Wednesday, December 2, 2009

معمولات النبی صلی اللہ علیہ وسلم

از محمد طیب معاذ
نمازِ عصر
رسول مکرم قیلولہ سے بیدار ہوکر نماز عصر کی تیاری میں مشغول ہوجاتے ۔ آپ نے نمازِ عصر سے پہلے چار رکعتیں نفل ادا کرنے والے شخص کو دعا دیتے ہوئے فرمایا :’’رَحِمَ اللّٰہُ اِمرَأً صَلَّی قَبلَ العَصرِ أَربَعاً ‘‘ -سنن الترمذی ، مسند احمد صححہ ابن خزیمۃ-
’’ اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جس نے نماز عصر سے پہلے چار رکعت پڑ ھیں ۔‘‘
’’عَنْ عَلِیٍّ رضی اللہ عنہ قَالَ:کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُصَلِّی قَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ یَفْصِلُ بَیْنَہُنَّ بِالتَّسْلِیمِ عَلَی الْمَلَائِکَۃِ الْمُقَرَّبِینَ وَمَنْ تَبِعَہُمْ مِنْ الْمُسْلِمِینَ وَالْمُؤْمِنِینَ۔‘‘ -الترمذی ابواب الصلاۃ ، باب ما جاء فی الاربع قبل العصر-
خلیفہ چہارم سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ نبی ا کرم عصر کے فرضوں سے پہلے چار رکعات پڑ ھا کرتے تھے ان کے درمیان ملائکہ مقربین اور انکی تابیداری کرنے والے مسلمانوں اور مومنوں پر سلام پھیرنے کیساتھ مفصل-جدائی- کرتے ۔‘‘
فائدہ :سلام کیساتھ فصل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ دو دو رکعت کر کے چار سنتیں ادا فرماتے ۔ ایک سلام کیساتھ چار سنتیں بھی پڑ ھی جا سکتی ہیں تاہم بعض علماء کے نزدیک پہلا طریقہ افضل ہے ۔ واللہ أعلم بالصواب -شرح ریاض الصالحین از حافظ صلاح الدین یوسف ج/۲، ص/۸۰ دار السلام-
معروف سیرت نگار الشیخ صفی الرحمن مبارک پوری رحمہ اللہ اتحاف الکرام شرح بلوغ المرام میں رقمطراز ہیں ۔ نمازِ عصر سے پہلے یہ چار رکعتیں سنن رواتب -مؤکدہ سنن- نہیں ہیں بلکہ نفل ہیں ۔ اس کی فضیلت رحم اللہ امرأ کی دعائیہ کلمات دلالت کرتے ہیں کہ جو یہ چار رکعتیں پڑ ھتا ہے اس پر اللہ کی رحمتیں سایہ فگن رہتی ہیں ۔
نمازِ عصر کی فضیلت
قرآن وحدیث میں اقامت صلاۃ کی بالعموم اور اقامت صلاۃ عصر کی بالخصوص تاکید وارد ہوئی ہے ۔ ذیل کی سطور میں ہم اختصار کیساتھ نماز عصر کی فضیلت رقمطراز کر رہے ہیں ۔
۱۔ خصوصی حکم
نماز عصر کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ رب تعالیٰ نے نمازِ عصر کی حفاظت کرنے کا خصوصی حکم دیا اور فرمایا :
﴿حَافِظُوا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاۃِ الْوُسْطَی وَقُومُوا لِلَّہِ قَانِتِینَ ﴾-البقرۃ:۲۳۸-
’’اور تم سب نمازوں اور خاص طور پر درمیان والی نماز-مراد نمازِ عصر- کی حفاظت کرو اور اللہ کے سامنے عاجزی کرنے والے بن کر کھڑ ے ہو۔‘‘
صلاۃ وسطیٰ سے مراد
جمہور علماء صحابہ اور دیگر اہل علم کے نزدیک صلاۃ وسطیٰ سے مراد نماز عصر ہے قاضی ماروردی فرماتے ہیں کہ جمہور تابعین کا بھی یہی قول ہے ۔
دلیل ۱:مسند احمد میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے احزاب کے دن فرمایا تھا :’’شَغَلُونَا عَنِ الصَّلاَۃِ الوُسطَی صَلاَۃِ العَصرِ ملَأَ اللّٰہُ قُلُوبَہُم وَبُیُوتَہُم ناَراً ‘‘ -صحیح ابن خزیمۃ حدیث ۱۳۳۶ جلد ۲/ص/۲۸۹-
انہوں نے ہمیں صلاۃ وسطی یعنی نماز عصر سے مشغول کر دیا اللہ تعالیٰ ان کے دلوں اور گھروں کو آگ سے بھر دے ۔
اسی طرح مسند احمد میں ہی سیدنا سمرہ صسے روایت ہے کہ رسول اللہ ا نے فرمایا : ’’صلاۃ الوسطی صلاۃ العصر‘‘ نمازِ وسطیٰ نماز عصر ہے ۔
اس موقف کی تائید میں کئی اصحاب مسانید وسنن وصحاح رحمہم اللہ نے روایتیں جمع کی ہیں ۔
۲۔ سیدنا بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا :بکروا بالصلاۃ فی یوم الغیم ۔‘‘ -مسند احمد صحیح موقوفاً- فإنہ من ترک صلاۃ العصر فقد حبط عملہ ۔ -صحیح ابن حبان ج/۴، ص/۳۳۲-
’’ابر آلود موسم میں عصر کی نماز جلد ادا کر لیا کرو کیونکہ جس شخص کی نمازِ عصر چھوٹ جائے اس کے اعمال رائیگاں ہوگئے ۔ ‘‘
فائدہ:عمداً کسی ایک نماز کا ترک بھی اگرچہ سخت گناہ بلکہ بقول بعض علماء کرام کفر ہے لیکن بالخصوص نماز عصر کا ترک کرنا تو بہت ہی اشد گناہ ہے ۔ -شرح ریاض الصالحین-
۳۔ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی مُوسَی عَنْ أَبِیہِ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ صَلَّی الْبَرْدَیْنِ دَخَلَ الْجَنَّۃَ ۔‘‘-متفق علیہ-
’’سیدنا ابو موسی صسے مروی ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا جو شخص دو ٹھنڈی نمازیں ادا کرتا ہے وہ جنت میں جائے گا یعنی فجر اور عصر ۔‘‘
فائدہ : دو ٹھنڈی نمازوں سے مراد نماز فجر وعصر ہے ان دونوں نمازوں کی ادائیگی بہ نسبت بقیہ نمازوں کے تھوڑ ی مشکل ہے کیونکہ فجر کے وقت نیند کا غلبہ ہوتا ہے جبکہ نماز عصر کے وقت کاروباری مصروفیات کا ہجوم ہوتا ہے اس لئے ان نمازوں میں باقاعدگی سے حاضری طبیعت انسانی پہ انتہائی گراں گزرتی ہے ۔ -ملخصاً از ذخیرۃ العقبی فی شرح المجتبیٰ ج:۶، ص:۱۴۴-
۴۔ عَن أَبِی زُبَیرٍعُمَارَۃَ بْنِ رُؤَیْبَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ لَنْ یَلِجَ النَّارَ أَحَدٌ صَلَّی قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِہَا یَعْنِی الْفَجْرَ وَالْعَصْرَ ۔‘‘-رواہ مسلم ، کتاب المساجد-
’’ ابو زبیر عمارہ بن رویبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص سورج نکلنے سے قبل اور اس کے غروب ہونے سے پہلے یعنی فجر اور عصر کی نماز پڑ ھتا ہے وہ ہر گز جہنم کی آگ میں داخل نہیں ہو گا۔‘‘
تنبیہ:صرف ان دو نمازوں کی پابندی کرنے والا جہنم سے محفوظ نہیں رہے گا بلکہ وہ مسلمان جہنم میں جانے سے بچے گا جو پانچوں نمازیں پابندی کیساتھ ادا کرے گا ۔ حدیث میں صرف دو نمازوں کا -فجر وعصر- ذکر ان کی خصوصی اہمیت کی وجہ سے ہے گویا ان دونمازوں کی حفاظت کرنے والا یقینا بقیہ نمازوں کی ادائیگی میں بھی کوتاہی نہیں کرتا اور اسی طرح دیگر فرائض وسنن کا بھی اہتمام کرتا ہے ۔
۶۔عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَأَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ یَتَعَاقَبُونَ فِیکُمْ مَلَائِکَۃٌ بِاللَّیْلِ وَمَلَائِکَۃٌ بِالنَّہَارِ وَیَجْتَمِعُونَ فِی صَلَاۃِ الْفَجْرِ وَصَلَاۃِ الْعَصْرِ ثُمَّ یَعْرُجُ الَّذِینَ بَاتُوا فِیکُمْ فَیَسْأَلُہُمْ وَہُوَ أَعْلَمُ بِہِمْ کَیْفَ تَرَکْتُمْ عِبَادِی فَیَقُولُونَ تَرَکْنَاہُمْ وَہُمْ یُصَلُّونَ وَأَتَیْنَاہُمْ وَہُمْ یُصَلُّونَ۔‘‘ -رواہ البخاری کتاب الموقیت ، باب فضل صلاۃ العصر :۵۵۵-
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بیشک رسول اللہ نے فرمایا : ’’ تمہارے پاس رات اور دن کو باری باری فرشتے آتے جاتے ہیں اور صبح اور عصر کی نماز میں وہ اکٹھے ہوجاتے ہیں ، پھر وہ فرشتے جو تمہارے پاس رات گزارتے ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتا ہے ، حالانکہ وہ خوب جانتا ہے تم نے میرے بندوں کو کسی حال میں چھوڑ ا؟ تو وہ کہتے ہیں : ہم انہیں نماز پڑ ھتے ہوئے چھوڑ کر آئے ہیں اور جب وہ ان کے پاس گئے تھے تب بھی وہ نماز میں مصروف تھے ۔‘‘
صحیح ابن خزیمہ میں یہ اضافہ بھی ہے : ’’فاغفر لہم یوم الدین ‘‘ -صحیح ابن خزیمۃ ، کتاب الصلاۃ ، باب ذکر اجتماع ملائکۃ اللیل و ملائکۃ النہار فی صلاۃ العصر ۔ ۔ ۔ الخ:۳۲۲-
فرشتے کہتے ہیں :’’ الٰہی انہیں قیامت کے دن معاف فرما دینا۔‘‘یعنی نماز عصر وفجر کی پابندی کرنے والوں کیلئے فرشتے رب تعالیٰ سے مغفرت کا سؤال کرتے ہیں ۔
۷۔عَنْ أَبِی بَصْرَۃَ الْغِفَارِیِّ قَالَ:صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ بِالْمُخَمَّصِ قَالَ إِنَّ ہَذِہِ الصَّلَاۃَ عُرِضَتْ عَلَی مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ فَضَیَّعُوہَا وَمَنْ حَافَظَ عَلَیْہَا کَانَ لَہُ أَجْرُہُ مَرَّتَیْنِ ۔‘‘ -النسائی ، تأخیر المغرب -
’’سیدنا ابو بصرہ الغفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے ہمیں مخمص نامی جگہ پر نماز عصر پڑ ھائی نماز کے بعد آپ نے ارشاد فرمایا یہ نماز -مراد عصر کی نماز- تم سے پہلے لوگوں پر فرض کی گئی تھی لیکن انہوں نے اس کی حفاظت نہ کی پس جو آدمی اس نماز-مراد نماز عصر- پر پابندی کرے گا اس کو دوہرے اجر سے نوازا جائے گا۔
شارح سنن النسائی فرماتے ہیں کہ دو اجر سے مراد
۱۔ سابقہ امم کے برعکس اس کی حفاظت کا اجر
۲۔ اقامت نماز عصر بنفسہا کا اجر ہے ۔-ذخیرۃ العقبی فی شرح المجتسبی ج/۷، ص/۱۳- -جاری ہے -
مکمل مضمون کا مطالعہ کریں>>

حقوقِ نسواں اسلام کی روشنی میں

از محترمہ طاہرہ کوکب
خاندان ، برادری ، محلے ، شہر ، ملک اور بحیثیت مجموعی پوری نوع انسانی تک پھیلے ہوئے تعلقات کے یہ چھوٹے بڑ ے دائرے اس کے حقوق وفرائض کا تعین کرتے ہیں ۔ ماں ، باپ ، بیٹے ، بیٹی ، شاگرد، استاد ، مالک ، ملازم ، تاجر ، خریدار ، شہری اور حکمران کی بے شمار مختلف حیثیتوں میں اس پر کچھ فرائض عائد ہوتے ہیں اور ان فرائض کے مقابلہ میں وہ کچھ متعین حقوق کا مستحق قرار پاتا ہے ۔ان حقوق میں بعض کی حیثیت محض اخلاقی ہوتی ہے ، مثلاً بڑ وں کا حق ادب، چھوٹوں کا حق شفقت، ضرورت مند کا حق امداد، مہمان کا حق تواضع وغیرہ۔ اور بعض کو قانونی تحفظ حاصل ہوتا ہے مثلاً حق ملکیت ، حق اجرت، حق مہر اور حق معاوضہ وغیرہ۔ یہ ایسے حقوق ہیں جن کا تعلق کسی مفاد سے ہوتا ہے اور ملک کا قانون اس مفاد کو تسلیم کر کے اسے عدلیہ کے ذریعہ قابل حصول بنا دیتا ہے ۔ قانونی حقوق -Legal Rights-یامثبت حقوق -Positive Rights- کہلاتے ہیں ۔
فرد کے حقوق کا ایک اور دائرہ ریاست سے تعلقات کا ہے اس دائرہ میں ایک وسیع الاختیار اور کثیر الوسائل ریاست کے مقابلہ میں فرد کو جو حقوق دئیے جاتے ہیں انہیں ہم بنیادی حقوق -Fundamental Rights- کہتے ہیں ۔ ان حقوق کیلئے بنیادی انسانی حقوق -Basic Human Rights- اور انسان کے پیدائشی حقوق -Birth Rights of Man- کی اصطلاح بھی استعمال کی جاتی ہے ۔ اسلام نے انسان کو بالخصوص خواتین کوجو حقوق عطا فرمائے ہیں وہ دنیا کے کسی بھی قدیم یا جدید مذہب وتہذیب نے نہیں دئیے ہیں ۔ لیکن یہ انتہائی افسوس ناک صورت حال ہے کہ خواتین کے حقوق کے حوالہ سے اسلام ہی کو سب سے زیادہ بدنام کیا گیا ہے اور یہ پروپیگنڈا اتنی شدت وتکرار کے ساتھ کیا گیا ہے کہ غیروں کے ساتھ اپنے بھی متاثر ہو چکے ہیں ۔ بالخصوص ہمارے ملک کی کچھ اباحیت پسند خواتین بھی مغربی انداز میں سوچنے اور اسلام کو ترقی کی راہ میں دیوار سمجھنے لگی ہیں ۔ اگر یہ خواتین کے حقوق کا مطالعہ برصغیر میں رائج ہندوانہ کلچر کے بجائے اسلامی تعلیمات اور سیرت طیبہ کی روشنی میں کرتیں تو نہ تو احساس کمتری کا شکار ہوتیں اور نہ انحرافی راستوں پر گامزن ہوتیں ۔ اقبال نے کہا ہے ۔
اپنی ملت کو قیاس اقوام مغرب پر نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسولِ ہاشمی
خود مغرب نے خواتین کو کیا حقوق دئیے ہیں اس کی ایک جھلک ریسرچ آرٹیکل کے اس پیراگراف میں ملاحظہ فرمائے ۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک رپورٹ کے مطابق ایشیاء ، لاطینی امریکا اور مشرقی یورپ سے ہر سال جنسی مقاصد کے استعمال اور ارزاں لیبر کی فراہمی کی غرض سے پچاس ہزار کے لگ بھگ خواتین ، لڑ کیاں اور بچے امریکہ اسمگل کئے جاتے ہیں ۔ اسمگل شدہ انسانوں کی باقاعدہ منڈی لگتی ہے اور ان کی خرید وفروخت ہوتی ہے یہ تجارت اربوں ڈالر سالانہ کی ہے ۔-روز نامہ جنگ کراچی یکم اکتوبر ۲۰۰۰؁ئ-اب خود امریکی بھی اس حقیقت کا اعتراف کرنے لگے ہیں کہ جسم فروشی غیر رسمی معیشت کا ایک سیکٹربن چکی ہے ۔
جسٹس مفتی محمد تقی عثمانی صاحب نے بہت عمدہ بات لکھی ہے فرماتے ہیں :’’ آج جا کر دیکھیں مغربی ممالک میں دنیا کی سب سے نیچ اور ذلیل قوم عورت کی ذات ہے ، بازاروں اور ہوٹلوں میں جتنے کام ہیں عورت کرے گی جتنے گھٹیا سے گھٹیا کام ہیں وہ سب عورت کرتی ہے ۔ میں کہا کرتا ہوں کہ یہ عجیب تماشا ہے کہ ایک عورت اپنے گھر میں بیٹھ کر اپنے خاوند کا اور اپنے بچوں کا انتظام کرتی ہے ، ان کیلئے کھانا پکاتی رہائش کا بہتر بندوبست کرتی ہے تو وہ دقیانوسی ایئر ہوسٹس بن کر چارسومردوں کو کھانا سپلائی کرے اور ان کے سامنے ٹرے سجا کر لے جائے اور ان کی ہوسناک نگا ہوں کا نشانہ بنے تو یہ عزت اور اعزاز ہے ۔ -اصلاحی مواعظ از تقی عثمانی-
جنوں کا نام خرد رکھ دیا خرد کا نام جنون
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
مغربی تہذیب سے مرعوبانہ ذہنیت کی حامل اپنی بہنوں سے عرض کروں گی خداراسلامی تعلیمات کا مطالعہ کیجئے ، دشمن کی آلہ کارنہ بنئے ، اقبال نے ایسے ہی آلہ کاروں کے بارے میں کہا ہے ۔
یا رب تری حریف ہے سیاست افرنگ
بنایا ایک ہی ابلیس آگ سے تو نے
حقوق کا مفہوم
بحث کو آگے بڑ ھانے سے پہلے ضروری ہے حقوق کا تعیین کیا جائے کہ حق کا مفہوم یہ ہے ۔ حق کی جمع حقوق ہے اس کے معنی ہیں وہ بات جو ثابت ہو اور اس سے انکار ممکن نہ ہو حق کیلئے انگلش میں Truth, Justice , Right کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں حق حقیقت اور صدق کے معنی میں بھی کچھ فرق کے ساتھ مستعمل ہے ۔ اردو میں مطابقت اور موافقت کے معنی میں مستعمل ہے عبرانی میں لکڑ ی یا پتھر میں نقش کرنے کو کہتے ہیں ۔ قرآن میں حق کا لفظ دوسوستائیس مرتبہ آیا ہے اور تین معانی میں مستعمل ہوا ہے ثابت کرے ، حصہ اور سچ کے معنی میں اسی طرح حق کا لفظ اللہ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے ۔ مزید ملاحظہ کریں ۔ گائس ایزیجیوفاربنیادی حقوق کی تعریف ان الفاظ میں کرتا ہے ۔انسانی یا بنیادی حقوق جدید نام ہے ان حقوق کا جنہیں روایتی طور پر فطری حقوق کہا جاتا ہے اور ان کی تعریف یوں ہو سکتی ہے کہ وہ اخلاقی حقوق جو ہر انسان کو ہر جگہ اور ہمہ وقت اس بنیاد پر حاصل رہتے ہیں کہ وہ دوسری تمام مخلوقات کے مقابلہ میں اس اعتبار سے ممتاز ہے کہ وہ ذی شعور ذی اخلاق ہے ۔ انصاف کو بری طرح پامال کئے بغیر کسی بھی شخص کو ان حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ نے حق کی تعریف کرتے ہوئے کہا : ’’الحق ما یستحقہ الرجل ‘‘
-رد المختار علی در المختارج/۴، ص/۱۸۸-
’’حق وہ ہے انسان جس کا مستحق ہو۔
شیخ شبلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’ فالحق فی الشریعۃ لا یکون حقاً الا اذا أقرہ الشرع وحکم بوجودہ واعترف لہ بالحمایۃ ولہذا فان مصادر الحقوق فی الشریعۃ ہو الشریعۃ نفسہا ولا یوجد حق شرعی الا ولہ۔‘‘
-المدخل ص/۱۶۵-
شریعت کی نگاہ میں حق وہی امر کہلائے گا جس کا شریعت اقرار واعتراف کرتی ہو اس لئے شرعی مأخذ کے ذریعہ ہی کسی شرعی حق کو پہچانا جا سکتا ہے ۔اصول قانون کے مطابق جب ہم حق کا لفظ اصطلاحی زبان میں استعمال کرتے ہیں تو اس کا متبادل فرض ہوتا ہے لیکن کسی فرد، سوسائٹی یا طبقہ کے مفاد کو تسلیم کرتے وقت ہم عموماً آزادی اختیار اور مراعات کے الفاظ استعمال کرتے ہیں ، ایسے موقع پر ہم فقط کسی کے فرض کی طرف توجہ نہیں دلاتے بلکہ قانون نے جوحق دے رکھا ہے ہم اس کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں ۔
حقوق کی اقسام
حقوق کی بنیادی طور سے کتنی قسمیں ہیں اس میں مختلف آراء ہیں پہلی رائے یہ ہے کہ تمام حقوق فی الحقیقت حقوق اللہ ہی ہیں ۔ دوسری رائے یہ ہے کہ حقوق کی بنیادی طور سے دو قسمیں ہیں ، حقوق اللہ اور حقوق العباد۔
حضرت مولانا اشرف علی تھانوی لکھتے ہیں : حقوق اللہ کی بھی دو قسمیں ہیں منہیات اور مأمورات اور پہلی رائے کی تائید کرتے ہوئے لکھتے ہیں حقوق العباد درحقیقت حقوق اللہ ہی ہیں ۔ پھر حقوق العباد کی تین قسمیں بیان کی ہیں :
۱۔ بدنیہ ۲۔ مالیہ ۳۔ عرضیہ۔
فقہ اسلامی کی رو سے حقوق کی چار اقسام ہیں ۔
۱۔ حقوق اللہ
۲۔ حقوق العباد
۳۔ الجمع بین الحقین مع غلبۃ الاول
۴۔ الجمع بین الحقین مع غلبۃ الثانی
یہی چار قسمیں دکتور عبدالناصر موسی نے بیان کی ہیں ۔ جدیدفقہی مباحث کے مقالہ نگارنے ۴۹ قسمیں بیان کی ہیں ۔ لیکن زیادہ صحیح یہ ہے کہ حقوق کی بنیادی طور سے تین قسمیں ہیں جیسا کہ ڈاکٹر وھبۃ زحیلی نے لکھا ہے ، حقوق اللہ ، حقوق العباداور حقوق مشترکہ۔
اسلام میں خواتین کا مقام اور ان کے حقوق
انسان کے بنیادی حقوق کا مسئلہ درحقیقت اس کائنات میں انسان کی حیثیت ، اس کے مقصد وجود ، معاشرے اور ریاست کے ساتھ اس کے تعلقات کی نوعیت اور خود اس کائنات کی تخلیق اور اس کے آغازوانجام کی حقیقت کو ٹھیک ٹھیک سمجھ لینے کا مسئلہ ہے ۔ انسان کے حقوق کیا ہیں ؟ اس سوال کا جواب ممکن ہی نہیں ہے ۔ جب تک یہ طے نہ کر لیا جائے کہ آخر اس دنیا میں انسان کا منصب ومقام کیا ہے ؟ گویا حق کا سوال حیثیت کے سوال سے مربوط ہے ۔ انسان کی حیثیت کو جانے بغیر یا اس کے بارے میں کوئی رائے قائم کئے بغیر ہم اس کے حقوق کا تعین نہیں کرسکتے ۔ انسانی زندگی سے متعلق ان بنیادی سوالات کا حل کرنے کیلئے ہمیں صرف الہامی مذاہب ہی سے رہنمائی حاصل ہو سکتی تھی ، کیونکہ ہمارے پاس کوئی دوسرا قابل اعتماد ذریعہ علم موجود نہیں تھا ، لیکن انسان نے جب وحی کے ذریعہ علم کو نظر انداز کر کے محض عقل کے بل پر ان سوالات کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی تو یہیں سے ظن وگمان کی بھول بھلیوں اور جہل کی وادیوں میں ٹھوکروں پر ٹھوکریں کھانے کا آغاز ہوا ، یہ حقائق حواس پر مبنی تجربہ اور مشاہدہ کی گرفت سے ماوراء تھے ، بدون تاریخ جو اس کائنات میں انسانی زندگی کے آغاز سے لاکھوں سال بعد وجود میں آئی۔ ان حقائق تک رسائی کیلئے اپنے ریکارڈ میں کوئی مواد پیش کرنے سے قاصر تھی۔
تاریخی اعتبار سے دیکھاجائے تو اسلام میں بنیادی حقوق کا تصور اتنا ہی قدیم ہے جتنا انسان کا وجود۔ خالق کائنات نے جس طرح طبعی زندگی کے اسباب ہوا، پانی ’’خوراک ‘‘پیدائش سے پہلے عطا کر دئیے تھے ۔ اسی طرح ضابطہِ حیات سے بھی آدم علیہ السلام اور نسل آدم کو بذریعہ وحی آگاہ کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا تھا جو آدم علیہ الصلاۃ والسلام سے شروع ہوکر رسول معظم محمد پر ختم ہوا۔
قرآن کی روشنی میں
قرآن میں واضح حکم دیا گیا ہے :﴿فَآَتِ ذَا الْقُرْبَی حَقَّہُ وَالْمِسْکِینَ وَابْنَ السَّبِیلِ ذَلِکَ خَیْرٌ لِلَّذِینَ یُرِیدُونَ وَجْہَ اللَّہِ وَأُولَئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾-الروم :۳۸-
’’ اے مسلمانو! رشتہ داروں کے حقوق ادا کرو ، مسکین اور مسافرکے حقوق ادا کرو یہ ان لوگوں کیلئے بہتر ہے جو اللہ کی رضا کے طالب ہیں اور ایسے ہی لوگ دنیا وآخرت میں کامیاب ہیں ۔ یعنی جو حقوق ادا نہیں کرتے وہ دونوں جگہ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوں گے ۔‘‘
سورئہ بقرہ میں بھی واضح کر دیا گیا ہے کہ قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑ ھ لینے سے انسان اپنے فرائض سے سبکدوش نہیں ہوجاتا ہے بلکہ رشتہ داروں ، یتیموں ، مسکینوں اور جن جن کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے ان کی ادائیگی کے بعد ہی اس کا شمار سچے اور متقی مسلمانوں میں ہو گا۔ سورئہ النحل میں فرمایا : ﴿إِنَّ اللَّہَ یَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِیتَاءِ ذِی الْقُرْبَی وَیَنْہَی عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْکَرِ وَالْبَغْیِ یَعِظُکُمْ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُونَ﴾-آیت نمبر :۹۰-
’’ اللہ حکم دیتا ہے عدل واحسان اور رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنے کا ۔ سورئہ بنی اسرائیل میں بھی حقوق کی ادائیگی کا حکم دیا گیا ہے ۔
سیرت طیبہ ا کی روشنی میں
حقوق کی ادائیگی اور اس کی تاکید سیرت طیبہ کا مطالعہ کرنے والے پرواضح ہے صحیح بخاری کی حدیث ہے ۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا جس کسی پر کسی مسلمان بھائی کے مال یا آبرو کی حق تلفی کا ذمہ ہوا سے چاہئے معاف کرالے اس وقت کے آنے سے پہلے جب اس کے پاس درہم ودینار میں سے کچھ نہیں ہو گا کہ بطور تاوان ادا کرسکے بلکہ اس وقت اگر کچھ عمل صالح ہو گا تو بقدر حق کے صاحب حق کو دلوادیا جائے گا ، اگر نیکیاں نہ ہوئیں تو حقوق کی ادائیگی میں صاحب حق کے گناہ اس کے کھاتے میں ڈال دیے جائیں گے ۔
صحیح مسلم کی روایت ہے جس کا مفہوم ہے ۔ آپ ا نے فرمایا مفلس وہ شخص ہے جس کی نماز، روزہ قیامت کے دن ان لوگوں کو دے دی جائے گی جن کے ساتھ اس نے زیادتی وحق تلفی کا معاملہ کیا ہو گاپھر اس شخص کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
صحیح مسلم کی روایت ہے فرمایا :’’ لتؤدن الحقو ق الی أہلہا یوم القیامۃ۔‘‘
قیامت کے دن اہل حقوق کے حقوق دلوائے جائیں گے ۔‘‘
حقوق کی ادائیگی کی اہمیت کا اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آپ کے سامنے ایک عورت کا ذکر آیا کہ وہ قرآن پڑ ھتی ہے نماز روزے کی پابند ہے لیکن پڑ وسی کو تکلیف پہنچاکر اس کے حقوق ضائع کرتی ہے ۔ آپ نے فرمایا :’’ ہی فی النار‘‘ وہ دوزخی ہے ۔‘‘دوسری عورت جو اپنے پڑ وسی کے حقوق ادا کرتی تھی اس کے بار ے میں فرمایا وہ جنتی ہے ۔-جاری ہے -
٭۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ٭٭۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ٭
مکمل مضمون کا مطالعہ کریں>>

وجوب الاخلاص للہ فی الذبح

المرسل : ابو عبداللہ
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ :إن من أیام العظیمۃ یوم النحر، الیومُ العاشر من ذی الحجۃ یومُ عید الأضحی المبارک ، وقد سمی ہذا الیوم بیوم النحر لأن المسلمین یتقرّبون فیہ إلی اللہ بنحر بہیمۃ الأنعام، فالحجاج فی ہذا الیوم ینحرون ہدایاہم، والمسلمون فی شتی بقاع الأرض ینحرون ضحایاہم ، أولئک یتقربون إلی اللہ بنحر الہدایا وہؤلاء یتقربون إلی اللہ بنحر الضحایا ، قال اللہ تعالیٰ : ﴿وَلِکُلِّ أُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنْسَکًا لِیَذْکُرُوا اسْمَ اللَّہِ عَلَی مَا رَزَقَہُمْ مِنْ بَہِیمَۃِ الْأَنْعَامِ فَإِلَہُکُمْ إِلَہٌ وَاحِدٌ فَلَہُ أَسْلِمُوا وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِینَ ٭ الَّذِینَ إِذَا ذُکِرَ اللَّہُ وَجِلَتْ قُلُوبُہُمْ وَالصَّابِرِینَ عَلَی مَا أَصَابَہُمْ وَالْمُقِیمِی الصَّلَاۃِ وَمِمَّا رَزَقْنَاہُمْ یُنْفِقُونَ ٭وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاہَا لَکُمْ مِنْ شَعَائِرِ اللَّہِ لَکُمْ فِیہَا خَیْرٌ فَاذْکُرُوا اسْمَ اللَّہِ عَلَیْہَا صَوَافَّ فَإِذَا وَجَبَتْ جُنُوبُہَا فَکُلُوا مِنْہَا وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ کَذَلِکَ سَخَّرْنَاہَا لَکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ ٭لَنْ یَنَالَ اللَّہَ لُحُومُہَا وَلَا دِمَاؤُہَا وَلَکِنْ یَنَالُہُ التَّقْوَی مِنْکُمْ کَذَلِکَ سَخَّرَہَا لَکُمْ لِتُکَبِّرُوا اللَّہَ عَلَی مَا ہَدَاکُمْ وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِینَ ﴾
-الحج :۳۴۔۳۷-
أی: لیس المقصود ذبحَہا فقط بل إنما شرع لکم نَحرَ ہذہ الہدایا والضحایا لتذکروہ عند ذبحہا ، فإنہ الخالق الرازق لا أنہ ینالہ شیئ من لحومہا ولا دمائہا فإنہ تعالی ہو الغنی عمّا سواہ ﴿وَلٰکِن یَنَالُہُ التَّقویٰ مِنکُم﴾ أی : الإخلاص فیہا والاحتساب والنیۃ الصالحۃ وابتغاء وجہ اللہ بالعمل ، وفی ہذا أعظم حثَّ وترغیب علی الإخلاص فی النحر وأن یکون القصد فیہ وجہ اللہ وحدہ ، إذ إنّ اللہ تعالیٰ لا یقبل من الأعمال إلا الإخلاص الذی لا یُبتغی فیہ إلا وجہہ سبحانہ ، کما قال تعالیٰ : ﴿قُلْ إِنَّ صَلَاتِی وَنُسُکِی وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِی لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ ٭ لَا شَرِیکَ لَہُ وَبِذَلِکَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِینَ ﴾ -الأنعام :۱۶۲، ۱۶۳-
قال ابن کثیر رحمہ اللہ فی تفسیر ہذہ الآیۃ : ’’ یأمرہ تعالی أن یخبر المشرکین الذین یعبدون غیر اللہ ویذبحون لغیر اسمہ أنہ مخالف لہم فی ذلک ، فإن صلاتہ للہ ونُسکہ علی اسمہ وحدہ لا شریک لہ ، وہذا کقولہ تعالیٰ : ﴿فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانحَر﴾ أی : أخلص لہ صلاتک وذبیحتک ، فإن المشرکین کانوا یعبدون الأصنام ویذبحون لہا ، فأمرہ اللہ تعالیٰ بمخالفتہم والإنحراف عمّا ہم فیہ والإقبال بالقصد والنیۃ والعزم علی الإخلاص للہ تعالیٰ ، قال مجاہد فی قولہ ﴿إِنَّ صَلَاتِی وَنُسُکِی﴾ قال : ’’النسک:الذبح فی الحج والعمرۃ‘‘
وقال الثوری عن السدّی عن سعید بن جبیر ﴿ وَنُسُکِی ﴾ قال : ’’ ذبحی‘‘ وکذا قال السیدی والضحَّاک ‘‘-تفسیر ابن کثیر ۳/۳۷۷-
والذبح عبادۃ عظیمۃ من أنواع العبادات التی یتقرب بہا المسلمون إلی ربِّہم عزوجل نسکاً للہ تعالی من ہدی أو أُضحیۃٍ أو عقیقۃ أو نذر أو غیر ذلک ، فلا یجوز صرفُ ہذہ العبادۃ لغیر اللہ کما لا یجوز صرفُ أی عبادۃٍ لغیرہ سبحانہ ، وقد ثبت فی الصحیح من حدیث أمیر المؤمنین علی بن أبی طالب رضی اللہ عنہ قال : حدّثنی رسول اللہ بأربع کلمات : ’’ لعن اللہ مَن ذبح لغیر اللہ ، ولعن اللہ مَن لعن والدیہ ، ولعن اللہ من آوی مُحدِثاً ، ولعن اللہ من غَیَّرَ مَنَارَ الأَرضِ ‘‘
-صحیح مسلم ، رقم الحدیث : ۱۹۷۸ -
واللعنُ ہو الطردُ والإبعاد من رحمۃ اللہ ، وأخطرُ ہذہ الأمور الأربعۃ التی یستحق فاعلہا ہذہ العقوبۃ ہو الذبح لغیر اللہ ، ولہذا بدأ بہ رسول اللہ مما یدل علی الخطورۃ البالغۃ لہذا الأمر ، إذ إنَّ الذبح لغیر اللہ شرکٌ ، والأمورُ المذکورۃ معہ فی الحدیث إنما ہی من کبائر الإثم ولا تصل إلں رتبۃ الشرک ، وکل ذبح لغیر اللہ شرکٌ ولو کان المذبوحُ المتقرب بہ تافہاً حقیراً کالذباب ونحوہ فکیف بمن یقرِّب نفائس الأنعام وأطایبہا .
روی الإمام أحمد فی ’’ الزہد‘‘ ، وأبو نعیم فی ’’ الحلیۃ‘‘ وغیرہما عن سلمان الفارسی رضی اللہ عنہ موقوفاً علیہ بإسناد صحیح أنہ قال : ’’ دخل رجل الجنۃ فی ذباب ودخل آخر النار فی ذباب ، قالوا : وکیف ذاک؟ قال : مر رجلان ممن کان قبلکم علی ناس معہم صنمٌ لا یمر بہم أحد إلا قرّب لصنمہم ، فقالوا لأحدہما : قرِّب شیئاً قال: ما عندی شیئ قالوا: قرب ولو ذباباً فقرب ذبابا ومضی فدخل النار، وقالوا للآخر : قرب ، قال : ما کنتُ لأُقرِّب لأحدٍ شیئاً دون اللہ عزوجل فضربوا عنقہ فدخل الجنۃ ‘‘ - الزہد: ص:۳۲، ۳۳- و ’’ الحلیۃ‘‘ ۱/۲۰۳-
وہذا مما یبین عظم الشرک وشدۃ خطرہ ولو فی الشیئ القلیل وأنہ یوجب النار ، فہذا الرجل الأول لما قرب لہذا الصنم أرذل الحیوان وأخسہ وہو الذباب کان جزاؤہ النار، لإشراکہ فی عبادۃ الہ ، فإذا کان ہذا فیمن قرب ذباباً ، فکیف بمن یستسمن الإبل وغیرہا لیتقرب بنحرہا لمن کان یعبدہ من دون اللہ من قبر أو مشہد أو حجر أو شجر أو غیر ذلک .
قال الإمام الشوکانی رحمہ اللہ فی کتابہ ’’شرح الصدور‘‘ : ومن المفاسد البالغۃ إلی حد یرمی بصاحبہ إلی وراء حائط الإسلام ، ویلقیہ علی أمِّ رأسہ من أعلی مکان الدین أن کثیراً منہم یأتی بأحسن ما یملکہ من الأنعام وأجود ما یحوزہ من المواشی فینحرہ عند ذلک القبر متقرباً بہ إلیہ راجیاً ما یضمر حصولہ منہ ، فیہلّ بہ لغیر اللہ ، ویتعبد بہ لوثنٍ من الأوثان ، إذ إنہ لا فرق بین النحائر لأحجار منصوبۃ یسمونہا وثناً ، ولا یؤثر تحلیلاً ولا تحریماً ، فإن من أطلق علی الخمر غیر اسمہا وشربہا کان حکمہ حکم من شربہا وہو یسمیہا باسمہا ، بلا خلاف بین المسلمین أجمعین .
ولا شکّ أن النحر نوعٌ من أنواع العبادۃ التی تعبّد اللہ العباد بہا، کالہدایا والفدیۃ والضحایا ، فالمتقرب بہا إلی القبر والناحر لہا عندہ لم یکن لہ غرض بذلک إلا تعظیمہ وکرامتہ واستجلاب الخیر منہ واستدفاع الشرّ بہ ، وہذہ عبادۃ لا شک فیہا ، وکفاک من شرّ سماعہ ولا حول ولا قوۃ إلا باللہ العلی العظیم ، وإنا للہ وإنا إلیہ راجعون ، والنبی یقول : ’’لا عقر فی الإسلام ‘‘ ، قال عبد الرزاق [الصنعانی] : ’’ کانوا یعقرون عند القبر، یعنی : بقراً وشیاہاً ‘‘ رواہ أبو داؤد بإسناد صحیح عن أنس بن مالک رضی اللہ عنہ ‘‘ . کلام الإمام الشوکانی رحمہ اللہ.
-شرح الصدور ۔ للشوکانی ۔ ضمن ’’ الجامع الفرید ‘‘ ص/۵۲۹۔۵۳۰-
وقد أبلغ فیہ رحمہ اللہ بالنصیحۃ وأحسن فی التحذیر من ہذا الأمر الخطیر ، فنسأل اللہ الکریم أن یقینا جمیعاً من الوقوع فی شیئ من ذلک ، وأن یجعلَ أعمالنا کلہا خالصۃ لوجہہ الکریم ، مطابقۃ لسنۃ نبیہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم إنہ جواد کریم .
مکمل مضمون کا مطالعہ کریں>>

TEHREEK-E-KHATM-E-NUBUVAT PAKISTAN

By Dr. Abdul Hai Madni
WHAT IS AHMADIYYA MOVEMENT IN ISLAM? OR QADIANI
The "Ahmadiyya Movement in Islam" called by Muslims everywhere as "Qadianism" was established, in 1889, by Mirza Ghulam Qadiani (1835 - 1908) in a small Punjabi village of India. Mirza Ghulam Qadiani's family was in the service of the British colonial powers and, to his dying days, Mirza Ghulam openly declared his allegiance to the British imperialism. In fact, the culmination of his service to foreign power was his declaration that resistance to oppressors (Jihad) as ordained in the Holy Quran by God had become unIslamic!
Mirza Ghulam Qadiani's life was laden with contradictory and anti-Islamic claims. In 1880, he declared himself to be only a muslim writer; in 1885, he announced he was a revivalist (Mujaddid); in 1891, he claimed to be the Promised Mehdi and the Promised Messiah; and in 1901, he pronounced himself a prophet of God! Facing an open and strong opposition by Muslim Scholars and religious leaders for this blasphemous declaration and other teachings which belittled Jesus Christ and contradicted the Quranic revelations, he also announced that he was the second and improved coming of the Prophet Muhammad with authority to reinterpret the Holy Quran at his pleasure! Not happy with mere prophethood, in 1904, he declared himself the Krishna (the Hindu Lord). Obviously, like an unethical modern-day politician, he was trying to appeal to all uneducated segments of the public in India!
The Christians and Muslims also, each according to the understanding of Messiahship within their own religious tradition, are awaiting Jesus' miraculous reappearance from the Heaven. Therefore the terrain is fertile for the emergence of all kinds of false prophets and spiritual teachers.
Mirza Ghulam A.Qadiani (Mirza) is one of this century's self-proclaimed Messiahs. During his life he converted thousands of people to his religion known as Ahmadiyyat / Qadianiat. His followers are likewise known as Ahmadis, Qadianis, Mirzais and Lahoris. Mirza proclaimed himself as the Promised Messiah and prophet of God. He has confused people about the nature of Prophethood and he has confused people about Jesus. After Mirza declared himself to be the Promised Messiah, grave difficulties confronted him in validating a claim rendered spurious by his not fitting Jesus' foretold description. He therefore resorted to first denying the miraculous reappearance of Jesus by suggesting a hitherto unknown history, according to which Jesus fled to Kashmir after escaping the scene of his alleged crucifixion, where after hiding for many years he died and now lies buried in Kashmir. By fabricating this story Mirza tried to remove Jesus from the scene, but the problem still remained that the Promised Messiah was to be no other than Jesus, son of Mary. This wrinkle was ironed out by Mirza as follows:"God named me Mary in the third volume of Barahin-i-Ahmadiyyah. I was nurtured for a period of two years in a Mary-like conditioned was bought up in a womanly seclusion. Then the spirit of Jesus was breathed into me just as (it was breathed) into Mary. Thus I was considered to be pregnant in a metaphorical manner. After a period of several months, not more than ten, I was made Jesus out of Mary by the revelation embodied in the last parts of the forth volume of Barahin-I-Ahmadiyyah; and thus I became Jesus, son of Mary. But God did not inform me about this secret during the time of Barahin-i-Ahmadiyyah". ashti-I-Nuh: Ruhani Khaza'in, Vol. 19, p.50
Mirza's future claims of being the recipient of Devine revelations became an easy matter after this marvellous act of jugglery. He could now assert:
I swear by God in whose hands my soul is that it is He Who has sent me and has named me a Prophet; it is He Who has called me the Promised Messiah and has shown big signs to testify me; these signs reach three hundred thousand. Haqiqat al-Wahi: Ruhani Khaza'in, Vol. 22, p.503
Fortunately, the Almighty Allah time and time again, exposed Mirza Ghulam Qadiani's falsehood through his own statements and so-called prophecies. Even many of his own family members were aware of his treachery and openly opposed his anti-Islamic teachings. Mirza Ghulam Qadiani finally died by intervention of the Almighty Allah and as the result of religious prayer challenges (Mubahala), in 1908.
Since the death of Mirza Ghulam Qadiani, his heirs the leaders of the Qadiani organization have been extremely busy trying to clean up his image. Backed by seemingly unlimited support they receive from their anti-Muslim allies, they have been promoting falsehood and deception through the media. They have even resorted to removing some of most controversial writings of Qadiani leadership which had become a source of embarrassment to them from circulation. Their partial English translation of their original text has been heavily edited to exclude all controversial and anti-Islamic sayings of their cult leaders. Obviously, they themselves realize the true nature of their "Ahmadiyya Mission".
The goal of the "Ahmadiyya Mission" is, and has always been, to confuse uninformed Muslims, divide the Ummah, prevent resistance to oppressors (Jihad), and provide an alternative to non-Muslims who find the message of Islam appealing. Quite cunningly, they do so by using Islamic terminology and teachings, and hiding the controversial writings of their founders.
HOW DOES QADIANISM (AHMADIYYAT) DIFFER FROM ISLAM
According to the tenet of their faith, the Qadianis (Ahmadis) are required to study, accept, and follow the works, "revelations" (wahi), and writings of Mirza Ghulam Qadiani. In his books, Mirza Ghulam Qadiani makes the claim that he is in direct communication with God and ordains it upon his followers to believe in "Islam" according to his revelations. Here some of the differences between Qadianis (Ahmadis) and Muslims. It should be obvious that most of the beliefs instructed by Mirza Ghulam Qadiani contradict verses of the Holy Quran not to mention hundreds of authentic Hadith and Islamic doctrine. It is unfortunate that many of the people who have been tricked into accepting Qadianism (Ahmadiyyat) are unaware of this aspect of the Qadiani (Ahmadi) doctrine. Since the rituals of Qadianism resembles that of Islam and much of their terminology is stolen from Islam, many Qadianis are under the impression that they are following an Islamic school of thought. They continue to blindly send their donations to the Qadiani (Ahmadi) leadership thinking they are supporting Islam, when in reality they are helping a non Islamic cult. For the most part, the followers of Qadianism neither have a good grasp of Islam nor have access to the complete writings of Mirza Ghulam Qadiani which are mostly written in Urdu and are not aware of his various claims. ( To be continued InshaALLAH )
مکمل مضمون کا مطالعہ کریں>>

Monday, November 2, 2009

اے طائرِ لاہوتی اس رزق سے موت اچھی

اداریہ
قال اللہ عزوجل ﴿رَبِّ اجعَل ہَذَ ا البَلَدَ آمِناً وَارزُق اَہلَہُ مِنَ الثَّمَرَاتِ﴾(البقرۃ) ’’اے میرے رب اس شہر کو (مکہ)امن کا گہوارہ بنا دے اوراس کے باسیوں کو پھلوں کی روزی دے ۔‘‘
قرآن کے یہ الفاظ دراصل ابو الأنبیاء سیدنا إبراہیم علیہ السلام کی دعا کے ہیں جس میں اس بات کی طرف واضح اشارہ موجود ہے کہ کسی بھی شہر یا ملک کی معیشت کی بحالی اس کے امن وامان کی صورتحال کے ساتھ وابستہ ہے ۔ معاشی آسودگی بحالی امن کے بغیر ممکن نہیں ہے مگر شومئی قسمت کہ مملکت خداد پاکستان اندرونی اوربیرونی سازشوں کے سبب امن کی نعمت سے محروم ہو چکا ہے ملکِ عزیز پاکستان کا امن وامان تہہ وبالا کر دیا گیا ہے آئے روز خودکش دھماکے ، انتہا پسندوں کی تخریبی کاروائیاں سرحدوں کی غیر یقینی صورت حال سے اہل پاکستان ہی نہیں بلکہ پورا عالمِ اسلام حیران وپریشان ہے ۔

مملکت خداد پاکستان آگ وخون کے ایسے دریا کو عبور کر کے حاصل کی گئی ہے جن کی تفصیلات سے ہر صاحب علم اچھی طرح واقف ہے اب دوبارہ اس مملکت کو آگ وخون کے دریا میں ڈبو نے کی سازشیں اپنے عروج پر پہنچ چکی ہیں ۔دگرگوں ہوتی اس صورت حال میں اس وقت بھونچال ساآ گیا جب میڈیا پر یہ خبر نشر ہوئی کہ افواج پاکستان کے ہیڈ کوارٹر (G-H-Q)واقع راولپنڈی پردہشت گردوں نے حملہ کر دیا اور تقریباً چالیس کے قریب اہل کارں کو یرغمال بنا لیا مگر افواج پاکستان کے جوانوں نے روایتی بہادری اور پیشہ وارانہ مہارت سے ان دہشت گردوں پر قابو پالیا بلاشبہ پاکستان آرمی اپنی اس کامیابی پر مبارکباد کی مستحق ہے مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس واقع کے پیچھے کونسے ہاتھ ہیں اور دہشت گردوں کا ہدف پاک فوج ہی کیوں ۔ ۔ ۔ ؟
اہل نظر اور دانشورحضرات کا تجزیہ تو یہی ہے کہ یہ سراسر امریکا کی بلیک واٹرنامی خفیہ تنظیم کا ہی ’’کالا دھندا‘‘ ہے کیونکہ گذشتہ دنوں پاک فوج نے پاکستان کیلئے مجوزہ (غلامی فنڈ) کیری لو گربل کی شدید مخالفت کی تھی اگر فوج کی جانب سے اس بل پر شدید تحفظات کا اظہار نہ کیا جاتا توممکن تھا کہ ’’جمہوری حکومت ‘‘اس بھیک کو بلا چوں چراں قبول کر لیتی۔

کیری لوگربل کیا ہے ؟
کیری لوگربل امریکی سنیٹر جان کیری اور لوگرکاپاکستان کیلئے تیار کردہ امدادی پیکج ہے جس میں پاکستان کی خود مختاری ، آزادی کو چیلنج کیا گیا ہے ۔اس کی شرائط پاکستان کو غلام بنانے کی کوششیں ہیں ۔پاکستان کو ایسی شرائط میں جکڑ نے کی کوششیں کی جا رہی ہے جس سے امریکا بہادر کو پاکستان کے فوجی عدالتی اور دیگر حکومتی شعبوں میں براہِ راست مداخلت کی اجازت حاصل ہو گی ۔
آئیے ذرا اس بل کی شرائط پر نظر دہراتے ہیں یہ بل 24 ستمبر 2009ء کو امریکی سینیٹ سے منظور ہوا۔ اس بل کے تحت پاکستان کو 7.5 بلین ڈالر کی رقم اگلے پانچ سال میں ملے گی ، جس میں سے 1.5 ہر سال ملا کرے گی، مگر اس بل میں تحریر ہے کہ امداد روکی بھی جا سکتی ہے اگر امریکہ نے درج ذیل امور خلاف شرائط محسوس کیں ۔
٭ پاکستانی فوج یا کسی انٹیلی جنس ادارے میں ’’موجود عناصر ‘‘ (یعنی براہ راست الزام) کی جانب سے انتہا پسندوں یا دہشت گرد گروپوں کی مددخصوصاً وہ گروپ جنہوں نے افغانستان میں امریکی یا اتحادی افواج پر حملے کئے ہوں (یعنی پاک فوج کی 2000 جانوں کی قربانی کو مطلقاً فراموش کر دیں )یا پڑ وسی ممالک کے لوگوں یا علاقوں پر حملوں میں ملوث ہوں (ظاہر سی بات ہے پڑ وسی ملک کا مطلب بھارت اور علاقے کا مطلب کشمیر ہے )۔
٭ سرحد پر پڑ وسی ممالک میں حملوں کی روک تھام(یعنی اپنے ملک میں دہشت گردی کی موجودگی کا اعتراف) قبائلی علاقوں میں دہشت گرد کیمپوں کی بندش (ڈرون حملوں کا جواز بنانا)۔ ملک کے مختلف حصوں بشمول کوئٹہ اور مریدکے (یعنی نام نہاد شورائے کوئٹہ کے وجود کو تسلیم کرنا اور لشکر طیبہ کی موجودگی کا اقرار) میں موجو د دہشت گردوں کے ٹھکانوں کا مکمل خاتمہ ۔
٭ پاکستان کی سیکورٹی فورسز پاکستان میں عدالتی وسیاسی معاملات میں عملاً یا کسی طریقے سے دخل اندازی نہیں کریں گی(یعنی ملکی خود مختاری میں مکمل مداخلت)
٭ فوجیوں کی ترقی کے معاملات پر نظر رکھنے اور مدارس کے نصاب کی تبدیلی کی بھی بات کی گئی۔
ظاہر سی بات ہے کہ ایسی شرائط قوم کیلئے غلامی کا پروانہ ہی ہوتیں ہیں لیکن یادرکھئے ! اسلام دشمن طاقتوں کا اصل مقصد پاکستان کے ناقابل تسخیر ایٹمی پروگرام کو تسخیر کرنا ہے ۔ ہمارے ارباب اختیار اورنام نہاد دانشور اس بل کے خلاف عوامی اور حقیقت پر مبنی مخالفت کو دیکھ کر بری طرح بلبلا اٹھے ہیں ستم بالا ستم تویہ ہے کہ امریکا میں تعینات پاکستان کے سفیر حسین احمد حقانی صاحب نے تو میڈیا پر پاکستانی قوم کو اس بل کی شرائط پر یا ۔ ۔ ۔ یاکا چکر دیا تھا جبکہ ’’عوامی حکومت‘‘ نے بھی اس بل کے بدلے میں ملنی والی بھیک کو پاکستان کیلئے سود مند قرار دے رہی ہے اس پر مستزاد ہمارے وزیر خارجہ اسی بات پر شاداں وفرحاں ہیں کہ امریکا کا وضاحتی بیان بھی اس بل کیساتھ منسلک کیا جائے گا شاید ان کو اس بات کا علم نہیں کہ وضاحتی بیان سے اس بل کی شرائط غلامی میں کوئی فرق نہیں پڑ ے گا۔ کیا یہ بل پاکستان کے دکھوں کا مداوا کرسکے گا ہرگز نہیں جس بل یا امداد کے بدلے میں کسی قوم کا دفاع اورایٹمی ادارے داؤ پر لگ جائیں وہ قوم کبھی بھی سرخرو نہیں ہو سکتی ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام میں اقبال کے فلسفہ خودی کا جذبہ پیدا کیا جائے تاکہ ہم اس رزق سے دستبردار ہوجائیں جس سے پرواز میں کوتاہی آتی ہو۔

اے طائرِ لا ہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی

مقتدر ومتمول طبقے کو بھی چاہیے کہ وہ مال ومنال اور حب جاہ وکمال کی لالچ میں دوسروں سے بھیک مانگنے کی بجائے سادگی وکفایت شعاری کو اپنائے اور اگر واقعی پاکستان کا خزانہ خالی ہو چکا ہے تو اصحاب اقتدار کو چاہیے کہ وہ اپنا سرمایہ یورپی بنکوں سے نکلوا کرپاکستان واپس لائیں اور ایسی دور رس تجارتی پالیسیاں ترتیب دی جائیں جس سے معیشت کو سہارا ملے ۔ بیگانوں کی امداد پر پلنی والی قوم غیور وجسور نہیں ہو سکتی۔اب اتحاد واتفاق کا وقت ہے ہمیں اپنے دفاع اور شناخت کیلئے مشترکہ جدوجہد کرنا ہو گی اب پاکستانی قوم کو حقیقی معنوں میں متحد قوم بن کر افواج پاکستان کے شانہ بشانہ چلناچاہیے تاکہ افواجِ پاکستان حفاظتِ پاکستان کیلئے جرأت مندانہ اور دوراندیش فیصلے کرسکے اور پاکستان کی طرف بڑ ھتے ہوئے خطرات کو روکنے میں کامیاب ہو سکے ۔اور پاک فوج کو بھی چاہیے کہ جس طرح انہوں نے اپنے ہیڈ کوارٹرکو بچانے کیلئے جان کی بازی لگائی اسی جذبہ ولولہ کیساتھ اسلامی احکامات کو نافذ کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کرے اور حکمران جماعت کو اس بات پر مجبور کرے کہ اسلام کے نفاذ میں ہی پاکستان کے امن کی ضمانت ہے ۔
اس وقت وطنِ عزیز جن سنگین بحرانوں بیرونی خطرات اوراندرونی خلفشار سے دوچار ہے اس سے نجات کا واحد راستہ یہی ہے کہ ہم اپنی اپنی سطح اوردائرہ اختیار میں اسلامی احکامات کی تنفیذ کریں اور اصحاب اقتدار پر بھی لازم ہے کہ وہ اسلامی فکر رکھنے والے بلاد اسلامیہ کیساتھ روابط کوبڑ ھائیں امریکہ اوردوسری اسلام دشمن طاقتوں سے فاصلہ رکھیں اسی میں ہی وطن عزیز کی مشکلات کا مداوا ہے ۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمارے سیاستدانوں اسلام پسندوں اور محب وطن قوتوں کو ذاتی اور وقتی مفادات کی بجائے اجتماعی اورنظریاتی مفادات کیلئے جمع ہونے کی توفیق مرحمت فرمائے ۔ آمین
مکمل مضمون کا مطالعہ کریں>>

فیوض القرآن

قسط نمبر: ۱۷
فیض الابرار صدیقی
ان س
اِنسٌ مانوس ہونا جو کہ وحشت کی ضد ہے چنانچہ الحمر الانسیۃ پالتو گدھوں کو کہتے ہیں اور حمار وحشی جنگلی گدھے کو ۔ استأنس الوحشی کے معنی ہیں جانور مانوس ہو گیا۔ (تاج العروس، اقرب الموارد)
اس کی واحداِنسِیٌ ۔ الأَنَسَ وہ قبیلہ جو کسی بھی مقام پر مقیم ہو ۔ (تاج العروس)
ابن فارس نے لکھا ہے کہ إِنسٌ کے بنیادی معنی ظاہر ہونے کے ہیں اورجَنَّ کے معنی پوشیدہ ہونے کے ہیں اس کی جمع أنَاسٌ اور اَنَاسِیٌّ ہے ۔

بعض مقامات پر اس کی جمع الناس بھی استعمال کی جاتی ہے ۔ قرآن مجید میں ایک مقام پراناس قبیلہ کے مفہوم میں بھی آیا ہے ۔
﴿قَد عَلِمَ کُلُّ اُنَاسٍ مَشرَبَہُم﴾ (البقرۃ:۶۰)
سب قبیلوں نے اپنا اپنا گھاٹ جان لیا۔
اور نوع انسانی کے معنوں میں بھی استعمال ہوا ہے ۔جیسے سورۃ الفرقان میں استعمال ہوا ہے ۔
﴿لِنُحْیِیَ بِہِ بَلْدَۃً مَیْتًا وَنُسْقِیَہُ مِمَّا خَلَقْنَا أَنْعَامًا وَأَنَاسِیَّ کَثِیرًا ﴾(الفرقان:۴۹)
تاکہ ہم اس کے ذریعے مردہ شہر کو زندہ کر دیں اوراس کو پلائیں اپنی مخلوقات میں سے بہت سے چوپایوں اور انسانوں کو پلاتے ہیں ۔
﴿وَلَقَدْ صَرَّفْنَاہُ بَیْنَہُمْ لِیَذَّکَّرُوا فَأَبَی أَکْثَرُ النَّاسِ إِلَّا کُفُورًا ﴾(الفرقان:۵۰)
اور بیشک ہم نے اسے ان کے درمیان طرح طرح سے بیان کیا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں مگر پھر بھی اکثر لوگوں نے سوائے ناشکری کے مانانہیں ۔
لفظ انسان کی ایک سے زائدتوجیہات کتب لغات میں پیش کی جاتی ہیں لیکن زیادہ تر علماء کا خیال ہے کہ یہ بھی إِنسٌ سے ماخوذ ہے اور قرآن مجید میں انسان اور بشر مفردات معنوں میں استعمال ہوئے ہیں ۔
اور کچھ علماء کے نزدیک یہ قوم کی طرح اسم جمع ہے اور کچھ کی رائے میں اناس تھا جو إِنسٌ کی جمع ہے ۔ اور کچھ نے کہا کہ یہ دراصل الأناسی تھا کثرت استعمال سے آخر کی یاء گرگئی۔ اس کے بعد الأناس کا درمیانی ھمزہ بھی تخفیفاً حذف کر دیا گیا اور اس طرح الناس باقی رہ گیا۔ (تاج العروس)
اور کہا گیا کہ کسی شئے کی معرفت اور ادراک حاصل کر لینے اور یقین کرنے کو اناس کہتے ہیں جو أَنَسَ سے ماخوذ ہے جس کے معنی دیکھنے اور محسوس کرنے کے ہیں ۔ (القاموس المحیط)
قرآن مجید میں ہے ﴿فَإِن آنَستُم مِنہُم رُشداً﴾ (النساء :۶) پھر اگر ان میں تم ہوشیاری اور حسن تدبیر پاؤ۔
﴿وَإِنِّی آنَستُ نَاراً﴾(طہ:۱۰)
اور مجھے آگ دکھائی دی ہے ۔
﴿حَتَّی تِستَأنِسُوا﴾(النور:۲۷)
جب تک کہ اجازت نہ لے لو۔
انسان کو اس نام سے اس لئے پکارا گیا کہ وہ أُنُس کی صفت کے ساتھ پیدا کیا گیا جس کی وجہ سے ایک دوسرے کی محبت اس کی فطرت میں رکھ دی گئی ۔
اور کہا گیا کہ اسے اس نام سے اس لئے پکارا گیا ہے کہ جو اس کے ساتھ مانوس اور بے تکلف ہو یہ اس سے مانوس ہوجاتا ہے ۔(المقتضب۴/۱۳)
اور ایک ضعیف قول کے مطابق انسان نسی سے ہے جس کا مطلب بھول جانا ہے کہ انسان أپنا عہد اولین بھول رکھتا ہے ۔
الصحاح میں ہے کہ میں اپنے والے ۔ مانوس۔ انسان (الصحاح) اس لفظی مفاہیم کے مطابق اس کا ایک مفہوم أَنَسَ محسوس کرنا یا دیکھنا ہے ۔
قرآن مجید میں اس کے درج ذیل مشتقات استعمال ہوئے ہیں ۔
آنس، آنستُ ، آنستم ، تستأنسوا ، مستأنسین ، إنس، الإنس ، أناس ، إنسان، الإنسان ، للإنسان ، إنسیاً، أناسی۔
قرآن مجید میں یہ لفظ درج ذیل مفاہیم میں استعمال ہوا ہے ۔
۱۔ انسان یعنی آدم
﴿وَلَقَد خَلَقنَا الإِنسَانَ مِن سُلٰلَۃٍ مِن طِینٍ﴾(المؤمنون )
یقینا ہم نے انسان کو بجتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا ۔
﴿خَلَقَ الإِنسَانَ مِن صَلصَالٍ کَالفَخَّارِ ﴾
(الرحمن:۱۴ )
اس نے انسان کو ایسی آواز دینے والی مٹی سے پیدا کیا جو ٹھیکری کی طرح تھی۔
۲۔ انسان ۔ اولاد آدم
﴿وَلَقَد خَلَقنَا الإِنسَانَ مَا تُوَسوِسُ بِہِ نَفسُہُ﴾(ق)
ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور اس کے دل میں جو خیالات اٹھتے ہیں ان سے ہم واقف ہیں ۔
﴿إِنَّا خَلَقنَا الإِنسَانَ مِن نُطفَۃٍ﴾(الدہر:۲)
بیشک ہم نے انسان کو ملے جلے نطفے سے پیدا کیا ہے ۔
أ ھ ل
اہل : اس مادہ کے معنی عبرانی زبان میں خیمہ کے ہوتے ہیں اس اعتبار سے اس کا مفہوم وہ لوگ جو ایک خیمہ میں رہتے ہوں ۔ (المحیط)
اور راغب نے اس کا مفہوم بیان کیا : یہ لفظ ان لوگوں کیلئے بولا جانے لگا جو آپس میں نسب، دین یا پیشہ ، مکان اور شہر میں مشترک ہوں ۔ (مفردات)
عمومی طور پر اہل الرجل سے مراد انسان کے خاندان اور قریبی رشتہ داروں ہوتے ہیں ۔
اہل بیت گھر میں رہنے والے ۔ اہل رجل اولاد اور بیوی کیلئے استعمال ہوتا ہے ۔ (تاج العر وس ، مفردات)
المحیط میں ابو حنیفہ کے حوالے سے ایک معنی یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اس سے بالخصوص بیوی مراد ہوتی ہے ۔ (المحیط)
لیکن ایک استعمال میں کفر اور ایمان کو معیار بنایا جاتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا نوح کو طوفان کے وقت ان کے بیٹے کے حوالے سے فرمایا ۔
﴿إِنَّہُ لَیسَ مِن أَہلِکَ﴾(ہود :۴۶)
وہ تمہارے اہل میں سے نہیں ہے ۔
اس کی وجہ یہ بیان کی گئی کہ ﴿إِنَّہُ عَمَلٌ غَیرُ صَالِحٍ﴾(ہود:۴۶) کہ اس کے اعمال غیر صالح ہیں ۔
لہذا اگر دین کا تعلق نہیں ہے تو کوئی رشتہ داری اہل میں شمار نہ ہو گی۔
اہل سے مراد استحقاق بھی ہے جیسے اردومیں اہلیت یعنی صلاحیت کے مفہوم میں استعمال کیا جاتا ہے ۔
قرآن مجید میں ہے ﴿إِنَّ اللَّہَ یَأْمُرُکُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَی أَہْلِہَا ﴾(النساء :۵۸)
اللہ تعالیٰ تم کو حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل (مستحقین )کی طرف لوٹا دو۔
اہل الکتاب سے مراد وہ لوگ جو کسی نہ کسی آسمانی کتاب پر ایمان رکھنے کے مدعی تھے ۔ پس رسول کا اہل وہ ہے جو اس کی پیروی کرے ۔(۔/۸۳) نیز اس کے معنی حقدار مالک اور ان کے بھی ہیں جو کسی کام کی اہلیت رکھیں ۔ (۴/۵۸)
اس لفظ کے قرآنی مشتقات درج ذیل ہیں ۔
أہل ، أہلک ، أہلکم ، أہلنا ، أہلہ ، أہلہا ، أھلہم ، أہلہن ، أہلونا ، أہلی ، أہلیکم، أہلیہم
اہل کے قرآنی مفاہیم درج ذیل ہیں
أہل
۱۔اہل وعیال
﴿وَیَنْقَلِبُ إِلَی أَہْلِہِ مَسْرُورًا ﴾(۸۴/۹)
اور وہ اپنے اہل کی طرف ہنسی خوشی لوٹ آئے گا۔
۲۔ بیوی
﴿قَالَتْ مَا جَزَاء ُ مَنْ أَرَادَ بِأَہْلِکَ سُوء ًا إِلَّا أَنْ یُسْجَنَ أَوْ عَذَابٌ أَلِیمٌ ﴾(یوسف : ۲۵)
تو کہنے لگی جو شخص تیری بیوی کے ساتھ برا ارادہ کرے بس اس کی سزا یہی کہ اسے قید کر دیاجائے یا اور کوئی درد ناک سزا دی جائے ۔
۳۔ قرابت دار
﴿وَشَہِدَ شَاہِدٌ مِنْ أَہْلِہَا إِنْ کَانَ قَمِیصُہُ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَہُوَ مِنَ الْکَاذِبِینَ ﴾(یوسف : ۲۶)
اور عورت کے قبیلے ہی کے ایک شخص نے گواہی دی کہ اگر اس کا کرتا آگے سے پھٹا ہوا ہو تو عورت سچی ہے اور یوسف علیہ السلام جھوٹ بولنے والوں میں سے ہیں ۔
﴿وَاجْعَلْ لِی وَزِیرًا مِنْ أَہْلِی ﴾(طہ:۲۹)
اور میرا وزیر میرے کنبے میں سے کر دے ۔
۴۔ پیروکار
﴿فَأَنجَینَاہُ وَأَھلَہُ﴾(الأعراف:۸۳)
پس ہم نے اس کو(لوط علیہ السلام)نجات دی اور اس کے پیروکاروں کو ۔
﴿فَأَسرِ بِأَہلِکَ بِقِطعٍ مِنَ اللَّیلِ﴾ (ہود:۸۱)
پس تو اپنے پیروکاروں کو لیکر کچھ رات رہے نکل کھڑ ا ہو۔
۵۔ حقدار مالک
﴿إِنَّ اللَّہَ یَأْمُرُکُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَی أَہْلِہَا﴾(النساء : ۵۸)
اللہ تعالیٰ تمہیں تاکیدی حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں ان تک پہنچاؤ۔
﴿فَانکِحُوہُنَّ بِإِذنِ أَہلِہِنَّ﴾(النساء :۲۵)
ان کے مالکوں کی اجازت سے ان سے نکاح کر لو۔
۶۔ لائق سزاوار
﴿قَالَ یَا نُوحُ إِنَّہُ لَیْسَ مِنْ أَہْلِکَ إِنَّہُ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ ﴾(ہود:۴۶)
اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے نوح ! یقینا وہ تیرے گھرانے سے نہیں ہے اس کے کام بالکل ناسائشتہ ہیں ۔
۷۔رہنے والے باشندے
﴿أَفَأَمِنَ أَہْلُ الْقُرَی أَنْ یَأْتِیَہُمْ بَأْسُنَا بَیَاتًا وَہُمْ نَائِمُونَ﴾(الأعراف:۹۷)
کیا پھر بھی ان بستیوں کے رہنے والے اس بات سے بے فکر ہوگئے ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب شب کے وقت آپڑ ے جس وقت وہ سوتے ہوں ۔
۸۔ اہل بیت گھر کے لوگ بمعنی بیوی
﴿قَالُوا أَتَعْجَبِینَ مِنْ أَمْرِ اللَّہِ رَحْمَۃُ اللَّہِ وَبَرَکَاتُہُ عَلَیْکُمْ أَہْلَ الْبَیْتِ ﴾(ہود:۷۳)
فرشتوں نے کہا : کیا تو اللہ کی قدرت سے تعجب کرتی ہے تم پر اے اس گھر کے لوگوں اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہو۔
﴿یَا نِسَاءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَأَحَدٍ مِنَ النِّسَاءِ إِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِی فِی قَلْبِہِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلًا مَعْرُوفًا٭وَقَرْنَ فِی بُیُوتِکُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاہِلِیَّۃِ الْأُولَی وَأَقِمْنَ الصَّلَاۃَ وَآَتِینَ الزَّکَاۃَ وَأَطِعْنَ اللَّہَ وَرَسُولَہُ إِنَّمَا یُرِیدُ اللَّہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ أَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیرًا ﴾(الأحزاب : ۳۲۔۳۳)
اے نبی کی بیویوں تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر تم پرہیز گاری کرو تو نرم لہجے سے بات نہ کرو کہ جس کے دل میں روگ ہو وہ کوئی (برا)خیال کرے ہاں قاعدے کے مطابق کلام کرو اپنے گھروں میں قرار سے رہواور قدیمی جاہلیت کے زمانے کی طرح اپنے بناؤ کا اظہار نہ کرو ، نماز ادا کرتی رہو اور زکوۃ دیتی رہو اور اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت گزاری کرو اللہ تعالیٰ یہی چاہتا ہے کہ اے نبی کی گھر والیوں تم سے وہ ہر قسم کی لغو کو دور کر دے اور وہ تمہیں خوب(گنا ہوں سے ) صاف کر دے ۔
۹۔ اہل کتاب
وہ لوگ جو کسی سماوی کتاب کے ماننے کے مدعی ہوں
﴿وَمِنْ أَہْلِ الْکِتَابِ مَنْ إِنْ تَأْمَنْہُ بِقِنْطَارٍ یُؤَدِّہِ إِلَیْکَ وَمِنْہُمْ مَنْ إِنْ تَأْمَنْہُ بِدِینَارٍ لَا یُؤَدِّہِ إِلَیْکَ إِلَّا مَا دُمْتَ عَلَیْہِ قَائِمًا ذَلِکَ بِأَنَّہُمْ قَالُوا لَیْسَ عَلَیْنَا فِی الْأُمِّیِّینَ سَبِیلٌ﴾(آل عمران :۷۵)
بعض اہل کتاب تو ایسے ہیں کہ اگر انہیں خزانے کا امین بنا دے تو بھی وہ تجھے واپس کر دیں اور ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں کہ اگر تو انہیں ایک دینار بھی امانت دے تو تجھے ادا نہ کریں ہاں یہ اور بات ہے کہ تو ا سکے سر پر ہی کھڑ ا رہے یہ اس لیے کہ انہوں نے کہہ رکھا ہے کہ ہم پر ان جاہلوں کے حق کا کوئی گناہ نہیں ۔
مکمل مضمون کا مطالعہ کریں>>

حج کی مسنون دعائیں

مرتب : الشیخ ضیاء الرحمٰن المدنی

دعا کی ضرورت
ہرانسان فقیر وعاجز ہے ، اپنی زندگی کی ہر قسم کی ضرورت کیلئے وہ اللہ کا محتاج ہے ۔ غنی اورحمید صرف اللہ کی ذات ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔
﴿یٰاَیُّہَا النَّاسُ أَنتُمُ الفُقَرائُ اِلَی اللّٰہِ وَاللّٰہُ ہُوَ الغَنِیُّ الحَمِیدُ﴾(فاطر :۱۵)
لوگو، تم اللہ کے محتاج ہو اوراللہ تو غنی وحمید ہے ۔
اس لئے فقیر وعاجز بندہ کا فرض ہے کہ اپنی ہر ضرورت کیلئے اللہ کو پکارے ۔
دعا کیلئے حکم الہٰی﴿وَقَالَ رَبُّکُمُ ادعُونِی اَستَجِب لَکُم ﴾ (المؤمن :۶۰)
اورتمہارے پروردگار کا ارشاد ہے کہ تم مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔

﴿اُدعُوا رَبَّکُم تَضَرُّعاً وَّخُفیَۃً ، اِنَّہُ لاَ یُحِبُّ المُعتَدِینَ﴾(الأعراف :۵۵)
اپنے رب کو پکارو گڑ گراتے ہوئے اور چپکے چپکے یقینا وہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
دعا عبادت ہے ۔نبی ﷺ کا ارشاد ہے : الدُّعَاء ُ ہُوَ الْعِبَادَۃُ (ترمذی)
دعا عین عبادت ہے ۔
دعا مومن کا ہتھیار ہے
الدُّعَاء ُ سِلاَحُ المُؤمِنِ وَعِمَادُ الدِّینِ وَنُورُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ (رواہ الحاکم بسند صحیح)
دعا مومن کا ہتھیار ، دین کا ستون اور آسمان وزمین کا نور ہے ۔
ہر مصیبت کاعلاج
ارشاد نبوی ﷺ ہے : اَلدُّعَائُ یَنفَعُ مِمَّا نَزَلَ وَمِمَّا لَم یَنزِل وَإِنَّ البَلاَئَ لَیَنزِلُ فَیَلقَاہُ الدُّعَآہُ فَیَعتَلِجَانِ إِلَی یَومِ القِیَامَۃِ۔
(رواہ البزار والطبرانی والحاکم وقال صحیح الاسناد)
دعا مفید ہے اس مصیبت کیلئے جواتر چکی اور جوابھی نہیں اتری اور مصیبت نازل ہوتی ہے تو دعا اس سے ٹکراتی ہے اور قیامت تک دونوں کی ٹکر جاری رہتی ہے ۔
دعا کے آداب وشرائط
دعا سے قبل حسب ذیل باتوں کا لحاظ رکھنا ضروری ہے ۔
اخلاص : دعا صرف اللہ سے مانگی جائے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔﴿فَادعُوہُ مُخلِصِینَ لَہُ الدِّینَ﴾ (المؤمن:۶۵)
اللہ ہی کو پکارو اپنے دین کو اس کیلئے خالص کر کے ۔
حضور قلب: دعا کرتے وقت دل اللہ کی طرف متوجہ ہونا چاہیے ۔ دعا کے معنی ومفہوم کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ دعا کی قبولیت پر پورا یقین ہونا چاہیے ۔ارشاد ہے ۔ اُدْعُوا اللَّہَ وَأَنْتُمْ مُوقِنُونَ بِالْإِجَابَۃِ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّہَ لَا یَسْتَجِیبُ دُعَاء ً مِنْ قَلْبٍ غَافِلٍ لَاہٍ (ترمذی )
اللہ سے دعامانگو تو دعا کی قبولیت پر یقین رکھو کیونکہ اللہ تعالیٰ غافل لاپرواہ دل کی دعا قبول نہیں کرتا۔
عاجزی وانکساری:دعا کرتے وقت عاجزی وانکساری کا اظہار کرنا چاہیے ۔ ارشاد ربانی ہے ۔ ﴿اُدعُوا رَبَّکُم تَضَرُّعاً وَّخُفیَۃً﴾ (الأعراف:۵۵)
اس کے ساتھ اپنے قصوروں کا اعتراف ، آئندہ کیلئے اس سے اجتناب کا عہد اور توبہ وندامت بھی ہونی چاہیے ۔
دعا سوال ہے اور سائل کیلئے عجز وانکساری ضروری ہے ۔
حمد وصلوۃ: دعا سے قبل اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کرنی چاہیے اور رسول اللہ ﷺ پر درود وسلام بھیجنا چاہیے ۔ (ترمذی)
٭ دعا میں اپنے بہترین اعمال کا واسطہ دینا چاہیے ۔ (بخاری حدیث اصحاب الغار)
٭ دعا کرتے وقت قبلہ رخ اور دوزانوں بیٹھنا چاہیے ۔ (ترمذی)
٭ اللہ کے اسماء الحسنیٰ کے ساتھ دعا مانگنی چاہیے ۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ﴿وَلِلّٰہِ الأَسمَائُ الحُسنیٰ فَادعُوہُ بِہاَ ﴾( الأعراف :۱۸)
اور اللہ کے اچھے نام ہیں انہی سے اس کو پکارو۔
متفرق آداب
٭ دونوں ہاتھوں کو مونڈھوں تک اٹھا کر دعا مانگنی چاہیے ۔ (ترمذی)
٭ دعا میں ہاتھوں کی ہتھیلی منہ کی طرف کرنی چاہیے ۔ (ابوداؤد)
٭ دعا میں تکلف اورترنم سے پرہیز کیا جائے ۔ (بخاری)
٭ دعا پہلے اپنے لئے ، پھر اپنے والدین ، بھائی، بہنوں اور عام مسلمانوں کیلئے مانگنی چاہیے ۔ (مسلم)
٭ دعا میں یوں نہ کہنا چاہیے کہ خدایا اگر تو چاہے تو مجھ کو دے کیونکہ اللہ کو روکنے والا کوئی نہیں ۔ ( بخاری)
٭ گناہ کے کام اور رشتہ داری کاٹنے کیلئے دعا نہیں مانگنی چاہیے ۔ (مسلم)
٭ دعا میں جلدی نہ کرنی چاہیے یعنی یوں نہ کہنا چاہیے کہ میں نے دعا کی اور اب تک قبول نہ ہوئی۔
(بخاری ومسلم)
٭ دعا کرنے والا دعا کے بعد آمین کہے ۔ (بخاری ومسلم)
٭ بہتر ہے کہ دعا کرنے والا باوضو ہو اور دعا کی جگہ بھی پاک وصاف ہو ۔
٭ دعا کی قبولیت کیلئے حلال روزی کھانا مؤثر ذریعہ ہے حرام خور بیت اللہ شریف میں بھی جا کر دعا مانگے تو رد کر دی جاتی ہے ۔ (مسلم)
دعا کی مقبولیت کے مخصوص اوقات
٭ رات کا آخری حصہ اس وقت رحمت الٰہی متوجہ ہوتی ہے ۔ ( بخاری )
٭ لیلۃ القدر (ترمذی )
٭ جمعہ کی ساعت میں ۔ (مسلم)
٭ خاص طور پر امام کے منبر پر بیٹھنے سے نماز سے فارغ ہونے تک (حصن حصین )
٭ اذان اوراقامت کے درمیان ۔ (ابوداؤد)
٭ فرض نماز کے بعد ۔ (ترمذی)
٭ عرفہ کے دن کی دعا ۔ (ترمذی )
٭ زمزم پینے کے وقت ۔ (مستدرک حاکم)
٭ روزہ افطار کرنے کے وقت
٭ امام کے ولا الضالین کہنے کے وقت ۔ (بخاری)
وہ لوگ جن کی دعائیں قبول ہوتی ہیں
٭ ماں باپ کی دعا اولاد کے حق میں ۔ (ترمذی)
٭ مظلوم کی دعا ۔ (ترمذی)
٭ مسافر کی دعا ۔(ترمذی)
٭ حاکم عادل کی دعا (مسلم)
٭ فرماں بردار اولاد کی دعا ۔ (ابوداؤد)
٭ روزہ دار کی دعا افطار ی کے وقت ۔ (مسلم)
٭ مسلمان کی دعا اپنے غیر حاضر بھائی کیلئے ۔
دعا قبول ہونے والے مقامات
٭ بیت اللہ شریف کے اندر ۔ (مسلم)
٭ ملتزم جو رکن یمانی اور مقام ابراہیم کے درمیان ہے ۔ (طبرانی)
٭ زمزم کے کنوئیں کے پاس ۔ (دار قطنی)
٭ صفا ومروہ کی پہاڑ ی پر ۔
٭ مسعیٰ جہاں سعی کی جاتی ہے ۔
٭ مقام ابراہیم کے پاس۔
٭ عرفات میں ۔ (مسلم)
٭ مشعر الحرام مزدلفہ ۔ (قرآن )
سفر کی دعائیں
مسافرکو رخصت کرنے کی دعا
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ جب اللہ کو کوئی چیز سونپی جاتی ہے وہ اس کی حفاظت کرتا ہے ۔ (صحیح رواہ احمد)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص سفر کرنا چاہے اس کو اپنے پسماندگان کو یہ کہہ کر رخصت کرنا چاہیے ۔
اَستَودِعُکُمُ اللّٰہَ الَّذِی لاَ تُضِیعُ وَدَآئِعَہُ
میں تمہیں اس اللہ کے سپرد کرتا ہوں جس کی سپرد کی ہوئی چیز ضائع نہیں ہوتی۔ (حسن رواہ احمد فی المسند وابن ماجہ)
جناب سالم رحمہ اللہ تعالیٰ کہتے ہیں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب کسی شخص کو سفر کیلئے رخصت کرتے تو فرماتے : آؤ میں تمہیں ویسے ہی رخصت کروں جس طرح رسول اللہ ﷺ ہم کو رخصت کرتے تھے ۔ آپ ﷺ فرماتے تھے :
اَستَودِعُ اللّٰہَ دِینَکَ وَاَمَانَتَکَ وَآخِرَعَمَلِکَ (ترمذی)
میں تمہارے دین اور تمہاری امانت اور تمہارے آخری عمل کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں ۔
نیز رسول اللہ ﷺ جب کسی کو رخصت فرماتے تو اس کا ہاتھ پکڑ لیتے اور جب تک وہ مسافر آپ ﷺ کا ہاتھ نہ چھوڑ تا آپ ﷺ ہاتھ پکڑ ے رہتے ۔ (ترمذی حسن صحیح)
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ میں سفر کا ارادہ رکھتا ہوں ، آپ ﷺ مجھے مزید نصیحت فرمائیے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : زَوَّدَکَ اللّٰہُ التَّقوَی اس نے کہا مزید ارشاد ہو ، آپ ﷺ نے فرمایا : وَغَفَرَ ذَنبَکَ وَیَسَّرَلَکَ الخَیرَحَیثُمَا کُنتَ پوری دعا یوں ہے : زَوَّدَکَ اللّٰہُ التَّقوَی وَغَفَرَ ذَنبَکَ وَیَسَّرَلَکَ الخَیرَحَیثُمَا کُنتَ (رواہ ترمذی حسن)
اللہ تعالیٰ تمہیں تقویٰ کا زادِ سفر عطا کرے اور تمہارے گناہ بخش دے اور تم جہاں رہو خیر وبرکت تمہیں میسر رہے ۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ میں سفر کا ارادہ رکھتا ہوں ، آپ مجھے وصیت فرمائیے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ سے ڈرتے رہنا اور بلندی پر چڑ ھنا تو اللہ اکبر کہنا ، جب وہ شخص چلا گیا تب آپ ﷺ نے اس کے حق میں یہ دعا پڑ ھی۔ اَللّٰہُمَّ اَطوِلہُ البُعدَ وَہَوِّن عَلَیہِ السَّفَرَ۔ (ترمذی ، صححہ الحاکم )
اے اللہ اس کی مسافت کو کم کر دے اور اس کے سفر کو آسان کر دے ۔
سفر کیلئے روانگی کی دعا
سیدنا علی بن ربیعہ رحمہ اللہ تعالیٰ کہتے ہیں کہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا کہ ان کی سواری کا جانور لایا گیا ۔سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے رکاب میں پاؤں رکھ کر فرمایا بِسمِ اللّٰہِ جب جانور کی پیٹھ پر بیٹھ گئے تو فرمایا : اَلحَمدُ لِلّٰہِ پھر یہ دعا پڑ ھی۔ ﴿سُبْحَانَ الَّذِی سَخَّرَ لَنَا ہَذَا وَمَا کُنَّا لَہُ مُقْرِنِینَ وَإِنَّا إِلَی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ﴾(مسلم)
کتنی پاک ذات ہے جس نے اس کو ہمارے لئے تابع کر دیا ورنہ ہم اس کو قابو میں نہیں کرسکتے تھے اور ہم سب اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔
اس کے بعد تین مرتبہ اَلحَمدُ لِلّٰہِ کہا اور تین مرتبہ اللہ اکبر کہا اور یہ دعا پڑ ھی۔
سُبْحَانَکَ إِنِّی قَدْ ظَلَمْتُ نَفْسِی فَاغْفِرْ لِی فَإِنَّہُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ
تیری ذات پاک ہے میں نے یقینا خود پر ظلم کیا ہے میری مغفرت فرما، گنا ہوں کو تیرے سوا کوئی معاف نہیں کرسکتا۔
اس کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ مسکرائے تو میں نے مسکرانے کا سبب پوچھا کہنے لگے میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح مسکراتے ہوئے دیکھا تو آپ ﷺ سے سبب پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا : جب بندہ اِغفِر لِی ذُنُوبِی (میرے گناہ بخش دے ) کہتا ہے تو اللہ کو بڑ ا بھلا معلوم ہوتا ہے کہ بندہ کو یقین ہے ۔ اللہ کے سوا کوئی گناہ نہیں معاف کرسکتا۔ (صححہ الترمذی)
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب سفر پر روانہ ہونے کیلئے اپنی سواری پر سوار ہوجاتے تو تین مرتبہ اللہ اکبر کہتے پھر یہ دعا پڑ ھتے ۔ ﴿سُبْحَانَ الَّذِی سَخَّرَ لَنَا ہَذَا وَمَا کُنَّا لَہُ مُقْرِنِینَ وَإِنَّا إِلَی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ ﴾اللَّہُمَّ إِنَّا نَسْأَلُکَ فِی سَفَرِنَا ہَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَی وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَی اللَّہُمَّ ہَوِّنْ عَلَیْنَا سَفَرَنَا ہَذَا وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَہُ اللَّہُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِی السَّفَرِ وَالْخَلِیفَۃُ فِی الْأَہْلِ اللَّہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَکَآبَۃِ الْمَنْظَرِ وَسُوءِ الْمُنْقَلَبِ فِی الْمَالِ وَالْأَہْلِ (رواہ مسلم ص/۴۲۴، ج/۱)
کتنی پاک ذات ہے جس نے اس کو ہمارے تابع کر دیا ورنہ ہم اس کو قابو میں نہیں کرسکتے تھے اور ہم سب اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔اے اللہ ہم اس سفر میں تجھ سے نیکی اور تقوی کا سوال کرتے ہیں اور ایسے عمل کی توفیق چاہتے ہیں جس سے تو راضی ہو ۔ اے اللہ ہم پر اس سفر کو آسان کر دے اور ہم سے اس کی دوری کم کر دے اے اللہ تو سفر میں ہمارا ساتھ ہے اور گھر میں ہمارا نگہبان۔ اے اللہ میں تجھ سے پناہ چاہتا ہوں سفر کی تکلیف اور برے منظر اور اہل وعیال اورمال میں بری حالت کے ساتھ واپس آنے سے ۔
سفر سے واپسی کی دعا
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی غزوہ یا حج یا عمرہ سے واپس ہونے لگتے تو ہر اونچی جگہ پر تین مرتبہ اللہ اکبر کہتے اور یہ دعا پڑ ھتے ۔
لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ آیِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ صَدَقَ اللَّہُ وَعْدَہُ وَنَصَرَ عَبْدَہُ وَہَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَہُ
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی کی سلطنت ہے اور اسی کیلئے حمد ہے اوروہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ لوٹنے والے ہیں ، توبہ کرنے والے ہیں عبادت کرنے والے ہیں اپنے رب کی حمد کرنے والے ہیں اللہ نے اپنا وعدہ پورا کیا اور اپنے بندہ (محمدﷺ) کی مدد کی اور اکیلے تمام جماعتوں کو شکست دی۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور ہم جب بلندی پرچڑ ھتے تو اللہ اکبر کہتے اور جب نیچے اترتے تو سُبحَانَ اللّٰہِ کہتے ۔ (بخاری)
احرام کی دعا
احرام کی نیت کرنے سے پہلے حمد وثنا اور تسبیح وتکبیر کہنی چاہیے پھر حج یا عمرہ یا دونوں جس کا ارادہ ہو اس کی نیت لفظوں میں کرے اور لبیک پڑ ھے ۔ لبیک کے صحیح الفاظ یہ ہیں ۔ لَبَّیْکَ اللَّہُمَّ لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ لَا شَرِیکَ لَکَ لَبَّیْکَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَا شَرِیکَ لَکَ
میں حاضر ہوں اے اللہ میں حاضر ہوں ، میں حاضر ہوں ، تیرا کوئی شریک نہیں ، بیشک تعریف تیرے ہی لئے ہے اورنعمتیں تیری ہی دی ہوئی ہیں اورملک تیرا ہی ہے تیرا کوئی شریک نہیں ۔
حدودِحرم میں داخلہ کی دعا
حدودِ حرم میں داخلہ کی کوئی مخصوص دُعا صحیح احادیث سے ثابت نہیں مگر سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما یہ دعا پڑ ھا کرتے تھے ۔ لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ ۔
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی کی سلطنت ہے اور اسی کیلئے حمد ہے اوروہ ہر چیز پر قادر ہے ۔
حرم شریف میں داخل ہونے کی دعا
حرم میں داخل ہونے کی مخصوص دعا رسول اللہا سے ثابت نہیں البتہ عام مسجدوں میں داخل ہوتے وقت جودعا پڑ ھی جاتی ہے وہی پڑ ھنی چاہیے ۔ اللَّہُمَّ افْتَحْ لِی أَبْوَابَ رَحْمَتِکَ
اے اللہ میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے ۔
طواف کی دعائیں
حجر اسود کے پاس اللہ اکبر کہنا چاہیے ، رکن یمانی کے پاس یہ دعا پڑ ھنی چاہیے ۔ اللَّہُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ رَبَّنَا آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَفِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ۔
اللہ کا نام لیکر جو بہت عظیم ہے ۔ اے اللہ میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں معافی اور عافیت کا سوال کرتا ہوں ۔ اے ہمارے رب ہم کو دنیا میں بھی بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھی اور ہمیں جہنم کی آگ سے بچا۔
طواف کی حالت میں بیت اللہ کے گرد چکر لگاتے ہوئے کوئی خاص دعا صحیح سند سے مروی نہیں ، البتہ تسبیحات میں سے یہ دعا پڑ ھنی ہے ۔
سُبْحَانَ اللَّہِ وَالْحَمْدُ لِلَّہِ وَلَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ وَاللَّہُ أَکْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللَّہِ ۔
اللہ کی ذات پاک ہے اورتعریف اللہ ہی کیلئے ہے اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ بہت بڑ ا ہے اور طاقت اور زور کسی کو نہیں سوائے اللہ کے ۔
طواف کی دو رکعتیں
طواف کے بعد مقام ابراہیم علیہ السلام کے پاس دو رکعت پڑ ھنی چاہیے پہلی رکعت میں قل یا یہا الکفرون اور دوسری رکعت میں قل ہو اللہ احد پڑ ھنی مسنون ہے ۔ (مسلم)
ملتزم کے پاس دعا مانگنی مسنون ہے ۔ (ابوداؤد) مگر اس کیلئے کوئی خاص الفاظ وارد نہیں ۔
مقام ابراہیم کے پاس یہ آیت تلاوت کر کے دو رکعتیں طواف کی پڑ ھنی مسنون ہیں ۔ (مسلم)
﴿وَاتَّخِذُوا مِن مَقَامِ اِبرَاہِیمَ مُصَلَّی﴾ (البقرۃ:۱۲۵)
اور جس جگہ ابراہیم علیہ السلام کھڑ ے ہوتے تھے اس کو نماز کی جگہ بنالو ۔
کعبہ کے اندر دو رکعت پڑ ھنی، دعا مانگنی ، توبہ واستغفار کرنا ، ہر کونے میں تکبیر ، تہلیل، تسبیح اور حمد وثنا کرنا مسنون ہے ۔(بخاری)
حرم سے نکلنے کی دعا
اس کیلئے کوئی خاص دعا ثابت نہیں ، البتہ عام مسجدوں سے نکلتے وقت جو دعا مسنون ہے وہی حرم سے نکلنے کے وقت بھی پڑ ھنی چاہیے یعنی بِسْمِ اللَّہِ وَالصَّلَاۃُ عَلَی رسول اللہ ﷺ للَّہُمَّ اغْفِرْ لِی ذُنُوبِی وَافْتَحْ لِی أَبْوَابَ فَضْلِکَ ۔
اللہ کا نام لیکر نکلتا ہوں اور رسول اللہ ﷺ پر درود بھیجتا ہوں اے میرے رب میرے گناہ معاف کر دے اورمیرے لئے اپنے فضل کے دروازے کھول دے ۔
زمزم پینے کی دعا
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما تاکید کرتے تھے کہ جہاں تک ممکن ہوزمزم قبلہ رخ ہوکر بسم اللہ کہہ کر تین سانس میں پینا چاہیے ۔ رسول اللہ ﷺ سے زمزم پینے کی مخصوص دعا ثابت نہیں ، البتہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما زمزم پیتے وقت یہ دعا پڑ ھا کرتے تھے ۔
اَللّٰہُمَّ إِنِّی اَسئَلُکَ عِلماً نَافِعاً وَّرِزقاً وَّاسِعاً وَّشِفَآئً مِّن کُلِّ دَآئٍ ۔ (الترغیب )
اے اللہ میں تجھ سے مفید علم اور وسیع رزق اور ہر بیماری سے شفاء کا سوال کرتا ہوں ۔
سعی کی دعا
سعی شروع کرتے وقت یہ دعا پڑ ھے ۔
اِنَّ الصَّفَا وَالمَروَۃَ مِن شَعَآئِرِ اللّٰہِ ، اَبدَأُ بِمَا بَدَئَ اللّٰہُ بِہِ ۔ (مسلم)
بیشک(کوہِ) صفا ومروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں جس چیز کو اللہ نے پہلے ذکر کیا ہے میں بھی اُسی سے شروع کرتا ہوں ۔
صفا اورمروہ میں ہر پھیرے میں قبلہ رو کھڑ ے ہوکر اللہ کی حمد وثنا اور تسبیح ، تہلیل اور دعا مانگنا مسنون ہے ۔ اس کی ترکیب یہ ہے کہ پہلے تین بار اللہ اکبر کہے پھر یہ ذکر پڑ ھے ۔
لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ وَحْدَہُ أَنْجَزَ وَعْدَہُ وَنَصَرَ عَبْدَہُ وَہَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَہُ
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی کی سلطنت ہے اور اسی کیلئے حمد ہے اوروہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس نے اپنا وعدہ پورا کیا اور اپنے بندہ (محمدا) کی مدد کی اور اکیلے تمام جماعتوں کو شکست دی۔
صفا اور مروہ کے درمیان چلتے ہوئے پڑ ھنے کیلئے کوئی خاص دعا منقول نہیں ، البتہ بعض صحابہ کرام سیدنا علی اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہماسے یہ دعا منقول ہے ۔
رَبِّ اغفِر وَارحَم وَاَنتَ الاَعَزُّ الاَکرَمُ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
اے اللہ بخش دے اور رحم فرما ، تو ہی سب سے زیادہ عزت والا اور سب سے زیادہ بزرگ ہے ۔
اس کے علاوہ قرآن وحدیث کی دعاؤں میں سے جو دعا چاہیں پڑ ھیں ۔
ایام عشرہ : پہلی ذی الحجہ سے دسویں ذی الحجہ تک ایام عشرہ کہلاتے ہیں ان میں عبادت الٰہی اور نیک کام کرنے کا بہت بڑ ا ثواب ہے ۔ (بخاری)
ان دنوں میں کثرت سے یہ تسبیح پڑ ھتے رہنا چاہیے ۔
سُبْحَانَ اللَّہِ وَالْحَمْدُ لِلَّہِ وَلَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ وَاللَّہُ أَکْبَر۔ (الترغیب والترہیب)
پاک ہے اللہ تعالیٰ اور تمام تعریفیں اسی کیلئے ہیں ۔ اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ سب سے بڑ ا ہے ۔
منیٰ میں جاتے وقت
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ منیٰ سے عرفات کو روانہ ہوئے تو ہم میں سے کوئی لبیک پڑ ھ رہا تھا اور کوئی اللہ اکبر کہہ رہا تھا۔
عرفات کی دعا
یوم عرفہ (حج کادن ) بڑ ی فضیلت کا دن ہے ۔ حدیث شریف میں آیا ہے : عرفات کے دن سے زیادہ اور کسی دن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دوزخ کی آگ سے آزاد نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ اس دن قریب ہوتا ہے اور تجلی فرماتا ہے کہ یہ لوگ کیا چاہتے ہیں ۔ (مسلم)
عرفات دعا کی قبولیت کی جگہ ہے ۔
حدیث شریف میں آیا ہے ۔ خَیْرُ الدُّعَاءِ دُعَاء ُ یَوْمِ عَرَفَۃَ ۔
بہترین دعا عرفات کے دن کی دعا ہے ۔
رسول اللہ ﷺ ظہر کے بعد سے مغرب تک تسبیح، تکبیر، تہلیل اور دعا کرتے رہے ۔ اس لئے ہر حاجی کو چاہیے کہ اس دن اس متبرک جگہ میں خوب دل لگا کر دعا مانگے اور تلاوت قرآن ، ذکر الٰہی ، توبہ واستغفار اور تکبیر وتہلیل میں مشغول رہے درود شریف کثرت سے پڑ ھے لبیک بار بارکہے ، اپنے لئے بھی دعا مانگے اور عزیز واقارب واحباب کیلئے بھی ۔
عرفات کے دن رسول اللہ ﷺ اس دعا کو اکثر پڑ ھتے تھے ۔
لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیر۔
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی کی سلطنت ہے اور اسی کیلئے حمد ہے اوروہ ہر چیز پر قادر ہے ۔
مزدلفہ : مزدلفہ میں ذکر الٰہی کرنا چاہیے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
﴿ فَإِذَا اَفَضتُم مِن عَرَفَاتٍ فَاذکُرُوا اللّٰہَ عِندَ المَشعَرِ الحَرَامِ ، وَاذکُرُوہُ کَمَا ہَدٰکُم وَاِن کُنتُم مِن قَبلِہِ لَمِنَ الضَّآلِّینَ﴾(مسلم)
اور جب تم عرفات سے واپس ہوتو مشعر حرام کے پاس یعنی مزدلفہ میں اللہ کا ذکر کرو جس طرح اس نے تم کو سکھایا ہے ۔ اگرچہ اس سے بیشتر تم لوگ گمرا ہوں میں سے تھے ۔
رسول اللہ ﷺ نے مزدلفہ میں نمازِ فجر کے بعد سے خوب اجالا ہونے تک قبلہ رخ ہوکر دعا مانگی ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کو بھی یہاں دیر تک دعا مانگنے کا حکم دیا ہے ۔ (مسلم)
رمی جمار کی دعا
منیٰ میں شیطان کو کنکری مارتے وقت یا اس کے بعد دونوں روایتیں ہیں اللہ اکبر کہنا چاہیے ۔ رمی جمار سے فارغ ہوکر یہ دعا پڑ ھنی چاہیے ۔
اللَّہُمَّ اجْعَلْہُ حَجًّا مَبْرُورًا وَذَنْبًا مَغْفُورًا
اے اللہ ہمارے حج کو مقبول حج کر اور ہمارے گناہ کو معاف فرما۔
قربانی کی دعا
جانور کو قبلہ رخ لٹا کر یہ دعا پڑ ھی جائے ۔
اِنِّی وَجَّہتُ وَجہِیَ لِلَّذِی فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ عَلَی مِلَّۃِ اِبرَاہِیمَ حَنِیفاً وَّمَا اَنَا مِنَ المُشرِکِینَ ، اِنَّ صَلاَتِی وَنُسُکِی وَمَحیَایَ وَمَمَاتِی لِلّٰہِ رَبِّ العَالَمِینَ لاَ شَرِیکَ لَہُ وَبِذٰلِکَ اُمِرتُ وَاَنَا مِنَ المُسلِمِینَ ، اَللّٰہُمَّ مِنکَ وَلَکَ پھر بِسمِ اللّٰہِ اَللّٰہُ اَکبَرُ کہہ کر ذبح کرے ۔اگر جانور دوسرے کی طرف سے ذبح کرتا ہوتو اس کا نام لیکر کہے میں رخ اس ذات کی طرف پھیر لیا ہے جسنے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے میں ابراہیم کی ملت پر ہوں ، یکسو ہوکر اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں بیشک میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ رب العالمین کیلئے جس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں فرمانبرداروں میں ہوں ۔ اللہ کے نام کے ساتھ ، اللہ سب سے بڑ ا ہے ، اے اللہ قبول کریہ قربانی فلاں کی طرف سے ۔
احکام وآداب زیارت مدینہ منورہ
مسجد نبوی میں نماز کی نیت سے مدینہ منورہ کا سفر کیا جائے تاکہ نبی ﷺ کے اس حکم کی خلاف ورزی نہ ہو جس میں آپ ﷺ نے مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے سوا کسی طرف بغرضِ ثواب رختِ سفر باندھنے سے منع فرمایا ہے ۔ (بخاری:۱۱۸۹)
مدینہ منورہ پہنچ کر مسجد نبوی میں جائیں ، جہاں ایک نماز کا ثواب ایک ہزار نماز کے برابر ہے ۔ (بخاری :۱۱۹۰) جبکہ پچاس ہزار نماز کاثواب والی حدیث (ابن ماجہ) ضعیف وناقابل حجت ہے ۔
٭ مسجد نبوی میں داخل ہوتے ہی دعائے دخول اور پھر تحیۃ المسجد پڑ ھیں اور اگر ممکن ہوتو روضۃ الجنۃ میں پڑ ھیں جو قبرِ شریف کے ساتھ ہی سفید ستونوں والی جگہ ہے اور جسے نبی ﷺ نے ، جنت کا باغیچہ قرار دیا ہے ۔ (صحیح بخاری :۱۱۹۶، ۱۸۸۸) اگر کسی فرض نماز کا وقت ہے تو باجماعت نماز ادا کر لیں ۔
٭ فرض نماز یا تحیۃ المسجد کی دو رکعتوں کے بعد نبی ﷺ کی قبرِمقدس کے پاس جائیں اور یوں سلام کریں : اَلسَّلاَمُ عَلَیکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ
اے اللہ کے رسول ﷺ آپ پر سلام ہو۔
پھر ساتھ ہی سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی قبر پر انہیں یوں سلام کریں ۔ اَلسَّلاَمُ عَلَیکَ یَا اَبَا بَکرٍ (اے ابو بکر رضی اللہ عنہ! آپ پر سلام ہو۔
اور پھر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی قبر پر انہیں یوں سلام کہیں ۔
اَلسَّلاَمُ عَلَیکَ یَاعُمَرُ اے عمر رضی اللہ عنہ! آپ پر سلام ہو۔ (مؤطا امام مالک ۱/۱۶۶)
٭ نبی ﷺ کی آخری آرامگاہ کے درودیوار یا جالیوں اور پوری مسجد نبوی کے کسی بھی حصہ کو تبرک کی نیت سے چھونا، پھر ہاتھوں کو چہرے اور سینے پر پھیرنا اور چومنا ثابت نہیں ہے ۔ امام غزالی ، ابن تیمیہ، امام نو وی، ابن قدامہ، ملا علی قاری ، شیخ عبد الحق حنفی دہلوی اور مولانا احمد رضا خان(بریلوی) رحمہم اللہ نے بھی ان امور کو ممنوع قرار دیا ہے ۔ (احیاء علوم الدین از غزالی ۱/۲۴۴)
٭ قبر شریف کے پاس شور پیدا کرنا یا طویل عرصہ تک رک کر شور کا باعث بننا بھی درست نہیں کیونکہ یہ ادب گاہِ عالم ہے اور یہاں آوازوں کو پست رکھنا ضروری ہے ۔ (الحجرات:۲)
صلوٰۃ وسلام سے فارغ ہوجائیں تو قبلہ رو ہوکر دعائیں مانگیں نہ کہ قبر شریف کی طرف منہ کر کے ۔(التحقیق والایضاح ص/۴۳)
٭ حرم مکی کی طرح ہی مسجد نبوی سے بھی الٹے پاؤں نکلنا ایک خود ساختہ فعل ہے جس کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے ۔ (منا سک الحج والعمرۃ ص/۴۳)
٭ قیام مدینہ منورہ کے دوران کسی بھی وقت اقامت گاہ سے وضو کر کے جائیں اور مسجد قبا میں دو رکعتیں پڑ ھ لیں ۔ اس کا ثواب پورے عمرے کے برابر ہے ۔ (نسائی ۲/۳۶)
مسجد قبا کی زیارت سنتِ رسول ﷺ ہے ۔ (صحیح مسلم۹۔/۱۶۹، ۱۷۰)
٭ بقیع الغرقد (جنت البقیع) کی زیارت کر سکتے ہیں اور وہاں عام قبرستان کی زیارت والی دعا کریں اور ان الفاظ کا اضافہ کر دیں ۔ اَللّٰہُمَّ اغفِر لِاَہلِ بَقِیعِ الغَرقِدِ اے اللہ! اس بقیع غرقد کے آسودگانِ خاک کی مغفرت فرما دے ۔
٭ شہدائے احد کی زیارت بھی جائزہے اور وہاں بھی عام زیارت قبور والی دعا کریں ۔
٭ مدینہ منورہ میں جتنا بھی قیام ممکن ہو جائز ہے ۔ چالیس نمازیں پوری کرنے کیلئے ہفتہ بھر رکنا کوئی شرط نہیں ، کیونکہ اس موضوع پر بیان کی جانے والی مسند احمد وطبرانی اوسط والی روایت ضعیف وناقابلِ استدلال ہے ۔ (سلسلۃ الأحادیث الضعیفۃ للألبانی ۱/۳۶۶)
٭دورانِ حج اگر کوئی شخص مقصد بنائے بغیر ضمنی طور پر کوئی تجارت یا مزدوری کرنا چاہے تو یہ جائز ہے ۔(البقرۃ:۱۹۸، الحج:۳۸، تفسیر ابن کثیر ۱/۲۸۵، صحیح بخاری حدیث نمبر :۱۷۷)
البتہ اس میں غیر قانونی اشیاء غیر قانونی طریقوں سے لانا، ان کا کاروبار کرنا اور کسٹم میں دھوکا دہی کرنا جوکہ عام حالات میں بھی روا نہیں ، وہ حج وحجاج کیلئے بھی جائز نہیں ، ان سے بچیں ۔ (جدید فقہی مسائل ، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ص:۱۳۰، ۱۳۱)
٭ مکہ مکرمہ کا اصل تحفہ آبِ زمزم اور مدینہ منورہ کا مبارک ہدیہ عجوہ کھجور ہے کیونکہ آبِ زمزم ہرغرض ومرض کیلئے مفید ہے ۔ (مسند احمد ۲/۳۰۵، ۳۵۶) یہ کھانے کا کھانا ۔ (صحیح مسلم۲/۱۴) اور بیماری کی دوا ہے ۔(مسند احمد ۲/۳۰۱، ۳۰۵) اور عجوہ کھجور کے سات دانے صبح کھالیں تو اس دن زہر اور سحر(جادو) اثر نہیں کرتا۔ (بخاری :۵۴۴۵) یہ شفا اور زہر کا تریاق ہے ۔ (صحیح مسلم۳/۱۴)
یہ جنت کا پھل ہے ۔ (ترمذی:۲۰۶۸)
٭ سفر چاہے کتنا ہی آرام دہ کیوں نہ ہو ، یہ عذاب کا ایک ٹکڑ ا ہے ، لہذا کوئی شخص جب اپنا کام مکمل کر لے تو جلد اپنے اہل وعیال میں لوٹ جائے ۔ (بخاری :۱۸۰۴) حاجی کا حج سے فارغ ہوکر اپنے اہل وعیال میں جلد لوٹ جانا ہی زیادہ اجر کا باعث ہے ۔ (دار قطنی ۲/۳۰۰)
٭ جب واپسی کا سفر اختیار کریں تو سواری پر بیٹھنے ، راستے میں قیام کرنے ، شہروں کو دیکھنے ، اونچائی پر چڑ ھنے اور زیریں جانب اترنے وغیرہ کی دعائیں کرتے آئیں اور جب اپنا شہر نظر آجائے تو یہ دعا کریں ۔
ٌ آیِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ سَاجِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ (بخاری :۲۹۸۱، ۱۷۹۷)
ہم تو تائب ہوکر ، سجدہ وعبادت گزاری کا عہد کر کے لوٹ آئے ہیں ، اور اپنے رب کی تعریفیں کرتے ہیں ۔
٭ اور اپنے گھر میں داخل ہونے سے پہلے ممکن ہوتو مسجد میں جا کر دو رکعت نماز پڑ ھ لیں ۔ (بخاری ومسلم) اور پھر یہ دعا کرتے ہوئے اپنے گھر داخل ہو جائیں ۔
اَللّٰہُمَّ إِنِّی أَسئَلُکَ خَیرَ المَولَجِ وَخَیرَ المَخرَجِ ، بِسمِ اللّٰہِ وَلَجنَا وَعَلَی رَبِّنَا تَوَکَّلنَا۔ (سنن ابو داؤد: ۵۰۹۶)
اے اللہ ! میں تجھ سے داخل ہونے ، اور نکلنے کی جگہوں کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں ، تیرا نام لیکر ہم یہاں سے نکلے تھے اور اے ہمارے رب! تجھی پر ہمارا بھروسہ ہے ۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اس مقدس سفر میں زیادہ سے زیادہ نیکیاں کمانے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
مکمل مضمون کا مطالعہ کریں>>

فرضیتِ حج کی حکمتیں

محمد طیب معاذ

صحیح بخاری میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد مبارک ہے السَّفَرُقِطعَۃٌ مِّنَ العَذَابِ (الحدیث) کہ سفر عذاب کا ایک حصہ ہے ۔اسی لئے شریعت نے ہمیں سفر کے آداب بالعموم اور سفر حج کے آداب بالخصوص بتلائے ہیں انہی آداب کو ملحوظ خاطر رکھ کر حجاج کرام اپنے سفر کو آرام دہ اور باعث ثواب بنا سکتے ہیں ۔
۱۔ خلوص نیت
ہر عمل کی قبولیت کا دارومدار خلوص نیت پر ہے اس لئے سفرِ حج سے پہلے اپنی نیت کو خالص کرنا انتہائی ضروری ہے اگر سفر حج میں ریا وعجب داخل ہو گیا اور اخلاص کی عظیم نعمت سے محروم ہو گیا توآدمی کی محنت رائیگاں اور عبث ہوجائے گی۔
۲۔ سفر کیلئے جمعرات کا دن منتخب کرنا
رسول اللہا اکثر اپنے سفر کا آغاز جمعرات کے دن صبح کے وقت کرتے تھے اس لئے حاجی کو چاہے کہ وہ اس سنت پر عمل کرنے کی مقدور بھر کوشش کرے ۔

۳۔دوران سفرادعیہ مسنونہ کا اہتمام کرنا
مسافر آدمی کو چاہیے کہ وہ احادیث میں وارد شدہ اذکارِسفر پر کاربند رہے تاکہ وہ سفر میں پیش آنی والی مصیبتوں اور پریشانیوں سے محفوظ رہ سکے ۔رسول اللہ ﷺ جب بھی سفر کرتے تو مندرجہ ذیل دعا پڑ ھتے تھے ۔
اللہم انا نسألک فی سفرنا ہذا البر والتقوی ومن العمل ما تحب وترضی اللہم ہون علینا سفرنا ہذا واطوعنابعدہ اللہم انت الصاحب فی السفر والخلیفۃ فی الأہل اللہم انی اعوذبک فی وعثاء السفر وکلبۃ المنظر وسوء والمنقلب فی المال والاہل والولد (رواہ مسلم)اس لئے سفر حج میں بالخصوص ان اذکارِ کی پابندی کرنا انتہائی ضروری ہے ۔

۴۔ فضول خرچی سے پرہیز
دوران سفر اسراف اور فضول خرچی سے مکمل اجتناب بھی آداب سفر میں سے ہے کیونکہ سفر کے دوران مالی پریشانی سے ادائیگی حج میں دشواریاں پیش آ سکتی ہیں جس سے آدمی فریضہ حج کو یکسوئی سے ادا کرنے سے قاصر رہتا ہے ۔

۵۔ صحبت صالح
سفر حج کے دوران نیک لوگوں کی مصاحبت اختیار کرنا بھی محمود فعل ہے خاص طور پر کوشش کرنی چاہیے کہ عالم دین کا ساتھ میسر ہو تاکہ آدمی حج کی ادائیگی عین شریعت کے مطابق کرسکے او ر حاجی کی روحانی قوتوں کو جلا مل سکے ۔

۶۔ فسق وفجور سے اجتناب
عام مسافر کو بالعموم اور حاجی کو بالخصوص دوران سفر فسق وفجور اور لڑ ائی جھگڑ ے سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے جیسا کہ ارشاد ربانی ہے ۔﴿ اَلحَجُّ اَشہُرٌ مَعلُومَات فَمَن فَرَضَ فِیہِنَّ الحَجَّ فَلاَ رَفَثَ وَلاَ فُسُوقَ وَلاَ جِدَالَ فِی الحَجِّ﴾ (البقرۃ:۱۹۷) حج کے مہینے سب کو معلوم ہیں ۔ جو شخص ان مقرر مہینوں میں حج کی نیت کرے ، اسے خبردار رہنا چاہیے کہ حج کے دوران میں اس سے کوئی شہوانی فعل، کوئی بدعملی، کوئی لڑ ائی جھگڑ ے کی بات سرزد نہ ہو ۔

۷۔سفر سے واپسی پر بھی درج بالا دعا پڑ ھیں اور اس کے آخر میں آئبون تآئبون عابدون لربنا حامدون کے الفاظ کا اضافہ فرمائیں ۔

۸۔ بعد از سفر معانقہ اور مصافحہ کرنا بھی مأثور عمل ہے ۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جب سفر سے واپس تشریف لاتے تو معانقہ کرتے تھے ۔

۹۔سفر سے واپس آ کر اچانک گھر میں داخل نہ ہوں بلکہ پہلے اپنے آنے کی خبر کریں ۔

۱۰۔ سفر سے لوٹ کر آنے والے کیلئے مسنون طریقہ یہ ہے کہ وہ گھر میں داخل ہونے سے پہلے مسجد میں دو رکعتیں ادا کرے ۔
ہمیں چاہے کہ ہم اس سنت نبوی کو دوبارہ سے زندہ کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ اجر وثواب کے مستحق بن سکیں ۔
برکاتِ حج وعمرہ
دین اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پرہے جن میں سے ایک حج بھی ہے ۔حج اسلام کا اہم ترین ستون اور رکن ہے حج کی ابتداء امام الموحدین ابراہیم علیہ السلام کے زمانے سے ہوتی ہے ۔قرآن وسنت میں حج کے بہت سے فضائل مذکورہیں ۔جن میں سے چند ایک کا تذکرہ کیا جا رہا ہے ۔حج سے آدمی کے گزشتہ گناہ مٹا دئے جاتے ہیں ۔جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: مَن حَجَّ لِلّٰہِ فَلَم یَرفُث وَلَم یَفسُق رَجَعَ کَیَومِ وَلَدَتہُ اُمُّہُ (متفق علیہ)
ترجمہ:جس شخص نے محض اللہ کی خوشنودی کی خاطر حج کیا دوران حج فسق وفجور سے اجتناب کیا تو وہ گنا ہو ں سے ایسے پاک ہو جاتا ہے جیسے وہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے کے روز گنا ہوں سے پاک تھا ۔ حج ہی وہ عظیم سفر ہے جس کا انعام صرف اور صرف جنت ہے ۔رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:الحج المبرور لیس لہ جزاء الا الجنۃ(الحدیث) ترجمہ:حج مقبول کی جزا صرف جنت ہی ہے ۔حج ایک نعمت ہے لذت و کیفیت اور درس۔۔ تربیت نفس ہے ۔حج ایک ایسی عبادت ہے جس میں دوسری تمام عبادتوں کی روح شامل ہے ۔اس میں نماز بھی ہے ، قربانی بھی ہے مال خرچ کرنا زکوٰۃسے مشابہت رکھتا ہے ۔ نفسیانی خواہشات اور اخلاقی برائیوں سے پرہیز اپنے اندر روزہ کی سی کیفیت رکھتا ہے ۔گھر سے دوری اور سفر کے مصائب میں جہاد کا رنگ ہے ۔ غرض یہ کہ حج ہی وہ عظیم عبادت ہے جس میں آدمی اپنا مال و جان دونوں خرچ کرتا ہے ۔
۱۔ایمان وجہاد کے بعد حجِ مبرور ومقبول افضل ترین عمل ہے ۔ صحیح بخاری /۲۶
۲۔ حج عورتوں کا جہاد ہے ۔ (بخاری :۱۸۲۱) جس میں کوئی قتال بھی نہیں ۔ مسند احمد ۶/۱۵۶
۳۔ حج وعمرہ کرنے والے اللہ کے مہمان ہوتے ہیں ۔ نسائی :۲۶۲۶
۴۔ حاجی کی زندگی قابلِ رشک اور وفات قابلِ فخر ہوتی ہے کہ اگر وہ احرام کی حالت میں فوت ہوجائے تو قیامت کے دن وہ لَبَّیکَ پکارتا اٹھایا جائے گا۔ بخاری :۱۲۶۵
۵۔ رمضان میں کئے گئے عمرے کا ثواب حج کے برابر ہے ۔ صحیح بخاری :۱۷۸۲
۶۔ایک عمرہ دوسرے عمرے تک گنا ہوں کا کفارہ ہے ۔ صحیح بخاری :۱۷۷۳
فرضیتِ حج اور تارکِ حج کیلئے وعید
لوگوں پر اللہ کا یہ حق (فرض)ہے کہ جو اس کے گھر (بیت اللہ) تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہوں ، وہ اس کا حج کریں اور جو کوئی اس کے حکم کی پیروی سے انکار کرے تو اللہ تعالیٰ تمام دنیا والوں سے بے نیاز ہے ۔ (آل عمران :۹۷) نبی ﷺ کا ارشاد ہے کہ اللہ نے تم پر حج فرض کیا ہے لہذا تم حج کرو۔ ایک صحابی (اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ ) نے کہا اے اللہ کے رسول ﷺ ! کیا ہر سال حج کریں ؟ انہوں نے تین بار یہ سوال دہرایا اور نبی ﷺ خاموش رہے اور بالآخر فرمایا : اگر میں ہاں کہہ دیتا تو تم پر ہر سال حج فرض ہوجاتا اور تم اس کی طاقت نہ پاتے ۔ صحیح مسلم :۱۳۳۷
حج کی استطاعت حاصل ہوجائے تو اس کی ادائیگی میں جلدی کرنا ضروری ہے ۔ مسند احمد ۱/۲۱۴
اگر توفیق ہوتو پانچ سال میں ایک مرتبہ حج کر لینا چاہیے ۔ ابن حبان :۹۶۰، بیہقی ۵/۲۶۲
جو استطاعت حاصل ہوجانے کے باوجود مشاغلِ دنیا میں مصروف رہے اور اسی حالت میں حج کئے بغیر ہی موت آجائے تو ان کے بارے میں سخت وعید آئی ہے ۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرا جی چاہتا ہے کہ طاقت کے باوجود جن لوگوں نے حج نہیں کیا ، میں ان پر غیر مسلموں سے لیا جانے والا ٹیکس (جزیہ) نافذ کر دوں ۔ اللہ کی قسم! وہ مسلمان نہیں ہے ۔ تلخیص الحبیر ۲/۲۲۳
مفہوم استطاعت
استطاعت کے مفہوم میں زادِراہ (البقرۃ:۱۹۷) اور سواری (یا مکہ آنے جانے کیلئے اس کے اخراجات) شامل ہیں ۔ (سنن ابن ماجہ :۲۸۹۶)
اسی طرح اہل علم نے راستوں کے پر امن ہونے کی شرط بھی عائد کی ہے ۔ (الفتح الربانی ۱۱/۴۲، ۴۳) اور عورتوں کیلئے ساتھ ہی کسی محرم کا ہونا بھی شرط ہے جو حج اور کسی بھی سفر (بخاری :۳۰۰۶) خصوصاً ایک دن اور ایک رات (بخاری :۱۰۸۸)یا زیادہ سے زیادہ تین دنوں اور تین راتوں کے ہر سفر کیلئے شرط ہے ۔ (صحیح مسلم)
استطاعت کے مفہوم میں ہی جسمانی استطاعت بھی شامل ہے ، اگر کوئی شخص پیدل تو کجا ، سواری پر بھی نہ بیٹھ سکتا ہوتو اس پر حج کے سفر کیلئے نکلنا واجب نہیں ۔ بخاری :۱۵۱۲
فرضیت حج کے مقاصد اور حکمت
اللہ رب العزت نے متعدد با ر قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ وہ علم رکھنے والا اور حکمت والا ہے ۔ اسی لئے تو اس نے اپنے بندوں کی ہر نفع بخش چیز کے متعلق رہنمائی فرمائی ہے اور ہر مضر چیز سے اجتناب کا حکم دیا ہے ۔دین اسلا م میں جتنی بھی عبادات ہیں سب کا کوئی نہ کوئی مقصد اور ا سکی فرضیت کے پیچھے کچھ حکمتیں کا ر فرما ہوتی ہیں ۔ جس طرح فرضیت زکوٰۃ کی حکمت اور مقصد بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿خُذْ مِنْ أَمْوَالِہِمْ صَدَقَۃً تُطَہِّرُہُمْ وَتُزَکِّیہِم بِہَا﴾(التوبہ)ان کے مال میں سے زکوٰۃ لیں ا س سے آپ ﷺ ن کو پاک اور ان کا تزکیہ نفس کرتے ہو۔ اس طرح فرضیت زکوٰۃ سے اموال و نفوس کا تزکیہ و تطہیر ، رضائے الہی کا حصول ، مساکین و فقراء کے ساتھ ہمدردی ، ضرور ت مندوں کی حاجت روائی اورمرض بخل و حرص سے حفاظت ہے ۔ اگر روزہ فرض کیا تو ارشاد فرمایا :﴿ یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُواْ کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِینَ مِن قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ﴾ (البقرۃ)
ترجمہ:اے ایمان والو تم پر اسی طرح روزے فرض ہیں جس طرح سابقہ امم پر فرض تھے تاکہ تم متقی اور پرہیز گار بن جاؤ۔
روزے کی فرضیت کا مقصد تقوے کا ملکہ حاصل کرنا ہے ۔ پھرحج کی تشریعی حکمت بیا ن کرتے ہوئے فرمایا : ﴿ثُمَّ لیَقضُوا تَفَثَہُم﴾(الحج) پھر حاجیوں کو چاہیئے کہ اپنا میل کچیل دور کریں ۔
یعنی حج اس لئے فرض کیا گیا ہے تاکہ حجاج اپنی ظاہری اور باطنی برائیوں کا خاتمہ کریں اور مستقبل میں امت مسلمہ کی بیداری کا سامان کریں ۔حج کا ایک بڑ ا مقصد محبوب حقیقی سے والہانہ محبت کا اظہا ربھی ہے ۔
حج کا دوسرا بڑ ا مقصد امت محمدیہ کو مزاج ابراہیمی سے مربوط کرنا ہے ، جس طرح کہ شاہ ولی اللہ محدث رحمہ اللہ رقم طراز ہیں :اس حج کا بڑ ا مقصد یہ ہے کہ قیامت تک یہ ملت اپنے بانی ابراہیم علیہ السلام کیساتھ مربوط رہے اور سیرت ابراہیم علیہ السلام سے اپنے لئے فکری غذا لے ﴿مِلَّۃَ اَبِیکُم إِبرَاہِیمَ﴾ تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کا دین ہمیشہ تم سے مربوط رہنا چاہیے اسی میں اس ملت کے ابراہیمی مزاج اور خمیر کی حفاظت اور ملتوں اور قوموں میں اس کا تشخص و امتیاز ہے ۔
میقات حج کے تعین کی حکمت
حج میں جو احکا م بتائے جاتے ہیں اس میں احرام کیلئے میقات کا تعین بھی ہے ۔اس سے حاجی میں ایک نیا شعور اور فکری اور روحانی بیداری پیدا ہوتی ہے ۔ اس کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ دربار الہی کے قریب پہنچ چکا ہے اس لئے آداب حاضری کوملحوظ خاطر رکھے ۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ اپنی زندہ جاوید کتاب حجۃ اللہ البالغہ میں میقات کے تعین کی حکمت کے راز سے پردہ اٹھاتے ہوئے فرماتے ہیں ۔ مواقیت کا اصل راز یہ ہے کہ چونکہ ایک طرف مکہ میں آشفتہ حال اور پراگندہ بال حاضر ہونے کی تاکید ہے ، دوسری طرف اپنے شہر سے احرام باندھ کر سفر کرنے میں کھلی ہوئی دشواری ہے ، کسی کا راستہ ایک ماہ کا ہے ، کسی کی مسافت دومہینے یا اس سے بھی زیادہ کی ہے اس لئے مکہ کے اردگرد خاص مقامات متعین کر دیئے گئے ہیں جہاں سے احرام باندھنا ضروری ہے ، اس کا لحاظ بھی رکھا گیا ہے کہ یہ مقامات معروف ہوں اور عام گزرگا ہوں کی حیثیت سے زیادہ دور ہے ، اہل مدینہ کیلئے جو میقات (ذو الحلیفہ) ہے وہ نسبتاً سب سے زیادہ دور ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ مدینہ وحی کا مرکز ، ایمان کا قلعہ اور دار الہجرت ہے ، اور پہلا شہر ہے جس نے اللہ اور اس کے رسول ا کی دعوت پر ایمان قبول کیا، اس لحاظ سے اس کے باشندے اس کے زیادہ حقدار ہیں کہ اعلاء کلمۃ اللہ میں سب سے زیادہ کوشاں اور عبادات میں سب سے آگے رہیں جو أثی! طائف اور یمامہ وغیرہ کے برعکس سب سے پہلے ایمان لانے والے اور سب سے زیادہ اخلاص کا ثبوت دینے والے شہروں اور قریوں میں اس کا شمار ہے ، اس
لئے اس کے میقات کی دوری میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ (حجۃ اللہ البالغہ ص/۴۵)
احرام باندھنے کی حکمت
احرام حاجی میں شعور اور بیداری کاسبب ہے دربار الہی میں حاضری کے وقت مصنوعی آرائش وزیبائش سے مکمل آزادی کا حکم دیاتاکہ امت میں سادگی کو فروغ دیا جا سکے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں ۔حج وعمرہ میں جو احرام باندھا جاتا ہے وہ نمازمیں تکبیر تحریمہ کی طرح ہے وہ اخلاص وتعظیم اور عزیمت مؤمن کی ایک ظاہری وعملی صورت آرائی ہے اس کا مقصد لذتوں اور عادتوں آرائش وزیبائش کی تمام اقسام کو ترک کر کے نفس کو حقیر اور اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز وسرنگوں کرنا۔(حجۃ اللہ البالغہ/ج:۲)
احرام کی حرمت
احرام کی حرمت کے بھی بہت سے احکام اور خصوصی آداب ہیں مثلاً حالت احرام میں شکار کی ممانعت ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ۔
﴿یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُواْ لاَ تَقتُلُوا الصَّیدَ وَاَنتُم حُرُمٌ﴾(المائدۃ :۹۵) اے ایمان والو! شکار کو مت مارو جب کہ تم حالت احرام میں ہو۔
دوسری جگہ آتا ہے ﴿أُحِلَّ لَکُم صَیدُ البَحرِ وَطَعَامُہُ مَتَاعاً لَّکُم وَلِلسَّیَّارَۃِ وَحُرِّمَ عَلَیکُم صَیدُ البَرِّ مَا دُمتُم حُرُماً وَاتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِی إِلَیہِ تُحشَرُونَ﴾(المائدۃ:۹۶) تمہارے لئے دریائی شکار اور اس کا کھانا جائز کیا گیا تمہارے نفع کیلئے اور قافلوں کیلئے اور تمہارے اوپر جب تک تم حالت احرام میں ہوخشکی کا شکار حرام کیا گیا ، اللہ سے ڈرتے رہو جس کے پاس جمع کئے جاؤ گے ۔
شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں : ان اشیاء کی ممانعت محرم یعنی احرام باندھنے والے کیلئے اس لئے ہے کہ تذلل، ترک تجمل، پراگندہ بال اور غبار آلود ہونے کی کیفیت حاصل ہو، اور اللہ تعالیٰ کی عظمت اور خوف کا غلبہ اور مواخذہ کا ڈر اس پر غالب رہے اور وہ اپنی خواہشات اور دلچسپیوں میں پھنس کرنہ رہ جائے ، ان ممنوعات میں شکار اس لیے شامل ہے کہ وہ بھی ایک قسم کے توسع میں داخل ہے اور دلچسپی اور توسع خاطر کی چیز ہے ۔حجۃ اللہ البالغہ ج/۲، ص/۴۴
حلق کی حکمت
اسی طرح احرام سے باہر آنے اور اس کے قیود واحکام سے رہائی پانے کیلئے بھی ایک خاص طریقہ مقرر ہے جو نفس کو متنبہ اور بیدار رکھتا ہے ، ایسا نہیں ہوتا کہ حاجی احرام سے بالکل اچانک باہر آجائے اور تمام چیزوں سے فوراً لطف اندوز ہونے لگے ، وہ ایک خاص عمل اور نیت وارادہ کے ساتھ احرام اتارتا ہے وہ نماز میں سلام کے ذریعے اس کی فضا سے باہر آتا ہے اور احرام میں حلق (سر منڈوانے ) کے ذریعے ۔
شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں : حلق کا راز یہ ہے کہ اس سے احرام سے نکلنے کا ایک ایسا طریقہ متعین ہوتا ہے جو وقار کے منافی نہیں ہے ، اگر لوگوں کو ان کے حال پرچھوڑ دیا جاتاتو ہر شخص جو طریقہ چاہتا اختیار کر لیتا، اس کے علاوہ اس میں پراگندہ بال اور زولیدہ سرہونے کی حالت کا خاتمہ ہے جو پہلے مطلوب تھی، یہ ایسا ہے جیسا نماز میں سلام پھیرنا۔ حجۃ اللہ البالغہ ج/۲، ص/۴۵ملحق از ارکان اربعہ لأبی الحسن الندوی رحمہ اللہ
حج کے فوائد وثمرات
حج میں بہت سے انفرادی مادی ، روحانی، اجتماعی فوائد پوشیدہ ہیں اس لئے تو قرآن میں جہاں یہ ذکر آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کوعام منادی کرنے کا حکم دیا تھا وہاں اس حکم کی پہلی وجہ یہ بیان کی گئی کہ ﴿لِیَشہَدُوا مَنَافِعَ لَہُم﴾ تاکہ لوگ یہاں آ کر دیکھیں کہ اس حج میں ان کیلئے کیسے کیسے فائدے ہیں ۔ حج کے ثمرات وفوائد بالاختصار ذکر کئے جا رہے ہیں ۔
نیکی وتقوی میں رغبت
حج سے انسان میں نیکی کرنے کی جستجو بڑ ھتی ہے وہ خیر کے کاموں میں بڑ ھ چڑ ھ کر حصہ لیتا ہے برائی سے اس کے دل کو نفرت ہونے لگتی ہے جیسے جیسے حاجی خانہ کعبہ کے قریب ہوتا ہے ویسے ہی اس کے اندر نیکی کا جذبہ بڑ ھتارہتا ہے ۔ بدکلامی، بے ہودگی ، بے حیائی ، بددیانتی، جھگڑ ا فساد سے اس کا ضمیر راضی نہیں ہوتا اور اس کا ضمیر پکار کر کہتا ہے ۔حرم الہی کا مسافر ہوں پھر برے کام کرتا ہوا جاؤں اس عبادت کے کام میں ظلم وفسق کا کیا کام۔ ۔ ۔ سفرِ حج ہر دم آدمی کے نفس کو پاک کرتارہتا ہے ۔احرام کی وجہ سے اس کی ظاہری غربت وسادگی کا اثر ا سکے باطن پربھی پڑ تا ہے اس سے حاجی کے دل سے کبر و غرور اور حسد و کینہ نکل جاتا ہے ۔حج اس آدمی میں ایثار و قر بانی کا جذبہ پیدا کرتا ہے ۔المختصر حج ایک بہت بڑ ا اصلاحی کورس ہے جس سے گزر کر ایک مسلمان حقیقی معنو ں میں معرفت الہی حاصل کرتا ہے ۔ حج محبت الہی کے ا ظہار کا عملی نمونہ اور ذریعہ بھی ہے ۔
وحدت ملت کا پر کیف نظارہ
حج کے مادی ، سیاسی ، تمدنی اور روحانی فوائد میں سے ایک فائدہ وحدت ملت بھی ہے ۔حج ہی میں اسلامی اتحاد و اتفاق اور اخوت ومساوات کا عملی مظاہرہ ہوتا ہے ۔ حج اسلا می اتحادو اتفاق اور یک جہتی کو برقرار رکھنے کا بہترین ذریعہ ہے ۔اس میں دنیا کے گوشہ گوشہ سے مسلما ن جمع ہو کر آتے ہیں ۔مختلف رنگ ، نسل ، زبان اور علاقے کے لوگ ایک ہی جگہ ایک ہی وقت میں جمع ہو کر ایک جیسا لباس پہن کر ایک جیسے اعمال و افعال بجا لاتے ہیں جس سے اسلامی اتحادو اتفاق کو تقویت حاصل ہو تی ہے ۔حج ہر سال مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کے جغرافیائی ، لسانی نسلی اور سیاسی اختلافات کو مٹا کر انہیں ایک ہمہ گیر انسانی وحدت کا روپ عطا کرتا ہے ۔خدا کی شا ن دیکھئے کہ اس مبارک موقع پر امیر و غریب اور شاہ وگدا کو ایک ہی رنگ میں رنگ دیا جاتا ہے ۔مسلم امہ کو ایک پلیٹ فار م پر جمع کرنے میں حج اہم کردار ادا کرتا ہے تاکہ مسلم امہ غیر مسلم ملکوں کی اقتصادی لوٹ کھسوٹ ، ریشہ دوانیوں ، سیاسی رقابتوں اور فکری غلامی سے محفوظ رہ کر دنیا میں حقیقی امن قائم کر نے کے لائق ہو جائے ۔ علاوہ ازیں اسلامی بلاک کی تشکیل ، عرب و عجم کے اختلافات کو مٹا نے اور انہیں کھوئی ہوئی عزت وسرفرازی عطا کرنے کے لئے حج کا اجتماع حیرت انگیز انقلاب پید ا کر سکتا ہے ۔ اسلامی بلاک کی تشکیل سے ہی مسلمان سیاسی ، فنی ، عملی ، تہذیبی اور سماجی میدان میں ترقی کر سکتے ہیں ۔ الغرض حج حقیقی معنو ں میں تما م ظاہری امتیازات اور گوناگوں فروعی ، لسانی ، علاقائی اختلافات کا قلع قمع کر کے مسلمان کے اندر عاجزی ، سادگی ، خداپرستی ، خوف الہی ، انسان دوستی ، اخوت ، مساوات اور ملی وحدت کا زبر دست جذبہ پیدا کرتا ہے ۔
درس حج
اسلامی عبادات میں انسانیت کیلئے بے شمار فوائد پنہاں ہوتے ہیں ۔اسی طرح عبادات سبق اور درس بھی سکھاتی ہیں ۔حج سے ملنے والے درو س تو بہت ہیں مگر سر دست اجمالی طور پر چند ایک کا تذکرہ کرنا مقصو د ہے ۔
٭فریضہِ حج ہمیں اللہ کی کبریائی ، دین حق کی صداقت اور امت مسلمہ کی عظمت و رفعت سے آگاہ کرتا ہے ۔
٭حج مساوات ، بھائی چارے کا سبق سکھاتا ہے ۔
٭حج ہمیں سادگی سے زندگی بسرکرنے کی تعلیم دیتا ہے اس کی مثال احرام کاسادہ ہونا ہے ۔
٭حج محبت الہی کاعملی اظہا رہے ۔
٭حج حلال کمائی کی تعلیم دیتا ہے کیونکہ اس کی قبولیت تبھی ہوتی ہے ۔جب حلال کمائی سے کیا گیا ہو۔
٭حج ہمیں خالص توحید کا درس دیتا ہے لہذا حاجی کو اپنے دل سے تمام دنیوی سہاروں کا خیال نکال دینا چاہیے تاکہ اس کی روح اللہ کے گھر میں خالص قرار پائے اوروہ جو مانگے اسے عطا کر دیا جائے ۔
٭سفر حج ہمیں سفر آخرت کی یاد دلاتا ہے اس لئے ہمیں چاہیے کہ جس طرح ہم سفر حج کیلئے تیاری کرتے ہیں اسی طرح سفر آخرت کیلئے بھی بھر پور تیاری کریں ۔
آخری گزارش
مذکورہ بالا سطور میں بیان کئے گئے احکامات وفوائد حکمتوں اور فضائل نے فریضہ حج کو تقدس وطہارت، تورع وزھد ، مراقبہ ومجاہدہ نفس کی ایسی خلعت عطا کی ہے جو دوسرے مدہبوں اور ملتوں کے اس قسم کے اعمال میں ہرگز نہیں ملتیں ۔ حج کی وجہ سے نفس انسانی اخلاق عامہ اور عام زندگی پر جو اثرات پڑ تے ہیں اس کو دیکھ کر صادق وامین پیغمبر ا کی اس حدیث کی تصدیق ہوتی ہے ۔
مَن حَجَّ لِلّٰہِ فَلَم یَرفُث وَلَم یَفسُق رَجَعَ کَیَومِ وَلَدَتہُ اُمُّہُ (متفق علیہ)
جس شخص نے محض اللہ کی خوشنودی کی خاطر حج کیا دوران حج فسق وفجور سے اجتناب کیا تو وہ گنا ہوں سے ایسے پاک ہو جاتا ہے جیسے وہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے کے روز گنا ہوں سے پاک تھا ۔
ہر سال حج کے موقع پر لاتعداد مسلمان فریضہ حج ادا کر کے اپنے اپنے ملکوں کو واپس جاتے ہیں اگر وہ حج کے بعد اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اسلامی تعلیمات کے ہمہ گیر اثرات کو شامل کر کے مثالی مسلمان ثابت ہوں تو وہ معاشرت ، معیشت، سیاست کے میدان میں حیرت انگیز انقلاب لا سکتے ہیں ہرسال حج کرنے والے لاکھوں نفوس اگر اپنی سابقہ روش کو ترک کر کے خیر وتعمیر کی راہ پر گامزن ہوجائیں تو چند ہی سالوں میں مسلم ملکوں میں ذہن بیداری سیاسی استحکام وعروج ملی اتحاد اور باہمی یگانگت کے مفید نتائج نظر آنے لگیں گے حج کرنے والوں کیلئے یہ بہت بڑ ا لمحہ فکر یہ ہے امید ہے کہ وہ صحیح معنوں میں فریضہ حج ادا کر کے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا باعث بننے کیلئے کوشاں ومصروف عمل ہونگے کیونکہ۔
فتح ہے جس کی منتظر تمہی وہ کارواں ہو
مکمل مضمون کا مطالعہ کریں>>

سیرت کے شناور ۔۔۔جوارِ رحمت میں

فیض الابرار صدیقی

اے مطمئن جان اپنے رب کی طرف واپس آجا راضی خوشی پس میرے پیارے بندوں میں شامل ہوجا اور میری جنت میں داخل ہوجا۔ (القرآن) ایک اہل علم کی موت ایک جہاں کی موت ہوتی ہے ۔
۱۳ اکتوبر ۲۰۰۹ء کا دن ایسے ایک فرد کے سفر آخرت کا دن تھا جس کی موت حقیقت میں اک عالم کی موت تھی ۔ وہ فرد جس کی شب وروز کی مصروفیت اللہ رب العزت کی وحدانیت کے حقیقی تصور کو لوگوں کے سامنے پیش کرنا تھا۔ جس فرد نے زندگی کا مقصد رسالت کے پیغام کو عام کرنا بنا لیا تھا ، وہ فرد جس نے زندگی میں سلف صالحین کے منہج کو اپنا منہج قرار دے دیا تھا ۔میری مراد عصر حاضر کی عظیم علمی شخصیت سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا چلتا پھرتا انسائیکلو پیڈیا سلفی منہج کے حقیقی ترجمان اور عظیم ا سکالر پروفیسر عبد الجبار شا کر رحمہ اللہ ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل الدعوۃ اکیڈمی انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد ہیں ۔ رب العزت ان پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے ۔ آمین

ایک انسان اپنی تمام زندگی سرگرداں گزار دیتا ہے اس کے ہاتھ کچھ آئے یا نہ آئے آنے والی نسلیں یہ فیصلہ کرتی ہیں کہ اس شخص کو کیا حاصل ہوا لیکن اللہ رب العزت نے انبیاء کے وارثین کو ان کی زندگی میں ہی عزت دینے کا فیصلہ کر دیا۔
پروفیسر عبد الجبار شا کر رحمہ اللہ کا شمار بھی اسی زمرے میں ہوتا ہے جنہیں اللہ رب العزت نے یہ بلندمقام زندگی میں ہی عطا فرمادیا تھا۔
آپ رحمہ اللہ کی ساری زندگی دین اسلام کی نشرواشاعت میں گزری۔ دین اسلام کی نشر واشاعت وتبلیغ کے ضمن میں شرک وبدعات کے رد میں آپ کی گفتگو اور خطابت بے مثال وبے نظیر مقام کی حامل تھی۔جبکہ گمراہ فرقوں کے رد کو بیان کرنے پر بھی آپ کو خصوصی مہارت حاصل تھی ۔ آپ رحمہ اللہ کی گفتگو کتاب وسنت کے دلائل سے مزین ہوتی تھی۔
چونکہ ایمان اور عقیدہ ، انسانی ذہن کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے اور ذہن وفکر کی روشنی سے شخصیت کو بالیدگی اور جلا ملتی ہے ۔ پروفیسر عبد الجبار شا کر رحمہ اللہ ایک متدین اور راسخ العقیدہ مسلمان اور بالیدہ وکشادہ ذہن وفکر کے مالک اور گوناگوں صفات کے مالک تھے اور بدعات کے حوالے سے آپ رحمہ اللہ بہت بے باک ، جرأت مند اور دبنگ فرد تھے ۔ اسلام کے نظریات کے حوالہ سے واضح موقف کے مالک تھے اور اس کا اظہار ان کی تحریر وتقریر میں ہوتا رہتا تھا اس ضمن میں کسی مصلحت یا خوف کو انہوں نے اپنے پاس جگہ نہ دی بلکہ حق بات کہنے میں کبھی بھی جھجک محسوس نہ کی۔
ان کی وفات سے علمی دنیا میں جو خلا پیدا ہوا ہے اسے پر کرنا یقینا انتہائی مشکل ہو گا۔ ملک کے ممتاز عالم دین اور خطیب ومؤلف پروفیسر عبد الجبار شا کر رحمہ اللہ نے ۱۳ اکتوبر ۲۰۰۹ء کو داعی اجل کو لبیک کہا اس طرح شیخوپورہ کی علمی سرزمین سے طلوع ہونے والا علم ودانش کا سورج ساری زندگی دین اسلام کیلئے وقف کر دینے والا 63 سال کی عمر میں اسلام آباد میں غروب ہو گیا ۔ إنا للہ وإنا إلیہ راجعون
نامور عالم دین اہل قلم اور معروف خطیب جو اپنے شہر اورصوبے سے باہر قومی افق پر بھی جانے جاتے تھے وہ اسلام کے حقیقی مقاصد سے واقف تھے لہذا انہوں نے پاکستان اور مسلمانوں کو اسلامی بنیادوں پر استوارکرنے کیلئے اپنی تمام جسمانی اور ذہنی صلاحیتیں وقف کر دیں ۔
اردو عربی انگریزی زبان کے ماہر پروفیسر عبد الجبار شا کر رحمہ اللہ نے سوگواران میں ایک بیوہ چھ بیٹے اور دو بیٹیاں چھوڑ یں ہیں ۔
ادارہ جامعہ ابی بکر الاسلامیہ اور ادارہ ماہنامہ اسوئہ حسنہ اللہ رب العزت سے دعا گو ہے کہ وہ مرحوم کی بشری لغزشوں کو معاف فرماتے ہوئے جنتِ معلی کا مکیں بنائے اور جملہ سوگواران کو اس صدمہ پر صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

آسمان تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
مکمل مضمون کا مطالعہ کریں>>

مولانا عبدالرشید حنیف رحمۃ اللہ علیہ

محمد رمضان یوسف سلفی

جنوری 2005ء کے دوسرے ہفتے ایک روز شام کو میرے عزیز دوست مولانا فاروق الرحمن یزدانی (مدیر ماہنامہ ترجمان الحدیث جامعہ سلفیہ فیصل آباد) تشریف لائے ۔ اثنائے گفتگو فرمانے لگے سلفی صاحب آؤ آج تمہیں جھنگ کی سیر کرالائیں ۔ ان دنوں جماعت کے معروف خطیب اور نامور عالمِ دین حضرت مولانا حافظ عبد العلیم یزدانی صاحب حج بیت اللہ کیلئے مکہ مکرمہ گئے ہوئے تھے ۔ جاتے ہوئے انہوں نے حافظ فاروق الرحمن یزدانی صاحب سے فرمایا کہ وہ ان کی غیر موجودگی میں ان کی جامع مسجد کوثراہلحدیث جھنگ میں 14 جنوری 2005ء کا جمعہ پڑ ھادیں ۔

مولانا حافظ عبد العلیم یزدانی صاحب کے حافظ فاروق الرحمن صاحب سے گہرے دوستانہ مراسم قائم ہیں اور انہوں نے حافظ صاحب کے فرمان پر ان کی بات مان لی چنانچہ مولانا فاروق یزدانی صاحب نے جھنگ کیلئے رختِ سفرباندھا تو ازراہِ کرم مجھے بھی ہمراہ لے گئے ۔ ایک عرصے سے میرے دل میں ادارہ علوم اسلامی دیکھنے اور اس کے بانی سے ملاقات کا خیال انگڑ ائی لے رہا تھا۔ میں نے اپنی اس خواہش کا اظہار حافظ فاروق الرحمن سے کر بھی دیا تھا اور میرے اس سفر کا سب سے بڑ ا مقصد بھی یہی تھا ۔ نمازِ جمعہ اور کھانے سے فراغت کے بعد جھنگ کے رہائشی ایک دوست کی ہمراہی میں گلیوں اور بازاروں سے ہوتے ہوئے ہم پاپیادہ سمن آباد میں واقع ادارہ علوم اسلامی پر پہنچ گئے ۔ادارے کی عمارت میں واقع مطب میں ادارے کے بانی ایک صاحب سے محو گفتگو تھے اور ان کے ہاتھ میں کسی کتاب کا کمپوز شدہ مسودہ تھا۔ ہم نے سلام کیا اور مصافحے کیلئے ہاتھ آگے بڑ ھا دیا انہوں نے ازراہِ کرم سلام کا جواب دیا، مصافحہ کیا اور مطب میں بڑ ے بینچ پر تشریف رکھنے کو کہا ان دنوں ادارہ علوم اسلامی میں لائبریری کی سیٹنگ اور صفائی کی جا رہی تھی اس باعث چیزیں منتشر تھی اور ان پر گرد وغبار پڑ ا ہوا تھا میں نے عرض کیا حضرت کوئی کپڑ ا عنایت کیجئے تاکہ بینچ کو گرد سے صاف کر دیا جائے فرمانے لگے ! مولانا مرکر مٹی میں ہی تو جانا ہے راقم نے عرض کیا حضرت مرنے کے بعد توجو ہو گا سوہو گا، جیتے جی تو کوئی بھی گرد آلود ہونا نہیں چاہتا بہرحال بینچ صاف کر دیا گیا اور ہم مولانا کے حکم پر اس پر تشریف فرما ہوگئے تھوڑ ی دیر بعد آپ کمپوزر سے فارغ ہوکر ہماری طرف متوجہ ہوئے میرے ساتھیوں نے اپنا اپنا تعارف کرایا جبکہ میں نے صرف اپنا نام محمد رمضان بتانے پر اکتفا کیا میرے دوست حافظ فاروق الرحمن فوراً بولے حضرت یہ مولانا محمد رمضان یوسف سلفی صاحب ہیں ۔ یہ سننا تھا کہ مولانا کہنے لگے آپ وہی رمضان یوسف سلفی ہیں جو علمائے اہل حدیث کے بارے میں لکھتے ہیں ؟ میں نے اثبات میں جواب دیا تو وہ بڑ ے خوش ہوئے ساتھ ہی فرمانے لگے ماشاء اللہ آپ بہت اچھا لکھتے ہیں اور عمدگی سے علماء کا تعارف کراتے ہیں میں کیسا لکھتا ہوں یہ تو معزز قارئین ہی جانتے ہیں بہرحال مولانا نے اچھے الفاظ اور دعائیہ کلمات سے راقم کی حوصلہ افزائی فرمائی ۔ یہ تھے ادارہ علوم اسلامی جھنگ کے بانی، معروف مصنف اور جید عالمِ دین مولانا عبد الرشید حنیف رحمہ اللہ ان سے میرے یہ پہلی اور آخری ملاقات تھی جو خوب یادگار رہی اس ملاقات کا تأثر اب تک قلب وذہن کو معطر کئے ہوئے ہے اور مولانا کی علم وعمل سے ہم آہنگ شخصیت نظروں کے سامنے ہے ۔
انہوں نے ہمیں اپنی لائبریری بھی دکھائی تھی اس میں حدیث ، تفاسیر، رجال، تاریخ اور مختلف ادیان ومذاہب کے بارے علمی وتحقیقی کتب کا وسیع ذخیرہ موجود تھا۔ ازراہِ کرم انہوں نے مجھے اور حافظ فاروق الرحمن صاحب کو اپنی اور بعض دیگر مصنفین کی کتابوں کی علیحدہ علیحدہ بوریاں بھر کر دیں مولانا محمد ادریس بھوجیانی مرحوم کی کتاب خاندان نبوت کا قلمی مسودہ اور ان کی یادرفتگاں کا قلمی مسودہ عنایت فرمایا ایک مطبوعہ کتاب شجرہ نسب علمائے بھوجیاں مرحمت فرمائی یہ علمی مسودات دے کر فرمانے لگے ! بچہ یہ چیزیں تمہارے کام آئیں گی انہیں سنبھال کر رکھنا اور پھر ڈھیروں دعاؤں سے انہوں نے ہمیں رخصت کیا ایک عرصے سے مولانا مرحوم سے میری خط وکتابت تھی ان کی کوئی کتاب شائع ہوتی تو وہ اپنے دستخطوں سے کتاب بھیجتے میں نے ان کی کئی کتب پر ماہنامہ صدائے ہوش لا ہور اور ماہنامہ ترجمان الحدیث فیصل آباد میں تبصرے لکھے ۔ ان کی تفسیر سورئہ الکوثر جب شائع ہوئی تو انہوں نے اپنے بھائی عبد الرحیم کے ہاتھ یہ کتاب مجھے بجھوائی۔ 14 جنوری 2005ء کو جب میں ان کی خدمت میں جھنگ حاضر ہوا تو انہوں نے اپنی عظیم علمی وتحقیقی کاوش تفسیر سورئہ یٰسین مرحمت فرمائی اور اس کے شروع صفحے پر یہ الفاظ لکھے :ہدیہ سینہ لاخ الصالح، الفاضل مولانا محمد رمضان یوسف سلفی ۔ ۔ ۔
عبد الرشید حنیف -1-14 2005ء اسی طرح کے الفاظ انہوں نے تفسیر سورئہ الکوثر کے شروع میں لکھے ۔ مولانا عبد الرشید حنیف صاحب خلیق ، ملنسار، مہمان نواز اور صالح انسان تھے دوسروں سے تعلقات قائم کرنا اور پھر انہیں نبھانا خوب جانتے تھے بلاشبہ ان کا شمار دور حاضر کے عظیم المرتبت علمائے اہل حدیث میں ہوتا تھا انہوں نے درس وتدریس ، وعظ وتبلیغ اور ترجمہ وتصنیف کے ذریعے جو دینی خدمات سرانجام دی وہ قابل تحسین اور قابلِ رشک ہے ۔ مولانا محترم کے علمی کارناموں پر ضلع جھنگ ہی نہیں بلکہ پوری جماعت اہل حدیث کا ہر فردنازاں ہے وہ ایک دینی وعلمی خاندان کے چشم وچراغ تھے ان کے عالی قدر بزرگوں میں مولانا حکیم عبد الرحمن ، مولانا عبد السلام، مولانا عبد الستار، مولانا عبد النور اور مولانا عبد الکریم شفیق رحمہم اللہ اجمعین جیسے جید علماء کے نام نمایاں ہیں ۔
مولانا مرحوم نے جھنگ جیسے سنگلاخ علاقے میں توحید وسنت کی ضیاء پاشیاں کیں اور نیک نام ہوئے بسا اوقات توحید وسنت کے پرچار پر انہیں مخالفین کی طرف سے نشانہ ستم بھی بنایا گیا لیکن وہ عزم وہمت سے اپنے مشن پر گامزن رہے ان کی شب وروز کی محنت کا ثمر ہے کہ اس وقت اپنے تو اپنے بیگانے بھی ان کی دینی مساعی پر رطب اللسان ہیں ۔
مو لانا عبد الرشید حنیف رحمہ اللہ6 جون 1936ء کو روڑ اں والی ضلع جھنگ میں پیدا ہوئے ان کے والد کا نام کریم بخش تھا جو عالمِ دین تھے اور اس علاقے میں اچھے مبلّغ اور مدرّس تھے ۔
مولانا عبد الرشید حنیف رحمہ اللہ صاحب نے ابتدائی دینی تعلیم مدرسہ رحمانیہ وریام میں اپنے والد مکرم سے حاصل کی اس کے بعد آپ دار العلوم تعلیم الاسلام اوڈاں والا میں پڑ ھتے رہے آخر میں مولاناشیخ الحدیث عبد اللہ رحمہ اللہ ویرو والوی کی خدمت میں لائل پور حاضر ہوئے اور کلیہ دار القرآن والحدیث جناح کالونی میں زیر تعلیم رہ کر درس نظامی کی تکمیل کی۔
آپ کے اساتذہ کرام میں مولانا کریم بخش ، مولانا حکیم عبد الرحمن ، مولانا عبد الستار ، مولانا محمد یعقوب ملھوی ، مولانا عبد الصمد روؤف ، مولانا عبد اللہ محدث ویرو والوی اور مولانا خان محمد رحمہم اللہ اجمعین کے نام نمایاں ہیں ۔
تحصیل علم کے بعد مولانا عبد الرشید صاحب چار سال مادرِ علمی کلیہ دار القرآن جناح کالونی فیصل آباد میں مدرس رہے ۔ اس دوران انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے فاضل عربی کا امتحان پاس کیا، اس کے بعد ایف اے کیا اور طب وحکمت کے کورس پاس کیے ۔ دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے خود کو درس وتدریس ، وعظ وتبلیغ اور تصنیف وتالیف میں مشغول کر لیا تھا اور ساری زندگی ان امور خیر کی انجام دہی میں مصروف عمل رہے ان کے والد مکرم مولانا کریم بخش گاؤں میں اقامت پذیر تھے اور وہ گاؤں کی مسجد کے امام وخطیب بھی تھے وہ نمازِ فجر کے بعد درس قرآن ارشاد فرماتے اور لوگوں کو توحید وسنت کی تعلیم دیتے ایک بار ان کی شیعہ حضرات سے ان کے ڈیرے پر گفتگو ہوئی تو انہوں نے انہیں لاجواب کر دیا اس دن سے اہل حدیث کو گاؤں کے دیگر مکاتب فکر پر برتری حاصل ہوگئی ۔پھر کسی مسئلے میں گاؤں کے حنفیوں سے مولانا کریم بخش کا اختلاف ہو گیا وہ لوگ باہم مل کر مولانا عبد الرشید اور ان کے والد مولانا کریم بخش کو اور تو کوئی جواب نہ دے سکے البتہ انہوں نے کچھ ایسی شرائط رکھیں جنہیں ان اہل توحید کیلئے پورا کرنا نا ممکن تھا مولانا کریم بخش کہنے لگے اس گاؤں کو چھوڑ اتو جا سکتا ہے لیکن قرآن وسنت کے خلاف کوئی عمل نہیں کیا جائے گا لہذا یہ دونوں باپ بیٹا گاؤں چھوڑ کر جھنگ میں آ کر قیام پذیر ہوگئے اور یہاں آ کر انہوں نے پہلا کام یہ کیا کہ مسجد اہل حدیث تعمیر کی اور توحید وسنت کی اشاعت کا کام نئے جذبے اور عزم وہمت سے شروع کر دیا۔ مولانا عبد الرشید رحمہ اللہ کے والد گرامی مولانا کریم بخش نے 11دسمبر 1983ء کو جھنگ میں وفات پائی۔
مولانا عبد الرشید حنیف صاحب نے والد کی وفات کے بعد اپنی مسجد اہل حدیث اور ادارہ علوم اسلامی کو خوب ترقی دی اور تن من دھن سے دعوت دین کا کام کیا ۔مولانا مرحوم کو تصنیف وترجمہ سے خاص شغف تھا اوروہ زمانہ طالب علمی سے ہی لکھنے لگے تھے ۔ 1955ء میں انہوں نے حقیقت پردہ کتاب لکھی۔
مولانا عبد الرشید حنیف صاحب کی تصانیف تین قسم کی ہیں ۔ (۱) تفاسیر القرآن (۲) اردو تراجم (۳) اصلاحی وتحقیقی کتب
اب اسی ترتیب سے ان کی تصنیفات کا تعارف ملاحظہ فرمائیں ۔
تفسیر سورۃ یٰسین : اس میں بڑ ا علمی مواد جمع کیا گیا ہے اور سورۃ یٰسین کی یہ ایک جامع تفسیرہے جو 534 صفحات پر مشتمل ہے ۔
تفسیر سورۃ الکوثر : اس میں نہایت عمدگی سے تفسیری نکات بیان کئے گئے ہیں اس کے صفحات کی تعداد200 ہے ۔
تفسیر سورۃ اخلاص : یہ تفسیر دو حصوں پر مشتمل ہے پہلے حصے میں مقدمہ اوردوسرے میں تفسیر ہے کل صفحات 232 ہیں ۔
تفسیر سورۃ العصر : اس تفسیر کے صفحات کی تعداد 96 ہے اس میں بھی عمدگی سے سورۃ العصر کی تفسیر بیان کی گئی ہے ۔
پانچ سور ہ : اس میں قرآن مجید کی پانچ سورتوں ، سورئہ کہف ، سجدۃ، دہر، اعلیٰ اور غاشیہ کے فضائل بیان کئے گئے ہیں ۔
انہوں نے جن کتب کے عربی سے اردو تراجم کئے ہیں اس کی تفصیل یہ ہے :
۱۔ اردو ترجمہ سنن دارمی رحمہ اللہ
۲۔ اردو ترجمہ قیام اللیل للمروزی رحمہ اللہ
۳۔ اردو ترجمہ کتاب الصلاۃ امام ابن القیم الجوزی رحمہ اللہ
۴۔ اردو ترجمہ الدر لنفید امام الشوکانی رحمہ اللہ
۵۔ اردو ترجمہ الصوائق المحرقہ
۶۔ اردو ترجمہ فضائل ابو بکر رضی اللہ عنہ
۷۔ امہات المؤمنین اردو ترجمہ
۸۔اردو ترجمہ الاسلام اساس السعادۃ
۹۔ صرف عورتوں کیلئے ترجمہ
ان کی دیگر کتب کے نام یہ ہیں : مقبول نماز ، نماز نبوی، تحفہ عید قرباں ، امین کائنات ﷺ ، چہرے کا تاج ، بہار ایمان ، بہار قرآن ، قربانی کے چار دن اسلامی تہذیب ، اسوئہ عائشہ بتول رضی اللہ عنہا، الدعاء مخ العبادۃ ، احساس بندگی ، اسلام میں عورت کی حکمرانی ، احکام رمضان ، انبیاء کی دعائیں ، امام کعبہ جھنگ میں ، نبی نوع انسان کے لئے قیام ، برکات رمضان ، پیغمبر انقلاب ، تعمیر انسانیت، تحفہ معراج ، تنویر معاشرہ ، تعظیمی قیام، ثعلبہ بن خطاب ، حقیقت استغفار ، خصوصیت ماہ شعبان، خدائی گرفت، خون صحابہ، خطاب امام کعبہ لا ہور ، دو مذہبی دہشت گرد، رسول اللہ ﷺ بحیثیت قانون دان، رفع الیدین سے انکار کیوں ؟ ، زندگی کے قیمتی لمحات سے غفلت کیوں ؟ ، شاتم رسول کی سزا، صدیق نبوت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ، صاع نبوی ﷺ عرفان توحید وشرک، عزرائیل کی گرفت، فضائل ابو بکر رضی اللہ عنہ ، فضائل قرآن ، فضائل ابو بکر رضی اللہ عنہ جنتی بزبان علی رضی اللہ عنہ جنتی ، قرآن مغربی مفکرین کی نظر میں ، ماہ مبارک، ماہ محرم ، ماہ صفرسے بدشگونی کیوں ؟، معجزات رسول ﷺ ، محفل میلاد کی شرعی حیثیت ، نظام مصطفیٰ ﷺ ، وضو اور غسل کی شرعی حیثیت اور انبیاء کی دعائیں ۔
مولانا عبد الرشید حنیف مرحوم تنظیمی اعتبار سے مرکزی جمعیت اہل حدیث سے منسلک تھے اور آپ جھنگ کے امیر تھے انہوں نے حضرت مولاناحافظ عبد العلیم یزدانی حفظہ اللہ صاحب کے ساتھ مل کر جماعت کی تعمیر وترقی میں بڑ ا کام کیا۔ چند سال پہلے ضلع جھنگ شدید مذہبی فرقہ پرستی اور شیعہ سنی فسادات کی لپیٹ میں تھا اس موقع پر قیام امن کے لئے مولانا مرحوم نے بحیثیت امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث اپنے رفیق خاص محترم حافظ عبد العلیم یزدانی صاحب کے ساتھ مل کر قابل قدر خدمات سرانجام دی ان کی اس مساعی حسنہ کے باعث انتظامیہ نے انہیں کئی بارامن ایوارڈزسے نوازا۔
مولانا مرحوم طبیب حاذق بھی تھے وہ اپنے مطب پر بھی بیٹھتے تھے اور اس کے علاوہ طبیہ کالج جھنگ میں پڑ ھاتے بھی تھے بلاشبہ وہ جامع جمیع علوم اور متبحر عالمِ دین تھے انہوں نے تکبر وغرور سے دور رہ کر سادگی سے زندگی بسر کی ۔ چند سال پہلے ان کا جوان بیٹا فوت ہو گیا تھا اس ناگہانی موت نے ان کو ذہنی اور جسمانی طور پر بڑ ا متاثر کیا اور کچھ عرصہ پہلے ان کا دوسرا جوان بیٹا بھی اس دنیا سے منہ موڑ کر آخرت کو روانہ ہوا ان پے درپے صدمات نے مولانا عبد الرشید حنیف رحمہ اللہ صاحب کو اس قدر غم زدہ کیا کہ وہ بستر علالت پر فراش ہوگئے اور ان کی یاداشت بھی ختم ہوگئی تھی۔
آخر طویل علالت کے بعد 15مئی 2009ء کی صبح ۶ بجے جمعہ کے روز ان کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کرگئی۔
اس روز شام ۶ بجے محدث دوراں مولانا ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ صاحب نے ان کی نماز جنازہ پڑ ھائی اس موقع پر قائدین جماعت اہلحدیث اور سینکڑ وں جماعتی اور غیر جماعتی افراد نماز جنازہ میں شریک تھے اور ان کی مغفرت کیلئے دعا کر رہے تھے ۔ نماز مغرب سے پہلے ان کی تدفین عمل میں آئی اور اس عظیم عالمِ دین کو سرزمینِ جھنگ نے اپنی آغوش میں چھپا لیا ۔
ہم دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے عبد الرشید رحمہ اللہ کی خطاوؤں سے درگزر فرما کر انہیں جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے ۔ آمین
مکمل مضمون کا مطالعہ کریں>>
 

آپ کے اشتہارات

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترم قاری!
اب آپ اسوۂ حسنہ کی سائیٹ کے ذریعے اپنے کاروبار کو وسعت دے سکتے ہیں۔
تو ابھی رابطہ کیجئے
usvaehasanah@gmail.com

اسوۂ حسنہ کا ساتھ دیں

ماہ صفر

آپ کو اسوۂ حسنہ کی نئی سائیٹ کیسی لگی؟