونگیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سورتوں کیلئے تین مثالیں بیان فرمائیں جن کو میں آج تک نہیں بھولا فرمایا وہ ایسی ہیں جیسے جو بادل ہوں یا دوسیاہ سائبان ہوں ، درمیان میں روشنی ہو یا صف باندھے ہوئے دو پرندوں کی قطار ہوں وہ حاملین فرقان اور عاملین قرآن کیلئے لڑ ائی جھگڑ ا اور وکالت کریں گی اورجو نہیں مانے گا اس کیلئے ندامت اور ذلت ورسوائی ہو گی۔
اور شاعر بھی کہتا ہے-
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری
انسانی زندگی مصائب وآلام اور ہموم وغموم کا محور ومرکز ہے زندگی میں نشیب وفراز آتے ہی رہتے ہیں ۔ عربی شاعر بھی کہتا ہے ۔
ثمانیۃ تجری علی المرء دائما
ولا بد أن المرء یلقی ثمانیۃ
سرورو حزن واجتماع وفرقہ
ویسر وعسر ثم سقم وعافیہ
آدمی ہمیشہ آٹھ قسم کے حالات سے دو چار رہتا ہے یہ ناممکن ہے کہ کسی کا ان سے واسطہ نہ پڑ ے تو خوشی اور غمی، ملاپ اور جدائی ، آسانی اور تنگی ، بیماری اور عافیت۔
موجودہ انسان کو امراض وخطرات ، پریشانیوں ، مصیبتوں ، مشکلات نے گھیرا ہوا ہے اس کا قلب، ذہن بے چینی اور بے سکونی کا شکار ہے ۔ قرآن نے ان کا بھی حل بتایا کیونکہ قرآن کا یہ اعجاز ہے کہ اس نے زندگی کے ہر پہلو پر روشنی ڈالی ہے عبادات ہوں یا معاملات ہوں یا اخلاقیات، سیاسیات ہو یا معاشیات۔ الغرض ہر طرف ہماری رہنمائی کی گئی اسی طرح انسان کی جسمانی وروحانی امراض وخطرات کا حل ذکر الٰہی سے ہے خود قرآن نے کہا ﴿أَلَا بِذِکْرِ اللَّہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ ﴾ (الرعد:۲۸) دلوں کو چین ، سکون ، آرام اور سکھ ملتا ہے تو ذکر الٰہی سے ۔ دلوں کی صفائی ہوتی ہے تو ذکر الٰہی سے ، قرآن کی تلاوت وقرأت، تعلیم وتعلّم ، تفکر وتدبر، دعوت وتبلیغ، عمل وتعمیل یہ سب ذکر الٰہی کی بہترین صورتیں ہیں ۔ خود قرآن نے اپنے آپ کوذکر کہا ۔ ارشاد الٰہی ہے ﴿إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَإِنَّا لَہُ لَحَافِظُونَ ﴾ (الحجر:۹) ہم نے ذکر(قرآن) کو نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں ۔ اب جس نے اس ذکر (قرآن) کو تھام لیا دنیا وآخرت کی فوز وفلاح اس کے قدم چومے گی اور جس نے اس سے اعراض کیا ، منہ موڑ لیا چھوڑ دیا وہ رب کے اس ارشاد پر غور کرے ﴿وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِکْرِی فَإِنَّ لَہُ مَعِیشَۃً ضَنْکًا وَنَحْشُرُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَعْمَی ٭قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِی أَعْمَی وَقَدْ کُنْتُ بَصِیرًا ٭ قَالَ کَذَلِکَ أَتَتْکَ آَیَاتُنَا فَنَسِیتَہَا وَکَذَلِکَ الْیَوْمَ تُنْسَی ﴾ (طہ:۱۲۴تا۱۲۶)
جس نے میرے ذکر سے اعراض کیا یقینا اس کی معیشت وزندگی ، روزی تنگ ہوجائے گی اور ہم روزِ محشر اسے اندھا کر کے اٹھائیں گے پھر کہے گا اے میرے رب!تو نے مجھے اندھا کر کے کیوں اٹھایا؟ جبکہ دنیا میں تو میں دیکھا کرتا تھا( وہ آنکھیں تھیں ) فرمایاتیرے ساتھ اسی طرح ہونا چاہیے تھا تیرے پاس ہماری آیات آتی رہیں اور تو ان کو بھلا دیا کرتا تھا اور آج کے دن ہم نے بھی تجھے بھلا دیا۔
قارئین کرام! کس قدر سخت وعید ہے جو لوگ قرآن سے اعراض کرتے ہیں کہ دنیا میں بھی روزی اور زندگی کی تنگی کی صورت میں ذلت ورسوائی اور روزِ آخرت بھی ندامت اور دربارِ الٰہی سے دھتکار۔ اللہم لا تجعلنا منہم الذین أعرضوا عن ذکرک۔
اسلام کی سنہری اور تابندہ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ جن لوگوں نے اس قرآن کو اپنا دستور، منشور، آئین ، اپ۔نا نصب العین، اپنا معیار اور کسوٹی بنایا پھر دنیا ان کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگئی ، بڑ ی بڑ ی حکومتیں اور بادشاہتیں نیست ونابود ہوگئیں ۔ معاشی، سیاسی اور معاشرتی حالات مستحکم اور مضبوط ہو گئے ۔ عزت وعظمت کی بلندیاں ملیں جبکہ دوسری طرف جن لوگوں نے اس کو چھوڑ دیا رحمت خداوندی نے ان کو چھوڑ دیا، ضلالت وگمراہی ان کا مقدر ٹھہری، شکست وریخت سے دوچارہوئے ، دنیامیں پستی اور آخرت میں بدنامی اور بربادی اُن کے حصے میں آئی۔ سچ کہا قرآن نے اور صاحب قرآ۔ ن نے ﴿یُضِلُّ بِہِ کَثِیرًا وَیَہْدِی بِہِ کَثِیرًا﴾ (البقرۃ:۲۶) قومیں اس قرآن سے گمراہ ہوئیں اور اسی قرآن سے ہدایت یافتہ بنیں ۔
إِنَّ اللّٰہَ یَرفَعُ بِہَذَا الکِتاَبِ أَقوَامًا وَیَضَعُ بِہِ آخَرِینَ ۔ (صحیح مسلم، کتاب المسافرین، رقم الحدیث:۱۳۵۳)
یقینا اللہ اس قرآن کے ساتھ قوموں کو بلندیاں عطا کرتا ہے اور اس کے ساتھ قوموں کو پستیاں عطا کرتا ہے ۔
ضرورت اس امر کی ہے آج کے مسلمان قرآن سے وہی محبت اور الفت رکھیں جیسا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے رکھی تھی۔ اس کے ساتھ ویسا ہی ذوق وشوق ہونا چاہیے جیسا اصحاب رسول کا تھا۔ ماہِ مقدس کوغنیمت سمجھ کر اس کتاب مقدس کی آبرو وعزت کی خاطر اپنا تن من دھن قربان کرنے کا عہد کریں تو بلندی، رفعت، عزت، عظمت، نصرت اور مدد آج بھی اتر سکتی جو چودہ سو برس پہلے اترا کرتی تھی ﴿فَإِنْ آَمَنُوا بِمِثْلِ مَا آَمَنْتُمْ بِہِ فَقَدِ اہْتَدَوْا﴾(البقرۃ:۱۳۷)
وہ زمانے میں معزز تھے مسلمان ہوکر
اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآن ہوکر
مکمل مضمون کا مطالعہ کریں>>

خلیفۂ رابع علی المرتضی رضی اللہ عنہ کا علمی مقام و مرتبہ

از ابو عکاشہ عبداللطیف حلیم

ان الحمد للہ نحمدہ ونستعینہ ونستغفرہ ونصلی علی رسولہ الکریم أما بعد فأعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم
﴿وَالَّذِینَ آَمَنُوا وَہَاجَرُوا وَجَاہَدُوا فِی سَبِیلِ اللَّہِ وَالَّذِینَ آَوَوْا وَنَصَرُوا أُولَئِکَ ہُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا لَہُمْ مَغْفِرَۃٌ وَرِزْقٌ کَرِیمٌ ﴾ (سورۃ الأنفال : ۷۴)
محترم قارئین کرام میں نے آپ کے سامنے جو آیت مبارکہ پیش کی ہے اللہ مالک الملک نے اس میں ایمانداروں ، مہاجرین ، مجاہدین اور انصار کا تذکرہ ، انہیں حق مومن قرار دے کر ان کیلئے مغفرت وانتہائی عزت والے رزق کا تذکرہ بڑ ے احسن پیرائے میں کیا ہے ، جس ہستی کا میں تذکرہ کرنا چاہتا ہوں ایمان ہجرت اور جہاد فی سبیل اللہ جیسے عظیم اعمال ان کی سیرت کے درخشندہ پہلوہیں ۔ اور انہی اعمال کی بدولت انہیں زبان نبوت سے جنت کی بشارت کا تزکیہ حاصل ہوا میری مراد خلیفہ رابع داماد رسول علی المرتضیٰ بن ابی طالب قریشی رضی اللہ عنہ ہیں جنہیں دس سال کی عمر میں ایمان کی دولت سے آشنا ہونے کی سعادت حاصل ہوئی جنہیں لسان نبوی سے اَنتَ مِنِّی وَاَنَا مِنکَ (بخاری ) کا اعزاز حاصل ہے ۔

اگر میں ان کی سیرت کے پہلو کو اجاگر کرنا چا ہوں تو صفحات اس کی اجازت نہیں دیتے ۔ میں تو ان کی حیات طیبہ کے گلستان سے اس پھول کی خوشبو سے آپ کو معطر کرنا چاہتا ہوں جس کا نام علم ہے کہ اللہ رب العزت نے انہیں اس دولت سے کیسے سرفراز کیا کہ جس کے متعلق خاتم الانبیاء والمرسلین نبی معظم ا نے ارشاد فرمایا : مَن یُّرِدِ اللّٰہُ بِہِ خَیراً یُفَقِّہُ فِی الدِّینِ ، کہ جس پر اللہ ذوالجلال والا کرام اپنی خاص مہربانیوں کی فروانی کرتا ہے اسے دین حنیف کی سمجھ عطا کر دیتا ہے ۔
تقرب رسول ﷺ کا درجہ
جنہیں براہ راست کا شانہ نبوت سے علمی پیاس بجھانے کا موقع میسر آیا اور بالخصوص قرآن مجید کی تفہیم وتفسیر انہوں نے زبان نبوت سے سماعت کی سیدنا علی رضی اللہ عنہ خود فرماتے ہیں کہ میں روزانہ صبح کو معمولا آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا (مسند احمد) اور تقرب کا درجہ میرے سوا کسی کو حاصل نہ تھا ایک روایت میں ہے کہ رات دن میں دوبار اس قسم کا موقع ملتا تھا۔ اکثر سفر میں آپ اہی کی رفاقت کا موقع میسر آتا تھا آپ اکے تقرب واختصاص کی بنا پر رسول اللہ ا آپ صکو قرآن مجید کی تعلیم دیتے تھے ۔ بعض مواقع پر قرآن مجید کی آیتوں کی تفسیر بھی فرماتے تھے ۔ غرض سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ابتدا ہی سے علم وفضل کے گہوارے میں تربیت پائی تھی۔
کاتب وحی تھے
نوشت وخواند کی تعلیم آپ نے بچپن سے ہی حاصل کی تھی۔ اسلام کے ظہور کے وقت آپ لکھنا پڑ ھنا جانتے تھے کاتبان وحی میں آپ کا بھی نام ہے حدیبیہ کے موقع پر صلح نامہ لکھنے کے فرائض آپ ص نے سرانجام دیئے ۔
اسلام کے علوم ومعارف کا اصل سرچشمہ قرآن مجید ہے علی رضی اللہ عنہ اس سرچشمہ سے پوری طرح سیراب اور ان صحابہ کرام ثمیں سے تھے جنہوں نے نبی ا کرم اکی حیات طیبہ میں نہ کہ صرف پورا قرآن یاد کر لیا تھا بلکہ اس کی ایک ایک آیت اور شان نزول سے واقف تھے ۔ خود علی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں ہر آیت کے متعلق بتا سکتا ہوں کہ یہ کہاں اور کیوں اور کس کے حق میں نازل ہوئی ہے ۔ (طبقات ابن سعد )
علی رضی اللہ عنہ مفسر قرآن تھے
چنانچہ علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا شمار مفسرین کے اعلیٰ طبقہ میں ہے ۔ صحابہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے سوا اس کمال درجہ میں آپ کا کوئی شریک نہیں ہے ۔ ان تمام تفسیروں میں فن کا دارومدار روایتوں پر ہے مثلاً : ابن جریر طبری ، ابن ابی حاتم ، ابن کثیر وغیرہ میں آپ کی روایت سے آیات کی تفسیریں کثرت سے منقول ہیں ۔ابن سعد کے مطابق آپ نے وفات النبی ا کے چھ ماہ بعد تک جو گوشہ نشینی اختیار کئے رکھی اس میں آپ نے قرآن حکیم کی تمام سورتوں کو نزول کی ترتیب سے مرتب کیا تھا۔
اجتہاد میں ید طولیٰ
قرآن مجید سے اجتہاد اور مسائل کے استنباط میں سیدنا علی صکو یدطولیٰ حاصل تھا چنانچہ تحکیم کے مسئلہ میں خوارج نے اعتراض کیا کہ فیصلے کا حق اللہ کے سوا کسی کو حاصل نہیں ﴿اِنِ الحُکمُ اِلاَّ لِلّٰہِ ﴾ تو آپ نے قرآن کے تمام حفاظ کو جمع کر کے فرمایا کہ میاں بیوی میں جب اختلاف رائے ہوتو اللہ تعالیٰ نے حکم بنانے کی اجازت دی ہے ۔ ﴿وَاِن خِفتُم شِقَاقَ بَینِہُمَا فَابعَثُوا حَکَماً مِن اَہلِہِ وَحَکَماً مِن اَہلِہَا ﴾ اور امت محمدیہ ﷺ میں اختلاف رائے ہوجائے تو حکم بنانا ناجائز ہے ؟ کیا تما م امت محمدیہ ﷺ کی حیثیت ایک مرد اور ایک عورت سے بھی اللہ کی نگاہ میں کم ہے ۔ (مسند احمد)
علی المرتضیٰ ص قرآن کی اس آیت ﴿وَفِصَالُہُ فِی عَامَینِ ﴾ اور ﴿وَالْوَالِدَاتُ یُرْضِعْنَ أَوْلَادَہُنَّ حَوْلَیْنِ کَامِلَیْنِ ﴾ سے یہ استدلال کرتے تھے کہ حمل کی کم از کم مدت چھ ماہ ہو سکتی ہے ۔ (ابن کثیر )
خلافت عثمانیہ رضی اللہ عنہ میں ایک شخص نے عدالت عثمان غنی رضی اللہ عنہ میں یہ دعویٰ دائر کر دیا کہ میری بیوی نے چھ ماہ کی تکمیل پر بچہ جنم دیا ہے اس کا فیصلہ کریں ۔ عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اس عورت کو طلب کیا جب وہ عورت اپنے گھر سے چلنے لگی تو اس کی بہن نے رونا شروع کر دیا تو اس صالح خاتون نے کہا : وَمَا یُبکِیکِ ؟ فَوَ اللّٰہِ مَا اِلتَبَسَ بِی اَحَدٌ مِن خَلقِ اللّٰہِ تَعَالیٰ وَغَیرُہُ قَطٌّ فَیُقضِیَ اللّٰہُ سُبحَانَہُ وَتَعَالیٰ فَیَّ مَا شَاء
اے میری بہن مت رو اللہ سبحانہ وتعالیٰ میرے حق میں جو چاہے فیصلہ کرے گا اس لئے کہ اللہ کی قسم آج تک میرے خاوند کے علاوہ مجھے کسی نے چھوا تک نہیں ۔ وہ عورت عدالت عثمانی رضی اللہ عنہ میں حاضر ہوئی۔ تو عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اس عورت کے رجم کا حکم صادر فرمایا۔ علی رضی اللہ عنہ کو علم ہوا تو عرض کیا اے عثمان رضی اللہ عنہ آپ نے یہ فیصلہ کیسے کیا ؟ فرمایا اس لئے کہ اس نے چھ ماہ کی مدت میں بچہ جنم دیا ہے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اَمَا تَقرَأُ القُرآنَ ؟ قَالَ بَلیٰ اے عثمان رضی اللہ عنہ کیا آپ نے قرآن پڑ ھا ہے ؟ فرمایا قرآن تو پڑ ھا ہے فرمایا کیا آپ نے اللہ عزوجل کا یہ فرمان پڑ ھا ہے ۔
﴿ حَملُہُ وَفِصَالُہُ ثَلاَثُونَ شَہراً ﴾
جب ہم دودھ پینے کی مدت دوسال شمار کریں تو تیس مہینوں سے بقیہ چھ ماہ رہ جاتے ہیں ۔ عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اعتراف حق کرتے ہوئے اور اجتہاد علی رضی اللہ عنہ کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہوئے فرمایا وَاللّٰہِ مَا فُطِنتُ بِہَذَا علی ص اللہ کی قسم جو فیصلہ تم نے کیا ہے عثمان رضی اللہ عنہ کے دل پر اس کا خیال تک نہیں گزرا، پھر جب اس عورت کے اس بیٹے کا ملاحظہ کیا گیا تو بعجہ بن عبد اللہ جہنی کہتے ہیں کہ : فَوَ اللّٰہِ مَالغُرَابُ بِالغُرَابِ وَالبَیضَۃُ بِالبَیضَۃِ بِاَشبَہُ مِنہُ بِاَبِیہِ
اللہ کی قسم کوا کوے سے اور انڈا انڈے سے بھی اتنی مشابہت نہیں رکھتا جتنی اس بچے کی تشبیہ اپنے باپ سے تھی ۔ (ابن کثیر)
علم ناسخ ومنسوخ کے ماہر تھے
علم ناسخ ومنسوخ میں آپ کو کمال حاصل تھا اور اس کو آپ بڑ ی اہمیت دیتے تھے اور جن لوگوں کو اس میں درک نہ ہوتا ان کو درس و وعظ سے روک دیتے تھے ۔ کوفہ کی جامع مسجد میں اگر کوئی وعظ کرنا چاہتا اس سے پوچھتے کہ تمہیں ناسخ ومنسوخ کا علم ہے اگروہ نفی میں جواب دیتا تو زجروتوبیخ کرتے اور اسے درس و وعظ کی اجازت نہیں دیتے تھے ۔
بعض لوگوں کا یہ نظریہ تھا کہ رسول معظم ا نے علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو ان ظاہری علوم کے علاوہ کچھ خاص باتیں اور بھی بتائیں ہیں ۔ ان کے شاگرد نے ان سے پوچھا ہَل عِندَکُم شَیئٌ مَالَیسَ فِی القُرآنِ؟
کہ کیا قرآن مجید کے سوا بھی آپ کے پاس کوئی علم ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا: وَالَّذِی فَلَقَ الحَبَّ وَبَدَائَ النَّسَمَۃَ مَا عِندَنَا اِلاَّ مَافِی القُرآنِ اِلاَّ فَہماً یُعطیٰ الرَّجُلُ فِی کِتَابِہِ
اس ذات کی قسم جودانے کو پھاڑ کر اس سے انگوری اگاتا ہے ہمارے پاس قرآن کے سوا کچھ نہیں یا پھر وہ فہم اور سمجھنے کی قوت جو اللہ تعالیٰ کسی کو عطا کر دے ۔ (صحیح بخاری )
جناب مرتضیٰ ص نے بچپن سے لے کر وفات النبوی ا تک کامل تیس سال تک رفاقت نبوی ا میں بسر کئے ۔ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد اسلام کے احکام وفرائض اور ارشادات نبوی ا کے سب سے بڑ ے عالم آپ ہی تھے ۔ آپ ص سے کل ۱۵۸۶ احادیث مروی ہیں جن میں سے ۲۰ متفق علیہ ہیں اور ۹ احادیث صرف صحیح بخاری اور ۱۰ صحیح مسلم میں ہیں ۔
فہم قرآن کے سلسلہ میں جو احادیث پہلے بیان ہوئی ہیں اس میں ایک صحیفے کا بھی ذکر ہے ۔یہ وہ احادیث تھیں جنہیں سیدنا علی ص نے رسول اللہا کی زبان اقدس سے سماعت کر کے کتابت حدیث اور حفاظت حدیث کا اہم پہلو سرانجام دیا۔
فقہ واجتہاد کیلئے کتاب وسنت کے علم کے ساتھ سرعت فہم ، دقیق ذہن شناسی کی بڑ ی ضرورت ہے ۔ علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو فقہ واجتہاد میں بھی کامل دسترس حاصل تھی بڑ ے بڑ ے صحابہ یہاں تک کہ مرادِ رسول سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور عائشہ رضی اللہ عنہا کو کبھی کبھی علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے فضل وکمال کا ممنون ہونا پڑ تا تھا مشکل سے مشکل اور پیچیدہ سے پیچیدہ مسائل کی تہہ تک آپ صکی نکتہ رس نگاہ آسانی سے پہنچ جاتی تھی۔
ایک مرتبہ خلیفہ ثانی عمر ص کے سامنے ایک مجنون زانیہ پیش کی گئی سیدناعمر ص نے اس پر حد جاری کرنے کا ارادہ کیا ۔علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ ممکن نہیں کیونکہ مجنون حدود شرعی سے مستثنیٰ ہیں ، یہ سن کرسیدناعمر ص اپنے ارادے سے توقف اختیار کر لیا ۔ (مسند احمد)
ایک دفعہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کسی نے یہ مسئلہ پوچھا کہ ایک بارپاؤں دھونے کے بعد کتنے دن تک موزوں پر مسح کرسکتے ہیں ؟ فرمایا : علی رضی اللہ عنہ سے جا کر دریافت کرو ان کو معلوم ہو گا کیونکہ وہ سفر میں رسول مکرم ﷺ کے ساتھ رہا کرتے تھے ، چنانچہ وہ سائل خلیفہ رابع سیدناعلی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا انہوں نے بتایا کہ مسافرتین دن اور تین رات تک اور مقیم ایک دن اور ایک رات تک موزوں پر مسح کرسکتا ہے ۔ (مسند احمد)
سیدناعلی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ فیصلوں اور قضا کیلئے نہایت تجربہ رکھتے تھے اور اس کو عام طور پر صحابہ تسلیم کرتے تھے سیدناعمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے اقضانا علی
واقرا نا ابی، یعنی مقدمات کے فیصلوں کیلئے سب سے موزوں علی صاور سب سے بڑ ے قاری أُبَی ص ہیں ۔ (طبقات ابن سعد)
سیدناعبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم کہا کرتے تھے مدینہ والوں میں سب سے زیادہ صحیح فیصلہ کرنے والے علی ہیں ۔ (مستدرک حاکم)
نبی معظم ا کی جوہر شناس نگاہ نے سیدناعلی رضی اللہ عنہ کی اس ستعداد وقابلیت کا پہلے ہی اندازہ کر لیا تھا اور ضرورت کے تحت قضا کی خدمت آپ کے سپرد فرماتے تھے ۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور عہدہ قضا
چنانچہ جب اہل یمن نے اسلام قبول کیا تو رسول مکرم ا نے وہاں کے عہدہ قضا کیلئے آپ کو منتخب فرمایا عرض کیا یا رسول اللہ اوہاں نئے نئے مقدمات پیش ہوں گے قضا کا تجربہ اور علم نہیں فرمایا اللہ تعالیٰ تمہارے دل کو ثبات اور استقلال بخشے گا اور تمہاری زبان راہ راست پر رکھے گا ۔ علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : کہ اس کے بعد مقدمات کے فیصلے میں تذبذب نہ ہوا۔ (مسند احمد)
رسول اللہ ا نے آپ کو قضا اور فصل مقدمات کے بعض اصول سکھلائے چنانچہ ایک مرتبہ فرمایا علی! جب تم دو آدمیوں کا جھگڑ ا چکانے لگو تو صرف ایک آدمی کا بیان سن کرفیصلہ نہ کرو اس وقت تک اپنے فیصلے کو روکو جب تک دوسرے کا بیان بھی نہ سن لو۔ (مسند احمد)
کبھی کوئی لغو مقدمہ پیش ہوتا تو زندہ دلی کا ثبوت بھی دیتے تھے ایک شخص نے ایک شخص کو عدالت میں پیش کیا اور کہا کہ اس نے میری ماں کی خواب میں آبروریزی کی ہے فرمایا ملزم کو لے جا کر دھوپ میں کھڑ ا کرو اور اس کے سایہ کو سو کوڑ ے مارو۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
آپ کے فیصلے قانون کے نظائر کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ اس لئے اہل علم نے ان کو تحریری صورت میں مدون کر لیا تھا مگر اس میں تحریف بھی ہوئی چنانچہ سیدناعبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے سامنے جب ان کے فیصلوں کا تحریری مجموعہ پیش ہوا تو اس میں سے ایک حصہ انہوں نے جعلی بتلایا اور فرمایا کہ عقل وہوش کی سلامتی کے ساتھ کبھی ایسا فیصلہ نہیں کرسکتے تھے ۔ (مقدمہ صحیح مسلم)
علم نحو کی بنیاد خاص سیدناعلی رضی اللہ عنہ کے دست مبارک سے رکھی گئی ہے ایک شخص سے قرآن کو غلط پڑ ھتے ہوئے سنا اس سے خیال پیدا ہوا کہ کوئی ایسا قاعدہ بنا دیا جائے جس سے اعراب میں غلطی واقع نہ ہو سکے ۔ چنانچہ ابو الاسود دؤلی کو چند قواعد کلیہ بتا کر اس فن کی تدوین پر مامور کیا۔ (فہرست ابن ندیم)
گویا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا علمی مقام تاریخ اسلامی کا سنہری باب ہے جس کا اعتراف ہر مسلم اور مومن کے ایمان کا حصہ ہے ۔
مکمل مضمون کا مطالعہ کریں>>

رسالۃ فی احکام قیام اللیل

فضیلۃ الشیخ سلیمان بن ناصر العلوان
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ خص اللہ بعض عبادہ بخیر عظیم وعمل کبیر، وفتح لہم من أبواب الخیر والطاعۃ ما زکت بہ قلوبہم وعزّت نفوسہم واستنارت صدورہم وطابت حیاتہم وأنسہم ونعیمہم . وبصّرہم بطریق الحق ویسّر لہم أسباب السعادۃ ومنّ علیہم بلذۃ العبادۃ ومناجاۃ اللہ فی أسحارہم وخلواتہم .
المسألۃ الأولی : اعلم أن الأفضل فی صلاۃ اللیل الثلث الأخیر لأنہ وقت نزول الرب جل وعلا ، والحدیث فی الصحیحین من حدیث أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ.
وجاء فی صحیح الإمام مسلم من طریق حفص وأبی معاویۃ عن الأعمش عن أبی سفیان عن جابر قال : قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : ( من خاف أن لا یقوم آخر اللیل فلیوتر أولہ ، ومن طمع أن یقوم آخرہ فلیوتر آخر اللیل فإن صلاۃ آخر باللیل مشہودۃ وذلک أفضل وقال أبو معاویۃ محضورۃ .

ومن قام أول اللیل أو أوسطہ فلا مانع من ذلک وفی کل خیر غیرَ أن آخر اللیل أفضل لأنہ الأمر الذی استقر علیہ فعل النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقد جاء فی الصحیحین وغیرہما من طریق مسلم عن مسروق عن عائشۃ قالت :( من کل اللیل قد أوتر رسول اللہ فانتہی وترہ إلی السحر ) وفی روایۃ لمسلم من طریق یحی بن وثّاب عن مسروق عن عائشۃ قالت : ( من کل اللیل قد أوتر رسول اللہ من أول اللیل وأوسطہ وآخرہ فانتہی وترہ إلی السحر ) وذہب أکثر أہل العلم إلی أن الوتر من بعد صلاۃ العشاء ، سواء جمعت جمع تقدیم مع المغرب ، أو أخرت إلی منتصف اللیل ، وأما قبل صلاۃ العشاء فلا یصح نقل ابن عبد البر فی الاستذکار ( 5 ! 287 ) . والقرطبی فی المفہم ( 2 ! 382 ) . الاتفاق علی ہذا وفیہ نظر فقد ذکر فقہاء الأحناف أنہ یؤدی فی وقت العشائ. وانظر البنایۃ ( 2 ! 575 ) علی الراجح.
وقد جاء فی مسند الإمام أحمد من طریق ابن ہبیرۃ عن أبی تمیم الجیشانی رضی اللہ عنہ أن عمرو بن العاص خطب الناس یوم جمعۃ فقال إن أبا بصرۃ حدثنی أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال : ( إن اللہ زادکم صلاۃ ، وہی الوتر ، فصلوہا فیما بین صلاۃ العشاء إلی صلاۃ الفجر) إسنادہ صحیح . وقال عنہ ابن رجب فی فتح الباری 9/ 146 إسنادہ جید .
ومن نام عن وترہ أو نسیہ ، فلہ صلاتہ بعد طلوع الفجر ، قبل صلاۃ الصبح . فقد روی أبو داود بسند قوی والحاکم (1 ! 302 ) وقال صحیح علی شرط الشیخین من طریق محمد بن مطرف المدنی عن زید بن أسلم عن عطاء بن یسار عن أبی سعید الخدری قال : قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : ( من نام عن وترہ أو نسیہ فلیصلہ إذا ذکرہ ) .
وہذا القول مروی عن جماعۃ من الصحابۃ والتابعین ، وہو قول الإمام مالک ، وقول للشافعی وأحمد انظر الاستذکار ( 5 ! 288 ) . وعون المعبود ( 4 ! 309 ) . وشرح مسلم للنو وی ( 6 ! 24 ) . والمبدع فی شرح المقنع ( 2 ! 4 ) . رحمہم اللہ تعالی.
وأما إذا فاتہ الوتر حتی طلعت علیہ الشمس فقد قال بعض أہل العلم : یقضیہ شفعاً . واستدلوا بما رواہ مسلم فی صحیحہ ( 746 ) من طریق قتادۃ عن زرارۃ عن سعد بن ہشام عن عائشۃ رضی اللہ عنہا قالت : کان رسول اللہ إذا غلبہ النوم أو وجع عن قیام اللیل صلی من النہار ثنتی عشرۃ رکعۃ ) .
والقول الثانی فی المسألۃ : أنہ یقضیہ وتراً قالہ طاو وس ومجاہد والشعبی وغیرہم ، وحجتہم فی ذلک حدیث أبی سعید ، وقد سبق ذکرہ ، ولفظہ (من نام عن وترہ أو نسیہ فلیصلہ إذا ذکرہ) فہذا الخبر یدل علی مشروعیۃ قضاء الوتر بعد طلوع الشمس لعموم قولہ صلی اللہ علیہ وسلم : ( إذا ذکرہ ) وقد قال الأوزاعی : ( یقضیہ نہاراً وباللیل مالم یدخل وقت الوتر بصلاۃ العشاء الآخرۃ ، ولا یقضیہ بعد ذلک لئلا یجتمع وتران فی لیلۃ فتح الباری لابن رجب ( 9 ! 160 ) وانظر الأوسط لابن المنذر ( 5 ! 194 ) وأما خبر عائشۃ السابق فقد قیل لیس فیہ نفی الوتر ، فلعلہ أوتر أول اللیل مقتصراً علی أقل العدد لغلبۃ النوم أو الوجع ، فلما أصبح صلی قیام اللیل . وفی ہذا التوجیہ نظر . ویبعد حمل حدیث عائشۃ علی أنہ أوتر أول اللیل فإن ہذا الأمر لو حدث لبینت ذلک عائشۃ فإن ہذا الحکم من الأہمیۃ بمکان .
والظاہر أنہ صلی اللہ علیہ وسلم لم یوتر وقول عائشۃ رضی اللہ عنہا ( صلی من النہار ثنتی عشرۃ رکعۃ یدل علی ذلک فإنہ لو أوتر أول اللیل لصلی من النہار عشر رکعات فقد قالت عائشۃ رضی اللہ عنہا ما کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یزید فی رمضان ولا فی غیرہ علی إحدی عشرۃ رکعۃ ( متفق علیہ )
ویجاب عن حدیث أبی سعید بأنہ لم یقل بعمومہ أحد من الصحابۃ والمنقول عن بعضہم الوتر بعد طلوع الفجر قبل صلاۃ الصبح فیحمل الحدیث علی قضاء الوتر فی ہذا الوقت فإنہ لا تعارض بین قولہ صلی اللہ علیہ وسلم وفعلہ واللہ أعلم.
وأما من ترک الوتر متعمداً حتی طلع الفجر ، فالحق أنہ قد فاتہ ، ولیس لہ حق القضاء . ففی حدیث أبی سعید وقد تقدم تقییدُ الأمر بالقضاء فیمن نام عن وترہ أو نسیہ ، فدل مفہوم الخبر أن العامد بخلاف ذلک . وقد روی ابن خزیمۃ فی صحیحہ ( 1092 ) من طریق أبی داود الطیالسی عن ہشام الدستوائی عن قتادۃ عن أبی نضرۃ عن أبی سعید أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال ( من أدرکہ الصبح ولم یوتر فلا وتر لہ ) وأصل الحدیث فی صحیح مسلم ( 754) بدون ہذا اللفظ وہو محمول علی التعمد دون النوم والنسیان فی أصح أقاویل أہل العلم واللہ أعلم .
المسألۃ الثانیۃ - فی عدد رکعات قیام اللیل
ثبتت السنۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم من غیر وجہ أنہ لا یزید فی قیام اللیل لا فی رمضان ولا فی غیرہ علی إحدی عشرۃ رکعۃ .
فقد جاء فی الصحیحین وغیرہما من طریق مالک عن سعید بن أبی سعید المقبری عن أبی سلمۃ بن عبد الرحمن أنہ أخبرہ أنہ سأل عائشۃ رضی اللہ عنہا کیف کانت صلاۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ؟ فقالت : ( ما کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یزید فی رمضان ولا فی غیرہ علی إحدی عشرۃ رکعۃ ، یصلی أربعاً فلا تسأل عن حسنہن وطولہن ثم یصلی ثلاثاً..... ) البخاری ( 1147 ) ومسلم 738 .
قال ابن عبد البر رحمہ اللہ (وأکثر الآثار علی أن صلاتہ کانت إحدی عشرۃ رکعۃ )الاستذکار ( 5 ! 236 ). وروی مالک فی الموطأ بسند صحیح عن محمد بن یوسف عن السائب بن یزید أنہ قال: أمر عمر بن الخطاب أبی بن کعب وتمیماً الداری أن یقوما للناس بإحدی عشرۃ رکعۃ....) الموطأ بشرح الزرقانی 1 ! 238
وما جاء أن الناس کانوا یقومون فی زمان عمر بن الخطاب فی رمضان بثلاث وعشرین رکعۃ. فلا یصح . رواہ مالک الموطأ بشرح الزرقانی ( 1 ! 239 ) . وغیرہ بسند منقطع .
وجاء عند عبد الرزاق المصنف ( 4 ! 260 - ) عن داود بن قیس وغیرہ عن محمد بن یوسف عن السائب بن یزید أن عمر جمع الناس فی رمضان علی أبی بن کعب وعلی تمیم الداری علی إحدی وعشرین رکعۃ ..... .
وہذا الخبر غیر محفوظ وروایۃ مالک عن محمد بن یوسف بإحدی عشرۃ رکعۃ أصح من روایۃ داود ، وأہل العلم بالحدیث یقدمون مثل مالک علی من دونہ بالحفظ فتقرر بہذا أن السنۃ عدم الزیادۃ علی إحدی عشرۃ رکعۃ ، لأن ہذا فعل النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، الذی داوم علیہ ولم یذکر عنہ خلافہ وعلیہ جری العمل فی خلافۃ أمیر المؤمنین عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ و وافقہ علیہ الصحابۃ ولم یأت عن أحد منہم شیء صحیح یخالف ہذا وغایۃ ما یحتج بہ القائلون بسنیۃ ثلاث وعشرین رکعۃ عمومات صحّ تقییدہا ، واجتماع الناس فی عہد عمر علی ذلک وہذا لا یصح والمحفوظ أنّہ جمعہم علی إحدی عشرۃ رکعۃ وقد تقدم علی أن ترجیح ہذا القول لا یجعل القول الآخر بدعۃ أو ضلالۃ فالمسألۃ اجتہادیۃ والخلاف فیہا محفوظ .
وقد قال أکثر أہل العلم بالزیادۃ ورأوا أن من صلی عشرین رکعۃ أو ثلاثاً وعشرین أو أکثر أنہ مصیب ومأجور.
وذکر الإمام ابن عبد البر رحمہ اللہ إجماع العلماء علی ہذا فقال ( وقد أجمع العلماء علی أن لاحدّ ولاشیء مقدراً فی صلاۃ اللیل وأنہا نافلۃ فمن شاء أطال فیہا القیام وقلت رکعاتہ ومن شاء أکثر الرکوع والسجود ) الاستذکار ( 5 ! 244 .
غیر أن البحث عن الراجح والعمل بالأفضل مطلب من مطالب الشریعۃ ، وقد بینت السنۃ بفعل النبی صلی اللہ علیہ وسلم الذی داوم علیہ حتی فارق الحیاۃ وجری علیہ عمل أصحابہ من بعدہ أن قیام اللیل إحدی عشرۃ رکعۃ فی رمضان وغیرہ . ولم یصح عن أحد منہم التفریق فی رمضان بین أول الشہر وآخرہ علی عادۃ الناس الیوم بل کانوا یقومون بہذا العدد طِوال حیاتہم ویجتہدون فی العشر الأواخر فی الکیفیۃ دون الکمیۃ ، فیطیلون القیام والرکوع والسجود متلذذین بتدبر القرآن فہو حیاۃ قلوبہم ومتنعمین بالوقوف بین یدی رب العالمین، ولم تکن ہمۃ أحدہم مصروفۃ إلی ہَذّ القراء ۃ ابتغاء بدعۃ یؤدونہا آخر الشہر وقد کتبت فی ذلک رسالۃ تحمل عنوان البیان فی حکم دعاء ختم القرآن أوضحت فی ثنایاہا عدم مشروعیۃ دعاء الختمۃ داخل الصلاۃ وأنہ لم یثبت بذلک خبر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم ولا عن أحد من الصحابۃ وأن القول بہ ہتک لسیاج قاعدۃ التوقیف فی العبادات وبالتالی خرق للإجماع قال الإمام مالک رحمہ اللہ ما سمعتُ أنہ یدعو عند ختم القرآن وما ہو من عمل الناس المعیار المعرب ( 11 ! 114 ) والمدخل لابن الحاج ( 2 ! 299 ) وقد تقرر فی قواعد أہل العلم أن ما وجد سببہ ومقتضاہ فی عہد الرسول صلی اللہ علیہ وسلم وعصر صحابتہ ولم یقع منہم فعل لذلک مع عدم المانع من فعلہ ففعلہ بدعۃ .
أو تکثیر عدد الرکعات والإخلال بالطمأنینۃ بحیث لا یمکن للمأموم متابعۃ إمامہ إلا بمشقۃ وعناء نسأل اللہ العافیۃ .
المسألۃ الثالثۃ : فی کیفیۃ صلاۃ اللیل
ذہب الإمام مالک الاستذکار ( 5 ! 237 249 255 ) . والشافعی المجموع ( 4 ! 49 51 ) . وأحمد مسائل الإمام أحمد ( 2 ! 296 ) روایۃ ابنہ عبد اللہ ومسائل أبی داودص 72 .
وطائفۃ من السلف إلی أن صلاۃ اللیل مثنی مثنی إلاّ رکعۃ الوتر ، علی خلاف بینہم ہل ہذا علی الوجوب أم علی الاستحباب . وحجتہم فی ہذا ما جاء فی الصحیحین وغیرہما من طریق مالک عن نافع وعبد اللہ بن دینار عن ابن عمر أن رجلاً سأل النبی صلی اللہ علیہ وسلم عن صلاۃ اللیل فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : ( صلاۃ اللیل مثنی مثنی فإذا خشی أحدکم الصبح صلی رکعۃ واحدۃ توتر لہ ما قد صلی ) وقولہ : ( مثنی مثنی ) معدول عن اثنین اثنین ، والمراد أن تسلم فی کل رکعتین قیل وجوباً وقیل استحباباً . قال فی المبدع: فإن زاد علی ذلک فاختار ابن شہاب والمؤلف أنہ لا یصح ، قال أحمد فیمن قام فی التراویح إلی ثالثۃ : یرجع وإن قرأ ، لأن علیہ تسلیماً ، ولابد . للخبر . وعنہ یصح مع الکراہۃ . ذکرہ جماعۃ ، وہو المشہور، سواء علم العدد أو نسیہ ) وعنہ لا یکرہ الإنصاف ( 2 ! 187 .
وہو مذہب أبی حنیفۃ قال رحمہ اللہ فی صلاۃ اللیل ( إن شئت رکعتین وإن شئت أربعاً وإن شئت ستاً وثمانیاً لا تسلم إلا فی آخرہن ) البنایۃ فی شرح الہدایۃ ( 2 ! 613 ) . وانظر الاستذکار ( 5 ! 237 ) والأفضل فی مذہبہ صلاۃ أربع بسلام واحد لخبر عائشۃ فی الصحیحین حین سألہا أبو سلمۃ بن عبدالرحمن عن کیفیۃ صلاۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی اللیل قالت : یصلی أربعاً فلا تسأل عن حسنہن وطولہن ثم یصلی أربعاً فلا تسأل عن حسنہن وطولہن ثم یصلی ثلاثاً ) .
وہذا الحدیث مجمل لیس فیہ التصریح بصلاۃ أربع بسلام واحد والاحتمال فیہ وارد وإن کنت استظہر فیہ الأربع بسلام واحد جریاً علی الأخذ بالظاہر حتی یرد لفظ صریح یخرجہ عن ذلک . وحدیث ابن عمر صلاۃ اللیل مثنی مثنی لا یدل علی وجوب التسلیم فی کل رکعتین ولفظہ لا یساعد علی ذلک فیحمل علی الاستحباب وأنہ الأکثر استعمالاً. وغیرہ من الأحادیث تحمل علی السنیۃ فی بعض الأحیان ، والعبادات الواردۃ علی وجوہ متنوعۃ یعمل بہا کلہا وہذا أفضل من المداومۃ علی نوع وہجر غیرہ فإن ہدی النبی صلی اللہ علیہ وسلم عمل الأمرین علی أن المداومۃ علی نوع مراعاۃ للمصلحۃ ودرء اً للمفسدۃ قد تکون أفضل فی وقت دون آخر کما أن المفضول یکون فاضلاً وہذا أمر عام فی کل العبادات الواردۃ علی ہذا الوجہ والقول الجامع فیہا مراعاۃ المصالح وہذا یختلف باختلاف الأحوال والبلاد والأشخاص واللہ أعلم .
وہل یتشہد فی الرکعتین أم یصلی الأربع بتشہد واحد ، لا أ علم فی ذلک دلیلاً والأظہر فیہا التخییر . إن شاء صلی أربعاً بتشہد واحد ، وإن شاء تشہد تشہدین ، ولا یسلم إلاّ فی آخرہن.
وأما الوتر فلہ أن یوتر برکعۃ . لحدیث ابن عمر السابق ( فإذا خشی أحدکم الصبح صلی رکعۃ واحدۃ ) متفق علیہ. وعند مسلم من طریق شعبۃ عن قتادۃ عن أبی مجلز قال : سمعت ابن عمر یحدث عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال : ( الوتر رکعۃ من آخراللیل ) وإن صلی قبلہا شفعاً فہذا أفضل .
ولہ أیضاً الوتر بثلاث وخمس وسبع وتسع إلاّ أنہ إذا أوتر بثلاث لا یتشہد تشہدین ، بل یقتصر علی التشہد فی آخر الصلاۃ . والسنۃ أیضاً لمن صلی تسع رکعات أن لا یجلس فیہا إلاّ فی الثامنۃ فیجلس ویذکر اللہ ویحمدہ ویدعوہ ثم ینہض بدون سلام ثم یصلی التاسعۃ ثم یسلم ، والحدیث فی صحیح مسلم مسلم بشرح النو وی( 6 ! 27 ) من حدیث عائشۃ وجاء فی ہذا الحدیث أن النبی ﷺ صلی رکعتین بعدما سلم وہوقاعد.
والتنویع فی ہذہ الصیغ أفضل محافظۃ علی السنۃ واتباعاً للنصوص الواردۃ فی ہذا الباب .
والکل سنۃ بما فی ذلک قیام اللیل والوتر إلاّ أنہ سنۃ متأکدۃ ، کما ہو قول جماہیر العلماء من الصحابۃ والتابعین . وہو قول مالک والشافعی وأحمد ، والأخبار فی ہذا متکاثرۃ .
وذہب أبو حنیفۃ رحمہ اللہ إلی وجوبہ البنایۃ فی شرح الہدایۃ . ( 2 ! 565 ) . حاشیۃ رد المختار ( 2 ! 3 ، 4 ) . وقال غیرہ : واجب علی أہل القرآن . والراجح قول الجمہور ، وأنہ سنۃ علی عامۃ المسلمین .
وقد روی أبو داود فی سننہ من طریق زید بن أسلم عن عطاء بن یسار عن عبداللہ بن الصُنابِحِیّ قال : زعم أبو محمد أن الوتر واجب . فقال عبادۃ بن الصامت : کذب أبو محمد . أشہد أنی سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول : ( خمس صلوات افترضہن اللہ عز وجل من أحسن وضوء ہن وصلاہن لوقتہن وأتم رکوعہن وخشوعہن کان لہ علی اللہ عہد أن یغفر لہ ، ومن لم یفعل فلیس لہ علی اللہ عہد إن شاء غفر لہ وإن شاء عذبہ ) سنن أبی داود مع عون المعبود( 2 ! 93 ) و ( 4 ! 294 ) سندہ صحیح .
و رواہ أبو داود أیضاً من طریق محمد بن یحیی بن حبان عن ابن محیریز أن رجلاً من بنی کنانۃ یدعی المخدجی سمع رجلاً بالشام یدعی أبا محمد یقول: إن الوتر واجب ۔ ۔ ۔
وأما حدیث أبی أیوب الأنصاری مرفوعاً (الوتر حق علی کل مسلم ) فلا یصح إلاّ موقوفاً . قالہ أبو حاتم والذہلی والدارقطنی وغیرہم . قال ابن حجر: وہو الصواب انظر التلخیص ( 2 ! 13 ).
وأما حدیث بریدۃ مرفوعاً ( الوتر حق فمن لم یوتر فلیس منا ) الحدیث رواہ أبو داود وغیرہ . فإنہ خبر لا یصح . فی إسنادہ عبید اللہ بن عبداللہ العتکی ، قال عنہ البخاری عندہ مناکیر ، وقال العقیلی لا یتابع علی حدیثہ ولا یعرف إلاّ بہ انظر الضعفاء . ( 3 ! 121 ) . وقال ابن حبان یجب مجانبۃ ماینفرد بہ کتاب المجروحین . ( 2 ! 64 )
وأما حدیث علی مرفوعاً ( یا أہل القرآن أوتروا فإن اللہ وتر یحب الوتر ) ففی صحتہ نظر فقد رواہ أبو داود من طریق زکریا وأبو داود والنسائی وابن ماجہ من طریق أبی بکر بن عیاش کلاہما عن أبی إسحاق عن عاصم بن ضمرۃ عن علی بہ ورواہ سفیان الثوری وغیرہ عند الترمذی والنسائی عن أبی إسحاق عن عاصم عن علی رضی اللہ عنہ قال ( الوتر لیس بحتم کہیئۃ الصلاۃ المکتوبۃ ولکن سنۃ سنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) وہذا ہو المحفوظ فإن سفیان أحفظ وأضبط من کل من رواہ عن أبی إسحق قال الترمذی ( 2/317 ) فی جامعہ وہذا أصح من حدیث أبی بکر بن عیاش .
فترجح من ہذا قول الجمہور أن الوتر سنۃ ولیس بواجب علی أنہ لو صح لیس نصاً فی المسألۃ فقد دلت أحادیث أخری علی عدم الوجوب فیحمل ہذا الخبر علی تأکد السنیۃ واللہ أعلم .
المسألۃ الرابعۃ : فیما یقرأ فی الوتر
السنۃ لمن أوتر بثلاث أن یقرأ بعد الفاتحۃ (سبح اسم ربک الأعلی ) وفی الثانیۃ ( قل یا أیہا الکافرون ) وفی الثالثۃ ( قل ہو اللہ أحد ) . لحدیث سعید بن عبدالرحمن بن أبزی عن أبیہ عن أبی بن کعب قال : کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوتر بسبح اسم ربک الأعلی وقل یا أیہا الکافرون وقل ہو اللہ أحد ) رواہ أحمد المسند( 5 ! 123 ) وأبو داود والنسائی وغیرہم
واستحب الإمامان مالک والشافعی رحمہما اللہ قراء ۃ المعوذتین بعد الإخلاص . وذلک لما روی أبو داود والترمذی وابن ماجہ من طریق خصیف عن عبدالعزیز بن جریج عن عائشۃ رضی اللہ عنہا أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم کان یقرأ فی الرکعۃ الأولی بسبح اسم ربک الأعلی وفی الثانیۃ قل یا أیہا الکافرون وفی الثالثۃ قل ہو اللہ أحد والمعوذتین .
قال ثابت البنانی رحمہ اللہ (ما شء أجدہ فی قلبی ألذّ عندی من قیام اللیل ) وقال سفیان رحمہ اللہ ( إذا جاء اللیل فرحت وإذا جاء النہار حزنت) مقدمۃ الجرح والتعدیل ( 1 ! 85 86 ) للإمام أبی حاتم
وقال أبو سلیمان الدارانی رحمہ اللہ (لأہل الطاعۃ بلیلہم ألذ من أہل اللہو بلہوہم ولولا اللیل ما أحببت البقاء فی الدنیا.حلیۃ الأولیاء ( 9 ! 275 )
فسبحان من تفضل علی عبادہ بہذا النعیم قبل لقاۂ فحباہم من الخیر والفضل ما فضلہم علی کثیر ممن خلق تفضیلاً فحازوا أسباب السعادۃ واستمسکوا بطریق النجاۃ فہذا فضل اللہ یؤتیہ من یشاء واللہ ذو الفضل العظیم . قال بعضہم ( مساکین أہل الدنیا خرجوا منہا وما ذاقوا أطیب ما فیہا ؟ قیل وما أطیب ما فیہا قال محبۃ اللہ تعالی ومعرفتہ وذکرہ) الوابل الصیب ( 58 ) للإمام ابن القیم .
وقال آخر ( إنہ لتمر بی أوقات أقول إن کان أہل الجنۃ فی مثل ہذا إنہم لفی عیش طیب) وقال شیخ الإسلام رحمہ اللہ ( إن فی الدنیا جنۃ من لم یدخلہا لا یدخل جنۃ الآخرۃ ) الوابل الصیب ( 57 ) للإمام ابن القیم . .
والحدیث عن ہذہ المقاصد العظیمۃ والمطالب العالیۃ المتعلقۃ بفضل قیام اللیل وشأنہ فی حیاۃ القلوب وعز النفوس وانشراح الصدور ونعیم الأرواح ومجاہدۃ النفس والہوی ودفع الأعداء أمرٌ یطول ذکرہ .
صلی اللہ علی النبیا وعلی آلہ وصحبہ أجمعین .
مکمل مضمون کا مطالعہ کریں>>

FASTING

By Shaikh Muhammad Saleh Al-Munajjid

Introduction
Praise be to Allaah, we praise Him and seek His help and forgiveness. We seek refuge with Allaah from the evil of our own selves and from our evil deeds. Whomsoever Allaah guides cannot be misled, and whomsoever He leaves astray cannot be guided. I bear witness that there is no god except Allaah alone, with no partner or associate, and I bear witness that Muhammad is His slave and Messenger.

Allaah has blessed His slaves with certain seasons of goodness, in which hasanaat (rewards for good deeds) are multiplied, sayi'aat (bad deeds) are forgiven, people's status is raised, the hearts of the believers turn to their Master, those who purify themselves attain success and those who corrupt themselves fail. Allaah has created His slaves to worship Him, as He says : "And I (Allaah) created not the jinns and humans except that they should worship Me (Alone)." [al-Dhaariyaat 51:56]
One of the greatest acts of worship is fasting, Allaah encourages His slaves to fast: And that you fast, it is better for you, if only you know." [al-Baqarah 2:184[
He guides them to give thanks to Him for having made fasting obligatory on them: "that you should magnify Allaah for having guided you so that you may be grateful to Him." [al-Baqarah 2:185 -
He has made fasting dear to them, and has made it easy so that people do not find it too hard to give up their habits and what they are used to. Allaah says :"for a fixed number of days" [al-Baqarah 2:184]
He has mercy on them and keeps them away from difficulties and harm, as He says: " but if any of you is ill or on a journey, the same number (should be made up) from other days[L:133]" [al-Baqarah 2:184]
No wonder then, that in this month the hearts of the believers turn to their Most Merciful Lord, fearing their Lord above them, and hoping to attain His reward and the great victory (Paradise).
Definition of Siyaam (fasting)
(1) Siyaam in Arabic means abstaining; in Islam it means abstaining from things that break the fast, from dawn until sunset, having first made the intention (niyyah) to fast.
Ruling on fasting
(2) Fasting the month of Ramadaan is obligatory, the evidence for which is in the Qur'aan and Sunnah. Allaah says: "O you who believe! Observing al-sawm (the fasting) is prescribed for you as it was prescribed for those before you, that you may become al-muttaqoon (the pious)." [al-Baqarah 2:183]
The Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) said: "Islam is built on five [pillars][L:133]" among which he mentioned fasting in Ramadaan. (Reported by al-Bukhaari, al-Fath, 1/49).
Whoever breaks the fast during Ramadaan without a legitimate excuse has committed a serious major sin,
The virtues of fasting
(3) The virtues of fasting are great indeed, and one of the things reported in the saheeh ahaadeeth is that Allaah has chosen fasting for Himself, and He will reward it and multiply the reward without measure, as He says [in the hadeeth qudsi]: "Except for fasting which is only for My sake, and I will reward him for it." (al-Bukhaari, al-Fath, no. 1904;. Fasting has no equal (al-Nisaa'i, 4/165; and the du'aa' of the fasting person will not be refused (reported by al-Bayhaqi, 3/345. The fasting person has two moments of joy: one when he breaks his fast and one when he meets his Lord and rejoices over his fasting (reported by Muslim, 2/807). Fasting will intercede for a person on the Day of Judgement, and will say, "O Lord, I prevented him from his food and physical desires during the day, so let me intercede for him." (Reported by Ahmad, 2/174. The smell that comes from the mouth of a fasting person is better with Allaah than the scent of musk. (Muslim, 2/807). Fasting is a protection and a strong fortress that keeps a person safe from the Fire. (Reported by Ahmad, 2/402) Whoever fasts one day for the sake of Allaah, Allaah will remove his face seventy years' distance from the Fire. (Reported by Muslim, 2/808). Whoever fasts one day seeking the pleasure of Allaah, if that is the last day of his life, he will enter Paradise. (Reported by Ahmad, 5/391) In Paradise there is a gate called al-Rayyaan, through those who fast will enter, and no one will enter it except them; when they have entered it will be locked, and no-one else will enter through it." (al-Bukhaari, Fath, no. 1797).
Ramadaan is a pillar of Islam; the Qur'aan was revealed in this month, and in it there is a night that is better than a thousand months. "When Ramadaan begins, the gates of Paradise are opened and the gates of Hell are closed, and the devils are put in chains." (Reported by al-Bukhaari, al-Fath, no. 3277). Fasting Ramadaan is equivalent to fasting ten months (See Musnad Ahmad, 5/280; "Whoever fasts Ramadaan out of faith and with the hope of reward, all his previous sins will be forgiven." (Reported by al-Bukhaari, Fath, no. 37). At the breaking of every fast, Allaah will choose people to free from Hellfire.(Reported by Ahmad, 5/256; Saheeh al-Targheeb, 1/419).
The benefits of fasting
(4) There is much wisdom and many benefits in fasting, which have to do with the taqwa mentioned by Allaah in the aayah: "that you may become al-muttaqoon (the pious)." [al-Baqarah 2:183]
Etiquette and Sunnah of fasting
(5) Some aspects are obligatory (waajib) and others are recommended (mustahabb).
We should make sure that we eat and drink something at suhoor, and that we delay it until just before the adhaan of Fajr. The Prophet (ﷺ) said: "Have suhoor, for in suhoor there is blessing (barakah)." (Reported by al-Bukhaari, Fath, 4/139) , what a good suhoor for the believer is dates." (Reported by Abu Dawood, no. 2345;
Not delaying iftaar, because the Prophet (ﷺ) said: "The people will be fine so long as they do not delay iftaar." (Reported by al-Bukhaari, Fath, 4/198).
After iftaar, reciting the words reported in the hadeeth narrated by Ibn 'Umar (ص), according to which the Prophet (ﷺ), when he broke his fast, would say: "Dhahaba al-zama', wa'btallat al-'urooq, wa thabat al-ajru in sha Allaah (Thirst is gone, veins are flowing again, and the reward is certain, in sha Allaah)." (Reported by Abu Dawood, 2/765; its isnaad was classed as hasan by al-Daaraqutni, 2/185).
Keeping away from sin, because the Prophet (ﷺ) said: "When any of you is fasting, let him not commit sin" (Reported by al-Bukhaari, al-Fath, no. 1904). The (ﷺ) said: "Whoever does not stop speaking falsehood and acting in accordance with it, Allaah has no need of him giving up his food and drink." (Al-Bukhaari, al-Fath, no. 1903). The person who is fasting should avoid all kinds of haraam actions, such as backbiting, obscenity and lies, otherwise his reward may all be lost. The Prophet (ﷺ) said: "It may be that a fasting person gets nothing from his fast except hunger." (Reported by Ibn Maajah, 1/539; Saheeh al-Targheeb, 1/453).
Among the things that can destroy one's hasanaat (good deeds) and bring sayi'aat (bad deeds) is allowing oneself to be distracted by quiz-shows, soap operas, movies and sports matches, idle gatherings, hanging about in the streets with evil people and time-wasters, driving around for no purpose, and crowding the streets and sidewalks, so that the months of tahajjud, dhikr and worship, for many people, becomes the month of sleeping in the day so as to avoid feeling hungry, thus missing their prayers and the opportunity to pray them in congregation, then spending their nights in entertainment and indulging their desires. Some people even greet the month with feelings of annoyance, thinking only of the pleasures they will miss out on. In Ramadaan, some people travel to kaafir lands to enjoy a holiday! Even the mosques are not free from such evils as the appearance of women wearing makeup and perfume, and even the Sacred House of Allaah is not free of these ills. Some people make the month a season for begging, even though they are not in need. Some of them entertain themselves with dangerous fireworks and the like, and some of them waste their time in the markets, wandering around the shops, or sewing and following fashions. Some of them put new products and new styles in their stores during the last ten days of the month, to keep people away from earning rewards and hasanaat.
Not allowing oneself to be provoked, because the Prophet (ﷺ) said: "If someone fights him or insults him, he should say, 'I am fasting, I am fasting.'" (Reported by al-Bukhaari. Al-Fath, no. 1894) One reason for this is to remind himself, and another reason is to remind his adversary. But anyone who looks at the conduct of many of those who fast will see something quite different. It is essential to exercise self-control and be calm, but we see the opposite among crazy drivers who speed up when they hear the adhaan for Maghrib.
(٭) Not eating too much, because the Prophet (ﷺ) said: "The son of Adam fills no worse vessel than his stomach." (Reported by al-Tirmidhi, no. 2380; he said, this is a hasan saheeh hadeeth). The wise person wants to eat to live, not live to eat. The best type of food is that which is there to be used, not that which is there to be served. But people indulge in making all kinds of food (during Ramadaan) and treating food preparation as a virtual art form, so that housewives and servants spend all their time on making food, and this keeps them away from worship, and people spend far more on food during Ramadaan than they do ordinarily. Thus the month becomes the month of indigestion, fatness and gastric illness, where people eat like gluttons and drink like thirsty camels, and when they get up to pray Taraaweeh, they do so reluctantly, and some of them leave after the first two rak'ahs.
(*) Being generous by sharing knowledge, giving money, using one's position of authority or physical strength to help others, and having a good attitude. Al-Bukhaari and Muslim reported that Ibn 'Abbaas (ص) said: "The Messenger of Allaah (ﷺ) was the most generous of people [in doing good], and he was most generous of all in Ramadaan when Jibreel met with him, and he used to meet him every night in Ramadaan and teach him the Qur'aan. The Messenger of Allaah (peace and blessings of Allaah be upon him) was more generous in doing good than a blowing wind." (Reported by al-Bukhaari, al-Fath,
No, 6) How can people exchange generosity for stinginess and action for laziness, to the extent that they do not do their work properly and do not treat one another properly, and they use fasting as an excuse for all this.
How the onset of Ramadaan is determined
(6) The onset of Ramadaan is confirmed by the sighting of the new moon, or by the completion of thirty days of Sha'baan. Whoever sees the crescent of the new moon or hears about it from a trustworthy source is obliged to fast.
Who is obliged to fast?
(7) Fasting is an obligation on every adult, sane, settled [i.e., not travelling] Muslim who is able to fast and has nothing such as hayd [menstruation] or nifaas [post-natal bleeding] to prevent her from doing so.
(8) Children should be instructed to fast at the age of seven, if they are able to, and some scholars said that a child may be smacked at the age of ten if he does not fast, just as in the case of salaah. (See al-Mughni, 3/90). The child will be rewarded for fasting, and the parents will be rewarded for bringing him up properly and guiding him to do good. "O you who believe! Ward off from yourselves and your families a Fire (hell) whose fuel is men and stones, over which are (appointed) angels stern (and) severe, who disobey not, (from executing) the Commands they receive from Allaah, but do that which they are commanded." [al-Tahreem 66:6]. Extra attention must be paid to the matter of a girl's fasting when she has just reached maturity, because she may fast when she has her period, out of shyness, and then not make up the fast later.
(9) If a kaafir becomes Muslim, or a child reaches puberty, or an insane person comes to his senses during the day, they should refrain from eating for the rest of the day, because they are now among those who are obliged to fast, but they do not have to make up for the days of Ramadaan that they have missed, because at that time they were not among those who are obliged to fast.
(10) The insane are not responsible for their deeds (their deeds are not being recorded), but if a person is insane at times and sane at other times, he must fast during his periods of sanity, and is excused during his periods of insanity. If he becomes insane during the day, this does not invalidate his fast, just as is the case if someone becomes unconscious because of illness or some other reason, because he had the intention of fasting when he was sane. (Majaalis Shahr Ramadaan by Ibn 'Uthaymeen, p.28). A similar case is the ruling governing epileptics.
(11) If someone dies during Ramadaan, there is no "debt" on him or his heirs with regard to the remaining days of the month.
(12) If someone does not know that it is fard (obligatory) to fast Ramadaan, or that it is haraam to eat or have sexual intercourse during the day in this month, then according to the majority of scholars, this excuse is acceptable, as is also the case for a new convert to Islam, a Muslim living in Daar al-Harb (non-Muslim lands) and a Muslim who grew up among the kuffaar. But a person who grew up among the Muslims and was able to ask questions and find out, has no excuse.
Travellers
(13) For a traveller to be allowed to break his fast, certain conditions must be met. His journey should be lengthy, or else be known as travelling (although there is a well-known difference of opinion among the scholars on this matter), and should go beyond the city and its suburbs. (The majority of scholars say that he should not break his fast before he passes the city limits. They say that a journey has not really begun until a person passes the city limits, and a person who is still in the city is "settled" and "present". Allaah says: "So whoever of you sights (the crescent on the first night of) the month (of Ramadaan, i.e., is present at his home), he must observes sawm (fasts) that month[L:133]" [al-Baqarah 2:185]. He is not counted as a traveller until he has left the city; if he is still within the city, he is regarded as one who is settled, so he is not permitted to shorten his prayers). His journey should also not be a journey for sinful purposes (according to the majority of scholars), or for the purpose of trying to get out of having to fast.
The sick
(14) In the event of any sickness that makes people feel unwell, a person is allowed not to fast. The basis for this is the aayah (interpretation of the meaning): "[L:133] and whoever is ill or on a journey, the same number [of days on which one did not observe sawm must be made up] from other days[L:133]" [al-Baqarah 2:185]. But if the ailment is minor, such as a cough or headache, then it is not a reason to break one's fast.
If there is medical proof, or a person knows from his usual experience, or he is certain, that fasting will make his illness worse or delay his recovery, he is permitted to break his fast; indeed, it is disliked (makrooh) for him to fast in such cases. If a person is seriously ill, he does not have to have the intention during the night to fast the following day, even if there is a possibility that he may be well in the morning, because what counts is the present moment.
(15) If fasting will cause unconsciousness, he should break his fast and make the fast up later on. (al-Fataawa, 25/217). If a person falls unconscious during the day and recovers before Maghrib or after, his fast is still valid, so long as he was fasting in the morning; if he is unconscious from Fajr until Maghrib, then according to the majority of scholars his fast is not valid. According to the majority of scholars, it is obligatory for a person who falls unconscious to make up his fasts later on, no matter how long he was unconscious. (Al-Mughni ma'a al-Sharh al-Kabeer, 1/412, 3/32; al-Mawsoo'ah al-Fiqhiyyah al-Kuwaytiyyah, 5/268).
(16) If a person feels extreme hunger or thirst, and fears that he may die or that some of his faculties may be irreparably damaged, and has rational grounds for believing this to be so, he may break his fast and make up for it later on, because saving one's life is obligatory
(17) Students' exams are no excuse for breaking one's fast during Ramadaan, and it is not permissible to obey one's parents in breaking the fast because of having exams, because there is no obedience to any created being if it involves disobedience to the Creator. (Fataawa al-Lajnah al-Daa'imah, 10/241).
The elderly
(18) The very elderly who have lost their strength and are getting weaker every day as death approaches, do not have to fast, and they are allowed not to fast so long as fasting would be too difficult for them. Ibn 'Abbaas (ص)
Niyyah (intention) in fasting
(19) Niyyah (intention) is a required condition in fard (obligatory) fasts, and in other obligatory fasts such as making up missed fasts or fasts done as an act of expiation (kafaarah), because the Prophet (ﷺ) said: "There is no fast for the person who did not intend to fast from the night before." (Reported by Abu Dawood, no. 2454. A number of the scholars, such as al-Bukhaari, al-Nisaa'i, al-Tirmidhi and others thought it was likely to be mawqoof. See Talkhees al-Hubayr, 2/188)
The intention may be made at any point during the night, even if it is just a moment before Fajr. Niyyah means the resolution in the heart to do something; speaking it aloud is bid'ah (a reprehensible innovation), and anyone who knows that tomorrow is one of the days of Ramadaan and wants to fast has made the intention. (Majmoo' Fataawa Shaykh al-Islam, 25/215).
The person who is fasting Ramadaan does not need to repeat the intention every night during Ramadaan; it is sufficient to have the intention at the beginning of the month. If the intention is interrupted by breaking the fast due to travel or sickness - for example - he has to renew the intention to fast when the reason for breaking the fast is no longer present.
(20) If a person embarks on an obligatory fast, such as making up for a day missed in Ramadaan, or fulfilling a vow, or fasting as an act of expiation (kafaarah), he must complete the fast, and he is not permitted to break it unless he has a valid excuse for doing so. In the case of a naafil fast, "the person who is observing a voluntary fast has the choice either to complete the fast or to break it" (reported by Ahmad, 6/342) - even if there is no reason to break it. The Prophet [an error occurred while processing this directive] (ﷺ) got up fasting one morning, then he ate. (As reported in Saheeh Muslim, in the story of the al-hais (a type of food) that was given to him as a gift when he was in 'Aa'ishah's house; no. 1154, 'Abd al-Baaqi). But will the person who breaks his fast for no reason be rewarded for the fasting that he has already done? Some of the scholars say that he will not be rewarded (al-Mawsoo'ah al-Fiqhiyyah, 28/13), so it is better for the person who is observing a voluntary fast to complete it, unless there is a valid, pressing reason for him to stop fasting.
(21) If a person does not know that Ramadaan has started until after dawn, he has to stop eating and drinking for the rest of the day, and he has to make that day up later on, according to the majority of scholars, because the Prophet [an error occurred while processing this directive] (ﷺ) said: "There is no fasting for the one who does not have the intention to fast from the night before." (Reported by Abu Dawood, 2454).
(22) If a prisoner or captive knows that Ramadaan has begun by sighting the moon himself or by being told by a trustworthy person, he has to fast. If he does not know when the month is beginning, he must try to work it out for himself (ijtihaad) and act according what he thinks is most likely. If he later finds out that his fasting coincided with Ramadaan, this is fine according to the majority of scholars, and if his fasting came after Ramadaan, this is fine according to the majority of fuqahaa', but if his fasting came before Ramadaan, this is not acceptable, and he has to make up the fast. If part of his fasting coincided with Ramadaan and part of it did not, what coincided with it or came after it is fine, but what came before is not OK. If the matter never becomes clear to him, then his fasting is fine because he did the best he could, and Allaah burdens not a person beyond his scope. (Al-Mawsoo'ah al-Fiqhiyyah, 28/84).
مکمل مضمون کا مطالعہ کریں>>

Thursday, August 13, 2009

لوگ آساں سمجھتے ہیں مسلماں ہونا

اداریہ

آج امت مسلمہ انگنت مسائل سے دوچار ہے جن میں جنگ وجدال ، قتل وغارت گری ، شروفساد، بدامنی ، معاشی ومعاشرتی بدحالی ، بزدلی وغیرہ شامل ہیں ۔ جبکہ اسلام کے معنی ہی امن وسلامتی کے ہیں یعنی اسلام قبول کرنے والا ہمیشہ کیلئے امن وسلامتی میں داخل ہوجاتا ہے ایسے سایہ دار درخت تلے آ جاتا ہے جس میں وہ اپنی زندگی نہایت امن وعافیت سے گزار سکتا ہے کیونکہ یہی مذہب انسانی فلاح ونجات کا ضامن اور صراط مستقیم ہے ۔ یہ اسلام ہی کی برکات ہیں جو اپنے ماننے والے کو رشتہ اخوت میں پرودیتا ہے ۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے : ﴿إِنَّمَا ال٘مُؤ٘مِنُو٘نَ إِخ٘وَۃٌ﴾ (الحجرات :۱۰)’’ مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔‘‘ مسلمان ہوتا ہی وہ ہے جس کے شروفساداور آذاء وتکالیف سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے ۔ جیسا کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے : ’’اَل٘مُس٘لِمُ مَن٘ سَلِمَ ال٘مُس٘لِمُو٘نَ مِن٘ لِسَانِہِ وَیَدِہِ ۔‘‘ ( رواہ البخاری )’’ مسلمان تو وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ کی تکلیف سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں ۔ ‘‘
اسی مضمون کے تحت بے شمار احادیث مبارکہ موجود ہیں جن کے مطالعہ سے یہ حقیقت کھل کرعیاں ہوتی ہے کہ اسلام ہی امن وشانتی کا دین ہے ۔مگر غور طلب بات یہ ہے کہ کیا وجہ ہے کہ آج ایک مسلمان ہی دوسرے مسلمان کی جان کے درپے ہے ، آج مسلمان ہی مسلمان سے دست وگریباں ہے ۔ اور مسلمان ہوتے ہوئے بھی مسلمانوں ہی کا خون بہانے سے دریغ نہیں کرتے ۔ حقیقت یہ ہے کہ جب ریاست میں ظلم ونا انصافی کا بازار گرم ہوجاتا ہے اور غربت ، مہنگائی وبے روزگأری اپنی انتہاپر پہنچ جاتی ہے تو وطن عناصر ایک طرف معاشرے کے پسے ہوئے اور بے حال طبقے کے لوگوں کو دھونس ، دھمکی اور پیسوں کا لالچ دے کر اپنے مفاد میں استعمال کرتے ہیں ، تو دوسری جانب انتظامی محکموں کے کرپٹ لوگوں کو اپنا زرخرید غلام بنا کردہشت گردوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع فراہم کرتے ہیں ۔ وقت آ گیا ہے کہ حکومت نہ صرف مہنگائی کے سیلاب کے آگے بند باندھے بلکہ ریاستی محکموں بالخصوص محکمہ میں تطہیر کا عمل شروع کرے اور سب سے بڑ ھ کر اس امریکہ سے جان چھڑ ائے جس کی وجہ سے آج پاکستان میں جگہ جگہ انگارے بوئے جا رہے ہیں ۔مگر وائے افسوس کہ ہمارے حکمران اغیار وکفار کے ہم پیالہ وہم نوالہ بن کر اپنے کلمہ گو مسلمانوں کی جانوں سے کھیلتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ کافروں سے دوستی پر فخر کرتے ہیں جبکہ رب تعالیٰ کافرمان ہے : ﴿وَمَنْ یَتَوَلَّہُمْ مِنْکُمْ فَإِنَّہُ مِنْہُمْ ﴾(المائدۃ:۵۱)’’ جو کافروں کی طرف مائل ہوا اور ان سے دوستی کی گویا کہ وہ انہی میں سے ہے ۔‘‘
آج مسلمان اپنے تئی جتنی بھی کوشش کر لیں ، اپنے ہی نہتے مسلمانوں کے خون سے اپنے ہاتھوں کو رنگ لیں اپنے اقدار، ثقافت، تہذیب وتمدن اور اپنے نفس کو یہود ونصاریٰ کے جتنے بھی تابع کر لیں رب تعالیٰ کافرمان بجا اور برحق ہے کہ ﴿وَلَنْ تَرْضَی عَنْکَ الْیَہُودُ وَلَا النَّصَارَی حَتَّی تَتَّبِعَ مِلَّتَہُمْ﴾ (البقرۃ:۱۲۰) ’’یہود ونصاریٰ تم سے ہرگز راضی نہ ہونگیں جب تک تم ان کے دین کی پیروی نہیں کرو گے ۔ ‘‘
یہی وجہ ہے کہ اگر آج کوئی مسلمان اپنے دفاع کیلئے ہتھیار اٹھائے تو اسے دہشتگرد، انتہا پسنداور سنگدل کہہ کر اسے صفحہ ہستی سے مٹا دیا جاتا ہے جبکہ اس کے برعکس اگر ہندوستان نہتے کشمیریوں پر ظلم وجبر کے پہاڑ گرائے تو وہ اس کا حق تسلیم کیا جاتا ہے ۔ اسرائیل اگر نہتے فلسطینوں پر زور آزمائے تو وہ بھی اس کا حق ہوتا ہے اسی طرح آج پوری دنیا میں غیر مسلموں کو اجازت ہے کہ وہ جہاں چاہیں جب چاہیں مسلمانوں پر ظلم وزیادتی کرسکتے ہیں اور ان کی پشت پر دنیا کی استبدادی قوتیں ہمہ تن موجود ہوتیں ہیں ۔ لمحہ فکر یہ ہے کہ آج اقوام عالم میں یہ کڑ ا وقت مسلمانوں ہی پر کیوں آیا ہے ؟وجہ صاف ظاہر ہے کہ آج مسلمان مسلمان نہیں رہا وہ آج اپنے ضمیر کے ساتھ اپنا ایمان بھی فروخت کر چکا ہے اسلام نے تو اسے یہ تعلیم دی تھی کہ مسلمان تو وہ ہے جس کے ہاتھ وزبان سے دوسرے مسلمان کی عزت وآبرو محفوظ ہو اور ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون، مال اور عزت حرام ہے ۔ اگر دنیا میں امن وسلامتی کی اشاعت ممکن ہے تو وہ اسلام ہی کے ذریعے ممکن ہے کیونکہ امن سلامتی سے مشروط ہے اور اگر عداوت ودشمنی اور افتراق وانتشار کی دیوار منہدم کرنی ہے تو یہ سب ایمان سے مربوط ہے جتنا زیادہ ایمان پختہ ہو گا اتنا ہی امن اور وحدت انسانیت کا پرچار ہو گا آج مسلمانوں میں ایمان ہی کی کمی ہے جس کی وجہ سے وہ افتراق وانتشار اور بے بسی وبے راہ روی جیسے مسائل سے دوچار ہیں جبکہ اللہ کی طرف سے بشارت ہے کہ جولوگ ایمان لائیں اور اس میں کسی قسم کی ملاوٹ نہ کریں تو وہ لوگ امن میں ہیں ۔ کیا وجہ تھی کہ جو ریگستان کے صحرائی خیموں میں سوتے ، خشک کھجوریں کھاتے اور اونٹوں کو چراتے تھے اللہ نے ان کو اس زمین کا حاکم بنا دیا اور اپنی بے شمار نعمتوں سے نوازا یہ اللہ نے انہیں صلہ دیا تھا ان کے ایمان کامل کا، ان کے عدل وانصاف کا ، ان کی دور اندیشی اور مساوات کا کیونکہ انسان کی فلاح وکامیابی ایمان وعمل صالح پر موقوف ہے انسان ان کو اپنا کر دین ودنیا کی تمام مشکلات ومصائب سے نجات حاصل کرسکتا ہے اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کر سکتا ہے ایمان وعمل صالح، سچائی ، دیانت وامانتداری ، عدل وانصاف ، ایثار وخلوص سے ، خلق خدا کی خدمت اور خالق کائنات کی عبادت سے ۔
جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد مبارک ہے : ﴿وَعَدَ اللَّہُ الَّذِینَ آَمَنُوا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِی الْأَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِہِمْ وَلَیُمَکِّنَنَّ لَہُمْ دِینَہُمُ الَّذِی ارْتَضَی لَہُمْ وَلَیُبَدِّلَنَّہُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِہِمْ أَمْنًا یَعْبُدُونَنِی لَا یُشْرِکُونَ بِی شَیْئًا وَمَنْ کَفَرَ بَعْدَ ذَلِکَ فَأُولَئِکَ ہُمُ الْفَاسِقُونَ ﴾(النور:۵۵)
’’ایمان والوں اور عمل صالح کرنے والوں سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ انہیں ضرور ملک کا حاکم بنائے گا جیسا کہ ان لوگوں کو بنایا تھا جو ان سے پہلے تھے اور یقینا ان کیلئے اس دین کو مضبوطی کے ساتھ محکم کر کے جمادے گا جیسے ان کیلئے پسند فرما چکا ہے اور ان کے خوف وخطر کو امن وامان سے بدل دے گا اگر یہ میری ہی عبادت کریں گے میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں گے اور جو اس کے بعد میری ناشکری کرے گاوہ یقینا نافرمان ہے ۔ ‘‘
اگر مسلمان آج بھی اپنے مقام ومرتبہ کو سمجھ لیں تو یقینا وہ ان بشارتوں سے مستفید ہو سکتے ہیں اللہ ان کو بادشاہتیں اور حکومتیں عطا کرے گا اور ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا ۔ یہ ہمارے ایمان کی کمزوری ہے کہ آج مسلمان یہود ونصاری سے لرزاں ہیں ۔انصاف کی بات یہ ہے کہ یہ دین کسی طرح کی مدحت سرائی کا محتاج نہیں بلکہ اپنی سچائی اور حقیقت کی وجہ سے ہر دور میں ہر ایک کیلئے یکساں مفید ہے ۔ جواس پر عمل پیرا ہو گا وہی اس کے محاسن سے مستفید ہو گا اسی لیے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو مخاطب کر کے فرمایا : ﴿اُد٘خُلُو٘افِی٘ السِّل٘مِ کَآفَّۃً﴾(البقرۃ:۲۰۸) ’’ کہ اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوجاؤ ۔ ‘‘
یہ برکات اور محاسن اسی وقت میسر ہوں گیں جب مسلمان صحیح معنوں میں مسلمان بن جائیں گے اور مسلمان بننا اتنا آسان نہیں جتنا لوگ سمجھتے ہیں اس لئے اب صرف ہمارے نام مسلمانوں جیسے رہ گئے ہیں اور کام تو سارے ہی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آج مسلمانوں کے تمام رسم ورواج ہندوانہ یا پھر مغربی طرز (یہودی وعیسائی) پر ہیں حتی کہ رہن سہن میں بھی کوشش یہ ہوتی ہے کہ کسی طرح ہم ان (غیر مسلموں )سے پیچھے نہ رہ جائیں بلکہ اب تو میڈیا نے اس نوجوان نسل کے لب ولہجہ کو بھی ہندوانہ بنا دیا ہے یہ ہے آج کا مسلمان ’’جسے دیکھ کر شرمائیں یہود ‘‘ جس کا نام مسلمانوں والا ہے جس کی فجر کی نماز بستر پر ، ظہر کی دفتر میں (ضائع ہوتی ہے ) ، عصر کی شام کی چائے میں ، مغرب کی راستے میں ، اور عشاء ٹی وی کے سامنے ہوتی ہے ۔ یہی ہے آج کا مسلمان جو قرآن وحدیث سے بیگانہ اپنی دنیا میں مست اور اپنے انجام سے بے خبر ، ناجانے کس معجزہ کے انتظار میں ہے ۔ شاید یہ اپنے مسلمانوں والے نام پر ہی اکتفاء کربیٹھا ہے ۔محض زبان قال سے لا إلہ پڑ ھ کر کوئی صاحب ایمان نہیں ہوجاتا۔ ع
یہ شہادت گہ الفت میں قدم رکھنا ہے
لوگ آساں سمجھتے ہیں مسلماں ہونا
مکمل مضمون کا مطالعہ کریں>>
 

آپ کے اشتہارات

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترم قاری!
اب آپ اسوۂ حسنہ کی سائیٹ کے ذریعے اپنے کاروبار کو وسعت دے سکتے ہیں۔
تو ابھی رابطہ کیجئے
usvaehasanah@gmail.com

اسوۂ حسنہ کا ساتھ دیں

ماہ صفر

آپ کو اسوۂ حسنہ کی نئی سائیٹ کیسی لگی؟